Connect with us
Saturday,30-August-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

بھیونڈی :کورونا بحران میں مزدور جس پل صراط سے گزر کر گاؤں گئے تھے, ان ہی مشکلات کا سامنا کرکے واپس لوٹ رہے ہیں

Published

on

بھیونڈی: یوپی, بہار, جھاڑ کھنڈ اور کرناٹک کے مزدور مہاراشٹر میں تلاش معاش میں سرگرداں رہتے ہیں. یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ پیٹ کا جہنم بھرنے اور اپنے اہل و اعیال کی کفالت انہیں اپنے گھر سے کئی سو کلو میٹر دور مہاراشٹر لے آتی ہے. لیکن کورونا کے وبائی بحران کو قابو کرنے کے لئے جب لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور جس کے باعث تمام کاروبار مکمل طور پر بند ہو گئے تو یہ مزدور بے روزگار ہوگئے ۔ یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی تھی . بس یہی وجہ تھی کہ بڑی تعداد میں مزدور یہاں سے اپنے آبائی وطن ہجرت کرگئے تھے ۔ اترپردیش اور بہار سمیت دیگر ریاستوں کے مختلف اضلاع میں جانے کے لئے ٹرین وغیرہ کے کوئی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مزدور مئی اور جون مہینے کی تپتی دھوپ میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ پیدل ہی روانہ ہوگئے تھے۔ اور جن مزدوروں کے پاس کرایہ دینے کے لئے کچھ رقم تھی وہ مزدور 3 سے 4 ہزار روپیہ کرایہ ادا کر کے بھاری پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے جانوروں کی طرح ٹرکوں اور ٹیمپو میں بیٹھ کر گئے تھے لیکن وہ مزدور اب دوبارہ واپس آرہے ہیں۔ اترپردیش سے آنے کے لئے ٹرینوں کی کافی کم سہولیات ہونے کی وجہ سے مزدور کئی طرح کی پریشانی اٹھاتے ہوئے گئے تھے دوبارہ انہی پریشانیوں کے ساتھ پھر واپس آرہے ہیں۔
واضح ہو کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب مزدوروں نے یہاں سے پیدل جانا شروع کیا تو حکومت کی طرف سے خصوصی ٹرین شروع کرکے انہیں ان کے آبائی وطن ، اتر پردیش ، بہار ، راجستھان اور کرناٹک وغیرہ پہنچایا گیا تھا۔ اس وقت ریاستی حکومت کے ذریعے مہاراشٹر کی سرحد تک ایس ٹی مہامنڈل کی بسوں سے بھی مزدوروں کو پہنچایا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن میں کام دھندہ بند ہونے کی وجہ سے جو مزدور چلے گئے تھے وہ مزدور کام شروع ہونے کی اطلاع موصول ہوتے ہی اب دوبارہ واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ کورونا انفیکشن کی وجہ سے لکھنؤ ، گورکھپور اور وارانسی وغیرہ اسٹیشنوں سے کافی کم تعداد میں ٹرینیں آرہی ہیں جس کی وجہ سے وہاں سے آنے والے لوگوں خصوصاً مزدوروں کو ٹرین کے ذریعے آنے کے لئے ٹکٹ نہیں مل پارہا ہے۔ جانے کے لئے ٹرین بند ہونے کی وجہ سے مزدوروں کے یہاں سے جاتے وقت ، بس، ٹرک اور ٹیمپو والوں نے ان کا خوب فائدہ اٹھایا تھا۔
آس پاس کے علاقوں کے گوداموں اور کمپنیوں کے مالکان کے ذریعے کچھ مزدوروں کو بسوں کے ذریعے واپس بلایا جارہا ہے لیکن جن مزدوروں کو بسیں نہیں مل رہی ہیں مجبور ہوکر وہ مزدور ٹرکوں اور ٹیمپو میں جانوروں کی طرح بیٹھ کر واپس آرہے ہیں۔ اس طرح سے سینکڑوں کی تعداد میں مزدور روزانہ آ رہے ہیں لیکن بسوں سے آنے والے مزدوروں کو بھی ان کی منزل تک نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ پولیس اور آر ٹی او کے خوف کی وجہ سے بسوں سے آنے والے مزدوروں کو بھیونڈی بائی پاس ، مانکولی ناکہ یا پڑگھا ٹول ناکے کے قریب ہی چھوڑدیا جارہا ہے۔ بس سے آنے والے مزدوروں سے 3 سے 4 ہزار روپے کرایہ وصول کئے جانے کے باوجود انہیں بھیونڈی بائی پاس پر چھوڑ دیا جارہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر بسیں اور ٹرک ، ٹیمپو وغیرہ رات کے اندھیرے میں ہی یہاں آرہے ہیں۔ جھارکھنڈ سے آنے والے ایک مزدور پریم کمار نے بتایا کہ وہ ڈومبیولی کے پلاوا میں کارپینٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ان کے مالک نے انہیں بس کے ذریعے بلایا ہے میں 6 ماہ بعد واپس آیا ہوں۔ انہیں بس والے نے بھیونڈی بائی پاس کے قریب چھوڑ دیا تھا۔
اسی طرح کاندیولی اور بوریولی سمیت دیگر علاقوں میں جانے والے مزدور یہاں سے پیدل ہی جارہے ہیں۔ بلرام پور سے آنے والے مزدور نے بتایا کہ اسے بھیونڈی بائی پاس پر چھوڑ دیا گیا تھا کاندیولی جانے کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ پیدل ہی جارہا ہے۔ اسی طرح جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے اقبال انصاری نے بتایا کہ انہیں بھی بھیونڈی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ کاندیولی میں بھنگار کا کاروبار کرنے والے نارائن نے بتایا کہ وہ 7 ماہ بعد واپس آرہے ہیں انہیں بھی بھیونڈی بائی پاس پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ لہذا وہ یہاں سے پیدل ہی جارہے ہیں۔ اپنی آبائی ریاست سے آنے والے مزدوروں کو آج بھی اسی قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے , جو نہایت کسمپرسی کی حالت میں انہیں یہاں لے گئی تھی جو باعث تشویش ہے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی طلبا کے تعلیمی وظیفہ کی درخواست کی تاریخ میں یکم ستمبر تک توسیع ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-&-Fadnavis

مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ریاستی وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور وزیر اقلیتی امور کو مکتوب ارسال کر کے اقلیتی محکمہ اور وزارت اقلیت کے معرفت بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کی حصولیابی کے لیے طلبا کو تعلیمی وظیفہ ۲۰۲۵۔۲۶ کے لئے عرضی کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے اس کی آخری تاریخ ۲۸ اگست ۲۰۲۵ تک ہے اس کی توسیع یکم ستمبر تک کرنے کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر میں گنپتی اتسو اور دیگر تہوار کے پیش نظر سہ روزہ چھٹی ہے اس لئے طلبا کو درخواست کی ارسال میں دشواری ہو گی اس لیے طلبا کی سہولت کے پیش نظر عرضی داخل کرنے کی تاریخ میں یکم ستمبر تک توسیع کی جائے اس پر سرکار کوئی مثبت فیصلہ کرے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ کے دوران امیت شاہ کی لال باغ کے راجہ کا درشن، دوسرے روز بھی ممبئی شہر مفلوج، دکانیں اور ہوٹلیں بند کرنے کی خبر بے بنیاد : بی جے پی

Published

on

Amit-Shah

‎ممبئی مراٹھا مورچہ اور منوج جرانگے کی بھوک ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی عام شہری نظام درہم برہم رہا۔ جنوبی ممبئی کی جانب سفر مشکل تھا کیونکہ یہاں مراٹھا مورچہ کے مظاہرین کے سبب ٹریفک نظام متاثر ہے, اس کے ساتھ ہی فورٹ اور دیگر سڑکیں بھی متاثر ہے۔ سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشنوں پر بھی مراٹھا برادری کے مظاہرین کی بھیڑ ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ خبر عام ہے کہ مراٹھا مظاہرین کے لیے ممبئی میں کھانا پانی پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے اور یہاں کھانے کے اسٹال اور ہوٹلیں بند کردی گئی ہیں, لیکن یہ خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے, کیونکہ ممبئی ایس ٹی ایس پر تمام اسٹال اور ہوٹلیں جاری ہیں اور مظاہرین کو کھانا میسر ہے. دوسری طرف مظاہرین کے لئے بی ایم سی نے صاف صفائی اور دیگر سہولیات اور پینے کے صاف پانی کا بھی انتظام کرنے کا دعویٰ کیا ہے بارش کے دوران کیچڑ صاف کردیا گیا ہے, اتنا ہی نہیں عارضی بیت الخلا وین کی بھی تعیناتی کی گئی ہے. ممبئی پولس اور اضافی دستے بھی آزاد میدان میں تعینات ہے۔

بی جے پی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایسے خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے. جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ مراٹھا مورچہ کے سبب دکانیں اور ہوٹلوں کو بند کر دیا گیا ہے. اس دوران بی جے پی کے آفیشنل ہینڈل سے تصاویر اور ویڈیو بھی جاری کیے گئے ہیں اس کے ساتھ بی ایم سی نے بھی صاف صفائی مہم کے ویڈیو اور تصاویر جاری کر کے یہ بتایا ہے کہ مراٹھا مظاہرین کیلئے اس کے سہولیات بہم پہنچائی ہے۔

‎ممبئی سی ایس ٹی کے اطراف تمام کھانے کے اسٹال کھلے ہیں۔ اسٹال بند کی خبر جھوٹی اور بے بیناد ہے, مراٹھا برادری کے افراد ان کھانے کے اسٹالوں پر چائے اور ناشتہ لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ حکومت کس طرح مراٹھا مخالف ہے، جو لوگ ریزرویشن کے لیے زور دے رہے ہیں اور جنہوں نے 50 سال سے ریزرویشن نہیں دیا، وہ اپنے اپنے خفیہ ایجنڈے چلا رہے ہیں۔ممبئی میں احتجاجی مظاہرہ کے دوسرے روز بھی عوام کو پریشانیوں کا سامنا ہے. ممبئی کے متعدد علاقوں میں مراٹھا برادری سے سڑکیں فل ہے, ایسے میں ممبئی میں ٹریفک جام ہے اور مورچہ کا اثر ممبئی شہر کی لائف لائن کہی جانے والی لوکل ٹرینوں پر بھی ہوا ہے اور ٹرین سروسیز متاثر ہے اور ۱۰ سے ۱۵ منٹ سینٹرل لائنوں پر ٹرینیں تاخیر سے چلائی جارہی ہے. مراٹھا مورچہ کے مظاہرین نے سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشن پر بھی قیام کیا ہے. ایسے میں سی ایس ٹی پر بھیڑ بھاڑ زیادہ ہے اور اسے قابو کرنے کے لئے پولس کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں. اس کے ساتھ ہی آج بھی مظاہرین نے کچھ سڑکوں پر بیٹھنے کی کوشش کی تھی جسے بعد ازاں ہٹایا گیا تاکہ سڑک اور ٹریفک نظام متاثر نہ ہو۔ آج وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی لال باغ کے راجہ کے دربار میں حاضری دی ہے. اس کے ساتھ گنپتی وسرجن گنیش اتسو اور مراٹھا مورچہ پولس کے لئے چلینج ہے. پولس بہتر طریقے سے حالات سنبھال رہی ہے اور ایسے میں پولس نے ممبئی میں سیکورٹی سخت کردی ہے۔ ممبئی پولس کی سخت سیکورٹی کے دوران امیت شاہ نے لال باغ کا راجہ کا درشن لیا ہے۔ اس دوران بی جے پی لیڈر اور وزیر ایڈوکیٹ آشیش شیلار بھی موجود تھے. امیت شاہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ لال باغ کے راجہ پر حاضری دے کر منت مانگی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com