Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

’بزمِ صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن‘ کا قیام دیرینہ خواب کی تکمیل۔ شاہدہ حسن

Published

on

عالمی خواتین انجمن’بزمِ صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن‘ کے قیام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی صدر محترمہ شاہدہ حسن نے بزمِ صدف انٹرنیشنل کے دیرینہ اس خواب کی تکمیل گذشتہ دنوں ہوئی ہے جب اس کا باضابطہ قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ بات انہوں نے خواتین انجمن کی تاسیسی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں اختصار کے ساتھ بزمِ خواتین کو زیادہ موثر اور سرگرم بنانے کے لیے بعض کارآمد مشورے پیش کیے۔
تنظیمِ خواتین کی جنرل سکریٹری ڈاکٹر افشاں بانو نے آغاز میں اس تنظیم کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی عالمی حیثیت کے پیش نظر کسی بین الاقوامی خواتین ادبی انجمن کی واقعتا ضرورت تھی۔ دنیا میں ادبی رویوں کی تبدیلی اور عالمی سطح پر زبان و ادب کے نئے مسائل کے پیش نظر یہ لازم ہے کہ ایسے ادارے وجود میں آئیں۔انھوں نے دنیا بھر کی خواتین فن کاروں کے اُن مسائل کا ذکر کیا جن کے سبب ان کی تحریروں کی توسیع و اشاعت میں بہت طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
بزمِ صدف کے چیرمین شہاب الدین احمد نے ’بزمِ صدف:ایک مشن‘موضوع کے پیش نظر خواتین کی اس انجمن کے اہداف طے کرنے کے لیے مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کتابوں کی طباعت و اشاعت اور اپنی تخلیقات کی عالمی تشہیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے بزمِ صدف کی اشاعتی سرگرمیوں سے آپ تمام لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
بزمِ صدف کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے تنظیمِ خواتین کی ضرورت کے موضوع پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے اردو کی ادبی تاریخ میں خواتین کی گوناگو ں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس تنظیم کے مستقبل شناس ہونے اور مختلف انداز کے کاموں کو انجام دینے کے لیے آگے آنے کی ذمہ داری اٹھانے کی گزارش کی۔
پروگرام کا افتتاح بزمِ صدف کے سرپرستِ اعلی محمد صبیح بخاری نے کیااور مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر ارتضیٰ کریم(دہلی)، باصر سلطان کاظمی(برطانیہ) اور ضامن جعفری (کینیڈا) نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر افشاں بانو نے کامیابی کے ساتھ کی۔ اس پندرہ ممالک کی خواتین جن میں شاعر، نقاد،افسانہ نگار، محقق اور ادب کی مختلف اصناف میں خدمات انجام دینے والی اہلِ قلم اس میں شامل تھیں۔
دوبئی میں مقیم بزمِ خواتین کی پروگرام کوآرڈینیٹر محترمہ عائشہ شیخ آشی کی نظامت میں خواتین کا یہ عالمی مشاعرہ شروع ہوا۔
محترمہ تہمینہ راو
دل ٹوٹا ایسے، کرچیاں ہاتھوں میں رہ گئیں
گھر اس کے بعد مجھ سے سنبھالا نہیں گیا
رفعت جہاں
دل کوئی آیا لے کے رفعتِ جاں
کوئی بیٹھا رہا غبار لیے
ڈاکٹر ثروت زہرا
ثواب کی دعاؤں نے گناہ کردیا مجھے
بڑی ادا سے وقت نے تباہ کردیا مجھے
ڈاکٹر وفا یزدان منش
ایک ہی لمحے میں مجھ کو سوچ نے بھٹکا دیا
یعنی میری زندگی کا ایک ہی لمحہ غلط تھا
امرینہ قیصر
یہ فیصلے بھی بہت کٹھن ہیں تمھی بتاؤ کہ کیا کروں میں
تمھاری عادت ہے کڑھتے رہنا تو میری عادت ہے مسکرانا
تمھیں خوشی تو کبھی نہ ہوگی،جفا کروں یا وفا کروں میں
فریدہ نثار انصاری
سجا کر آنکھ میں آنسو، گلِ ایثار لائی ہوں
میں اب برقِ تپاں سے مانگ کر رفتار لائی ہوں
عنبرین صلاح الدین
اس کا موڈ بھی ایک پہاڑی رستہ ہے
اگلے موڑ پہ جانے کیسا منظر ہو
سمیعہ ناز ملک
خدا نے میری بینائی کو کچھ ایسا ہنر بخشا
میں آنکھیں بند کر کے بھی نظارہ دیکھ سکتی ہوں
ڈاکٹر افشاں بانو
ایسا کوئی کہاں جسے تم سا بتائیں ہم
دل میں بسا کے جس کو غزل گنگنائیں ہم
ڈاکٹر عشرت معین سیما
فصیل رنجش کی آسماں تک کھڑی ہوئی ہے
سو اس کے سینے میں خشتِ گریہ گڑی ہوئی ہے
تسنیم حسن
جو نام لکھ کے درختوں پہ بھول جاتے ہیں
وہاں پہ شاخوں کے سائے اداس ہوتے ہیں
ہ جہاں جعفری حجاب
گئے پردیس تھے تم دھن کمانے
حویلی اپنی کُٹیا کو بنانے
مگر اب خود سنہری قید میں ہو
کہ تم نے کھو دیے اپنے ٹھکانے
حمیرا رحمان
ادھار مانگی ہے کچھ سال زندگی ہم نے
زمیں پہ رہتے ہوئے آسماں کا حصہ ہیں
شاہدہ حسن
میں ٹوٹتے اور بکھرتے رشتوں کو جوڑنے میں مگن ہوں لیکن
ہے یہ بھی سچ کہ مجھی کو مجھ سے ملانے والا کوئی نہیں ہے
اس پروگرام میں اردو ادب و تنقید کی معتبر آواز پروفیسر مظفر حنفی کوخراج عقیدت پیش کیا گیا۔
محترمہ شاہدہ حسن نے مظفر حنفی کو یاد کرتے ہوئے اپنی غزل کا ایک شعر انھیں نذر کیا:
دیے لگاتار بجھ رہے ہیں تو بڑھ گیا ہے بہت اندھیرا
چراغ سے اب چراغ شاید جلانے والا کوئی نہیں ہے
اس کے علاوہ کلکتہ سے محترمہ شبانہ آفرین جاوید، موریشس سے ڈاکٹر نازیہ بیگم جافو، بنگلہ دیش سے محترمہ حفصہ اختر اور لکھنؤ سے محترمہ غزال ضیغم نے اختصار کے ساتھ اپنے خیالات اور ادارے کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان