Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

مالیگاؤں رکن اسمبلی کے ایک سال 365 دن مکمل، کارکردگی زیرو، MLA کی ناکامی پر کانگریس ورکروں کا شہر بھر میں 365 کالے رنگ کے غبارے ہوا میں لہرانے کا اعلان

Published

on

(پریس ریلیز )
شہری ایم ایل اے کی ایک سالہ معیاد معیاد اور مکمل ناکامی پر ایک سال کے 365 دنوں کے حساب سے کانگریس ورکر 365 کالے رنگ کے غبارے ہوا میں لہرا کر ایم ایل اے کی ناکامی کو اجاگر کریں گے ۔ 24 اکتوبر 2019 کو شہری ایم ایل اے محمد اسماعیل عبدالخالق نے اسمبلی الیکشن میں امیدواری کرتے ہوئے اپنے آپکو عوام کی عدالت میں قابل اور اہل بتایا اور عوام نے انہیں لکھپتی بنا کر اسمبلی میں روانہ کیا لیکن آج ایک سال 24 اکتوبر 2020 مکمل ہوگیا ہے اور بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ صنعتی ترقی، تعلیمی ترقی اور عوامی و فلاحی کاموں کے علاوہ تعمیری کاموں کی انجام دہی میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ۔موصوف نے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہوئے بڑے بڑے وعدے وعید کئے، جھوٹ کا سہارا لیا اور عوام کو اپنے جھانسے میں لیکر گمراہ کن طریقے سے کامیابی حاصل کی ۔اسمبلی الیکشن میں اسعد اویسی نے بھی بڑے بڑے وعدے کئے لیکن اس بڑے بڑے وعدے وعید کو پورا کرنے میں شہری ایم ایل اے ناکام ہوگئے ہیں ۔اسمبلی الیکشن کے بعد تقریب حلف کی رسم سے بھی ایم ایل اے موصوف غیر حاضر رہے ۔اسی طرح اس ایک سال کے دوران اسمبلی کے چار چار اجلاس ہوئے لیکن اپنے شہر کا ناکارہ ایم ایل اے ان چاروں اجلاس سے غیر حاضر رہا ۔اتنا ہی نہیں بقرعید کے موقع پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے مسلم ارکان اسمبلی کی طلبیدہ ہنگامی میٹنگ سے بھی موصوف غیر حاضر رہے ۔یہیں پر ایم ایل اے کی ناکامی ختم نہیں ہوتی اس سے آگے ایم ایل اے نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ چھ ماہ میں آگرہ روڈ بنا کردوں گا ۔شہر بھر میں تعمیری کاموں کی انجام دہی کا بلند بانگ دعویٰ کیا لیکن سب ٹائیں ٹائیں فش اور ہوا کا غبارہ ثابت ہوا ۔ اسطرح کا پریس اعلامیہ کانگریس کے سینئر کارپوریٹر اور ہاؤس لیڈر اسلم انصاری نے جاری کیا ۔موصوف نے کہا کہ آج شہر میں طلباء تعلیم کے لئے ترس رہے ہیں انہیں تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہے، کامیاب طلباء کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ۔لاک ڈاؤن میں عوام کی خدمت کا موقع ملا لیکن ایم ایل اے موصوف نے اسے بھی گنوا دیا اور کورنٹائن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے، لاک ڈاؤن میں غریبوں کی امداد ،مزدوروں مسائل حل نہیں کرسکے، مریضوں کی خدمات کرنے میں بھی ناکام ہوگئے اور گرفتاری کے ڈر سے ہوم کورنٹائن ہوگئے ۔اسلم انصاری نے کہا کہ صنعت کے لئے انہوں نے کوئی خدمات انجام نہیں دی، پاورلوم، سائزنگ، پلاسٹک کارخانے ،گٹی مشینوں پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور آج روٹی روزی کے لئے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور شہری ایم ایل اے ممبئی ،پونے ،حیدر آباد، دہلی میں مزہ لے رہا ہے ۔اسلم انصاری کہا کہ بجلی کے مسائل پر بھی خاموشی اختیار کی گئی۔ان ایک سالہ دور میں ایم ایل اے فنڈ کا ایک روپیہ بھی عوامی کاموں پر خرچ نہیں کیا گیا ۔ہر شعبہ میں نمائندگی زیرو رہی ہے آج ایسا لگ رہا ہے کہ شہر یتیم ہوکر رہ گیا ہے۔شہری ایم ایل اے کی ایک سالہ معیاد مکمل ہونے پر ہم شہریان کی جانب سے ایک سال کے تین سو 65 دنوں کی مناسبت سے انہیں ناکام اور ڈنڈی مار آمدار کا خطاب دے رہے ہیں۔اور 365 کالے رنگ کے غبارے ہوا میں لہرا کر ناکامی کو اجاگر کریں گے اور یہ واضح پیغام دیں گے کہ شہر کا ایم ایل اے ناکام ناکام ناکام اور ڈنڈی مار ثابت ہوا ہے ۔ایم ایل اے نے شہر کی بیوہ خواتین اور بزرگ افراد کو وظیفہ دلانے کے لئے بھی کوئی جدوجہد نہیں کی ۔معذور افراد اور پریشان حال لوگوں کی دادرسی نہیں کی ۔راشننگ معاملہ میں بھی ایم ایل اے موصوف نے چپی سادھی، پرانت محکمہ، تحصیلدار محکمہ ،ایف ڈی او اور پولس اسٹیشن تک اپنی نمائندگی درج کروانے میں ناکام ہی رہیں، آگ لگنے پر متاثرین کو سرکار کی جانب سے کوئی امداد بھی نہیں دلا سکے، کل ملا کر شہر کا ایم ایم ایل اے مکمل طور پر ناکام ہوگیا ۔ شہری ایم ایل اے غریبوں، مزدوروں کی امداد کرنے اور عوامی کاموں کی انجام دہی کی بجائے پرائیویٹ سیکٹر اور ٹھیکہ داروں کی پشت پناہی کررہا ہے ۔اسلم انصاری نے کہا کہ 24 اکتوبر کو آصف شیخ رشید کی جانب سے بڑی پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے موجودہ ایم ایل اے کی مکمل ناکامیوں کو عوام کی عدالت میں منظر عام پر لایا جائے گا ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پی ایم مودی اور نیتن یاہو نے اسرائیل کی پہل پر ٹیلی فون پر بات چیت کی، مغربی ایشیا پر تبادلہ خیال کیا : ایم ای اے

Published

on

Netanyahu-Modi

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی بات چیت کی تفصیلات دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ فون کال اسرائیل سے آئی تھی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی۔ ملاقات میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ فون کال اسرائیل سے کی گئی تھی جسے وزیر اعظم نے قبول کر لیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں اس شراکت داری اور دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو وزیر اعظم مودی سے فون پر بات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندوستان-اسرائیل خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

وزارت کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر اعظم مودی نے بھی مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، ہندوستان اور اسرائیل نے بنیادی طور پر اسٹریٹجک اعتماد پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں۔ دفاعی تعاون، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور زرعی اختراع تیزی سے پختہ شراکت داری کے ستون بن گئے ہیں۔ اس کے باوجود، جب کہ سیاسی اور سیکورٹی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اقتصادی تعلقات اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں رہے ہیں۔ انڈیا اسرائیل فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے لیے جاری مذاکرات اس کو تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان