سیاست
ایک معمولی حکم نامے سے زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے: عمر عبداللہ
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر حکومت کے زرعی اراضی کے تحفظ سے متعلق دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معمولی سرکاری حکم نامے یا دستخط کے ذریعے زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں نوکریاں صرف مقامی نوجوانوں کو ہی دینے کے حکم نامے جاری ہو رہے ہیں وہیں جموں و کشمیر میں مقامی لوگوں سے اراضی، نوکریوں اور اسکالر شپ کے حقوق چھیننے جا رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے یہ باتیں جمعے کو یہاں شیر کشمیر بھون میں نیشنل کانفرنس کے لیڈران و کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ وہ اور ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ پانچ اگست 2019 کے بعد پہلی بار جموں کے دورے پر آئے ہیں اور یہاں انہوں نے اپنی جماعت کے لیڈران و کارکنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے نئے اراضی قوانین پر حکومتی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ‘کہتے ہیں کہ کسانوں کی زمین کو کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اراضی قوانین میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ایک معمولی سرکاری حکم نامے یا دستخط کے تحت زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جس آر ایس پورہ کی باسمتی چاول ملک کے مختلف حصوں کو سپلائی ہوتی ہے اس آر ایس پورہ کے کسان کو آج یہ یقین نہیں ہے کہ وہ اگلے سال اس زرعی زمین کا ملک ہوگا یا نہیں۔ زمین ہماری نہیں، نوکریاں ہماری نہیں، سکالر شپ ہمارا نہیں’۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے چند روز قبل دعویٰ کیا کہ نئے اراضی قوانین کے تحت 90 فیصد اراضی، جو کہ زرعی ہے، کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زرعی اراضی صرف مقامی کاشت کاروں کو ہی فروخت کی جا سکے گی اور یہاں تک کہ جموں و کشمیر کے وہ باشندے، جو کاشت کار نہیں ہیں، وہ بھی زرعی زمین نہیں خرید سکیں گے۔
نیشنل کانفرنس نائب صدر نے بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لئے گئے حالیہ فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ‘عجیب بات یہ ہے کہ باقی ریاستوں میں یہی بی جے پی والے الگ انداز میں بات کرتے ہیں۔ ہریانہ میں بی جے پی حکومت نے کل ہی اعلان کیا کہ 75 فیصد نوکریوں پر صرف ہریانوی لوگوں کا ہی حق ہوگا’۔
انہوں نے کہا: ‘وہاں کے لئے ایک قانون لیکن جب ہم اپنی نوکریاں اپنے لئے بچاتے تھے تو ہم سے کہا جاتا تھا کہ آپ لوگ اینٹی نیشنل ہو۔ ہم سے کہا جاتا تھا کہ ایک ملک میں الگ الگ نظام نہیں چل سکتا’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے بدلہ لیا گیا ہے اور یہاں کا کوئی بھی باشندہ 5 اگست کے فیصلوں کے ساتھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘کچھ لوگ کھلے عام اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں تو کچھ لوگ دبے الفاظ میں۔ پروپیگنڈا میں بی جے پی والوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے اگر مقابلہ تھا تو وہ ہٹلر کی حکومت کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد شاید ہی کوئی حکومت آئی ہوگی جس نے پروپیگنڈا کا اتنا استعمال کیا ہو’۔
انہوں نے کہا: ‘جیسے ہی کوئی دفعہ 370 کی بات کرتا ہے تو بی جے پی والوں کی مشین چالو ہو جاتی ہے۔ دفعہ 370 پاکستان کے آئین میں نہیں تھا۔ اگر اس کا ذکر تھا تو ہندوستان کے آئین میں تھا’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم جو لڑائی لڑ رہے ہیں وہ کسی مخصوص علاقے یا مذہب کی لڑائی نہیں بلکہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ہم اس لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور انشاء اللہ کامیابی حاصل کر کے ہی دم توڑیں گے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، سچ اور جھوٹ کی بہت بڑی لڑائی لڑی جا رہی ہے کیونکہ کچھ لوگوں کے لئے جھوٹ بولنا بہت ہی آسان ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 سے پہلے ملک اور جموں و کشمیر کے عوام کو بہت جھوٹ سنائے گئے۔ یہ بتایا گیا کہ یہاں ترقی اور روزگار نہیں ہے۔ یہاں غربت ہے۔ یہاں لوگ فاقہ کشی سے مر رہے ہیں۔ یہاں پر علاحدگی پسند لوگ زیادہ ہیں۔ چونکہ یہاں دفعہ 370 ہے اس وجہ سے یہاں کے لوگ ملک کے ساتھ نہیں ہیں۔ طرح طرح کے شوشے ڈالے گئے’۔
انہوں نے کہا: ‘ملکی عوام کو یہ کہا گیا کہ اگر دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹا تو جموں و کشمیر کی تمام بیماریاں راتوں رات دور ہوجائیں گی۔ آج ایک سال اور تین مہینے گزر چکے ہیں۔ کس بیماری کا علاج ہمارے سامنے ہے۔ کہاں ہے وہ ترقی کا دور جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی علاحدگی پسند بھی قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گے لیکن آج میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ جو لوگ ہندوستان کے خلاف سوچ رکھتے تھے وہ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد نزدیک آنے کی بجائے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘نوجوانوں کی طرف سے جنگجو تنظیموں کی صفوں میں شمولیت کے رجحان میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنے کرتوتوں سے ان نوجوانوں کو مزید دور کر دیا۔ مجھے تو ترقی کہیں نظر نہیں آتی’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی علاقائی، ایک علاقے کو دوسرے علاقے سے لڑانے اور مذہبی سیاست نہیں کی ہے۔ ہم شیر کشمیر کے نعرے ‘ہندو مسلم سکھ اتحاد’ پر قائم ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔
گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔
(جنرل (عام
دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔
ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
سیاست
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
