سیاست
خدا کو حاضر ناظر رکھ کر کہتا ہوں دفعہ 370 کبھی واپس نہیں آئے گی: سید شاہنواز حسین
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دفعہ 370 کو بحال نہیں کر سکتی انہوں نے کہا کہ ‘گپکار گینگ’ والے اس حقیقت سے خود بخوبی واقف ہیں لیکن لوگوں کو اس سلسلے میں ورغلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آسمان میں لکھی ہوئی عبارت دکھ رہی ہے جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے موصوف نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ وہ ڈی ڈی سی انتخابات کے سلسلے میں وادی کے چار روزہ دورے پر ہیں۔
انہوں نے دفعہ 370 کے عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا: ‘کس نے کہہ دیا آپ کو کہ دفعہ زیر سماعت ہے، میں حاجی بھی ہوں اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کے خاندان سے نسبت بھی رکھتا ہوں۔ میں ذمہ داری سے خدا کو حاضر و ناظر رکھ کر کہتا ہوں کہ دفعہ 370 کبھی بھی واپس نہیں آئے گی، یہ بات “گپکار گینگ” والے بھی جانتے ہیں لیکن وہ لوگوں کو ورغلانے کے لئے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دفعہ 370 کو واپس نہیں لا سکتی اور آسمان میں لکھی ہوئی عبارت دکھ رہی ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔
مسٹر شہنواز حسین نے کہا کہ فاروق عبداللہ دلی میں آکر ‘بھارت ماتا کی جے’ اور ‘بھجن کرتن’ بھی مست ہوکر گاتے ہیں اور یہاں دوسری بولی بولتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے فکر مند ہے اور ان کی ہمہ گیر ترقی یقینی بنانا چاہتی ہے۔
شاہنواز حسین نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ محبت کرتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہاں بھی ایسی ہی ترقی ہو جس طرح باقی ملک میں ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کے دل میں بستا ہے اور دماغ پر چھایا ہوا ہے اور جموں و کشمیر میں ترقی ہو اور نوجوانوں کو روزگار ملے یہ ان کی ضد ہے۔
پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے موصوف ترجمان نے کہا: ‘یہ جو “گپکار گینگ” ہے انہوں نے ہمیشہ اپنا اور اپنے رشتہ داروں کی بھلائی کے لئے کام کیا ہے اگر کشمیر کے لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کیا ہوتا تو آج یہ لوگ بھی کشمیر میں کھل کر گھومتے اور ان کی مقبولیت ختم نہیں ہوئی ہوتی’۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جتنی بھی پارٹیاں آئیں انہوں نے اپنے لئے کام کیا لیکن ہم لوگوں کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسٹر حسین نے کہا: ‘ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جو خواب لوگوں کو دکھا رہے ہیں وہ پورے نہیں ہونے والے ہیں، یہ لوگ پہلے دفعہ 370 کو بچانے کے لئے لوگوں کو ورغلا رہے تھے اور اب اس کو واپس لانے کے لئے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح مردہ قبر سے واپس نہیں لوٹ سکتا اسی طرح دفعہ 370 بھی واپس نہیں لوٹ سکتا۔
موصوف نے کہا کہ جموں وکشمیر میں شعبہ سیاحت دنیا کے لئے سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے لیکن یہاں ٹورزم کی بجائے ٹررزم (جنگجویت) کو تھوپا گیا۔
انہوں نے کہا کہ لیکن اب جنگجویت کا دور ختم ہوچکا ہے اور ٹورزم کا دور شروع ہوچکا ہے۔
مسٹر حسین نے کہا کہ کورونا وبا کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کو شروع کرنے میں حائل ہوا لیکن ہم جموں وکشمیر کی ترقی کے لئے پرعزم ہیں اور ترقی کسی بھید بھاؤ کے بغیر ہوگی امیر کی بھی ہوگی اور غریب کی بھی ہوگی۔
ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘میں یہاں کنول کا پھول کھلانے آیا ہوں اور وادی میں بہت سے کنول کے پھول کھل گئے ہیں’۔
کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے موصوف ترجمان نے کہا: ‘کانگریس ملک کی سیاست میں ہار کی گارنٹی ہے اور مودی جی جیت کی گارنٹی ہے۔ ملک کی سیاست میں راہل گاندھی کی ہار کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہم سے ڈرتی ہے اور مودی جی اور امیت شاہ جی کا نام سن کر ہی کانپتی ہے۔
گجر بکروال طبقے کے لوگوں کے رہائشی ڈھانچوں کے انہدام کے بارے میں پوچھے جانے پر موصوف نے کہا: ‘جموں وکشمیر کے لوگوں کی اراضی کوئی نہیں چھینے گا یہ محض ایک پروپیگنڈا ہے اور گجر بکروال طبقے کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا’۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : سائبر دھوکہ دہی میں سم کارڈ کا استعمال، ناگپاڑہ سمیت اندھیری کے سم کارڈ ایجنٹوں پر کیس درج

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی سائبر سیل نے اب ایسے سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے فروخت کردہ سم کارڈ دھوکہ دہی میں استعمال کیا گیا کرائم برانچ نے پانچ سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو دھوکہ دہی کے کیس میں تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سائبر دھوکہ دہی کے لیے ایجنٹ اور دکاندار کے معرفت ملزمین سم کارڈ کی حصولیابی کیا کرتے تھے اور یہی نمبر دھوکہ دہی کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ سم کارڈ فروخت کرنے والے اپنی دکان سے گاہک کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے اگر گاہک ایک سم کارڈ طلب کرتا تو اس کے دستاویز پر ایک دو یا تین سم کارڈ جاری کرواتے تھے اور پھر یہ سم کارڈ یہ لوگ خود کے فائدہ کےلیے استعمال کرتے تھے اور سائبر جرائم میں مفرور ملزمین کو فراہم کرتے تھے سائبر سیل نے ناگپاڑہ سے سم کارڈ فروخت کرنے والے ملزمین محمد سلطان محمد حنیف ، ذیشان کمال کے خلاف آئی ڈی ایکٹ سمیت دیگر دفعات میں کیس درج کیا ہے۔ اسی طرح دیا شنکر بھگوان شکلا، پردیپ کمار برنل والا ، نیرج شیورام کے خلاف کیس درج کیا ہے ان پر بھی غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ فروخت کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایماء پر ڈی سی پی سائبر سیل پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔ سائبر سیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبر سے متعلق سنچار ساتھی ایپ پر جانچ کرے اگر انہیں اپنے نام پر دیگر نمبر ملتا ہے تو اس پر وہ رپورٹ کرے اور اس معاملہ میں عوام سنچار ساتھی ایپ میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ میں بڑی بے ضابطگیاں، ریاست بھر میں جانچ کے احکامات

ممبئی: ( قمر انصاری )
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے زمین کی ملکیت کے حقوق اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے افراد۔
یہ معاملہ مہاراشٹر لینڈ ریونیو کوڈ کی ایک شق کے مبینہ غلط استعمال سے جڑا ہوا ہے، جس کا مقصد صرف معمولی غلطیوں جیسے ٹائپنگ یا دفتری خامیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی ملکیت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں بغیر مناسب جانچ پڑتال اور قانونی طریقہ کار کے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں، جس سے غیر قانونی طور پر زمین کی منتقلی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے اصل مالکان میں اپنی جائیداد کھونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اس شق کے تحت کیے گئے تمام اندراجات کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ ضلعی سطح پر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔
ابتدائی جانچ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ اس جانچ کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور زمین کے ریکارڈ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
بزنس
سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ کا اضافہ، ان وجوہات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کے تجارتی سیشن میں مضبوطی دیکھی جارہی ہے۔ دوپہر 12 بجے، سینسیکس 728 پوائنٹس، یا 1 فیصد، 74،935 پر تھا، اور نفٹی 236 پوائنٹس، یا 1.03 فیصد، 23،238 پر تھا. وسیع مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 693 پوائنٹس یا 1.27 فیصد بڑھ کر 55,185 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 111 پوائنٹس یا 0.65 فیصد بڑھ کر 15,816 پر تھا۔ ہندوستانی بازار میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کی وجہ سے ہے۔ جمعہ کو برینٹ کروڈ 1.21 فیصد گر کر 107.3 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ میں دونوں فریقوں کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد جمعرات کو برینٹ کروڈ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ مارکیٹ میں تیزی کی ایک وجہ مغربی ایشیا میں تناؤ میں کمی کے آثار ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کے جذبات میں بہتری آئی ہے اور مارکیٹ میں خریداری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیول اور شنگھائی کے بازار سبز رنگ میں کھل گئے۔ دریں اثناء امریکی مارکیٹس بھی جمعرات کی نچلی سطح سے بحال ہوئیں لیکن نیچے بند ہوئیں۔ انڈیا VIX، ایک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا انڈیکس، بھی سیشن کے دوران کمزور ہوا۔ عام طور پر، جب انڈیا VIX میں کمی آتی ہے، تو مارکیٹ بڑھ جاتی ہے۔ مزید برآں، سستی قیمتوں پر خریداری کو بھی مارکیٹ میں تیزی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، سابق سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) کے رکن کملیش چندر ورشنی نے کہا کہ حالیہ گراوٹ کے بعد، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ثابت ہوسکتی ہے۔ ورشنی نے کہا، “مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہندوستانی مارکیٹ میں کمی نے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) کے لیے ایک پرکشش موقع پیش کیا ہے۔” نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ روس-انڈیا فورم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، ورشنی نے کہا کہ موجودہ سطح پر ہندوستانی اسٹاک میں سرمایہ کاری کرنے کا “انتہائی اچھا موقع” ہے۔ بینچ مارک انڈیکس اس ماہ 8 فیصد سے زیادہ گر گئے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو پست کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اندراج کی قیمتوں میں بھی بہتری لائی ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
