Connect with us
Monday,18-May-2026
تازہ خبریں

بین الاقوامی خبریں

اردن کے شاہ نے بشارکھساؤنے کو نیا وزیراعظم مقرر کیا

Published

on

جارڈن کے شاہ عبداللہ دوم نے بشارکھساؤنے کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کیا ہے۔
رائل کورٹ کے بیان کے مطابق مسٹر کھساونے کی تقرری کے بعد شاہ عبداللہ نے سنیر کو وزیراعظم عمر رزاق کا استعفی نامہ منظور کرلیا۔ مسٹر کھساؤنے شاہ کے پالیسی اور میڈیا مشیر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔
شاہ نے بدھ کو مسٹر کھساؤنے کو ارسال اپنے خط میں کہا کہ عالمی وبا کووڈ۔ 19 کے درمیان نئی کابینہ کی تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ ابھی ہم بھی وبا سے نمٹنے اور صحت، سماجی اور معاشی اثر کو کم کرنے کے لئے اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کررہے ہیں۔
مسٹر عبداللہ نے کہا کہ شہریوں کی صحت اور فلاح اعلی سطحی ترجیحات میں شامل ہیں جس کے مطابق حکومت کووڈ وبا سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔ اقتصادی شعبے کو چلانے اور شہریوں کی حفاظت کے ساتھ صحت سے متعلق توازن برقرار رکھتے ہوئے ذریعہ معاش برقرار رکھنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ٹرمپ کے مشیر نے خبردار کیا کہ چین کسی بھی وقت تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔

Published

on

Chain-America

واشنگٹن/بیجنگ : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ “چین کسی بھی وقت تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔” کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے کئی مشیروں کو اب خدشہ ہے کہ چین اگلے پانچ سالوں کے اندر تائیوان کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی سیمی کنڈکٹر کی سپلائی اور امریکی معیشت کو اہم خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مشیروں کے یہ دعوے ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے سے واپس آنے کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دورے کے دوران دوستانہ ماحول کے باوجود کچھ خدشات کا اظہار کیا گیا۔ تاہم، ٹرمپ خالی ہاتھ لوٹے، اور شی جن پنگ نے تائیوان کے حوالے سے امریکا کو ایک سنگین انتباہ جاری کیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے مبینہ طور پر بیجنگ کے دورے کے دوران ژی جن پنگ کی طرف سے دیے گئے رسمی استقبال اور خصوصی رسائی کا لطف اٹھایا۔ تاہم، مشیروں کا خیال تھا کہ بات چیت کے دوران ژی کے پیغام نے زیادہ مضبوط جغرافیائی سیاسی اشارہ دیا۔ رپورٹ میں، ٹرمپ کے ایک مشیر نے کہا کہ شی جن پنگ چین کو “ابھرتی ہوئی طاقت” کے بجائے امریکہ کے لیے “برابر کی طاقت” کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مشیر نے کہا کہ شی جن پنگ کا پیغام بنیادی طور پر تھا، “ہم ابھرتی ہوئی طاقت نہیں ہیں، ہم آپ کے برابر ہیں اور تائیوان میرا ہے۔”

ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر نے مزید خبردار کیا کہ اس سربراہی اجلاس سے اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ تائیوان اگلے پانچ سالوں میں کسی بڑے تنازع کا مرکز بن سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کے مشیر اس بارے میں بھی فکر مند ہیں کہ تائیوان میں کسی بھی تنازع سے عالمی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تائیوان دنیا کے سب سے اہم سیمی کنڈکٹر چپ تیار کرنے والوں میں سے ایک ہے، جو ان چپس کو مصنوعی ذہانت کے نظام، اسمارٹ فونز، گاڑیوں اور دیگر ٹیکنالوجیز میں استعمال کرتا ہے۔ Axios نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ ہے کہ امریکہ اب بھی چپ کی تیاری میں خود کفیل ہونے سے بہت دور ہے۔

Axios نے رپورٹ کیا، “معاشی طور پر، ہم اس کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں،” ایک مشیر نے خبردار کیا۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ چپ سپلائی چین کا بہت زیادہ انحصار تائیوان پر ہے۔ یہ خدشات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ پر تیزی سے مرکوز ہے۔ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران تائیوان کا مسئلہ ایک اہم موضوع رہا۔ جمعہ کو ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ تائیوان کے لیے مجوزہ 14 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکج کی منظوری دی جائے یا نہیں۔ یہ پیکیج، جس میں میزائل اور فضائی دفاعی مداخلت کار شامل ہیں، کئی مہینوں سے زیر التواء ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تائیوان پر چین کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتے۔

بیجنگ میں بات چیت کے دوران شی جن پنگ نے ٹرمپ کو متنبہ کیا کہ اگر تائیوان کے معاملے کو مناسب طریقے سے نہیں نمٹا گیا تو امریکہ اور چین کے تعلقات “تصادم اور یہاں تک کہ تنازعہ” کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے امریکہ کی 1982 کی “چھ یقین دہانیوں” کی پالیسی کا بھی حوالہ دیا، لیکن اشارہ دیا کہ وہ موجودہ حالات میں اس معاہدے کو مکمل طور پر پابند نہیں سمجھتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصروں کے بعد، تائیوان نے ایک خودمختار اور خود مختار ملک کے طور پر اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ تائیوان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ جزیرہ “عوامی جمہوریہ چین کے تابع نہیں ہے۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بھارت نے اقوام متحدہ میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی مذمت کی، حملے کے مرتکب تاحال نامعلوم ہیں۔

Published

on

نئی دہلی : ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں پر اقوام متحدہ میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس سے شہری عملے کو خطرہ لاحق ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پراوتھنی ہریش نے اس معاملے پر واضح ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا، شہری عملے کو خطرے میں ڈالنا اور جہاز رانی کی آزادی میں رکاوٹیں ڈالنا ناقابل قبول ہے۔ عمانی حکام نے صومالیہ سے آنے والے جہاز کے عملے کے تمام 14 ارکان کو بچا لیا تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے کیا تھا۔ اتوار کو سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر ایک پوسٹ میں، اہلکار نے کہا کہ یونیسکو کے اجلاس میں، انہوں نے مغربی ایشیا کے تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی اور کھاد کے حالیہ بحران پر ہندوستان کے نقطہ نظر کو شیئر کیا۔

انہوں نے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی اور ساختی اقدامات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ 13 مئی کو جہاز پر حملہ آبنائے ہرمز میں ایک کشیدہ صورتحال کے درمیان ہوا، جہاں سے دنیا کی توانائی کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے کم از کم دو دیگر ہندوستانی جھنڈے والے بحری جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔

مال بردار جہاز ‘ایم ایس وی حاجی علی’ پر حملہ کیا گیا۔

  1. 13 مئی کو، ہندوستانی پرچم والے کارگو جہاز ‘ایم ایس وی حاجی علی’ پر آبنائے ہرمز (عمان کے ساحل سے دور) کے قریب میزائل یا ڈرون سے حملہ کیا گیا، جس سے جہاز ڈوب گیا۔
  2. خوش قسمتی سے، جہاز میں سوار تمام 14 ہندوستانی عملے کے ارکان کو عمان کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بچا لیا۔
  3. یہ سمندری علاقہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے انتہائی حساس ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران سے تائیوان تک تجارت تک، ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی معاملے پر شی جن پنگ کو قائل کرنے میں ناکام رہے اور چین سے خالی ہاتھ واپس آئے

Published

on

XI-&-Trump

دبئی : ڈونالڈ ٹرمپ چین کا بہت زیادہ زیر غور دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کی سہ پہر بیجنگ سے امریکہ روانہ ہوگئے۔ یہ دورہ 2017 میں ٹرمپ کے دورہ چین کے نو سال بعد ہوا ہے۔ ان کے دورے سے امریکہ چین تعلقات یا تائیوان اور ایران جیسے مسائل پر کچھ اعلانات کی توقع تھی۔ دونوں فریقوں نے شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کی ہے تاہم اس دورے کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ماہرین نے ٹرمپ کی بیجنگ سے واپسی کو “خالی ہاتھ واپسی” قرار دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ چھوڑتے ہوئے کوئی اشارہ نہیں دیا کہ امریکہ اور چین نے اپنے تعلقات میں درپیش چیلنجز کو حل کر لیا ہے۔ ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، تائیوان، یا تجارتی مسائل پر کوئی حوصلہ افزا بیانات نہیں تھے۔ ٹرمپ کے دورے کے دوران ماحول ملا جلا تھا۔ جب کہ بعض اوقات دونوں طرف گرمجوشی ظاہر ہوتی تھی، وہیں تائیوان کے معاملے پر چین کی طرف سے سخت موقف بھی دیکھا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے سے بہت پہلے، ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے چین پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ بیجنگ میں 40 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارنے اور شی جن پنگ کے ساتھ کئی ملاقاتیں کرنے کے بعد ٹرمپ کی واپسی سے ایران پر کسی معاہدے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایران کی جنگ سے متعلق ایک مسئلہ آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ چین اور امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو توانائی کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے کھلا رکھا جائے۔ تاہم، چین نے کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ خاص طور پر ایران سے اس کے لیے پوچھے گا۔ چینی بیان میں ایرانی ٹول یا آبنائے کی فوجی کاری کا ذکر نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ چینی بیان میں امریکہ کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ وہ اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ چین نے سفارت کاری کی روایتی زبان میں کہا کہ تمام مسائل کو باہمی رضامندی سے حل کیا جانا چاہیے۔ ایران کے علاوہ تائیوان دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ ٹرمپ کو تائیوان کے اس دورے سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، شی جن پنگ نے انہیں اس معاملے پر تقریباً خبردار کیا تھا۔ شی نے اپنی ملاقات میں ٹرمپ سے کہا کہ تائیوان ان کے لیے سرخ بتی ہے اور یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی اور یہاں تک کہ فوجی تنازع کی وجہ بن سکتا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے پیش گوئی کی تھی کہ ٹرمپ کے دورے سے چین خوراک اور دیگر سامان کی بڑے پیمانے پر خریداری کا اعلان کر سکتا ہے۔ درحقیقت چین کی جانب سے ایسا کوئی بڑا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس تجارتی اور اقتصادی محاذ پر بیجنگ سے واپسی کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہے کہ چین نے ٹرمپ کو، جو دنیا کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان