Connect with us
Friday,18-September-2026

جرم

واٹس ایپ کے ذریعے سیاسی دشمنی میں جھوٹا الزام لگا کر بدنام کرنے کے خلاف شکایت

Published

on

(پریس ریلیز)
گذشتہ ماہ سیاسی دشمنی کی بنیاد پر شوشل میڈیا واٹس ایپ پر میرے (اشتیاق احمد 42) کے خلاف جھوٹی پوسٹ بنا کر وائرل کی گئی اور باربار اشتیاق احمد 42 اور کل ھند مجلس اتحادالمسلمین کا نام لے لے کر جھوٹا الزام لگا کر مخالفین مجلس کی جانب سے بدنام کیا جارہا ہے۔ الزام ایسا لگایا جارہا ہے کہ اس پوسٹ کو دیکھنے اور سننے والا بھی اپنے آپ میں شرم محسوس کرے کہ اشتیاق احمد 42 نے کسی چھوٹی سی معصوم لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مرتکب ہوا۔

جبکہ اس الزام کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس طرح کی جھوٹی پوسٹ ضیاالرحمن نامی شخص نے 9673791180 اس نمبر سے 18 اگست کو صبح 9.17 منٹ پر ایک گروپ میں واٸرل کی۔ جسکو دوسرے دن 19 اگست کو شفیق باکسر نامی شخص نے مزید مبالغہ آراٸی کے ساتھ 902846 56 86 اس نمبر سے ”لاٸف لاٸن گروپ“ اور ”ماسٹر اسٹروک“ نامی گروپوں میں واٸرل کیا۔ جس کو کچھ کانگریسی ورکروں نے خوب اچھالا اور اپنے گروپ میں اشتیاق احمد 42 کو نقصان پہنچانے سے متعلق پلاننگ کی اور اشتیاق احمد 42 اور اسکے خاندان و کل ھند مجلس اتحادالمسلمین سے متعلق بے عزتی والے جملوں کا اظہار کیا۔ حیرت انگیز طور پر گروپ کے ایڈمنوں نے اپنا فرض نہ نبھاتے ہوٸے ان افراد کو نہ ہی کسی طرح کی تنبیہ کی اور نہ ہی ایسے شرپسند وفسادی عناصر کو اپنے گروپ سے ریمو کیا بلکہ ”ماسٹراسٹروک“ کے ایڈمن نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر نہ صرف بحث میں حصہ لیا بلکہ اشتیاق احمد 42 کو نقصان پہنچانے کی سازش رچنے میں بھی شریک رہا۔ جس کے تمام تر ثبوت شہر بھر سے ہمارے خیرخواہوں نے اسکرین شاٹ کے ذریعے مجھے بتایا۔ کیونکہ کسی مجبوری کی بنیاد پر میرے پاس اینڈرائیڈ موبائیل 3 اگست 2020 سے نہیں ہے اور میں بٹن والا سادہ موبائیل استعمال کررہا ہوں۔ لیکن اسکے باوجود بھی 18 اور 19 اگست کو کچھ افراد سیاسی دشمنی کی بنیاد اس لیۓ کہ اسمبلی 2019 الیکشن میں مجلس اتحادامسلمین کے امیدوار مفتی محمد اسمعیل قاسمی کی کامیابی کے لیۓ میں نے تن من کوشش کی۔ اور شوشل میڈیا پر مجھے پارٹی کی ترجمانی کی ذمہ داری دی گئی جسے میں نے بحسن خوبی ادا کیا۔ اور شہر کی بھلائی کے لیۓ اپنی قلم کا اچھے انداز سے استعمال کیا۔ اور مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب کو اللہ نے کثیر ووٹوں سے کامیابی سے نوازا۔ تب سے لے کر آج تک میرے علاوہ سیاسی دشمنی کی بنیاد پر شہر کے کئی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اور بنایا جا رہا ہے ۔ جس میں خود مجلس کے ایم ایل اے مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب ، ڈاکٹر خالد پرویز و عبدالمالک صاحبان بھی شامل ہیں۔ جن کو نازیبا القاب سے نوازا جاتا ہے۔ شوشل میڈیا واٹس اپ گروپوں پر یہ ایک مخصوص ٹولہ ہے اس ٹولے کے کئی افراد پر پہلے بھی کئی گناہ پولس اسٹیشنوں داخل ہوچکے ہیں جن میں سے ایک کا گناہ نمبر 144/ 2018 ہے اور وہ کئی کئی دنوں تک وہ لوگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ لیکن وہ لوگ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آٸے اور آج بھی یہ کانگریسی چمچے اور نام نہاد سیکولر پارٹی کے ذہنی غلام کسی کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ اور نازیبا الزامات لگاکر اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور انکی باتوں کا مدلل اور معقول جواب دینے والوں کو فون کرکے دھمکیاں دیں جاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طریقے کے واقعات پیش آئے۔ تب دلبرادشتہ ہوکر اپنی عزت نفس کا خیال کرتے ہوۓ میں نے قانونی کاروائی کرتے ہوۓ ایسے افراد کے خلاف سائبر کرائم ناسک سے لے کر پولس کے اعلی حکام تک تمام ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی کرنے کا من بنایا۔ اور پولس کے اعلی حکام کو تمام ثبوت کمپلین کے ساتھ داخل کیا ۔ میرے خلاف جھوٹی پوسٹ چلانے والوں میں
نمبر 1 ضیاالرحمن جاوید احمد 9673791180
نمبر 2 شفیق باکسر 902846 56 86
نمبر 3 ریاض علی یوسف علی 9370596161
نمبر 4 رضوان ثنا 7020507313
نمبر 5 وسیم احمد 7276929271
نمبر 6 ثاقب سعید 9284355955
نمبر 7 کامران شیخ 8623894296
نمبر 8 نوید قریشی 9890332531
ان تمام افراد کے خلاف پولس کے اعلی حکام تک تحریری شکایت مع تمام ثبوت کے روانہ کرتے ہوۓ سخت کاروائی کی مانگ کی گئی۔ کاروائی نہ ہونے کی صورت میں ان افراد کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاۓ گا۔ تاکہ شہر سے ایسے شرپسند افراد جوکہ شوشل میڈیا کے ذریعے شہر کا ماحول خراب کررہے ہیں ان پر قد غن لگایا جاسکے۔ اور شہر کا ماحول پرامن و صاف ستھرا رہ سکے۔
میں عوام کے علم میں اس بات کو بھی لانا چاہتا ہوں کے وہاب شیخ رشید کے ذریعے کیۓ گٸے حملے میں زخمی ہونے کا حوالہ دے کر ضیاالرحمن نے ذوالفقار احمد ذلو سیٹھ۔ عیدی امین بھکو۔ خالد سکندر۔ اور ڈاکٹر خالد پرویز صاحبان سے روپیٶں کا مطالبہ کیا۔ پیدل اور ننگے پیر جاکر اور کھانے اور پٹرول نہ ہونے کی بات کرکے چپل ٹوٹنے کی دہاٸی دے کر یہ شخص مسلسل مجلس کے ذمہ داران سے روپیٶں کا مطالبہ کرتا رہا۔ جس کی میں نے شدید مخالفت کی اور اس سے قطع تعلق کرلیا۔ اسکا مطالبہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ شخص کانگریسیوں کا آلہ کار بن کر بلیک میلنگ کا حربہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوگیا اور میرے خلاف ایسی جھوٹی پوسٹ واٸرل کی۔ اس سے قبل بھی یہ مکار شخص ہزارکھولی کے ایک کارپوریٹر کی ممبری رد کروانے کے معاملے میں ڈبل کراس کرچکا ہے۔
آخر میں میں شوشل میڈیا استعمال کرنے والے تمام ہی احباب سے گذراش کرتا ہوں کہ شوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جس کے مثبت استعمال کریں۔ اگر آپ کسی سیاسی پارٹی سے انسیت رکھتے ہو تو یہ آپ کا حق ہے۔ مگر خدا کے لیۓ اپنے مخالف لیڈر و ورکروں کی کردار کشی نہ کریں۔ نہ ہی کسی کی ذاتیات پر لکھیں کیونکہ ہر چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے اور ہر کوٸی لکھنے کا ہنر بھی جانتا ہے-

