Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں کورونا متاثرین کی تعداد کم ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مالیگاؤں سے کورونا ختم ہوگیا

Published

on

(پریس ریلیز )
مالیگاؤں میں کورونا متاثرین کی تعداد کم ہوگئی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ مالیگاؤں سے کورونا کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے۔ ان معنی خیز جملوں کیساتھ سابق میئر شیخ رشید نے ہزار کھولی کانگریس رابطہ آفس پر منعقدہ پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کورونا کے متعلق ریاست اور ملک بھر میں مشہور “مالیگاؤں پیٹرن”کے نام پر سبھی اپنی اپنی پیٹھ تھپتھپارہے ہیں۔ راشٹروادی کانگریس کے قومی صدر شرد پوار کی ناسک آمد پر ضلع کلیکٹر سورج مانڈھرے نے خود ہی کریڈٹ لینے کی کوشش کی، ڈاکٹر پنکج آشیا، ایڈیشنل ضلع کلیکٹر دھننجے نکم اور ضلع ایس پی ڈاکٹر آرتی سنگھ نے بھی اسی طرح کی کوشش کی لیکن مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتظامیہ، ملازمین، صفائی کامگار، آشا ورکرس، علی اکبر ہاسپٹل، سول ہاسپٹل، واڈیا ہاسپٹل اور میونسپل دواخانوں کے اسٹاف، وارڈبوائے اور نرسیں بھی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کورونا متاثرین کی خدمت انجام دے رہے تھے جبکہ کارپوریشن برسراقتدار نے سینا ٹائزر، ماسک، پی پی ای کٹس، ادویات اور سیناٹائزر کیلئے یونک مشین اور ٹریکٹر کے علاوہ ایمبولینس کی خریدی کرتے ہوئے ویلاس راؤ دیشمکھ ہاؤسنگ کالونی، مالیگاؤں ہائی اسکول، منصورہ طبیہ کالج، منصورہ ہاسٹل، ایم ایس جی کالج، جے اے ٹی، سہارا ہاسپٹل، وغیرہ میں کورنٹائن سینٹر، آئسولیشن وارڈ، کووڈ کیئر سینٹر وغیرہ کا انتظام کیا ریاستی کابینی وزیر دادا جی بھوسے، ناسک ضلع پالک منتری چھگن بھجبل، وزیر صحت راجیش ٹوپے وغیرہ نے بھی عوام کو سمجھانے اور احتیاط برتنے کے علاوہ آفیسران کو ہدایات دیکر کورونا پر مات دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آصف شیخ رشید کے مطالبے پر وزیر صحت راجیش ٹوپے نے محلہ کلینک اور پرائیویٹ ہاسپٹلس کو جاری کرنے کے احکامات صادر کئے تب کہیں جاکر مالیگاؤں میں کورونا کو مات دی جاسکی ہے۔
شہر میں مختلف قسم کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں کہ ایک کورونا مریض کیلئے حکومت پانچ لاکھ دے رہی ہے، کسی نے 20,کروڑ روپیہ فنڈ کی گپ اڑائی لیکن صرف اور صرف 20 لاکھ روپیہ فنڈ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کارپوریشن کو دیا گیا لیکن کارپوریشن نے تقریباً ایک کروڑ 88,لاکھ، 68,ہزار 361,روپیہ چیک کی شکل میں دیا گیا لیکن ایمبولینس، ٹریکٹر ، یونک مشین اور دیگر اخراجات علاحدہ ہیں سابق میئر شیخ رشید نے پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ برسراقتدار نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہےموجودہ آمدار کا فنڈ مالیگاؤں کارپوریشن میں نہیں آیا انہوں نے اپنا فنڈ ناسک کلکٹر کے ذریعہ مالیگاؤں سول اسپتال کو دیا ہے ۔ لیکن آج شہر میں کورونا کا اثر کم ہوگیا ہے ناسک، چاندوڑ، ممناڑ ،ناندگاؤں ،سنگم نیر، اور مالیگاؤں تعلقہ کے مریضوں کا علاج مالیگاؤں میں کیا جارہا ہے ۔آج شہر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد پھر بڑھ رہی ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ مالیگاؤں کا نام پوری ریاست اور ہندوستان میں مشہور ہوا لیکن ابھی شہر کورونا سے پاک نہیں ہوا ۔اس لئے عوام کو احتیاط سے رہنے کی ضرورت ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ کورونا کے سبب دنیا بھر کی معیشت ٹھپ ہوچکی ہے ایسے میں مالیگاؤں کارپوریشن کی آمدنی کم ہوگئی ہے اسے بڑھانے کے لئے کوشش جاری ہے اور گزشتہ ہفتہ ہم نے وزیر مالیات و نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سے ملاقات کرتے ہوئے مالیگاؤں کے لئے فنڈ کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ ریاست کی حالت غیر مستحکم ہے اس لیے صرف بنیادی ضروریات پر سرکار خرچ کریگی مستقبل میں فنڈ دیا جائے گا ۔اس ضمن میں شیخ رشید نے کہا کہ شہر بھر میں گھر پٹی وصولی اور بازار فیس وصولی، شاپنگ کرایہ اور بی او ٹی کمپلیکس سے وصولی کا گراف بڑھا کر کارپوریشن کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ شہر کے اہم اور خستہ حال راستوں کی تعمیر کی جائے گی ۔آگرہ روڈ کے دونوں جانب اچھی گٹر بنائی جائے گی اور شہر کے کچھے علاقے میں کارپوریٹرس کے فنڈ کو استعمال میں لایا جائے اور جہاں ضرورت ہوگی وہیں کام کیا جائے گا ۔آج مالیگاؤں سمیت ملک بھر کی مالی حالت مناسب نہیں ہے اس لئے اس سال تعمیری کاموں کو حکمت عملی سے مکمل کیا جائے گا ۔انہوں نے اس پریس کانفرنس میں بوگس ووٹرس پر کہا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک ووٹ ہی کافی ہوتی ہے اسکا تعلق این آر سی سے نہیں ہے ۔شہر کے موجودہ ایم ایل اے گمراہ کررہے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ ووٹرس کو ادھار کارڈ سے لنک کردیا جائے تاکہ شہر میں کوئی بھی بوگس ووٹر نہ رہ سکے ۔اس پریس کانفرنس میں صابر گوہر اصغر انصاری وغیرہ موجود تھے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان