Connect with us
Saturday,07-November-2026

سیاست

خصوصی آئینی پوزیشن کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی: محبوبہ مفتی

Published

on

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آج تک لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا ہے انہوں نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی یہ ‘تاناشاہی’ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز (دفعہ 370، دفعہ 35 اے) سال گذشتہ کے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے ڈاکہ زنی کر کے چھینی گئی وہ انہیں ضرور واپس مل جائے گی۔
موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طویل نظر بندی کے بعد منعقدہ پہلی پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘جنہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اب بات نہیں ہوگی وہ غلط فہمی میں ہیں، اس مسئلے کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، آج تک لوگوں کا خون بہا ہے اور اب لیڈروں کے خون دینے کی باری آئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جب لیڈران کے خون کی ضرورت پڑے گی محبوبہ مفتی خون دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہوں گی۔
تاہم محبوبہ مفتی کا ساتھ ہی کہنا کہ ہم تشدد نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہم پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔ یہ بہت لمبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے۔ پانی پہلے ہی لے چکے تھے۔ ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں۔ مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تاناشاہی زیادہ دیر تک نہیں چلے گی’۔
موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے’۔
سبز رنگ کے ‘پھیرن’ میں ملبوس بظاہر ہشاش بشاش محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے’۔
ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔
تاہم ساتھ ہی کہنا تھا: ‘میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں’۔
پی ڈی پی صدر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ کیا واضح اور بھاری اکثریت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر تلوار چلائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘بدقمستی سے ان کو واضح اکثریت ملی اور انہوں نے آئین کا غلط استعمال کیا۔ یہاں سے وہ چیز لوٹ کر لے گئے جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارتی آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی والوں نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس یہ سب کرنا کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑائیں’۔
جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ‘بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: ‘مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا’۔
جب پی ڈی پی صدر سے پو چھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگایا گیا تو یہاں کوئی بھارتی ترنگے کو کندھا نہیں دے گا تو انہوں نے اس کا جواب میز پر رکھے گئے کشمیر کے جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اپنا جھنڈا سامنے رکھا ہے۔ جس وقت ہمارا یہ جھنڈا واپس آئے گا ہم اس جھنڈے کو بھی اٹھا لیں گے۔ یہ جھنڈا ہمارے آئین کا حصہ ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ان لوگوں نے تو خود ہی آئین اور جھنڈے کی بے حرمتی کی ہے۔ جب جموں میں عصمت دری ہوئی تو جھنڈا اٹھا کر عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالی۔ اس جھنڈے نے ہی ہمارا بھارتی جھنڈے کے ساتھ رشتہ بنایا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سال گذشتہ پانچ اگست سے قبل جب ہم نے حالات کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی تو انہیں چندی گڑھ تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔
انہوں نے کہا تاہم بعد میں ہم نے مل کر گپکار اعلامیہ تیار کیا جس پر ہم برابر کھڑے ہیں اور جو چیز ہم سے چھینی گئی ہے ہم اس کو واپس حاصل کرنے کے وعدہ بند ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ‘جعلی ٹی آر پی میڈیا’ کی وساطت سے ہمیں بدنام کیا جا رہے لیکن ہم اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے دوران بھی ہم اپنے ارادوں پر قائم رہے اور ہم ان پر برابر قائم و دائم ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارلیمنٹ ممبروں کے پاس ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ ممبر کے پاس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ وہ پانچ کے بجائے ایک ہزار بھی کیوں نہ ہوں، یہ پوزیشن آئین نے ہماری آئین ساز اسمبلی کو دیا ہے’۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہاں آج مسلمان، دلت وغیرہ محفوظ نہیں ہیں’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں ایسے قوانین لاگو کر رہی ہیں جن سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ بھی اکٹھا ہوجائیں تاکہ ہم اپنی چھینی ہوئی چیزوں کو واپس حاصل کرسکیں۔
موصوفہ نے کہا کہ میری پارٹی کا مقصد ہے کہ لوگوں کو دلدل سے باہر نکالا جائے اور اس پر ہم برابر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن مرحوم مفتی صاحب کے ایجنڈے کے ساتھ برابر کھڑے ہیں’۔
محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔
جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ ‘کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی’ تو ان کا جواب تھا: ‘پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں’۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

Published

on

krit-saumya

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔

گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

Published

on

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔

ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

Continue Reading

سیاست

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

Published

on

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“

Continue Reading
Advertisement

رجحان