Connect with us
Saturday,11-April-2026

سیاست

ضلع میں دوبارہ پندرہ روزہ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کیا جائیں، کھام گاؤں شہر ایم ائی ایم کا پالک منتری سے مطالبہ

Published

on

(نامہ نگار )
بلڈانہ ضلع میں کورونا کے پھلاو کو روکنے کے لیے 18 ستمبر سے 2 اکتوبر تک پبدرہ روزہ مکمل لاک ڈاؤن لگانے کا جو غیر سرکاری فیصلہ لیا گیا اس پر نظرثانی کیا جائیں اس قسم کا مطالبہ کھام گاؤں شہر ایم ائی ایم صدر محمد عارف پہلوان نے مقامی تحصیلدار کے معرفت بلڈانہ ضلع کے پالک منتری ڈاکٹر راجندر شنگھنے سے کیا ہے۔
واضح رہے کہ بلڈانہ ضلع میں کورونا متاثرین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتے جارہا ہے ۔ ضلع میں متاثرین کی تعداد 5ہزار سے اوپر ہوگئی ، اموات کا تناسب بھی بڑھتے جارہا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ضلع کے پالک منتری ڈاکٹر راجندر شنگھنے نے غیر سرکاری طور پر خود عوام کی جانب سے پورے ضلع میں 18 ستمبر سے 2 اکتوبر تک پندرہ روزہ مکمل سخت کرفیو(لاک ڈاون) نافذ کرنے کا طے کیا۔ جس سے عوام میں اس تعلق سے دو گروپ بنتے دیکھائی دے رہا ہے۔ ایک گروپ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی حمایت میں ہے تو دوسرا گروپ اسکی مخالفت میں ہے۔
کھام گاؤں شہر ایم ائی ایم کے صدر محمد عارف پہلوان نے مقامی تحصیلدار کے معرفت بلڈانہ ضلع کے پالک منتری ڈاکٹر راجندر شنگھنے کو ایک عرضداشت دیکر اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مطالبہ میں کہا ہے کہ آپ نے جو لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ غریب عوام زور کمانا، روز کھانا والوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ ابھی حال ہی میں مرکزی حکومت اور ریاست حکومت کے لاک ڈاؤن میں چھوٹ دیئے جانے سے روز مرہ کی زندگی لائن پر آئی تھی ، اپکے لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے باندھ کام مزدور، پان ٹھلے، چائے کی ہوٹل، آٹو رکشا ڈرائیور، بھنگار والے ، پھل والے، و دیگر بہت سے عوام کے مسائل بڑھ جائے گے۔ گھر کا کرایہ، لائٹ بل، بینک کی قسط، وغیرہ بھرنا دشوار ہوجائیں گا، لہذا لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کیا جائیں ۔ پندرہ روزہ مکمل سخت لاک ڈاؤن کی بجائے روزہ صبح 9 سے شام 3بجے تک کاروبار شروع رکھا جائے، سنچر اتوار کو مکمل طور پر کاروبار بند رکھیں۔ بغیر ماسک کے باہر نکلنے پر 500 جرمانہ عائد کیا جائے، سماجی دوریاں برقرار رکھنے پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، کورونا پھلاو کو روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے جو ہدایات و اقدامات طے کئے ہیں ان پر سختی سے عمل بجاآوری کی جائے،

سیاست

شیوسینا لیڈر شائنا این سی کا حسین دلوائی پر سخت جواب: ‘جو لوگ کانگریس پارٹی میں یقین رکھتے ہیں وہ بے وقوف ہیں’

Published

on

ممبئی: شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کانگریس لیڈر حسین دلوائی کے بی جے پی حامیوں کے خلاف بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کانگریس پارٹی پر یقین رکھتے ہیں وہ بیوقوف ہیں۔ ایسے لوگوں کو خود کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس لیڈر حسین دلوائی نے مبینہ طور پر ایک بیان میں کہا کہ ‘وہ طبقہ جو بی جے پی پر یقین رکھتا ہے بے وقوف ہے’۔ اس پر میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کہا، “جو لوگ کانگریس پارٹی پر یقین رکھتے ہیں وہ بے وقوف ہیں، جو لوگ این ڈی اے کے ساتھ ہیں وہ صرف ترقی اور ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے پی ایم مودی کی حمایت کرتے ہیں، اس لیے حماقت چھوڑیں اور کہیں آپ خود کو بااختیار بنائیں تاکہ آپ ہماری طرف آئیں”۔ کانگریس کے اس تبصرے کا جواب دیتے ہوئے کہ “حد بندی، خواتین کا ریزرویشن نہیں، اصل مسئلہ ہے،” شائنا این سی نے کہا، “جب کوئی تاریخی فیصلہ کیا جا رہا ہے، تو اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ اس کی حمایت کرے۔ ہم نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے 27 سال انتظار کیا ہے۔ چاہے یہ حد بندی ہو، کوٹہ ہو یا ذیلی کوٹہ، لیکن آپ سب سے پہلے پارلیمنٹ میں ان سب پر کیا بات کریں گے؟ کانگریس پارٹی کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے؟ مغربی بنگال کے لیے بی جے پی کے منشور کے وعدوں کے بارے میں، شائنا این سی نے کہا، “این ڈی اے کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے، اور وہ ہے ترقی۔ ایمس، آئی آئی ٹی اور ہوائی اڈوں کے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے۔ دوسری طرف، اگر آپ ٹی ایم سی کی بات کریں، تو یہ ‘جنگل راج’ ہے، جہاں صرف افراتفری ہے اور کوئی ترقی نہیں ہے۔” انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورہ ہندوستان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ شائنا این سی نے کہا، “وزیر اعظم مودی نے ہمیشہ سفارتی تعلقات کو فروغ دیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ہمیں دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ ہندوستان-امریکہ تعلقات ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہماری حکومت ہمیشہ پابند رہی ہے۔ چاہے وکرم مشرا ہوں یا وزیر اعظم، بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اور ہم امریکہ کے ساتھ اس بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گرانٹ روڈ کے بار پر چھاپہ: ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

Published

on

ممبئی، 11 اپریل — گرانٹ روڈ کے مقامی رہائشیوں کی مسلسل شکایات کے بعد ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک ریسٹورنٹ بار پر کامیاب چھاپہ مار کر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے مقامی لوگ ممبئی پولیس اور مختلف میڈیا اداروں سے مدد کی اپیل کر رہے تھے۔ رہائشیوں کے مطابق، “سینوریتا” نامی بار میں ریسٹورنٹ کی آڑ میں فحش ڈانس کروایا جا رہا تھا۔ یہ بھی الزام ہے کہ بار میں گاہکوں کو پچھلے دروازے سے خفیہ طور پر داخلہ اور اخراج دیا جاتا تھا، اور یہ سرگرمیاں پوری رات جاری رہتی تھیں۔

مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے دوران بڑی مقدار میں رقم کا لین دین ہوتا تھا اور صرف جان پہچان والے گاہکوں کو ہی اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ممبئی پریس نے اس معاملے کی اطلاع ممبئی پولیس کے اعلیٰ حکام کو دی۔

شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلیٰ حکام نے کرائم برانچ کو اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دیے۔ اس کے بعد کرائم برانچ یونٹ 2 نے ڈی۔بی۔ مارگ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے “سینوریتا بار” پر چھاپہ مارا۔

یہ کارروائی پولیس انسپکٹر تیجنکر، پولیس انسپکٹر پرشانت گاوڑے اور ان کی ٹیم کی نگرانی میں کامیابی کے ساتھ انجام دی گئی۔

چھاپے کے دوران:

8 لڑکیوں کو موقع سے ریسکیو کیا گیا۔

پولیس نے معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

ممبئی پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے جبکہ تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان