Connect with us
Wednesday,09-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کئے جائے، کھام گاؤں کل جماعتی تنظیم کا صدر جمہوریہ ہند سے مطالبہ

Published

on

(نامہ نگار )
فرانسیسی حکومت کے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جارہی ہے۔ کہیں ریلی نکالی جاری ہے تو کہیں دھرنے دیکر ، مسلمان فرانس کے خلاف اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ مسلمان اپنے ساتھ ہر طرح کی ظلم و ناانصافی کو برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے مذہب اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا، مذہب اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر دنیا کا ہر مسلمان بے چین و مضطرب ہو جاتا ہے۔ فرانس میں لگائے گئے گستاخانہ خاکوں کی حمایت میں فرانسیسی صدر میکرون کی بیان بازی سے پوری دنیا کے مسلمان سخت ناراض ہے۔ جگہ جگہ اس کی مذمت کی جارہی ہے ۔ اسی ضمن میں آج 2 نومبر کو کھام گاؤں شہر میں کل جماعتی تنظیم کی جانب سے صدر جمہوریہ ہند کو ایک عرضداشت بھیج کر حکومت فرانس کے خلاف اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ۔
معلوم ہوکہ شہر کی مختلف دینی ،سیاسی، سماجی، تعلیمی، تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل کل جماعتی تنظیم کے زیر اہتمام مسلمان کھام گاؤں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مقامی ایس ڈی او کی معرفت ایک عرضداشت صدر جمہوریہ ہند کو دیکر فرانس حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فورا فرانس حکومت سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیز یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں ، اور یو این او جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم کے ذریعہ ایک قانون نافذ کیا جانا چاہئے تاکہ اسلاموفوبیا اور توہین مذہب پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے ، حکومت ہند ہمشہ ہر طرح کی ناانصافی، غیر قانونی حرکتوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اسے دلیری کے ساتھ اپنی طاقت،اور اختیارات کا استعمال کرتے ایسی تمام کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ۔ فرانس کی تمام مصنوعات کی مکمل طور پر درآمد بر آمد۔ پر پابندی عائد کردی جانی چاہئے، فرانسس سے ہندوستانی سفیر کو واپس بلالے اور تمام سفارتی دفتر بند کردے۔
کل جماعتی تنظیم کے صدر محمد انیس اشرفی کی قیادت میں عرضداشت دیتے وقت حافظ سہل نظامی ، ہارون دیشمکھ ، شریف الحسن ، ابرہیم خان ، انیس جمعدار ، محمد سمیع ، ایڈوکیٹ زیڈ بی شیخ ، نور شاہ ، عمیر اللہ خان، ایڈوکیٹ زبیر مرزا ، محمد فاروق واثق نوید ، محمد عارف پہلوان، ڈاکٹر سید وسیم الدین ،ڈاکٹر ریاض، اجمل خان ، محمد ریاض، عارف بھیا، سید منتخب الدین، موجود تھے۔ عرضداشت کی کاپیاں، وزیراعظم کے آفس ، وزارت خارجہ، وزیر اعلیٰ مہاراشٹر، اور ، یو ایس سی آئی ایس ایف ، کے جنرل سیکرٹری کو بھی روانہ کی گئی۔

سیاست

ایم این ایس مراٹھی زبان کے معاملے پر دوبارہ سرگرم ہو گئی، شمالی ہندوستانیوں کو مہاراشٹر میں رہنے کی اجازت دینے پر نظر ثانی کرنے کا انتباہ۔

Published

on

Sandeep Deshpande

ممبئی : مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے ایک بار پھر مراٹھی زبان کے معاملے پر اپنا موقف گرم کیا ہے۔ منگل کو ایک شخص نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی اس معاملے پر ناراض ہوگئی اور اس نے ایک بار پھر شمالی ہندوستانیوں کو خبردار کیا ہے۔ ایم این ایس لیڈر نے کہا کہ پارٹی کو غور کرنا پڑے گا کہ آیا شمالی ہندوستانیوں کو ریاست میں رہنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ پارٹی کے ترجمان اور ممبئی یونٹ کے صدر سندیپ دیشپانڈے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر علاقائی جماعتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ حال ہی میں دیویندر فڑنویس کی مداخلت سے زبان کا تنازعہ حل ہوا تھا۔

سنیل شکلا، ممبئی میں مقیم نارتھ انڈین ڈیولپمنٹ آرمی کے کارکن نے کہا کہ پارٹی نے حال ہی میں بینکوں اور دیگر اداروں میں مراٹھی زبان کے استعمال کو نافذ کرنے کے لیے ایک تحریک کی قیادت کی تھی۔ اس کے لیے سپریم کورٹ میں ایم این ایس کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ سنیل شکلا نے کہا کہ ایم این ایس نہ صرف شمالی ہند کے مخالف ہے بلکہ ہندو مخالف بھی ہے کیونکہ ایم این ایس کے کارکنوں نے جن بینک اہلکاروں پر حملہ کیا وہ ہندو تھے۔

اس پیش رفت کے بعد، دیش پانڈے نے ایک پوسٹ میں لکھا، ‘ایک عجیب بھیا (شمالی ہندوستانی) نے سیاسی جماعت کے طور پر ایم این ایس کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کے لیے عدالت میں درخواست کی ہے۔ اگر شمالی ہندوستانی مراٹھی مانوس کی پارٹی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو (ہمیں) سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا انہیں ممبئی اور مہاراشٹر میں رہنے دیا جائے؟ دیش پانڈے نے کہا کہ یہ بی جے پی کی علاقائی پارٹیوں کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کام وہ اپنے حواریوں کے ذریعے کر رہے ہیں۔ ہم ان سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ دریں اثنا، شیو سینا کے رہنما سنجے نروپم نے کہا کہ ایم این ایس یا کسی دوسری پارٹی میں کچھ غلط نہیں ہے کہ مہاراشٹر میں لوگوں سے مراٹھی زبان استعمال کریں۔ تاہم انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بے گناہ بینک اہلکاروں پر حملہ کرنا غلط ہے۔ انہوں نے پارٹی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وانکھیڈے کا کاشف خان اور راکھی ساونت پر ہتک عزت کا مقدمہ واپس

Published

on

Rakhi-&-Sameer

ممبئی : این سی بی کے سابق زونل ڈائریکٹر ایڈیشنل کمشنر آئی آر ایس نے فلم اداکار راکھی ساونت اور ان کے وکیل کاشف علی خان کے خلاف داخل ہتک عزت کا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔ سمیر وانکھیڈے نے راکھی ساونت اور ان کے وکیل کاشف علی خان دیشمکھ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ داخل کر نے کے ساتھ اس سے 11.55 لاکھ کا ہرجانہ بھی طلب کیا تھا، ذاتی نوعیت کی بنیاد پر وانکھیڈے نے یہ کیس واپس لیا ہے۔ شکایت واپسی پر کاشف علی خان نے کہا کہ ہماری ثالثی ہوچکی ہے، آپسی اختلاف کے بجائے ہمارے پوشیدہ دشمنوں کے خلاف ہم لڑائی لڑے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میں سمیر وانکھیڈے کی بہن یاسمین وانکھیڈے کے کیس کی پیروی کی ہے، اور سابق وزیر نواب ملک کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی داخل کیا ہے۔

سمیروانکھنڈے نے کورڈیلیا کروز کیس میں شاہ رخ خان کے فرزند آرین خان کو گرفتار کیا تھا اور اس کیس میں گرفتار منمون دھمیچا کے وکیل کاشف علی خان نے سمیر وانکھیڈے کے خلاف اپنے انسٹا گرام اور سوشل میڈیا ذرائع پر قابل اعتراض اور نازیبا تبصرہ کئے تھے جس کے بعد وانکھیڈے نے ان پر ہتک عزت کا کیس داخل کیا تھا،اور اسی پوسٹ کو راکھی ساونت نے بھی اپنے انسٹا گرام پر شیئر کیا تھا۔چونکہ راکھی ساونت کے کئی معاملہ کی پیروی کاشف علی خان ہی کر رہے ہیں اس لئے وانکھیڈے نے دونوں کے خلاف مقدمہ داخل کیا تھا، لیکن اب وانکھیڈے نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر یہ کیس واپس لے لیا ہے۔ کیس واپسی کیلئے عدالت نے فریقین کو حاضر رہنے کا حکم دیا تھا۔ وہیں وانکھیڈے نے کہا کہ کاشف علی سے ان کی ثالثی ہوگئی ہے اور اس افہام و تفہیم کے بعد وانکھیڈے نے کیس واپس لے لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

شرابی ڈرائیوروں کے خلاف پولس کارروائی، سات مقدمہ درج

Published

on

traffic-police

ممبئی : ممبئی ٹریفک پولیس نے شراب پی کر ڈرائیورنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھی کارروائی کی ہے۔ ممبئی ٹریفک پولیس نے شراب نوشی کر کے ڈرائیونگ کرنے والوں پر دفعہ 125 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ 8 اپریل کو شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے والوں پر بھارتیہ نیائے سہتا بی این ایس 2023 دفعہ 125 کے تحت 7 مقدمہ درج کیا گیا، ساتھ ہی ان ڈرائیوروں کے لائسنس بھی منسوخ کئے گئے ہیں۔ اس معاملہ میں ٹریفک پولیس نے ساگر پربھاکر 27 سالہ تھانہ، دلیپ سبھاش یادو 28 سالہ مجگاؤں، راکیش شیواجی راٹھوڑ 22 کف پریڈ ممبئی، رحیم شیخ 30 بیلا پور نئی ممبئی، سرجیت سنگھ 26 ساکی ناکہ، پرکاش یشونت 39 کاجو پاڑہ بوریولی، اجئے کمار رام شنکر سنگھ 40 جوگیشوری ساکن پر شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کا کیس درج کیا ہے۔ ٹریفک پولیس نے ڈرائیونگ کے دوران شراب پی کر اپنی اور دوسروں کی جان خطرہ میں ڈالنے والے ان ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کر کے اس پر قدغن لگانے کی سعی کی ہے۔ ٹریفک پولیس نے بتایا کہ ٹریفک کے اصول وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے، اور اسی مناسبت سے کارروائی بھی کی جارہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com