جرم

دہلی میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل، کھیت سے لاش ملی

Published

on

Death

نئی دہلی، 18 ستمبر دہلی میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ تین نابالغوں سمیت چار افراد نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری اور قتل کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بعد میں اس کی لاش کو ایک کھلے علاقے میں چھوڑ دیا، متاثرہ لڑکی کی سڑی ہوئی لاش کے کچھ حصوں کو آوارہ کتوں نے کھایا تھا۔ شمالی دہلی کے سوروپ نگر علاقے میں کشک روڈ کے ساتھ جے پال رانا کے کھیت کے قریب سے بوسیدہ لاش ملی۔ لاش کی حالت ایسی تھی کہ پولیس ابتدائی طور پر مقتول کی جنس کا تعین نہیں کر سکی۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ شخص ملزم سے واقف تھا اور ان کے ساتھ ایک ٹیمپو میں سفر کر رہا تھا۔ سفر کے دوران، اس گروپ نے مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے سے پہلے شراب پی تھی۔ اس کے بعد اسے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا جس کے بعد اس کی لاش مبینہ طور پر کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔

تفتیش کاروں نے بتایا کہ آوارہ کتوں نے جسم کے کچھ حصے کھا لیے تھے، جب کہ مقتول کا ایک ہاتھ باقی جسم سے جدا پایا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے اہل خانہ نے گمشدگی کی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ کبھی کبھی گھر سے نکل جاتی تھی اور کئی دنوں تک دور رہنے کے بعد واپس آ جاتی تھی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پی او سی ایس او) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چونکہ وہاں کوئی بظاہر عینی شاہد نہیں تھا اور ابتدائی طور پر ملزمان کی شناخت معلوم نہیں تھی، اس لیے پولیس نے علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ شروع کر دی۔

تفتیش کاروں نے 50 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ کیا جو مشتبہ کرائم سین اور ملحقہ راستوں پر نصب تھے۔ مشق کے دوران، پولیس نے متعلقہ مدت کے ارد گرد ایک ٹیمپو کو گھومتے ہوئے دیکھا۔ تاہم، اس کے رجسٹریشن نمبر کی واضح طور پر نشاندہی نہیں کی جاسکی کیونکہ اندھیرے اور بصارت کی کمی ہے۔ بعد ازاں تفتیش کاروں نے کئی مقامات سے فوٹیج کے ذریعے گاڑی کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔ 15 اور 16 ستمبر کی درمیانی شب رات بھر آپریشن کیا گیا جس کے بعد مشتبہ ٹیمپو کا سراغ لگایا گیا۔ پھر پولیس نے اس کے ڈرائیور کی شناخت کر کے پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات کے نتیجے میں اس واقعے سے مبینہ طور پر جڑے چار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں تین نابالغ بھی شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بالغ ملزم کی شناخت شیوم عرف سداما عرف چچو کے طور پر کی گئی ہے جو کھڈا کالونی کا رہنے والا ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تین نابالغوں کی عمریں 16 اور 17 سال ہیں۔ پولیس کے مطابق جرم کے دوران مبینہ طور پر استعمال ہونے والے دو چاقو، ملزمان کے مبینہ طور پر پہنے ہوئے کپڑے اور ٹیمپو برآمد کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی ترتیب، گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا پتہ لگانے اور پولیس نے شواہد کی تکنیکی اور تکنیکی تصدیق کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

جرم

دہلی میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل، کھیت سے لاش ملی

Published

on

Death

نئی دہلی، 18 ستمبر دہلی میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ تین نابالغوں سمیت چار افراد نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری اور قتل کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بعد میں اس کی لاش کو ایک کھلے علاقے میں چھوڑ دیا، متاثرہ لڑکی کی سڑی ہوئی لاش کے کچھ حصوں کو آوارہ کتوں نے کھایا تھا۔ شمالی دہلی کے سوروپ نگر علاقے میں کشک روڈ کے ساتھ جے پال رانا کے کھیت کے قریب سے بوسیدہ لاش ملی۔ لاش کی حالت ایسی تھی کہ پولیس ابتدائی طور پر مقتول کی جنس کا تعین نہیں کر سکی۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ شخص ملزم سے واقف تھا اور ان کے ساتھ ایک ٹیمپو میں سفر کر رہا تھا۔ سفر کے دوران، اس گروپ نے مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے سے پہلے شراب پی تھی۔ بعد ازاں اسے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد اس کی لاش مبینہ طور پر کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں نے جسم کے کچھ حصوں کو کھا لیا تھا، جب کہ مقتول کا ایک ہاتھ باقی جسم سے جدا پایا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے اہل خانہ نے گمشدگی کی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ کبھی کبھی گھر سے نکل جاتی تھی اور کئی دنوں تک دور رہنے کے بعد واپس آ جاتی تھی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پی او سی ایس او) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چونکہ وہاں کوئی بظاہر عینی شاہد نہیں تھا اور ابتدائی طور پر مشتبہ افراد کی شناخت معلوم نہیں تھی، اس لیے پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تفتیش کاروں نے مشتبہ جائے وقوعہ اور ملحقہ راستوں پر نصب 50 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ کیا۔ مشق کے دوران، پولیس نے متعلقہ مدت کے ارد گرد ایک ٹیمپو کو گھومتے ہوئے دیکھا۔ تاہم، اس کے رجسٹریشن نمبر کی واضح طور پر شناخت نہیں ہوسکی ہے کیونکہ اندھیرے اور مرئیت کی کمی ہے۔

اس کے بعد تفتیش کاروں نے کئی مقامات سے فوٹیج کے ذریعے گاڑی کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔ 15 اور 16 ستمبر کی درمیانی شب رات بھر آپریشن کیا گیا جس کے بعد مشتبہ ٹیمپو کا سراغ لگایا گیا۔ پھر پولیس نے اس کے ڈرائیور کی شناخت کر کے پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات کے نتیجے میں اس واقعے سے مبینہ طور پر جڑے چار افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں تین نابالغ بھی شامل ہیں۔ پولس نے بتایا کہ بالغ ملزم کی شناخت شیوم عرف سداما عرف چچو کے طور پر کی گئی ہے، جو کھڈا کالونی کا رہنے والا ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تین نابالغوں کی عمریں 16 اور 17 سال ہیں۔ پولیس کے مطابق جرم کے دوران مبینہ طور پر استعمال ہونے والے دو چاقو، ملزمان کے مبینہ طور پر پہنے ہوئے کپڑے اور ٹیمپو برآمد کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی ترتیب، گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا پتہ لگانے اور تکنیکی شواہد کے لیے پولیس نے مزید تفتیش کی ہے۔

Continue Reading

جرم

بنگلورو : ٹی این (ایل ڈی) کے اجنبی شوہر کے ذریعہ بنگال کی نرس پر جان لیوا حملے کے پیچھے خاندانی تنازعہ کا شبہ ہے۔

Published

on

بنگلورو : پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ مغربی بنگال کی 26 سالہ نرس پر مغربی بنگال کی ایک 26 سالہ نرس پر مہلک حملے کے پیچھے ایک خاندانی تنازعہ تھا، پولیس نے جمعرات کو بتایا۔ پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ جے پی نگر کے نارائنا اسپتال کے قریب حملے کے بعد متاثرہ، مدھومیتا کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم، جس کی شناخت وینکٹیشن کے طور پر کی گئی ہے، نے مبینہ طور پر مدھومیتا پر تیزاب ہونے کے شبہ میں مائع پھینکنے کے بعد ایک چاقو اور لمبے چاقو سے حملہ کیا۔ یہ واقعہ صبح 9.15 بجے کے قریب نارائنا اسپتال کے قریب پیش آیا، جہاں مدھومیتا بطور نرس کام کرتی ہے۔ ڈی سی پی کے مطابق، ملزم نے حملہ کے دوران ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور حملے میں دو مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔”ملزم نے تیزاب سے ملتا جلتا مائع استعمال کیا ہے اور خاتون پر چاقو اور چاقو سے حملہ کیا ہے۔ جوڑے میاں بیوی ہیں، اور شبہ ہے کہ یہ واقعہ خاندانی تنازعہ کے پس منظر میں پیش آیا،” ڈاکٹر ومشی کرشنا نے کہا۔

مدھومیتا اور وینکٹیشن نے 2024 میں مدورائی، تمل ناڈو میں شادی کی تھی۔ تاہم، یہ جوڑا مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک ساتھ نہیں رہ رہے تھے۔ مدھومیتا بنگلورو میں ایک پی جی رہائش گاہ میں رہ رہی تھی، جب کہ وینکٹیشن چنئی جانے سے پہلے بنگلورو میں کام کر چکا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وینکٹیشن بدھ کی رات مدورائی سے بنگلورو گیا تھا اور مبینہ طور پر حملہ کرنے سے پہلے مائع اور ہتھیار لے کر پہنچا تھا۔ اسے گرفتار کر لیا گیا اور پولیس اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ کرائم آفیسرز (ایس او سی او) کی ٹیم نے جائے وقوعہ جمع کر لیا ہے اور حملے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے مائع کی جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ تیزاب تھا یا نہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، جوڑے کی ملاقات ڈیٹنگ درخواست کے ذریعے ہوئی تھی۔ وینکٹیشن مبینہ طور پر مدھومیتا پر شبہ کرتا تھا اور اکثر اس کے ساتھ اس کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ریلوں پر لڑتا رہتا تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران وینکٹیشن نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی اس کی بات نہیں سن رہی ہے اور اسے شبہ ہے کہ وہ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ہے۔ اس نے مبینہ طور پر اس پر مہلک ہتھیاروں سے 10 سے زیادہ بار حملہ کیا۔ یاد رہے کہ وینکٹیشن نے مبینہ طور پر مدھومیتا کا پیچھا کیا جب وہ اسپتال سے باہر آئی تھیں۔ وہ ہسپتال کے سیلر پارکنگ ایریا کی طرف بھاگی، جہاں ملزم نے مبینہ طور پر اسے پکڑ لیا اور تیزاب جیسا مائع اس پر پھینک دیا۔ اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر اسے بالوں سے پکڑ لیا اور اس پر چاقو اور چاقو سے بار بار حملہ کیا۔ کئی لوگوں نے خطرے کی گھنٹی بجائی اور مداخلت کرنے کی کوشش کی، لیکن ملزم نے مبینہ طور پر ان لوگوں پر ہاتھا پائی کی جنہوں نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی۔ مبینہ طور پر عوام کے کچھ ارکان نے ملزم پر پتھراؤ کرکے مدھومیتا کو بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ اس پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ پولیس نے اس حملے کی ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کر لی ہے جو عوام کے ارکان نے بنائی تھیں۔ فوٹیج سے واقعے کی تحقیقات کا حصہ بننے کی توقع ہے۔ ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کے موقع پر پہنچنے کے بعد ملزم کو بالآخر قابو کر لیا گیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔ مدھومیتا، جس کا تعلق مغربی بنگال کے کولکاتہ سے ہے، حملے میں شدید زخمی ہوئے اور اسے علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان