Connect with us
Saturday,08-August-2026

(جنرل (عام

اردو کی لزومیت ختم کرنا زبان کے تئیں عطا کردہ قانون کی بھی خلاف ورزی : شہاب الدین احمد

Published

on

Shahabuddin-Ahmed

بہار میں اردو کی لزومیت ختم کرکے اختیاری بنانے کے محکمہ تعلیم کے اقدام پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے مشہور ادبی تنظیم بزم صدف انٹرنیشنل کے چیرمین شہاب الدین احمد نے کہاکہ محکمہ کا یہ قدم نہ صرف اردو کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ زبان کے تئیں عطا کردہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بہار کی بڑی آبادی اردو پڑھنا لکھنا جانتی ہے اور اپنے بچوں کو بھی اردو پڑھانا چاہتی ہے صرف سرکاری اسکولوں میں ہی نہیں بلکہ غیر سرکاری اسکولوں میں اردو کے استاذ رکھے جاتے ہیں تاکہ مسلم بچوں کوطرف راغب کیا جاسکے اور مسلم بچے غیر سرکاری اسکولوں میں داخلہ اسی وقت لیتے ہیں جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اردو کی پڑھائی کا مناسب انتظام ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے بہار میں اردو کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بہار میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے۔ اس حیثیت سے اردو کی لازمیت ختم کرنا انصافی ہوگی۔ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی مادری زبان میں پڑھانے پر زور دیا گیا ہے اور بہار میں مسلمانوں کی مادری زبان اردو ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم کے دو نوٹی فیکشن سے اردو کی لازمی حیثیت ختم ہورہی ہے جب کہ دیگر زبانوں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے جب کہ دیگر زبانوں کے اردو کے مقابلے میں کم بولنے والے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم کے ذریعہ جاری کردہ نوٹیفیکیشن 799 کے ذریعہ مادری زبان کی حیثیت سے بہار کے سکنڈری وہائر سکنڈری اسکولوں میں اردو کی لازمیت کو ختم کردینے کے بعد 28/اگست کو ہی محکمہ تعلیم نے اسی ضمن میں ایک اور نوٹیفیکیشن 1155 جاری کیا جس میں اردو کی لازمیت برقرار رکھنے کی کوئی بات نہیں کی گئی البتہ اردو کی تعلیم کے لئے اسکولوں میں 40 بچوں کی قید لگادی گئی سے۔ اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ اگر 39 بچے اردو والے ہوں گے تو انہیں اردو نہیں پڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ نئے معیار کے مطابق (5+1) کے مطابق چھ میں سے پانچ سبجیکٹس میں اساتذہ کی بحالی میں طلباء کی گنتی کی کوئی قید نہیں ہے، لیکن بہار کی دوسری سرکاری زبان اور مادری زبان اردو کے سلسلے میں اساتذہ کی بحالی کے لئے پہلے دس طلباء کی شرط لگانا اور اب چالیس طلباء کے ساتھ مشروط کر نا اردو کے ساتھ کھلی نا انصافی اور اس کو ختم کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں بہار کے وزیر اعلی اور وزیر تعلیم کو خط بھی لکھیں گے۔
واضح رہے کہ 15/ مئی 2020ء سے قبل تک مادری زبان کے طور پر اردو کی حیثیت ایک لازمی مضمون کی تھی۔ لیکن اب افسرشاہوں نے حکومت بہار کی منظوری کے بغیر اردو کو دوسری زبان کے خانے میں ڈال کر اردو کو ختم کرنے کی سازش کی ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کا حکومتِ بہار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 15/ مئی 2020 سے پہلے اردو زبان کی جو پوزیشن تھی اسے بحال کیا جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال میں ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں گی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی ہدایت

Published

on

Lokmanya-Tilak-G.-Hospital

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں مختلف طبی علاج کے خواہشمند مریضوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما لاونگارے نے ہدایت دی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کی مختلف خدمات کے لیے نقد اور ڈیجیٹل ادائیگی دونوں کے اختیارات دستیاب کرائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو ہسپتال کے اندر مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سائن کے لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں فی الحال صلاحیت میں توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔ پراجکتا ورما لاونگارے نے توسیعی کام کی پیشرفت کا ذاتی طور پر معائنہ کرنے کے لیے آج (8 اگست 2026) ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، مختلف وارڈز، ایم آئی سی یو، اور سی سی ٹی وی کنٹرول روم سمیت دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کو فی الحال مختلف طبی خدمات، جیسے ایکس رے، ایم آر آئی اسکین، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کیس پیپرز، اور طبی خدمات کی فیس کے لیے نقد ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ان مقامات پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت کے لیے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ مزید برآں، ہسپتال کے اندر قطاروں کو کم کرنے میں مدد کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک وقف کاؤنٹر قائم کیا جانا چاہیے۔ محترمہ ورما لاونگارے نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے اختیارات شہریوں، مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو زیادہ سہولت فراہم کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے، ڈائرکٹر (میڈیکل ایجوکیشن اینڈ میجر ہاسپٹل) ڈاکٹر شیلیش موہتے اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف نارتھ) مسٹر ارون کشر ساگر سمیت افسران اور عملہ موجود تھا۔

مسز ورما-لاونگرے نے ہسپتال کی مرکزی عمارت (فیز 2اے)، آنکولوجی کی عمارت اور دیگر علاقوں میں جاری کاموں کا معائنہ کیا، جبکہ پروجیکٹ کی حالت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے ترقی پذیر ہسپتال کے اندر شہریوں کے ساتھ ساتھ رہائشی ڈاکٹروں اور عملے کے لیے تفریحی مقامات بنائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال کے داخلی دروازے اور احاطے کے اندر شہریوں کے لیے رکاوٹوں سے پاک واک ویز کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کنٹرول روم میں عملے کو باقاعدگی سے تعینات کیا جائے ہسپتال میں کام کرنے والے عملے کی سی سی ٹی وی کنٹرول روم کے ذریعے نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ ملازمین اپنے مقررہ وقت سے پہلے احاطے سے نکل جائیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ہیڈکوارٹر میں انسانی وسائل کا محکمہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے عملے کی حاضری کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کنٹرول روم سے چلنے والے پبلک ایڈریس سسٹم کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ہسپتال میں صفائی ستھرائی کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے سٹاف کو مخصوص یونیفارم فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ہسپتال کو چوہا اور آوارہ کتوں کی اذیت سے پاک رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) پراجکتا ورما-لاونگارے نے ہدایت دی کہ ہسپتال میں ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو لاگو کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آسام سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی اپیل، اہل خیر و معاونین حضرات زیادہ سے زیادہ تعاون کریں

Published

on

Arshad-Madni

ممبئی : جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی اور معززینِ شہر کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ ریاستی دفتر، امام باڑہ کمپاؤنڈ، ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر حضرت مولانا حلیم اللہ قاسمی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی اور شہر کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ ممبئی کے صابو صدیق مسافر خانہ میں امارت شرعیہ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ارکان مجلس عاملہ اور مدعوئین خصوصی کو دعوت دی گئی تھی، اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ریاستی دفتر میں یہ میٹنگ منعقد کر لی گئی۔

میٹنگ میں آسام میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء آسام کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے جاری راحت رسانی اور امدادی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر آسام کے متاثرین کی فوری اور مؤثر مدد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی نے اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی ضلعی صدور و نظماء اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ دفتر میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے رسیدات الگ کر دی گئی ہیں، آپ حضرات اپنے ساتھ رسید بک بھی لے جائیں۔ ائمہ مساجد سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنی مساجد میں اس کا اعلان فرما کر مخیرین کو اس جانب متوجہ فرمادیں

میٹنگ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد برادرانِ وطن کی ہے، تاہم مصیبت اور آفت کے موقع پر مذہب و ملت سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پر متاثرین کی مدد کرنا ہم سب کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں شرعی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے زکوٰۃ کے بجائےعطیات، للہ اور سود (انٹرسٹ) کی رقم سے تعاون حاصل کریں، تاکہ ضرورت مند اور متاثرہ خاندانوں تک بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔

شرکاءِ میٹنگ نے آسام کے سیلاب متاثرین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر اپنی استطاعت کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ اس میٹنگ میں ریاستی مجلس عاملہ ،مدعوئین خصوصی اور معززین شہر نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔

جمعیۃعلماء مہاراشٹر

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہو : سیکورٹی گارڈ قتل کے بعد تاجر کے خاندان کو قتل کرنے اور لوٹ مار کی سازش بے نقاب، ملزمین کا سارا منصوبہ ناکام، ملزمین گرفتار

Published

on

Arrest...-2

ممبئی : ممبئی میں ایک سیکورٹی گارڈ کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے پولس نے لوٹ مار کی سازش کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ 2 اگست 2026 کو صبح چار بجے کے درمیان ایک واقعہ پیش آیا (جوہو پولیس اسٹیشن سی آر نمبر 1236/2026؛ سیکشن 103(1)، 310(3) بی این ایس کی 238) جہاں ملزمین ایک رہائشی عمارت پر پہنچے جو ایک تاجر کو لوٹنے کے ارادے سے گئے تھے۔ لٹیروں نے عمارت کے سیکورٹی گارڈ منوج کمار ایودھیا یادو (38) پر حملہ کیا، اسے کپڑے کی رسی سے گلا دبا کر قتل کیا، اور اس کی لاش کو عمارت کے پانی کے ٹینک میں پھینک دیا۔ جرم کے فوراً بعد، ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ویسٹ زون-2) کی نگرانی میں مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دے کر تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کے دوران تاجر کے اہل خانہ اور اس کے دوست کے ذریعہ گھریلو ملازم (باورچی) کے ملوث ہونے کے بارے میں معلومات سامنے آئی۔ باورچی، جوگیشور اُڑن ملک (عرف کشن) اور اس کے ساتھی وجے گونزاری کو حراست میں لینے پر، یہ انکشاف ہوا کہ ملک نے تاجر کی بیوی اور بیٹی کے ساتھ مل کر تاجراس کے رشتہ دارکو قتل کرنے اور گھر سے نقدی اور زیورات لوٹنے کی سازش رچی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ سازش پچھلے دو سال سے منصوبہ بندی کے مراحل میں تھی۔ سازش کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کے طور پر، جوگیشور اڑن ملک (عرف کشن) نے وجے گونزاری کی مدد لی اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تین اضافی ساتھیوں شرد یرودکر (41)، اس کے بھائی مہادیو یروڈکر (35) اور انیکیت بورناک (30) کو مقرر کیا۔ تفتیش کے دوران مرکزی ملزم جوگیشور ملک نے اپنے ساتھیوں کا متوفی سیکورٹی گارڈ منوج کمار یادو سے تعارف کرایا۔ 2 اگست کی رات، ملزمان عمارت کے قریب جمع ہوئے اور سیکورٹی گارڈ کے ساتھ شراب پینے بیٹھ گئے۔ انہوں نے گارڈ کا گلا گھونٹ دیا، اس کے ہاتھ باندھ دیے اور اس کی لاش کو پانی کے ٹینک میں پھینک دیا۔ اس کے بعد، صبح 4:00 بجے کے قریب، ملزم 6ویں منزل پر گیا اور ڈپلیکیٹ نقلی چابی کا استعمال کرتے ہوئے ایک تاجر کے فلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، دروازہ کھولنے میں ناکامی کے بعد، انہوں نے کوشش ترک کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ گرفتاری کے بعد ملزم نے اعتراف جرم کر لیا۔ یہ تفتیش ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ویسٹ ریجن) ابھینو دیشمکھ اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس (زون 2، ویسٹ) مسٹر موہت کمار گرگ کی رہنمائی میں کی گئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان