(جنرل (عام
متعدد مرتبہ حتمی بحث ہونے کے باوجود فیصلہ دینے سے قبل ججوں کو ٹرانسفر کردیا گیا، گلزار اعظمی
ممبئی 16 اکتوبر
اترد یش کے شہر ورانسی میں واقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں 2006میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں 28افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے مقدمہ کے اکلوتے ملزم مفتی ولی اللہ کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، گذشتہ کل جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کے روبرو ضمانت عرضداشت پر سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کیئے گئے وکیل عارف علی نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں تمام سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج مکمل ہوچکا ہے نیز فریقین کی جانب سے متعدد مرتبہ حتمی بحث بھی کی گئی لیکن فیصلہ ظاہر کرنے سے قبل ہی ججوں کو منتقل کردیا گیا جس کی وجہ سے مقدمہ ختم نہیں پارہا ہے لہذا ملزم کو ضمانت پررہا کیا جائے۔
ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت کو مزید بتایاکہ گذشتہ دو دسالوں سے اس مقدمہ میں کوئی کا پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملزم ذہنی تناؤ کا شکار بھی ہوچکا ہے اور اس کے اہل خانہ بھی مایوس ہوتے جارہے ہیں اور دفاعی وکلاء بھی کئی بار حتمی بحث کرچکے ہیں لیکن ججوں کی منتقلی کی وجہ سے مقدمہ فیصل نہیں ہوپارہا ہے۔
ایڈوکیٹ عارف علی کی بحث سماعت کرنے کے بعد تین رکنی بینچ نے نچلی عدالت سے رپورٹ طلب کی ہیکہ آیا ابتک اس معاملے میں کیوں فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ عدالتی ریکارڈ سے لگ رہا ہیکہ متعدد مرتبہ حتمی بحث ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنی سماعت ملتوی کردی۔
اس ضمن میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم مفتی ولی اللہ کے معاملے میں تمام سرکاری گواہوں کی گواہی مکمل ہوچکی تھی اور استغاثہ اور دفاع کی حتمی بحث کا اختتام بھی ہوچکا تھا بس فیصلہ کا انتظار تھا لیکن سیشن جج کے اچانک تبادلے سے معاملہ التوا ء کا شکار ہوگیا جس کے بعد ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جس پر عدالت عظمی نے نچلی عدالت سے رپورٹ طلب کی ہے۔
گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ7مارچ 2006 سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماک ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ورانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے8/ مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مفتی ولی وللہ کو 5/ اپریل 2006ء کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ملزم ولی وللہ کے خلاف دو مقدما ت کا اندراج کیا گیا تھا جن کے نمبر 1786/2006اور 815/2011 ہیں جو زیر سماعت ہیں۔
سال2011ء میں غازیہ آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجہ کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا،دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہ دینے کے لیئے استغاثہ نے 48/ گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا۔
(جنرل (عام
ممبئی : بچوں کو لڑکیوں کا لباس پہنا کر زنخہ بنانے والا زنخوں کا سربراہ گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

ممبئی : ممبئی میں بچوں کو لڑکیوں کے لباس زیب تن کرواکر زنخہ بنا کر بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے ایک زنخہ کو پولس نے گرفتار کیا ہے, جو بچوں کو بھیک منگوانے اور زندہ گینگ کا سربراہ تھا۔ ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۶ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا ہے۔ شیواجی نگر پولیس اسٹیشن 237/2026 u/s 139, 142, 352, 351(2) بی این ایس کے ساتھ دفعہ 4, 6, 8, 12, 17 پی او سی ایس او کے ساتھ دفعہ 5 کے ساتھ بچوں کی غیر اخلاقی اسمگلنگ اور خواتین کے تحفظ کے ایکٹ 7 کے ساتھ سیکشن 18 تھرڈ پرسن ایکٹ (*پی او سی ایس او کے ساتھ جبری جنسی تعلقات) کا مقدمہ ملزم پر درج کیا گیا تھا اس معاملہ میں پولس نے بابو عینال خان عرف بابو گرو عرف بابو زنخہ، عمر 30 سال، رہائشی گلی نمبر 9، باب رحمت مسجد کے قریب، رفیق نگر پارٹ نمبر 2، شیواجی نگر گوونڈی کو گرفتار کیا ہے۔ شکایت کنندہ کے نابالغ بیٹے کو اغوا کرکے زبردستی تیسری جنس کا فرد بنایا اور اپنے مالی فائدے کے لیے بچے کو لوکل ٹرین میں بھیک مانگنے پر مجبور کیا اور مذکورہ نابالغ کو لڑکیوں کے کپڑے پہنا کر مرد گاہکوں کے ساتھ فطری جنسی استحصال کرنے پر بھی مجبور کیا، جس کے لیے پولیس اسٹیشن میں مذکورہ جرم درج کیا گیا۔ اس معاملہ کی تفتیش کے لیے کرائم برانچ نے ملزم کو زیر حراست کیا کرائم برانچ نے اپنی خفیہ خبر کی بنیاد پر ملزم کو واشی ناکہ سے گرفتار کیا, جو اپنی شناخت چھپا کر یہاں روپوش تھا, مذکورہ ٹیم نے موصول اطلاع کے مطابق نئی ممبئی کے واشی کوپری گاؤں میں جال بچھا دیا تھا۔ لیکن مطلوب ملزم کو شک ہو گیا اور وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دیگر راستے سے موٹر کار میں ممبئی کی طرف بھاگنے لگا۔ پھر مذکورہ ٹیم نے اس کی موٹر کار کا بھی پیچھا کیا اور اسے پنجراپول جنکشن، ٹرامبے، ممبئی سے گرفتار کرلیا۔ اس وقت اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مذکورہ مطلوب ملزم وہی ہے اور اسے کرائم برانچ آفس لایا گیا۔ مذکورہ جرم کے سلسلے میں جب اس پوچھ گچھ کی گئی تو پایا گیا کہ وہ اس جرم میں سرگرم عمل تھا، اس کا طبی معائنہ کیا گیا اور مزید تفتیش کے لیے اسے شیواجی نگر پولس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔ ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اس کے خلاف 1) شیواجی نگر پولیس اسٹیشن جی نمبر نمبر 718/2024 سی 115(2), 118(1), 353,351 بی این ایس نارپولی پولیس تھانہ نمبر نمبر1704/2024 سی 109, 118(1), 352, 351, بی این ایسکرلا پولس اسٹیشن جی این او ایس240/2017 سی 365، 342، 348، آئی پی سی دیونار پولیس اسٹیشن نمبر۔ نمبر150/ 2010 سی 324,323 آئی پی سی شیواجی نگر پولیس اسٹیشن 218/2025 سی 3(اے), 6(اے) سیکشن 3 کے ساتھ پارپٹ ایکٹ فارن نیشنل آرڈر سیکشن 318(4), 336, 337, 339, 340(2) بی این ایس کے تحت مقدمات درج ہیں یہ اطلاع آج یہاں یونٹ ۶ کے انچارج بھارت گھونے دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے ملاڈ میں منوہر ومن دیسائی اسپتال کا لیا جائزہ

ممبئی : ممبئی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے آج (20 اپریل 2026) ملاڈ ایسٹ علاقے میں واقع ممبئی میونسپل کارپوریشن کے منوہر ومن دیسائی اسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے اسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ، انتہائی نگہداشت کے شعبہ اور اسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں سے بھی بات چیت کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور متعلقہ افسران و ملازمین سے بھی بات چیت کی اور وہاں کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کے آج کے دورے کے دوران، ڈاکٹر چندرکانت پوار، چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مضافاتی اسپتالوں کے شعبہ کے سربراہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ آج کے دورے کے دوران ڈاکٹر شرما نے اسپتال سے متعلق مشینری، ایمبولینس اور مختلف امور کا جائزہ لیا اور وہاں کی صورتحال پر متعلقہ افراد کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے متعلقہ افسران اور ملازمین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ڈاکٹر شرما نے ہدایت دی کہ اسپتال میں طبی خدمات فراہم کرنے والے تمام ڈاکٹروں اور متعلقہ ملازمین کو چاہیے کہ وہ اسپتال میں طبی علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے ساتھ زیادہ خوش اسلوبی سے بات کریں اور مریضوں کی مناسب طریقے سے مشاورت کریں۔ ڈاکٹر شرما نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی اور خدمات کی سہولیات کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا۔ منوہر ومن دیسائی ہسپتال ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ایک اہم ہسپتال ہے جو ملاڈ مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ 180 بستروں پر مشتمل یہ اسپتال 1976 سے ممبئی والوں کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ دفتری کام کے دنوں میں اس اسپتال کا آؤٹ پیشنٹ رجسٹریشن صبح 8 بجے سے 11 بجے کے درمیان کھلا رہتا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی لینسکارٹ اسٹور میں بی جے پی لیڈر نازیہ الہی کی شرانگیزی, اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کی اپیل

ممبئی : ممبئی کے اندھیری علاقہ میں لیسنکارٹ اسٹور میں داخل ہوکر بی جے پی لیڈر نازیہ الہی نے نہ صرف یہ کہ نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک مسلم نوجوان سے بحث کر تے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح سے یہاں شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے لینسکارٹ میں ہندو لباس و طریقہ رسم و رواج پر پابندی کے بعد نازیہ الہی نےسوشل میڈیا پر لینسکارٹ میں داخل ہوکر یہاں ہندو ملازمین کو تلک لگایا جس کے بعد یہ معاملہ اب مذہبی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے لینسکارٹ کے مالک پیوش بنسل سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلامی رسم و رواج کے لیے اتنی “محبت” ہے تو ہندو اکثریت والے ہندوستان میں ہندو عقائد کے لیے اتنی “نفرت” کیوں ہے؟ لینسکارٹ کے دوہرے معیار کے خلاف ملک بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لوگ مختلف طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سناتن روایات کی حامی اور بی جے پی لیڈر نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا اور ملازمین کو تلک لگایا۔نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا۔نازیہ نے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات اور شناخت سے پوری طرح آگاہ رہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لینسکارٹ اسٹور کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے، اس نے لکھا، “تلک آپ کےلئے باعث افتخار ہے۔ کلاوا آپ کا سنسکار (مقدس دھاگہ) آپ کا سنسکار (ثقافت) ہے۔ سناتن آپ کی پہچان ہے ہر ہر مہادیوکا نعرہ لگانا آپ کا اعزاز ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہندو جہاں بھی کام کرتے ہیں، انہیں اپنی شناخت اور روایات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نازیہ نے لکھا۔چاہے آپ لینسکارٹ میں کام کریں یا ایئر انڈیا میں، آپ جہاں بھی ہوں، اپنی شناخت سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔” نازیہ نے اپنی پوسٹ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دفتر، وی ایچ پی، بجرنگ دل، مہاراشٹر بی جے پی اور ایئر انڈیا کو ٹیگ کیا
لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگانے کی مہم پوسٹ کی گئی تصاویر میں نازیہ الٰہی خان لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس پوسٹ پر سابق مسلم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔بہت سے صارفین نے انتہائی جارحانہ اور بیہودہ تبصرے کیے ہیں جن کا یہاں ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔لینسکارٹ دوہرے معیار کے الزامات کے درمیان تنازعہ کاشکار ہوگیا ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ لینسکارٹ کے اپنے ملازمین کے لیے لباس اور تصویر کے حوالے سے داخلی ہدایات گزشتہ کچھ دنوں سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک ہندو اکثریتی ملک میں ایک ہندو ملکی کمپنی جس میں ہندو ملازمین اور ہندو خریداروں کی اکثریت ہے، ہندو مذہبی عقائد اور ہندو شناخت کو دبانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔ پیوش بنسل نے دو الگ الگ پوسٹس میں ان الزامات کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لینسکارٹ گرومنگ گائیڈ لائنز پرانی ہیں۔
لینسکارٹ کے ڈریسنگ رولز پر تنقید
پیوش بنسل نے تسلیم کیا کہ سندھور، بندی اور کلاوا پر پابندی عائد تھی۔لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس طرح کے گہرے امتیازی رہنما خطوط کسی میں موجود ہے۔ لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ “نئے رہنما خطوط کہاں ہیں جو سندور، بندی اور کلاوا پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟” دریں اثنا، لینسکارٹ کے کئی سابق اور موجودہ ملازمین رپورٹ کر رہے ہیں کہ کس طرح کمپنی ہندو ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ کچھ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ وہ ہندو مذہبی عقائد کی پاسداری کرتے تھے یا ان کی حمایت میں بات کرتے تھے۔لینسکارٹ کے حصص فروخت ہوئے۔مذہبی امتیاز کے الزامات اور اس کے ارد گرد بڑھتے ہوئے تنازعہ کے بعد، لینسکارٹ کے حصص فروخت ہو رہے ہیں۔ پیر کو، لینسکارٹ کے حصص دونوں بڑے انڈیکس، بی ایس ای اور این ایس ای پر تقریباً دو فیصد گر گئے۔ دوپہر 2:40 بجے اس خبر کو شائع کرنے کے وقت، بی ایس ای پر لینسکارٹ کے حصص 1.83%، یا ₹9.80، ₹524.75 تک نیچے تھے۔ دریں اثنا، این ایس ای پر، لینسکارٹ کے حصص 1.82%، یا ₹9.75، گر کر ₹524.80 پر آ گئے۔اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا ہے جبکہ یہ معاملہ مذہبی بھید بھائو اور فرقہ پرستی سے بھی وابستہ ہے اور کھلے عام مذہبی عناد پیدا کرتے ہوئے نازیہ الہی نے کسی ایک مذہب کا ہدف بھی بنایا ہے ۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
