سیاست
سوشانت اور کنگنا میں پورے ملک کو اُلجھادیا گیا، جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے
ممبئی : ایسے کٹھن حالات میں جب پورا ملک کورونا کو شکست دینے میں ناکام ہیں. ملک کی معاشیت تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں. اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی مار جھیل رہی عوام خودکشی پر آمادہ ہوگئی ہیں. حکومت کے پی ایم کیئر سے عوام کو 3 مہینے تک500 -500 روپیہ کا لالی پاپ پکڑا کر اونٹ کے منہ میں زیرہ تھما دیا گیا. اب حب کہ دوسرے اور مسائل ہیں جہاں میں, انہیں چھوڑ کر کنگنا اور سوشانت کو ہائی لائٹ کرکے عوام کا دھیان بھٹکا دیا گیا ہے اور حکومت وقت سارے مسائل سے چشم پوشی برت کر طوطا چشم بن گئی ہے. جس طرح کنگنا اور سوشانت پر سیاست کی جارہی ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ایک آزاد ملک کے لیڈران ہیں. عوام کو جب کی ضرورت ہیں. ایک ایسے وقت میں جب کورونا نامی طوفان نے ملک کو معاشی اور اقتصادی طور پر نقصان پہنچایا ہے. اس کورونا کے بھوت نے ہمارے کتنے اپنوں کو چھینا ہے. جن کا نا آخری دیدار ہوسکا اور نا آخری رسومات ادا کی جاسکی. بتادیں کہ کنگنا راناوت کو Y زمرے کی سکیورٹی فراہم کئے جانے کے بعد ملک کے مختلف گوشوں سے اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ ایک تو کنگنا نے خود وطن مخالف بیان دیتے ہوئے ملک کے 135 کروڑ عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ ممبئی میں ایسا کیا ہوگیا کہ کنگنا نے اُسے مقبوضہ کشمیر سے تعبیر کردیا جہاں قتل و غارت گری عام بات ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور میڈیا نے اسے سر پر بیٹھایا ہوا ہے اور تو اور میڈیا اِس وقت ملک کے اہم مسائل کو چھوڑ کر سوشانت سنگھ راجپوت قتل اور کنگنا راناوت میں اُلجھا ہوا ہے جیسے کہ یہ کوئی قومی مسائل ہوں۔ آل انڈیا پیپلز کنسرن کے صدر مہیش جگتاپ نے کہاکہ اس کوویڈ۔19 کے خاتمہ اور ملک کی معیشت کو دوبارہ معمول پر لانے کو اہمیت اور اوّلیت دیئے جانے کی ضرورت ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ چور جب کوئی بیل چُرانے کے لئے آتے ہیں تو اُس کے گلے کی گھنٹی اُتار کر اپنے ساتھی کو تھما دیتے ہیں اور وہ ساتھی گھنٹی کو لے کر بھاگتا ہے اور بیل کا مالک سمجھتا ہے کہ بیل کے بھاگنے سے گھنٹی بج رہی ہے جبکہ دیگر چور بیل کو دوسرے راستے سے صاف اُڑالے جاتے ہیں اور بیل مالک گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگتا ہی رہ جاتا ہے۔ آج پورے ملک میں لوگ اِسی گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ایپل موبائل اور اس کے پارٹس فروخت کرنے والی گینگ بے نقاب، چوری شدہ ۶۴ موبائل برآمد، چار گرفتار مزید تفتیش جاری

ممبئی : ریاست کے مختلف اضلاع سے اور دوسری ریاستوں سے چوری کیے گئے ایپل موبائل خرید کر ان کا ایپل آئی ڈی ریموو کرکے موبائل بیرون ریاست و بیرون ملک فروخت کرنے والی اور چوری کے موبائل کے پارٹس الگ الگ کرکے فروخت کرنے والے گروہ کو ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن نے بے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن، ممبئی میں ایپل موبائل چوری کا مقدمہ سال 2026 میں درج کیا گیا تھا۔ موبائل چوری کے مقدمے میں کی گئی تکنیکی جانچ سے چوری کے موبائل میں ایک سم کارڈ کا استعمال ہوا تھا۔ اس پر کی گئی گہری تکنیکی جانچ میں چوری کے موبائل میں سم کارڈ استعمال کرنے والے ملزم کی تلاش کر اس سے چوری کے 21 ایپل موبائل اور 12 سم کارڈز برآمد کیے گئے۔ اس پر مقدمے میں کی گئی مزید جانچ میں ریاست کے مختلف اضلاع سے اور دوسری ریاستوں سے چوری کیے گئے ایپل موبائل خرید کر ان کا ایپل آئی ڈی ریموو کرکے انہیں دوسری ریاستوں اور بیرون ملک میں فروخت کرنے والی اور ایپل آئی ڈی ریموو نہ ہونے پر چوری کے موبائل کے تمام پارٹس الگ الگ کر کے انہیں مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت کرنے والے گینگ کے 04 ملزمان کو گرفتار کیا۔ ان سے چوری کے کل 64 ایپل کے موبائل اور 20 چوری کے موبائل کے الگ الگ کیے ہوئے مڈل باڈی، ڈسپلے، بیٹری، مدر بورڈ، لاجک بورڈ ایسے کل 44,78,400/- روپے قیمت کا مقدمے کا مال برآمد کیا اور چوری کے موبائل برآمد کر کے ان میں سے تلنگانہ – 11، دہلی – 3، مہاراشٹر/ممبئی – 19، کرناٹک – 2، راجستھان – 1، تمل ناڈو – 1، اتراکھنڈ – 1 یہاں کے مقدمات کا انکشاف ہوا۔ مذکورہ کارروائی شیلیش بلکوڈے، ایڈیشنل پولیس کمشنر، جنوبی علاقائی ڈیپارٹمنٹ، ممبئی، منیش کلوا نیا، پولیس ڈپٹی کمشنر، جنوبی ممبئی، نیلیش باگلے، اسسٹنٹ پولیس کمشنر، آزاد میدان ڈیپارٹمنٹ، ممبئی کی رہنمائی میں انل مولے، سینئر پولیس انسپکٹر، فرید خان، پولیس انسپکٹر (کرائم)، ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن کے قیادت میں سب انسپکٹر سشیل کمار ونجاری، سب انسپکٹر جالندر لیمبھے، پولیس سب انسپکٹر راجو سالونکھے، پولیس سب انسپکٹر امول چورے کی ٹیم نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مراٹھا ریزرویشن منوج جارنگے پاٹل کی سرکار کو وارننگ… ممبئی مارچ کے دوران ایک بھی نوجوان کا خون بہا تو 10 منٹ میں مہاراشٹر بند ہونا چاہئے

ممبئی : مراٹھا ریزروریشن کو لے کر منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال کو 10 روز مکمل ہوچکے ہیں۔ سرکار جان بوجھ کر مراٹھا ریزرویشن کے مسئلہ کو نظر انداز کر کے لاپروائی اور غفلت سے کام لے رہی ہیں۔ یہ سنگین الزام منوج جارنگے پاٹل نے عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراٹھوں میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ اس لئے منوج جارنگے پاٹل نے انروالی سرٹی میں جمع ہونے کی مراٹھوں سے اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ممبئی کی جانب ایک بھی نوجوان کا ایک خون بہا تو 10 منٹ میں مہاراشٹر بند ہونا چاہئے۔ منوج جارنگے پاٹل نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو 12 ستمبر کو ممبئی کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ 12 ستمبر تک مراٹھا سماج نے سرکار کو الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تمام وزراء سے گفت و شنید ہوچکی ہے۔ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس مسئلہ کا کوئی تشفی بخش حل نہیں ہوا ہے۔ منوج جارنگے پاٹل نے کہا کہ 12 ستمبر کو اگر 10 افراد بھی موجود رہے تو وہ ممبئی کا رخ کریں گے۔ پاٹل نے شندے اور فڑنویس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دونوں کو ساز باز میں ملوث قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں اگر ایک بھی نوجوان کا خون بہا تو 10 منٹ میں مہاراشٹر بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دشوار گزار حالات میں بھی ثابت قدم رہنا چاہئے, کیونکہ اگر بھیڑ بھاڑ میں بھگڈر ہوئی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں, اس لئے نوجوانوں کو ثابت قدم رہ کر ہر حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ سرکار کا گیم تو بجانا ہوگا, سرکار پوری طرح سے بے حس ہوچکی ہے۔ اس لئے وہ لاپروائی اور اس مسئلہ سے چشم پوشی کر رہی ہے۔
سیاست
امرتا فڑنویس کی تقریب کے لیے ٹریفک روک دی گئی، اور ایک خاتون نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی، “یہ ایک ایمرجنسی ہے، براہ کرم مجھے جانے دیں۔”

ممبئی : ممبئی میں کوئنز ڈرائیو کلب کی جانب سے کینسر سے متعلق آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی اہلیہ امروتا فڑنویس نے بھی شرکت کی۔ اس نے کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے منعقدہ کار ڈرائیو میں حصہ لیا۔ جب وہ جانے ہی والی تھی کہ ایک خاتون نے رکاوٹ ڈالی اور پولیس سے راستہ دینے کی التجا کی۔ خاتون نے روتے ہوئے التجا کی کہ اسے ایمرجنسی لگ گئی ہے اور اسے فوری طور پر جانے دیا جائے۔ اس نے کہا کہ وہ ڈیڑھ گھنٹے سے پھنسی ہوئی تھی، اور یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ خاتون کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ ہاتھ جوڑ کر راستہ دینے کی التجا کرتی دیکھی جا سکتی ہے۔ سفید ٹی شرٹ اور سیاہ پتلون میں ایک ادھیڑ عمر خاتون تقریب کی کوریج کرنے والے میڈیا اہلکاروں کے سامنے نمودار ہوئی۔ اس نے روتے ہوئے کہا، “دوستوں، مجھے ایمرجنسی ہے۔ مجھے گھر پر ایمرجنسی ہے۔ میری گاڑی پھنس گئی ہے۔ پلیز مجھے جانے دو۔ میں مر جاؤں گی… پلیز مجھے جانے دو۔”
جب کوئی خاتون سے کہتا ہے کہ وہ ایک طرف ہٹ جائیں اور تقریب کو آسانی سے آگے بڑھنے دیں، تو وہ کہتی ہیں، “نہیں، نہیں… میں معذرت خواہ ہوں۔ براہِ کرم، براہِ کرم، میں آپ سے التجا کرتا ہوں، براہِ کرم، براہِ کرم، میری گاڑی کو راستہ دیں۔” اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، اور وہ کہتی ہے، “پلیز، پلیز… مجھے یہاں سے نکلنا ہے۔ آپ نہیں جانتے… مجھے بس یہاں سے نکلنا ہے… پلیز… پلیز… پلیز… میں آپ سے التجا کرتی ہوں” خاتون کا کہنا ہے کہ ٹریفک بلاک کر دی گئی ہے۔ وہ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے پھنسی ہوئی تھی۔ وہ مزید انتظار نہیں کر سکتی۔ بس اسے جانے دو۔ تاہم، اس کی بار بار التجا کے باوجود، سکیورٹی اہلکار اسے روکے ہوئے ہیں، اور اسے رسائی سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس کے دوران امرتا فڑنویس نے دیکھا، لیکن انہوں نے نہ تو کوئی ردعمل ظاہر کیا اور نہ ہی مداخلت کی۔ لوگوں نے امرتا فڑنویس کی اس معاملے میں مداخلت نہ کرنے پر تنقید کی۔ کچھ نے کہا کہ عورت رو رہی تھی اور چیخ رہی تھی، لیکن امرتا فڈنویس مسکرا رہی تھیں۔ ایک صارف نے کہا ’’وہ ہنس رہی ہے‘‘۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک ہمیشہ بلاک رہتی ہے۔ کسی کے جینے یا مرنے سے کسی لیڈر یا عہدیدار کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پروگرام کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کو مشورہ دیتے ہوئے امرتا فڑنویس نے کہا کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر ہیں۔ اسے ایسے مسائل اٹھانے چاہئیں جو عوام کے لیے فکر مند ہوں، کیونکہ وہ اکثر ایسے مسائل اٹھاتا ہے جو عوام کے لیے فکر مند نہیں ہوتے۔ حکومت کے اچھے کام پر غیر ضروری تبصرہ کرنا درست نہیں۔ بہتر ہو گا کہ اپوزیشن صحیح مسائل اٹھائے اور اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرے۔ اداکارہ سوارا بھاسکر کے حالیہ بیان کے حوالے سے امروتا فڑنویس نے کہا کہ وہ ان کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گی۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ ایک عورت کے لیے عزت نفس اہم ہے۔ اس سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔ آج کے دور کا ان دور سے موازنہ کرنا درست نہیں۔ اس وقت عدالتوں اور پولیس جیسا نظام نہیں تھا لیکن آج ہمارے ہاں عدالتیں اور پولیس ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
