Connect with us
Thursday,24-September-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں کورونا متاثرین کی تعداد کم ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مالیگاؤں سے کورونا ختم ہوگیا

Published

on

(پریس ریلیز )
مالیگاؤں میں کورونا متاثرین کی تعداد کم ہوگئی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ مالیگاؤں سے کورونا کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے۔ ان معنی خیز جملوں کیساتھ سابق میئر شیخ رشید نے ہزار کھولی کانگریس رابطہ آفس پر منعقدہ پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کورونا کے متعلق ریاست اور ملک بھر میں مشہور “مالیگاؤں پیٹرن”کے نام پر سبھی اپنی اپنی پیٹھ تھپتھپارہے ہیں۔ راشٹروادی کانگریس کے قومی صدر شرد پوار کی ناسک آمد پر ضلع کلیکٹر سورج مانڈھرے نے خود ہی کریڈٹ لینے کی کوشش کی، ڈاکٹر پنکج آشیا، ایڈیشنل ضلع کلیکٹر دھننجے نکم اور ضلع ایس پی ڈاکٹر آرتی سنگھ نے بھی اسی طرح کی کوشش کی لیکن مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتظامیہ، ملازمین، صفائی کامگار، آشا ورکرس، علی اکبر ہاسپٹل، سول ہاسپٹل، واڈیا ہاسپٹل اور میونسپل دواخانوں کے اسٹاف، وارڈبوائے اور نرسیں بھی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کورونا متاثرین کی خدمت انجام دے رہے تھے جبکہ کارپوریشن برسراقتدار نے سینا ٹائزر، ماسک، پی پی ای کٹس، ادویات اور سیناٹائزر کیلئے یونک مشین اور ٹریکٹر کے علاوہ ایمبولینس کی خریدی کرتے ہوئے ویلاس راؤ دیشمکھ ہاؤسنگ کالونی، مالیگاؤں ہائی اسکول، منصورہ طبیہ کالج، منصورہ ہاسٹل، ایم ایس جی کالج، جے اے ٹی، سہارا ہاسپٹل، وغیرہ میں کورنٹائن سینٹر، آئسولیشن وارڈ، کووڈ کیئر سینٹر وغیرہ کا انتظام کیا ریاستی کابینی وزیر دادا جی بھوسے، ناسک ضلع پالک منتری چھگن بھجبل، وزیر صحت راجیش ٹوپے وغیرہ نے بھی عوام کو سمجھانے اور احتیاط برتنے کے علاوہ آفیسران کو ہدایات دیکر کورونا پر مات دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آصف شیخ رشید کے مطالبے پر وزیر صحت راجیش ٹوپے نے محلہ کلینک اور پرائیویٹ ہاسپٹلس کو جاری کرنے کے احکامات صادر کئے تب کہیں جاکر مالیگاؤں میں کورونا کو مات دی جاسکی ہے۔
شہر میں مختلف قسم کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں کہ ایک کورونا مریض کیلئے حکومت پانچ لاکھ دے رہی ہے، کسی نے 20,کروڑ روپیہ فنڈ کی گپ اڑائی لیکن صرف اور صرف 20 لاکھ روپیہ فنڈ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کارپوریشن کو دیا گیا لیکن کارپوریشن نے تقریباً ایک کروڑ 88,لاکھ، 68,ہزار 361,روپیہ چیک کی شکل میں دیا گیا لیکن ایمبولینس، ٹریکٹر ، یونک مشین اور دیگر اخراجات علاحدہ ہیں سابق میئر شیخ رشید نے پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ برسراقتدار نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہےموجودہ آمدار کا فنڈ مالیگاؤں کارپوریشن میں نہیں آیا انہوں نے اپنا فنڈ ناسک کلکٹر کے ذریعہ مالیگاؤں سول اسپتال کو دیا ہے ۔ لیکن آج شہر میں کورونا کا اثر کم ہوگیا ہے ناسک، چاندوڑ، ممناڑ ،ناندگاؤں ،سنگم نیر، اور مالیگاؤں تعلقہ کے مریضوں کا علاج مالیگاؤں میں کیا جارہا ہے ۔آج شہر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد پھر بڑھ رہی ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ مالیگاؤں کا نام پوری ریاست اور ہندوستان میں مشہور ہوا لیکن ابھی شہر کورونا سے پاک نہیں ہوا ۔اس لئے عوام کو احتیاط سے رہنے کی ضرورت ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ کورونا کے سبب دنیا بھر کی معیشت ٹھپ ہوچکی ہے ایسے میں مالیگاؤں کارپوریشن کی آمدنی کم ہوگئی ہے اسے بڑھانے کے لئے کوشش جاری ہے اور گزشتہ ہفتہ ہم نے وزیر مالیات و نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سے ملاقات کرتے ہوئے مالیگاؤں کے لئے فنڈ کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ ریاست کی حالت غیر مستحکم ہے اس لیے صرف بنیادی ضروریات پر سرکار خرچ کریگی مستقبل میں فنڈ دیا جائے گا ۔اس ضمن میں شیخ رشید نے کہا کہ شہر بھر میں گھر پٹی وصولی اور بازار فیس وصولی، شاپنگ کرایہ اور بی او ٹی کمپلیکس سے وصولی کا گراف بڑھا کر کارپوریشن کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ شہر کے اہم اور خستہ حال راستوں کی تعمیر کی جائے گی ۔آگرہ روڈ کے دونوں جانب اچھی گٹر بنائی جائے گی اور شہر کے کچھے علاقے میں کارپوریٹرس کے فنڈ کو استعمال میں لایا جائے اور جہاں ضرورت ہوگی وہیں کام کیا جائے گا ۔آج مالیگاؤں سمیت ملک بھر کی مالی حالت مناسب نہیں ہے اس لئے اس سال تعمیری کاموں کو حکمت عملی سے مکمل کیا جائے گا ۔انہوں نے اس پریس کانفرنس میں بوگس ووٹرس پر کہا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک ووٹ ہی کافی ہوتی ہے اسکا تعلق این آر سی سے نہیں ہے ۔شہر کے موجودہ ایم ایل اے گمراہ کررہے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ ووٹرس کو ادھار کارڈ سے لنک کردیا جائے تاکہ شہر میں کوئی بھی بوگس ووٹر نہ رہ سکے ۔اس پریس کانفرنس میں صابر گوہر اصغر انصاری وغیرہ موجود تھے ۔

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم پی : بھوپال میں وکلاء کے احتجاج کے بعد تین پولیس اہلکار معطل

Published

on

بھوپال : جہانگیر آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بدھ کے روز پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے خلاف وکلاء کے رات بھر کے احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی منگل کی رات 50 کے قریب وکلاء کے جہانگیر آباد تھانے میں جمع ہونے کے بعد ہوئی اور صبح تقریباً 3 بجے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راوال کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی شناخت ایس ایچ او راجن سنگھ اہیروار اور کانسٹیبل یش لکیرا اور رام سوروپ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہیں معطلی کی مدت کے لیے ریزرو سینٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (زون-1) نے بھی واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس کی رپورٹ سات دنوں کے اندر پیش کی جائے۔ بدھ کو یہ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا، جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھوپال ڈسٹرکٹ کورٹ میں احتجاج کیا۔ وکلا نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور راول سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

راول (45) کے مطابق، منگل کی رات اسے پولیس اہلکاروں نے کنٹرول روم چوراہے کے قریب بیرا گڑھ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے روکا، اس نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے اسے اپنے ساتھ تھانے جانے کو کہا۔ راول نے کہا کہ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر اسے کیچڑ میں پھینک دیا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ بعد میں وکلاء نے ایک ویڈیو گردش کی جس میں مبینہ طور پر راول کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات اور ان کے کپڑوں پر کیچڑ کے نشانات دکھائے گئے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ پولیس تمام واقعات کی ترتیب سے جانچ کر رہی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں، اور حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” چوہان نے کہا۔ اپنی معطلی سے پہلے ایس ایچ او اہیروار نے الزام لگایا کہ راول نے تنازعہ کے دوران ٹریفک اے سی پی اجے باجپائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور رکنے کا مشورہ دینے کے باوجود عوامی طور پر افسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس واقعے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ ابتدائی انکوائری میں راول کو کن حالات میں روکا گیا، پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی بات چیت اور پولیس اسٹیشن میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چوہان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان