Connect with us
Friday,12-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

سوشانت کیس: رام داس اٹھاولے کو شک، سوشانت کے قتل میں ریاچکرورتی کاہوسکتا ہے ہاتھ

Published

on

مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے جمعہ کو سوشانت سنگھ راجپوت کی فیملی سے ملاقات کی۔ وہ ان کی فیملی سے ملنے ہریانہ کے فریدآباد پہنچے تھے جہاں ان کے والد ان دنوں رہ رہے ہے۔ رام داس اٹھاولے نے ان سے ملاقات کرکے انہیں دلاسہ دیا اور کہا کی ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وہ تقریباً آدھے گھنٹے تک سوشانت کی فیملی سے ملے اور ملاقات کے بعد بولے کی سوشانت کے قتل کا مجھے شک ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے ریا چکرورتی کے سوال پر کہا کی سوشانت کے قتل کے پیچھے ان کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
سوشانت کی فیملی سے ملاقات کے بعد اٹھاولے نے میڈیا سے کہا مجھے پہلے سے ہی شک تھا کی سوشانت کا قتل ہوا ہے ایسے میں اب اس معاملے کی سی بی آئی جانچ بھی ہورہی ہے میں نے سوشانت کی فیملی سے کہا کی ہم آپ کے ساتھ ہے۔ ہم آپ کے دکھ میں شامل ہے پورا ملک آپ کے ساتھ ہے جن لوگوں نے سوشانت کو خودکشی کے لیے مجبور کیا یا کسی نے قتل کیا، ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔
سوشانت کیس میں ریا چکرورتی کی ملی بھگت کو لے کر انہوں نے کہا کی ہو سکتا ہے سوشانت کے قتل میں ان کا ہاتھ ہو۔ قتل ہو یا خودکشی ہو انصاف ملنا چاہیے انہوں نے کہا کی قتل ہوا یا کسی نے خودکشی کے لیے سوشانت کو اکسایا، جانچ کے بعد سب سامنے آئے گا۔
رام داس اٹھاولے نے کہا کی ممبئی میں آکر سوشانت نے اپنے اداکاری کا لوہا منوایا تھا۔ انہوں نے سوشانت کے قتل کئے جانے کی خبروں پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا تھا کی اس طرح کا کوئی اداکار اچانک ایسے خودکشی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کی سوشانت کا مسقبل روشن تھا۔
مرکزی وزیر نے سوشانت سنگھ راجپوت موت کیس میں پہلے ہی قتل کئے جانے کا شک ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کی انہیں شک ہے کی سوشانت خودکشی نہیں کرسکتا ہے ہو سکتا ہے کی ان کا قتل ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کی سوشانت کیس میں انہوں نے ہی سب سے پہلے سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تھی۔ انہیں شک ہے کی سو شانت کا قتل کیا گیا ہے۔
رام داس اٹھاولے نے جمعرات کو کہا تھا کی وہ سوشانت کے والد سے ملاقات کرے گے وہ جمعہ کو دوپہر سوشانت کے گھر پہنچے وہاں ان کے والد کےکے سنگھ اور بہن رانی سنگھ سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے فیملی سے کہا کی سی بی آئی جانچ کے بعد انہیں انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کی الگ الگ قسم سے جانچ ہو رہی ہے کوئی لاپرواہی نہیں ہوگی۔

سیاست

سماجی کارکن سونم وانگچک نے پونے میں کاکروچ جنتا پارٹی کے پرامن احتجاج کی تعریف کی اور حکومت سے اپیل کی۔

Published

on

Cockroach-janta-party

پونے : لداخ سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن سونم وانگچک پونے میں کاکروچ جنتا پارٹی کی ملک گیر تحریک میں شامل ہوگئیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی فعال شرکت، ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں ان کی بیداری اور تعلیم میں جوابدہی کی بڑھتی ہوئی مانگ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پونے اب اپنے آپ کو نہ صرف ایک تعلیمی مرکز کے طور پر بلکہ عوامی شرکت، سماجی شعور اور جمہوری اظہار کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے پرامن اور مثبت کردار کو ملک کے لیے متاثر کن قرار دیا۔

سونم وانگچک نے یہ باتیں کہیں۔

  1. سونم وانگچک نے کہا کہ پونے آکر انہیں ہمیشہ ایک مثبت تجربہ ملتا ہے۔ اس سے پہلے جب بھی وہ پونے گئے، انھوں نے یہاں کے لوگوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم عمل دیکھا۔
  2. کبھی شہر کے شہریوں کو درختوں کو بچانے کی مہم چلاتے دیکھا گیا تو کبھی دریاؤں اور قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے لڑتے ہوئے دیکھا گیا۔
  3. وانگچک نے کہا کہ اس بار پونے میں انہوں نے ایک نئے اور اہم پہلو کا مشاہدہ کیا : جہاں نوجوان ایک منظم انداز میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں، تعلیمی نظام میں احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
  4. پونے کے نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے ان کا پرامن اتحاد پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔

انہوں نے حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت میں پرامن اظہار اور عوامی شرکت کی حوصلہ افزائی کریں۔ وانگچک نے کہا کہ جہاں شہری پرامن طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں، انہیں ایسا کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کسی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پرامن اظہار کو دبانے سے معاشرے میں غلط پیغام جاتا ہے۔ سونم وانگچک نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تشدد اور بدامنی کو روکیں بلکہ پرامن تحریکوں اور تعمیری بات چیت کی حمایت بھی کریں۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی مکالمے، افہام و تفہیم اور عدم تشدد کی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کا اظہار جمہوریت کا فطری حصہ ہے اور اسے ایک صحت مند جمہوری روایت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ایئرپورٹ کسٹمز نے مقابلہ حسن کی رنر اپ ہرشا سنی کو بنکاک سے واپس آنے پر منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کر لیا۔

Published

on

Model-Harsha-Sani

ممبئی : مقابلہ حسن کی رنر اپ ہرشا سنی کو ممبئی ہوائی اڈے پر کسٹمز نے 12 کروڑ (تقریباً 1.2 بلین ڈالر) کی منشیات کے ساتھ گرفتار کیا۔ سنی بنکاک سے ممبئی پہنچے۔ 29 سالہ نوجوان ایک نجی بینک میں ریلیشن شپ منیجر ہے۔ وہ گزشتہ سال مئی میں مسز کیرالہ گلوبل 2025 مقابلے میں رنر اپ تھیں۔ کسٹمز نے بنکاک سے واپسی پر سنی سے تقریباً 12 کلو گرام ہائیڈروپونک گھاس (چرس کی ایک قسم) ضبط کی۔ کسٹم حکام کا الزام ہے کہ وہ چرس اسمگل کر رہی تھی، جس کی مالیت 11.8 کروڑ (تقریباً 1.8 بلین ڈالر) بتائی جاتی ہے۔ سنی نے وضاحت کی کہ ایک شخص نے اس کے سفر کے دوران اس سے دوستی کی اور اسے ہندوستان جانے کے لیے ایک بیگ لے جانے پر راضی کیا۔ بنکاک سے واپسی پر سنی کو صبح 4 بجے کے قریب ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ اہلکاروں کو ٹرالی بیگ کے اندر سے چرس کے 12 ویکیوم سیل بند پیکٹ ملے۔ اس کے بعد سنی کو گرفتار کر کے این ڈی پی ایس عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ہرشا سنی کو عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔ وکیل پربھاکر ترپاٹھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکل کو بیگ میں موجود مواد کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منظم اسمگلروں کا ایک غیر مشتبہ مسافر کا فائدہ اٹھانے کا ایک کلاسک کیس معلوم ہوتا ہے۔

کسٹم حکام کے مطابق وہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب ایئر انڈیا کی پرواز ٹی جی-351 سے ممبئی پہنچی تھی۔ شک ہونے پر اسے چیک کیا گیا تو اس کے ٹرالی بیگ سے 12 ویکیوم سیل بند پیکٹ برآمد ہوئے جن کی مالیت 11 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ گانجے کے ساتھ گرفتار کیا گیا، پیکٹ کھولنے پر ان میں سبز رنگ کی مشکوک چیز برآمد ہوئی۔ این ڈی پی ایس ٹیسٹ کٹ کے ساتھ جانچ کرنے پر، یہ مادہ بھنگ کے خشک پھول اور پھل کی کلیاں پایا گیا، جس کی شناخت ہائیڈروپونک گھاس کے طور پر کی گئی۔ جنوب مشرقی ایشیائی شہر بنکاک اس کے لیے ایک بڑا مرکز بن گیا ہے۔ یہاں سے یہ ہائیڈروپونک گانجہ ہندوستان سمیت دیگر ممالک کو اسمگل کیا جاتا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران نے 3 ہندوستانیوں کی ہلاکت پر امریکی حملے پر ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے امریکہ کی مسلح ڈکیتی اور ریاستی قزاقی قرار دیا ہے۔

Published

on

تہران : ایران نے عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب ہندوستانی تجارتی جہازوں پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں تین ہندوستانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو مسلح ڈکیتی اور ریاستی بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے ہندوستانی ملاح کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ امریکہ کا احتساب کرے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل باق نے لکھا، “ہندوستانی تجارتی جہازوں پر امریکی وحشیانہ حملوں میں کم از کم تین ہندوستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملے مسلح ڈکیتی اور ریاستی بحری قزاقی کی امریکہ کی جاری پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ ہم مقتول ہندوستانی ملاح کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ہندوستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں”۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارت کا ساتھ دیتے ہوئے براہ راست امریکہ کو نشانہ بنایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حملے کے بعد جاری ہونے والے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا۔ تاہم بھارت نے امریکی سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج درج کرایا۔ ایران نے بھی اس معاملے میں امریکہ کے خلاف عالمی برادری سے اپیل کی ہے۔ اس سے قبل ہندوستانی وزارت خارجہ نے عمان کے ساحل پر ایک تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کی تھی۔ 10 جون کو جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت نے کہا، “ہم آج عمان کے ساحل پر تجارتی جہاز سیٹبیلو پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ جہاز میں سوار 24 ہندوستانی عملے کے ارکان میں سے اب تک 21 کو بچا لیا گیا ہے، اور تین لاپتہ ہیں۔” تینوں ہندوستانیوں کی لاشیں بعد میں برآمد کی گئیں۔ بھارت نے خطے میں سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اس نے کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے اور سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے جاری مذاکرات کی تکمیل کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا، تاکہ خطے میں امن و استحکام واپس آسکے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان