Connect with us
Wednesday,09-September-2026
تازہ خبریں

سیاست

صحافیوں کو بھی کورونا کا عام لوگوں جتنا خطرہ ہے : ڈاکٹر ہرش وردھن

Published

on

مرکزی وزیر برائے صحت اورخاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج کہا کہ کورونا وائرس کووڈ 19 نہ ملک میں فرق سمجھتا ہے اور نہ ہی انسان کے پیشے میں اور صحافیوں کو کورونا سے اتنا ہی خطرہ لاحق ہے، جتنا ہم لوگوں کو ہے اور اور اس سے بچاؤ کے لئے انہی رہنما اصولوں پر عمل درآمد کرنا چاہئے ، جو ایک عام انسان کے لئے ہیں ۔ ”
ڈاکٹر ہرش وردھن نے ’سنڈے سمواد‘ کی چوتھی قسط میں آج کہا ’’ ہمارے میڈیا کے ساتھی لازمی خدمات کے زمرے میں آتے ہیں اور کورونا کے خلاف لڑائی میں میڈیا کے تعاون کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ گزشتہ نو مہینوں کے دوران میں نے دیکھا کہ کس طرح ہمارے صحافی بھائی بہن کوروناکے تعلق سے ملک اور معاشرے کو بیدار کرنے کاکام کس طرح سے کرتے رہے ہیں ‘‘۔
مرکزی وزیر صحت نے کہا ’’لیکن یہ بات دھیان میں رکھنی چاہئے کہ کورونا نہ ملک میں قرق کرتا ہے اور نہ ہی پیشے میں ، اس لئے صحافی کو بھی کورونا کا خطرے اتنا ہی ہے ، جتنا ہم لوگوں کو ہے ۔ انہیں بھی انہی رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے، جو عام انسان کے لئے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل جب یہ خبر آئی تھی کہ بڑے پیمانے پر میڈیا والے کورونا کا شکار ہو رہے ہیں ، تب حکومت نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو خط لکھ کر اس پر تشویش ظاہر کی تھی ‘‘۔
خط میں کورونا سے متعلق خبروں کا احاطہ کرنے والے صحافیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا ۔ اس وقت ہم نے میڈیا اداروں کو اپنے صحافیوں کے بچاؤ کے لئے ضروری قدم اٹھانے کو کہا تھا ۔
انہوں نے کہا ’’خواہ وہ ممبئی کے صحافی ہوں یا دہلی کے ، میری تمام میڈیا اہلکاروں سے اپیل ہے کام کرتے ہوئے وہ کورونا سے بچاؤ کے لئے تمام طریقے اپنائیں ۔ جب وہ کسی سیاست دان اور دیگر لوگوں کا بیان اپنے کیمرے میں ریکارڈ کرتے ہیں، تو انہیں کچھ احتیاط برتنی چاہئے ۔ صحافیوں کو چاہئے کہ مل کر آپس میں یہ طے کر لیں کہ وہ کچھ فٹ کا فاصلہ بنا کر رکھیں تاکہ وہ ایک دوسر کے رابطہ نہ آئیں ۔ سماجی فاصلے کا خیال رکھیں اور چہرے کو ڈھانپنے کے لئے ماسک کااستعمال ضرور کریں ‘‘۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ بنام لؤ جہاد قانون بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج

Published

on

ممبئی : 9/ ستمبرصوبہ مہاراشٹر میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہورہے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیئے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے لؤ جہاد قانون بنام مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ2026 کی آئینی حیثیت کو آج جمعیۃ علماء مہاراشٹرکے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔یہ قانون حالانکہ پورے مہاراشٹر میں 28/ اگست سے نافذالعمل ہے لیکن قانون کتابی شکل میں پرنٹ نہیں ہونے کی وجہ سے وہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے پٹیشن داخل کرنے میں تاخیر ہوئی۔ اب جبکہ مراٹھی اور انگریزی زبانوں میں قانون کتاب کی شکل میں شائع ہوچکا ہے اسے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ایڈوکیٹ متین شیخ نے بامبے ہائی کورٹ میں مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے پٹیشن داخل کی ہے جس پر جلد سماعت متوقع ہے، بامبے ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ آف انڈیا اعجاز مقبول نے حتمی شکل دی ہے جبکہ ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ شاہدندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء نے اسے تیار کیا ہے۔ پٹیشن میں تحریر ہے کہ جرم ثابت ہونے پر بہت سخت سزاؤں اور جرمانہ عائد کرنے کی شق شامل کی گئی ہے جو کہ غیر آئینی ہے کیونکہ آئین ہند نے ہندوستانی شہریوں کو مذہب پر قائم رہنے اور اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت کی اجازت دی ہے۔عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ لو جہاد قانون کو بنانے کا مقصد درحقیقت ہندو اور مسلمان کے درمیان ہونے والی بین المذہب شادیوں کو روکنا ہے جو کہ آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور اس سے شخصی آزادی بھی مجروح ہوتی ہے،جس کا التزام آئین میں موجود ہے۔

عرضداشت میں مزید کہا گیاہیکہ کہ ان قوانین کے ذریعہ مذہبی اور ذاتی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے اور برادران وطن میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہذا عدالت کو اس قانون پر فوری اسٹے دینا چاہئے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن میں مزید تحریر ہے کہ یہ قانون غیر آئینی بنیادوں پر بنا ہوا ہے کیونکہ آئین ہند میں دیئے گئے بنیاد حقوق کو بالائے طاق رکھ کر اسے اقلیت دشمنی میں اکثریت کو خوش کرنے کے لیئے بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے حق رازداری پر دیئے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے حق رازداری کے تحفظ کے لئے رہنمایانہ اصول واضح کیئے ہیں جبکہ اس قانون میں مذہب تبدیل کرنے والے کو مجسٹریٹ سے اجازت لینا اور پبلک نوٹس کی بات کہی گئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کیئے جانے کے بعد ممبئی میں مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اوراس قانون کے نفاذ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں شدید بے چینی ہے کیونکہ یہ قانون بغیر کسی ریسرچ یا اجتماعی مذہب تبدیلی کی خفیہ رپورٹ کے محض اقلیت دشمنی میں بنایا گیا ہے جس کی مہاراشٹر جیسی پر امن ریاست میں ضرورت نہیں۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ یہ قانون اتنا غیرآئینی ہے کہ اس نے ایف درج کرانے کا اختیار تیسرے فریق کو دے دیا ہے جو نا تو مذہب تبدیل کررہا ہے اور نا ہی کسی کا کرا رہاہے اسی طرح الزام ثابت کرنے کا بوجھ بھی ملزم پر ہی ڈال دیا گیا ہے جب فوجداری مقدمات میں الزام ثابت کرنے کا بوجھ پولس پر ہوتا ہے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ ہندوستان کی 12/ ریاستوں کی جانب سے بنائے گئے تبدیلی مذہب قانون کی آئینی حیثیت کو جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے نیز مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کو آج بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ابتک مبینہ جبراً تبدیلی مذہب کے خلاف اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، ارونا چل پردیش، ہریانہ،کرناٹک، اڑیسہ، ہماچل پردیش اور مہاراشٹر حکومتوں نے قانون بنائے ہیں۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے آئین ہند کے آرٹیکل 32/ کے تحت مفاد عامہ کی پٹیشن سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی ہے جو زیر سماعت ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں پہلے گلزار اعظمی عرض گذار بنے تھے، گلزار اعظمی کے انتقال کے بعد نائب صد ر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید اسجد مدنی عرض گذار ہیں۔اس اہم آئینی مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کررہی ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت سول رٹ پٹیشن 40/2023/ پر ستمبر کے ماہ میں 2026کو چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی بینچ سماعت کرسکتی ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کا نمبر رٹ پٹیشن 76759/2026ہے۔

Continue Reading

سیاست

’کیا میرے ساتھ باتھ روم آؤ گے؟‘: ای ڈی کی کارروائی پر میڈیا کے سوالات سے وجین آپے سے باہر ہوگئے

Published

on

چنگنور (کیرالہ)، 9 ستمبر، کیرالہ کے قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین بدھ کو میڈیا والوں پر اپنے مخصوص انداز میں پھٹ پڑے کیونکہ وہ مسلسل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف کیے گئے تازہ اقدام پر سوالات اٹھاتے رہے۔ “کیا تم میرے ساتھ باتھ روم چلو گی؟” یہاں کالیسیری پی ڈبلیو ڈی ریسٹ ہاؤس میں صحافیوں کے جمع ہونے پر اس نے جواب دیا۔ ای ڈی کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 66(2) کے تحت ریاستی پولیس کے سربراہ کو اپنے نتائج اور معاون مواد بھیجنے کے بعد میڈیا کے سامنے یہ وجین کی پہلی عوامی پیشی تھی، جس میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ داماد اور ایم ایل اے پی اے محمد ریاض سمیت دیگر۔

وجین دوپہر کے قریب چنگنچیری کے سفر کے دوران ریسٹ ہاؤس پر رکا۔ ​​جب وہ اپنی سرکاری گاڑی سے باہر نکلے تو میڈیا کے اہلکاروں کا ایک گروپ پورٹیکو میں انتظار کر رہا تھا۔ رپورٹرز نے اندر بند ہو کر اہم سوال کیا، لیکن وجین خاموش رہے، وہ سرکاری ریسٹ ہاؤس میں چلے گئے، نامہ نگاروں کے ساتھ پیچھے ہو کر ان سے وہی سوال کیا جب وہ کمرے میں داخل ہونے کے لیے چند بار غصے میں تھا۔ وجین نے پلٹا اور اپنا کرٹ جواب دیا۔ “میں یہاں آپ سے ملنے نہیں آیا تھا۔” انہوں نے مزید کہا۔ جب وہ ریسٹ ہاؤس سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھا تو وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر وہ چنگنچیری کے لیے روانہ ہو گئے۔

وجین کو الپپوزا ضلع میں ایک پارٹی میٹنگ سے بھی خطاب کرنا تھا۔ وجین کی میڈیا کے ساتھ مشغول ہونے سے ہچکچاہٹ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے طور پر اپنی دہائی کے دوران، انہوں نے ہفتہ وار پوسٹ کیبنٹ میڈیا بریفنگ کو ختم کر دیا، جس کا عمل کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ ان کا نقطہ نظر واضح تھا: وہ جب چاہیں گے بولیں گے، بجائے اس کے کہ جب میڈیا انہیں چاہے۔ اس انداز نے کئی سالوں میں کئی یادگار تبادلے کیے ہیں۔ جولائی 2017 میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں وجیان کو دکھایا گیا تھا کہ وہ میڈیا پرسن کو غصے میں بی جے پی لیڈروں کے ساتھ آر ایس ایس سے ملاقات کے لیے باہر لے جا رہے ہیں۔ ترواننت پورم میں۔ نو سال بعد، ترتیب بدل گئی ہے، لیکن جواب، اس بار، بلا شبہ ونٹیج وجین تھا۔

Continue Reading

سیاست

گجرات اسمبلی میں ’وندے ماترم‘ پر تنازع، کانگریس کے رکنِ اسمبلی کے گانے کے دوران بیٹھ جانے پر ہنگامہ

Published

on

گجرات اسمبلی کے مانسون سیشن کا آغاز بدھ کے روز ‘وندے ماترم’ کے گانے پر ایک تنازعہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، جب کانگریس کے ایم ایل اے عمران کھیڈا والا نے ریاستی جنگلات اور ماحولیات کے وزیر پروین مالی پر الزام لگایا تھا کہ وہ قومی گیت شروع ہونے کے بعد بیٹھ گئے ہیں۔ مالی نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی روایتی طور پر ‘وندے ماترم’ کے انعقاد کے دوران ‘وندے ماترم’ کے انعقاد سے شروع ہوتی ہے۔ کانگریس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واضح کرے کہ ایم ایل اے کا فیصلہ ذاتی تھا یا پارٹی کے موقف کی عکاسی کرتا ہے۔”آج مانسون سیشن کے دوران پہلے دن روایت کے مطابق کارروائی وندے ماترم سے شروع ہوئی، آج جب وندے ماترم شروع ہوا تو کانگریس کے ایم ایل اے عمران کھیڑا والا بیٹھ گئے، اور ہم کانگریس پارٹی سے جواب مانگتے ہیں کہ آیا یہ ان کی پارٹی کی توہین تھی یا کانگریس پارٹی کی توہین تھی۔”

وزیر نے یہ بھی کہا کہ جب ‘وندے ماترم’ شروع ہوا تو کھیڈوالا شروع میں کھڑے ہوئے لیکن فوراً ہی بیٹھ گئے۔ انہوں نے اس عمل کو آئینی نظام کی توہین قرار دیا اور اس معاملے پر کانگریس کے موقف پر سوال اٹھایا۔ وزیر مالی نے کہا، “یہ نہ صرف آئینی نظام کی توہین ہے، بلکہ پورے نظام کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ کانگریس کی توہین کے بارے میں کیا موقف اختیار کر رہی ہے، وندے ماترم کے ایم ایل اے عمران کھیڈونا نے بھی نہیں کہا۔” صرف وندے ماترم کی توہین کی ہے لیکن پورے ملک کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے – آیا یہ عمران کھیڑا والا کا ذاتی فیصلہ ہے یا کانگریس بھی اس کی حمایت کر رہی ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسمبلی اسپیکر سے ملاقات کریں گے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی درخواست کریں گے۔ یہ تنازعہ ‘وندے ماترم’ کے گانے پر وسیع بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔ وزیر مالی نے سرکاری پروگراموں میں قومی گیت بجانے سے متعلق حالیہ رہنما خطوط کا حوالہ دیا اور یوم آزادی کا بھی ذکر کیا، جہاں کانگریس کے سینئر اکاونٹ کے مطابق، دہلی میں کانگریس کے سینئر عہدیداروں نے انہیں بتایا۔ پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے تمام چھ بندوں کے گائے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ گجرات اسمبلی کا مانسون اجلاس تین دن تک چلے گا، ریاستی حکومت اجلاس کے دوران کئی بل پیش کرنے والی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان