Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

مظفر حنفی کی شخصیت اردو ادب کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شیخ عقیل احمد

Published

on

مشہور ناقد اور شاعر پروفیسر مظفر حنفی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شیخ عقیل احمد ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے انہیں نابغہ روزگار سے تعبیر قرار دیا اور کہا کہ ان کی شخصیت سے اردو ادب کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات انہوں نے پروفیسر مظفر حنفی کی یاد میں منعقدہ شعبۂ اردو بھیرب گنگولی کالج کولکاتا کی جانب سے منعقدہ ایک بین الاقوامی ویبنار میں مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مظفر حنفی مرحوم سے اپنے درینہ تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت شفیق تھے اور ان کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہترین نقاد تھے اور شاد عارفی پر ان کا بہترین کام ہمارے بہترین ترکہ ہے۔
پروفیسر صفدر امام قادری نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مظفر حنفی مرحوم کی ادبی خدمات پر مفصل گفتگو کی آپ کا خطبہ عالمانہ تھا۔آپ نے باریک بینی سے مظفر حنفی مرحوم کی علمی وادبی خدمات کا جائزہ لیا۔صفدر امام قادری صاحب نے حنفی صاحب کو بلند پایہ ادبی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ شاد عارفی کے شاگرد تھے حنفی صاحب نے ان ہی کی طرز ادا کو مذیداستحکام بخشا ۔آپ کھردرے لہجے اور مخصوص اسلوب کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں ۔آپ کی حیثیت نہ صرف بلند پایہ شاعر کی تھے بلکہ آپ اچھے ناقد بھی تھے ۔امید ہے آنے والی نسل مظفر حنفی مرحوم کے مقام و منہاج کو متعین کرے گی۔
عالمی سطح پر اردو ادب کی خدمات انجام دینے والی تنظیم بزم صدف انٹرنیشنل کے چیئرمین شہاب الدین احمد نے قطر سے بحیثیت مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ مرحوم مظفر حنفی صاحب کو اپنے والد محترم پروفیسر ناز قادری مرحوم کے ہمراہ بچپن میں دیکھا ہے اور وہ علم و ادب کا سمندر تھے یہی وجہ ہے کہ اس سال کے بزم صدف انٹرنیشنل کا ایوارڈ پروفیسر مظفر حنفی کے دینے کا اعلان سال کے شروع میں ہی کیا جا چکا ہے لیکن کورونا کی وبا کی وجہ سے ہم مجلس منعقد کرنے سے قاصر رہےاور حنفی صاحب کا انتقال ہوگیا۔ادارہ بہت جلد یہ ایوارڈ قطر میں ادبی تقریب منعقد کرکےان کا ایوارڈ ان کے اہل خانہ کے سپرد کرے گا ۔
جاوید دانش ( کناڈا) نے مظفر حنفی سے کلکتہ میں ان کی رہائش گاہ پرہونے والی ملاقات اور ادب اطفال پر ان کی کتاب اور اس سے متعلق گفتگو کا خصوصی ذکر کیا۔جرمنی کی مشہور ادبی شخصیت انور ظہیر رہبر نے مظفر حنفی صاحب کو شاعر بینظیر سے تعبیر کیا ۔جامعیہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے پروفیسر ڈاکٹر واحد نظیر صاحب نے مظفر حنفی کی شاعری کے رموز ونکات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ۔پروفیسر ابوبکر جیلانی نے حنفی صاحب سے اپنے مراسم اور کلکتہ یونیورسٹی سے متعلق ان کی خدمات کا ذکر کیا۔ قطر کے مشہور اردو شاعر احمد اشفاق نے مظفر حنفی صاحب کی سانحہ ارتحال کو عظیم نقصان قرار دیا۔
اس عالمی ویبینار کے دو صدور تھے۔ محترم باصر سلطان کاظمی ( فرزند ناصر کاظمی) نے اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر مظفر حنفی کی رحلت کو اردو ادب کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حنفی صاحب کے چلے جانے سے ادب میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔دوسرے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے مشہور و معروف استاد شاعر قیصر شمیم مظفر حنفی سے اپنے تعلقات کے بیان کرتے ہوئے کہا کہ کلکتہ میں قیام کے دوران ان سے مراسم بہت گہرے ہوئے۔وہ اعلیٰ ظرف انسان تھے ۔
اس ویبینار میں مظفر حنفی صاحب کے فرزند پرویز مظفر نے اپنے والد کی شفقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت رحم دل انسان تھے ہم تمام اہل خانہ سے بے انتہا محبت کرتے وہ بہت ذہین انسان تھے۔ فہم و فراست کا جو درک ان کے پاس تھا بہت لوگوں کو نصیب ہوا کرتا ہے
اس تقریب کے کنوینر و ناظم طیب نعمانی صدر شعبہ اردو بھیرب گنگولی کالج نے انتہائی معیار ی ویبنار کے انعقاد میں بزم صدف انٹرنیشنل کے ارباب اختیار بالخصوص شہا ب الدین احمد صاحب کے تعاون کا ذکر کرتے ہوان کا شکریہ ادا کیا ۔
شرکاء میں رانچی یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر تسلیم عارف’ بزم نثار کے سکریٹری اشرف احند جعفری ‘ اردو دوست ڈاک کام کے بانی خورشید اقبال، بنگلہ دیش کے مشہور اردو شاعر شمیم زمانوی’ علی گڑھ یونیورسٹی الومنی ایسوسی ایشن کے صدر جاوید احمد ‘ سلیم الدین ‘ شمیم شہزاد گورکھپور فیروز خان ‘صاحبان کے علاوہ ‘ عرفان مظفر ‘ فضیل مظفر ( فرزند ان مظفر حنفی) شریک محفل تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان