Connect with us
Tuesday,28-July-2026

سیاست

صاف ستھرا بیت الخلاء سے صحت کے شعبے میں فائدہ اور خواتین کو عزت ملی:مودی

Published

on

modi

وزیراعظم نریندرمودی نے کہا ہے کہ عالمی ٹوائلٹ ڈے پر ہندوستان سبھی کے لیے بیت الخلاء کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے۔
عالمی یوم بیت الخلاء پر اپنے ٹویٹ پیغام میں مسٹر مودی نے آج کہا،’’عالمی یوم بیت الخلاء پر ہندوستان سب کے لیے بیت الخلاء دستیاب کرانے کے عزم پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ گزشتہ چندبرسوں میں کروڑوں ہندوستانیوں کو سوچھ شوچالیہ کی سہولت فراہم کرائی گئی جو غیرمعمولی حصولیابی ہے۔ اس کاصحت کے شعبے میں زبردست فائدہ ہوا ساتھ ہی خصوصی طورپرناری شکتی(خاتون کی طاقت) کو عزت ملی ہے۔
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا،’’سب کے گھروں میں بیت الخلاء کی سہولت کے لیے ہندوستان نے دہائیوں تک انتظارکیا ہے۔ اس عالمی یوم بیت الخلاء پرقوم سب کو بیت الخلاء کی سہولت دستیاب کرانے کے لیے وزیراعظم نریندرمودی کی کوششوں کے لیے ان کا شکریہ اداکررہی ہے۔ اس بڑی کامیابی میں ایک ایسی حساس حکومت کی شبیہہ نظرآتی ہے جو اتنے سالوں تک نظرانداز کیے جاتے رہے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے پرعزم ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملک میں سی جے پی احتجاج : ملک میں بدامنی کی سازش پر مہاراشٹر سائبر کے انکشاف کے بعد نتیش رانے کی دھمکی، غزوہ ہند کرنے والوں کو مٹی میں ملایا جائیگا

Published

on

Nitish Ran

ممبئی : کاکروچ جنتا پارٹی سی جے پی کے احتجاج میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی سازش کا انکشاف مہاراشٹر سائبر محکمہ نے کیا تھا, جس پر تبصرہ کر تے ہوئے وزیر ماہی گیری نتیش رانے نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی بھی ملک میں غزوہ ہند کی سازش کریگا اسے مٹی میں ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سائبر محکمہ کی کارروائی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ طلباء کے کندھے پر بندوق رکھ کر لوگ اپنا آپریشن چلا رہے تھے۔ نتیش رانے نے کہا کہ نیٹ پرچہ لیک کے معاملہ میں مرکزی سرکار نے سخت قانون مرتب کئے ہیں, لیکن ہندو راشٹر میں کوئی بھی گڑ بڑی یا بدامنی کرنے کی کوشش کریگا تو اسے بخشا نہیں جائیگا۔ نتیش رانے نے ادھو ٹھاکرے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیتا ماتا کی توہین کرنے والا کامیڈین بھی شیواجی پارک کے احتجاج میں شریک تھا تو اس پر ادھو ٹھاکرے نے خاموشی کیوں اختیار کی۔ نتیش رانے نے سنسنی خیز الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کے احتجاج کے دوران سر تن سے جدا اور نعرہ تکبر اللہ اکبر کے نعرے کیوں لگائے گئے؟ انہوں نے کہا کہ طلباء کے احتجاج اور غزوہ ہند کا کوئی تعلق نہیں ہے, اگر کوئی بھی ایسا کریگا تو ان سبھی کو مٹی بھی ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش کو مہاراشٹر سائبر نے ناکام کیا ہے۔ اس متعلق ہم نے پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تین کمپنیوں کی تقرری کے بعد سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کا مطالبہ، بی ایم سی کے مالیاتی نظام میں بے ضابظگی کا الزام

Published

on

Rais-Shaikh

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) – ایشیا کی سب سے امیر میونسپل بارڈی نے ‘میونسپل بانڈز’ کے ذریعے 9,500 کروڑ جمع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ بانڈز دسمبر تک جاری کیے جانے ہیں۔ تاہم، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے منگل کو مطالبہ کیا کہ میونسپل انتظامیہ بانڈ جاری کرنے سے پہلے کارپوریشن کی سرمایہ کاری سے متعلق مالیاتی وائٹ پیپر جاری کرے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے نوٹ کیا کہ بی ایم سی نے تین کمپنیوں کا انتخاب کیا ہے۔ اے کے۔ کیپٹل سروسز، ٹپسنز کنسلٹنسی سروسز، اور ٹرسٹ انویسٹمنٹ ایڈوائزرز مجوزہ بانڈز کا انتظام کرنے کے لیے یہ کمپنیاں اجراء کے عمل میں مرچنٹ بینکرز کے طور پر کام کرے گی۔ کارپوریٹرس نے ان بانڈز کو جلد بازی میں جاری کرنے کی مسلسل مخالفت کی ہے، اور یہ مخالفت بدستور برقرار ہے۔ بانڈز بنیادی طور پر قرض کی ایک شکل ہیں۔ بی ایم سی کو ان پر سود ادا کرنا پڑے گا، اور اس سب کا بالواسطہ بوجھ بالآخر ممبئی کے شہریوں پر پڑے گا۔

بی ایم سی نے انتخابات سے عین قبل شہر کی خوبصورتی کے منصوبوں پر کروڑوں روپے ضائع کئے۔ نتیجتاً کارپوریشن کا مالیاتی انتظام بگڑ گیا ہے۔ اس نے بی ایم سی کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں جیسے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، مربوط سیلاب کنٹرول اسکیموں، پمپنگ اسٹیشنوں، سرنگوں اور بڑی سڑکوں کے لیے بازار سے فنڈز لینے پر مجبور کیا ہے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے الزام لگایا کہ بی ایم سی کی 133 سالہ تاریخ میں پہلی بار کارپوریشن کو بانڈز کے ذریعے فنڈ اکٹھا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

بانڈز جاری کرتے وقت ایک قابل اعتبار ادائیگی کا منصوبہ ضروری ہے۔ اس بات کی تصدیق کرنا ضروری ہے کہ آیا میونسپل کارپوریشن قرض کی ادائیگی کے قابل ہے یا نہیں۔ تاہم میونسپل انتظامیہ اس معاملے پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ نتیجتاً اپوزیشن مسلسل مالی وائٹ پیپر کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایک وائٹ پیپر جاری کرنے سے کارپوریشن کے مالیات کی درست حالت کا پتہ چل جائے گا اور اس کی سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلات واضح ہوں گی۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ کارپوریشن کی سرمایہ کاری کے بارے میں بھی انکوائری کرائی جانی چاہیے، اور تب ہی انتظامیہ کے لیے 9,500 کروڑ روپے کے بانڈز جاری کرنا مناسب ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ویسٹرن ریلوے کے پاس 5 برس ٹکٹوں کی کالا بازآری، کیس میں کوئی بھی ایجنٹوں اور ملازمین کا ریکارڈ تک دستیاب نہیں، آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی میں انکشاف

Published

on

Railways

ممبئی : ممبئی ویسٹرن ریلوے کے پاس ایسے جرائم پیشہ افراد اور ٹکٹوں کی کالا بازاری بلیک مارکیٹنگ کیس کے ریکارڈ موجود نہیں ہے جو ریلوے کی ٹکٹوں کی دلالی کرتے ہیں یا پھر ان مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں یہ حیر ت انگیز انکشاف ممبئی ویسٹرن ریلوے نے آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کی عرضی کے جواب میں کیا۔ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) ایکٹ، 2005 کے تحت ویسٹرن ریلوے کے سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آر ٹی آئی کارکن انل گلگلی کو فراہم کردہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ 2021 سے 2026 (اب تک) کے درمیان غیر قانونی ریلوے ٹکٹوں کی فروخت سے متعلق کل 2,885 کیس درج کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان مقدمات میں گرفتار کیے گئے مخصوص ایجنٹوں اور ملازمین کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، درج ذیل مقدمات درج ذیل تھے : 2021 میں 684، 2022 میں 629، 2023 میں 655، 2024 میں 538، 2025 میں 249، اور 2026 میں اب تک 130۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف کے خلاف ویسٹرن ٹکٹ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ اگرچہ آر ٹی آئی درخواست میں پچھلے پانچ سالوں میں اس طرح کے معاملات میں گرفتار کیے گئے ٹاؤٹس، ایجنٹوں اور ریلوے ملازمین کی سال وار اور زون وار تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں، لیکن ویسٹرن ریلوے نے اپنے جواب میں کہا کہ “اس طرح کے اعداد وشمار زونل ہیڈ کوارٹر کی سطح پر برقرار نہیں رہتے ہیں۔” نتیجتاً گرفتار ٹاؤٹس، ایجنٹوں اور ملازمین کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔

آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے ریمارک کیا کہ ٹکٹوں کے خلاف ہزاروں مقدمات کا اندراج اس معاملے کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹرن ریلوے کی زونل ہیڈ کوارٹر کی سطح پر گرفتار ٹاؤٹس، ایجنٹوں اور ملازمین کے ریکارڈ کو برقرار رکھنے میں ناکامی نگرانی اور جوابدہی کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے ریلوے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے معاملات پر مرکزی ڈیٹا کو برقرار رکھے اور اسے باقاعدگی سے عام کیا جائے تاکہ ٹکٹوں پر زیادہ موثر روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان