(جنرل (عام
مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے سینکڑوں فائلیں غیر قانونی طور پر غائب :شبیر انصاری
(خیال اثر )
مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے سینکڑوں فائلیں غیر قانونی طورپرغائب کی جارہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اورنگ آباد میں تحریک اوقاف کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم اوبی سی آرگنائزیشن اور تحریک اوقاف کے قومی صدر شبیر احمد انصاری نے اس طرح کا سنسنی خیز انکشاف کیا۔ گزشتہ دنوں اورنگ آبادمیں وزیر اوقاف نواب ملک کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن اور اوقاف کے بنیادی مسائل سے عدم واقفیت کی واضح دلیل بتایا انہوں نے صحافیوں کے اس سوال پرکہ وزیر موصوف نے مہاراشٹر وقف بورڈکا مرکزی دفترممبئی منتقل کرنے کے اعلان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاکہ یہ وقف بورڈ کو بربادکرنے والا اور اس کو سنگین نقصان پہنچانے والا ان کا اعلان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیراوقاف نواب ملک سے ملاقات کر ان مطالبات کا تذکرہ کیا مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقاف کے بنیادی مسائل کے یکسوئی کے سنجیدہ نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کی ابتداء میں تحریک اوقاف کے سیکریٹری مرزاعبدالقیوم ندوی نے تحریک کی بنیاد اور گزشتہ چار سالوں میں کیے گئے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ”تحریک اوقاف“ ایک تحریک ہے، جو سماجی رہنما علماء کرام،دانشور اوروکلاء کی سرپرستی و رہبری میں مہاراشٹرمیں گزشتہ چار سالوں چلائی جارہی ہے۔جس کامقصداوقاف کے مسائل کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کراناہے۔
شبیر انصاری نے کہاکہ ہمارے حکومت سے سردست تین مطالبات ہیں جو ہم نے مہاراشٹرکے سابقہ وزیر اعلی دیویندر فرنڈویس کوپیش کیے تھے (۱) ہر ضلع میں وقف آفس ہو اور خصوصاََ چھ علاقائی دفتار قائم کیے جائے کیونکہ اس وقت مہاراشٹرمیں 92ہزرا ایکڑ وقف اراضی ہے جبکہ ہر سال اس پر قبضہ میں اضافہ ہورہاہے۔ فی الحال پورے مہاراشٹر میں وقف بورڈ کاصرف اورنگ ا ٓباد میں ہی آفس ہے۔ہمارامطالبہ ہے کہ مہاراشٹر کے ہر ضلع میں ایک آفس قائم کیاجائے اسی طرح مہاراشٹرکے ہر ڈیویژن میں ایک آفس قائم کیاجائے۔(۲)وقف بورڈ میں نئے ملازمین کا تقرر کیاجائے۔ فی الحال مہاراشٹر وقف بورڈ میں صرف 43کا عملہ ہے (جو آج کی تاریخ میں 24رہ گیا ہے) ناکافی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے بڑھا کر 813کیاجائے۔(۳)حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وقف بورڈ کو 100کروڑ کی گرانٹ دی جائے اوراس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیریٹی کمشنر کے پاس وقف بورڈ کے پانچ کروڑروپیے فکس ڈپازٹ میں ہے جو آج کے حساب سے 15تا 20کروڑ روپے ہوسکتے ہے،اس میں سے صرف ایک کروڑ روپیے دیاگیا ہے۔ حکومت چیریٹی کمشنر کو حکم دیں کہ وہ جلد سے جلد وقف بورڈ کو لوٹا دے۔ وزیر اعلی نے وفد کی باتوں کو بڑے غور سے سناہی نہیں بلکہ ان تینوں مطالبات پر فوری عمل کیاجائے اسی کی ہدایات پرنسپل سیکریٹری شیام تانگڑے کو دیں۔ پرنسپل سیکریٹری نے ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر عمل آوری کے لیے الگ الگ محکمہ جات کو ہدایات دیں۔ اس وقت مہاراشٹر وقف بور ڈ میں صرف دس ممبران تھے، (آج افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی تعدا د صرف 4 رہ گئی ہے۔) ان ممبران کو ان مطالبات کو حل کرنے کے لیے پوری کوشش کرنا چاہئے تھا اس کے بجائے ان ممبران نے اپنی انا کو سامنے لاتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہیں اور تحریک اوقاف نے جو مطالبات مہاراشٹر کے وزیر اعلی کے دییئے تھے اس پر عمل آوری کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس کی وجہ سے یہ مسائل جو ں کاتوں برقرار ہیں۔اس کے بعد مہاراشٹرمتحدہ محاذ کے حکومت قائم ہوئی۔ حکومت قائم ہونے کے بعد تین سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکومت میں آپسی اختلافات کی وجہ سے کچھ کام نہیں ہوپارہا تھا۔ حکومت بننے کے کچھ ہی مہینوں کے بعد کویڈ19کے سبب سارے کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گئے۔اس کے باجود بھی ان کے مقصد و مفاد کے کام وہ برابر کیے جارہے تھے۔
۔ تحریک اوقاف اب پورے مہاراشٹر میں اس کو ایک عوامی تحریک بناکر ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہر جمہوری طرز کو اپنا کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور بہت جلد ممبئی آزاد میدان میں ایک بڑا دھرنا دیاجائے گا۔ پریس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سیکریٹری مجتبی فاروق، سید شکیل پونہ ضلع صد ر تحریک اوقاف، یوسف نظامی اور غفران انصاری موجود تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر
نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔
رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
