Connect with us
Thursday,24-September-2026

سیاست

مالیگاؤں رکن اسمبلی کے ایک سال 365 دن مکمل، کارکردگی زیرو، MLA کی ناکامی پر کانگریس ورکروں کا شہر بھر میں 365 کالے رنگ کے غبارے ہوا میں لہرانے کا اعلان

Published

on

(پریس ریلیز )
شہری ایم ایل اے کی ایک سالہ معیاد معیاد اور مکمل ناکامی پر ایک سال کے 365 دنوں کے حساب سے کانگریس ورکر 365 کالے رنگ کے غبارے ہوا میں لہرا کر ایم ایل اے کی ناکامی کو اجاگر کریں گے ۔ 24 اکتوبر 2019 کو شہری ایم ایل اے محمد اسماعیل عبدالخالق نے اسمبلی الیکشن میں امیدواری کرتے ہوئے اپنے آپکو عوام کی عدالت میں قابل اور اہل بتایا اور عوام نے انہیں لکھپتی بنا کر اسمبلی میں روانہ کیا لیکن آج ایک سال 24 اکتوبر 2020 مکمل ہوگیا ہے اور بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ صنعتی ترقی، تعلیمی ترقی اور عوامی و فلاحی کاموں کے علاوہ تعمیری کاموں کی انجام دہی میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ۔موصوف نے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہوئے بڑے بڑے وعدے وعید کئے، جھوٹ کا سہارا لیا اور عوام کو اپنے جھانسے میں لیکر گمراہ کن طریقے سے کامیابی حاصل کی ۔اسمبلی الیکشن میں اسعد اویسی نے بھی بڑے بڑے وعدے کئے لیکن اس بڑے بڑے وعدے وعید کو پورا کرنے میں شہری ایم ایل اے ناکام ہوگئے ہیں ۔اسمبلی الیکشن کے بعد تقریب حلف کی رسم سے بھی ایم ایل اے موصوف غیر حاضر رہے ۔اسی طرح اس ایک سال کے دوران اسمبلی کے چار چار اجلاس ہوئے لیکن اپنے شہر کا ناکارہ ایم ایل اے ان چاروں اجلاس سے غیر حاضر رہا ۔اتنا ہی نہیں بقرعید کے موقع پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے مسلم ارکان اسمبلی کی طلبیدہ ہنگامی میٹنگ سے بھی موصوف غیر حاضر رہے ۔یہیں پر ایم ایل اے کی ناکامی ختم نہیں ہوتی اس سے آگے ایم ایل اے نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ چھ ماہ میں آگرہ روڈ بنا کردوں گا ۔شہر بھر میں تعمیری کاموں کی انجام دہی کا بلند بانگ دعویٰ کیا لیکن سب ٹائیں ٹائیں فش اور ہوا کا غبارہ ثابت ہوا ۔ اسطرح کا پریس اعلامیہ کانگریس کے سینئر کارپوریٹر اور ہاؤس لیڈر اسلم انصاری نے جاری کیا ۔موصوف نے کہا کہ آج شہر میں طلباء تعلیم کے لئے ترس رہے ہیں انہیں تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہے، کامیاب طلباء کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ۔لاک ڈاؤن میں عوام کی خدمت کا موقع ملا لیکن ایم ایل اے موصوف نے اسے بھی گنوا دیا اور کورنٹائن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے، لاک ڈاؤن میں غریبوں کی امداد ،مزدوروں مسائل حل نہیں کرسکے، مریضوں کی خدمات کرنے میں بھی ناکام ہوگئے اور گرفتاری کے ڈر سے ہوم کورنٹائن ہوگئے ۔اسلم انصاری نے کہا کہ صنعت کے لئے انہوں نے کوئی خدمات انجام نہیں دی، پاورلوم، سائزنگ، پلاسٹک کارخانے ،گٹی مشینوں پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور آج روٹی روزی کے لئے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور شہری ایم ایل اے ممبئی ،پونے ،حیدر آباد، دہلی میں مزہ لے رہا ہے ۔اسلم انصاری کہا کہ بجلی کے مسائل پر بھی خاموشی اختیار کی گئی۔ان ایک سالہ دور میں ایم ایل اے فنڈ کا ایک روپیہ بھی عوامی کاموں پر خرچ نہیں کیا گیا ۔ہر شعبہ میں نمائندگی زیرو رہی ہے آج ایسا لگ رہا ہے کہ شہر یتیم ہوکر رہ گیا ہے۔شہری ایم ایل اے کی ایک سالہ معیاد مکمل ہونے پر ہم شہریان کی جانب سے ایک سال کے تین سو 65 دنوں کی مناسبت سے انہیں ناکام اور ڈنڈی مار آمدار کا خطاب دے رہے ہیں۔اور 365 کالے رنگ کے غبارے ہوا میں لہرا کر ناکامی کو اجاگر کریں گے اور یہ واضح پیغام دیں گے کہ شہر کا ایم ایل اے ناکام ناکام ناکام اور ڈنڈی مار ثابت ہوا ہے ۔ایم ایل اے نے شہر کی بیوہ خواتین اور بزرگ افراد کو وظیفہ دلانے کے لئے بھی کوئی جدوجہد نہیں کی ۔معذور افراد اور پریشان حال لوگوں کی دادرسی نہیں کی ۔راشننگ معاملہ میں بھی ایم ایل اے موصوف نے چپی سادھی، پرانت محکمہ، تحصیلدار محکمہ ،ایف ڈی او اور پولس اسٹیشن تک اپنی نمائندگی درج کروانے میں ناکام ہی رہیں، آگ لگنے پر متاثرین کو سرکار کی جانب سے کوئی امداد بھی نہیں دلا سکے، کل ملا کر شہر کا ایم ایم ایل اے مکمل طور پر ناکام ہوگیا ۔ شہری ایم ایل اے غریبوں، مزدوروں کی امداد کرنے اور عوامی کاموں کی انجام دہی کی بجائے پرائیویٹ سیکٹر اور ٹھیکہ داروں کی پشت پناہی کررہا ہے ۔اسلم انصاری نے کہا کہ 24 اکتوبر کو آصف شیخ رشید کی جانب سے بڑی پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے موجودہ ایم ایل اے کی مکمل ناکامیوں کو عوام کی عدالت میں منظر عام پر لایا جائے گا ۔

سیاست

آدتیہ ٹھاکرے نے دیشا سالیان کو جاننے سے انکار کیا، 500 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس مسترد کر دیا

Published

on

ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے بدھ کے روز آنجہانی دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان کی طرف سے پیش کردہ 500 کروڑ روپے کے ہتک عزت کے نوٹس کو مسترد کر دیا، اسے “غیر سنجیدہ” قرار دیا اور اس بات سے انکار کیا کہ وہ اسے کبھی جانتے ہیں۔ معافی مانگیں یا اپنی سوشل میڈیا پوسٹس واپس لیں، اور اپنے موقف کی توثیق کی کہ وہ “دیشا سالیان سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی جانتے ہیں”۔ یہ تصادم 17 ستمبر 2026 کو ستیش سالیان کے وکیل ایڈووکیٹ کی طرف سے جاری کردہ نوٹس سے ہوا ہے۔ انوشکا سوناونے۔ سالیان نے الزام لگایا کہ 16 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی ایکس پر ٹھاکرے کی انگریزی اور مراٹھی پوسٹس میں ہتک آمیز بیانیے ہیں اور عوامی معافی کے ساتھ ساتھ 500 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹھاکرے کے جواب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کی پوسٹس نے کبھی ستیش سالیان کا نام یا شناخت نہیں کی۔ ان کی قانونی ٹیم نے استدلال کیا کہ ایک طویل سیاسی اور میڈیا مہم کے بارے میں عام تبصروں میں پارٹی کا نام ڈال کر کارروائی کا سبب نہیں بنایا جا سکتا۔ 500 کروڑ روپے کے مطالبے کو “جھوٹا، قانونی طور پر غلط فہمی اور من مانی، کسی حسابی بنیاد سے عاری یا مالی نقصان کی نشاندہی” کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس نے مالوانی پولس اسٹیشن میں درج 2022 کی ایف آئی آر سی آر نمبر 118 اور دندوشی سیشن کورٹ کے 16 مارچ 2022 کے حکم کا حوالہ دیا، جہاں خاندان نے اس کی خودکشی کو شراب کے زیر اثر مالی ذہنی دباؤ کو قرار دیا، جبکہ سیاسی اداکاروں پر افواہیں پھیلا کر خاندان کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔

ٹھاکرے نے کہا کہ جب کہ بمبئی ہائی کورٹ نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو جانچ کی ہدایت دی، اس نے اس کے یا کسی فرد کے خلاف کوئی منفی نتائج درج نہیں کیے، اور یہ حکم دیا کہ کسی بھی شخص کو ملزم نہیں سمجھا جائے جب تک کہ ثبوت سے کافی بنیادیں سامنے نہ آئیں۔ انہوں نے میڈیا ٹرائلز یا سیاسی خلفشار کے بغیر آزاد اور منصفانہ سی بی آئی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ ستیش سالیان کو سات دنوں کے اندر “غلط تصور شدہ” نوٹس واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے، ٹھاکرے کے وکیل نے متنبہ کیا کہ من گھڑت تشریحات پر مبنی کسی بھی مزید دیوانی یا فوجداری کارروائی کا عدالت میں سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading

سیاست

کرناٹک کانگریس : ہری پرساد نے الیکشن کمیشن سے متعلق راہول گاندھی کے سوالات کی حمایت کی اور انتخابی کمیشن کے مبینہ اعتراضات پر جواب کیے طلب۔

Published

on

بنگلورو : کرناٹک کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کو راہول گاندھی کی بار بار انتباہات کا مطالبہ کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں سے متعلق دو الیکشن کمشنروں کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات پر پولنگ پینل سے جواب طلب کیا۔ ہری پرساد نے اپنے بیان میں کہا کہ راہول گاندھی نے بار بار ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھائے ہیں اور الیکشن کمیشن کو خبردار کیا ہے کہ ذمہ داروں کو بالآخر الیکشن کمیشن کے خلاف کارروائی کرنی پڑے گی۔ ‘وقت آئے گا، ہم آپ کو پکڑ لیں گے اور آپ کو بخشا نہیں جائے گا۔’ انہوں نے ووٹروں کی مبینہ بے ضابطگیوں پر بار بار جواب طلب کیا ہے اور ای سی آئی کو صاف صاف آنے کا چیلنج کیا ہے،” کرناٹک کانگریس کے صدر نے کہا۔ ان کے ریمارکس ان رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹر فہرست کے انتظام سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر 10 ماہ کے عرصے میں کم از کم 14 بار باضابطہ طور پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

“اعتراضات مبینہ طور پر ووٹروں کے اضافے اور حذف کرنے، فارم 6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا بیس کے کام اور کنٹرول سے متعلق ہیں۔” نیوز رپورٹ کے مطابق، دونوں الیکشن کمشنروں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا جسے انہوں نے دہلی میں ووٹر فہرست ڈیٹا بیس کی “بتدریج مرکزیت” کے طور پر بیان کیا تھا اور سوال کیا تھا کہ کیا ریاستی سطح کے انتخابی عہدیداروں کو ووٹرس کے نئے نظام تک رسائی فراہم کی جارہی ہے۔ مبینہ طور پر ان کے اعتراضات میں رجسٹریشن کو “غیر مجاز” اور “غیر قانونی” قرار دیا گیا تھا۔ ہری پرساد نے کہا کہ رپورٹ شدہ اعتراضات نے راہول گاندھی کی طرف سے الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹوں پر اٹھائے گئے خدشات پر نئے سرے سے توجہ مبذول کرائی ہے، “یہ کسی ایک پارٹی کے بارے میں نہیں ہے، یہ ہر ہندوستانی کے ووٹ کے تقدس سے متعلق ہے۔ آج آپ کے پاس اقتدار ہو سکتا ہے، لیکن اقتدار وقتی طور پر جواب دہ نہیں ہوگا جب احتساب کا وقت آئے گا”۔ شامل کیا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہول گاندھی کے خدشات کو اب سیاسی بیان بازی کے طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اب مبینہ طور پر الیکشن کمیشن کے اندر سے بھی ایسے ہی سوالات ابھرے ہیں۔”راہول گاندھی کے خدشات کو اب سیاسی بیان بازی کے طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ اب الیکشن کمیشن کے اندر سے ہی سامنے آئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہیے۔” تاہم ہندوستانی ووٹرز کو الیکشن کمیشن کی مکمل شفافیت کی ضرورت ہے، تاہم الیکشن کمیشن کی مکمل شفافیت کی ضرورت ہے۔ اندرونی اختلاف، اس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام فیصلوں بشمول اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سے متعلق تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری تھی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان