Connect with us
Thursday,23-July-2026

سیاست

مالیگاؤں مجلس رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی پرانت آفیسر سے ہنگامی ملاقات

Published

on

MUFIT ISMAIL

(خیال اثر)
ووٹ دینا ہر شہری کا دستوری اور قانونی حق ہے۔ ووٹ دینا بیداری کی علامت ہے اور عوام اسی ووٹ سے دیہات کے سرپنچ سے لیکر ملک کا وزیر اعظم منتخب کرتی ہے۔مرکزی حکومت گزشتہ ایک دیڑھ سال سے پورے ملک میں NRC, CAA,NPR کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے کاغذات درست کررہے ہیں اور ووٹر لسٹ میں نام بڑھانے اور ووٹ دینے پر بھی زبردست بیداری پائی جا رہی ہے کیونکہ ووٹ دینا اور ووٹر لسٹ میں نام کا رہنا ہندوستانی شہریت کی علامت ہے چونکہ بابری مسجد اور بھومی پوجن پر کانگریس پارٹی کے منافقانہ کردار کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس سلگتے ہوئے موضوع پر لوگوں کا دھیان بھٹکانے اور جواب دہی سے بچنے کے لئے سابق رکن اسمبلی شیخ آصف نے میر جعفر کا کردار ادا کرتے ہوئے بوگس ووٹ کا شوشہ چھوڑ دیا جس کی وجہ سے پورا شہر شک کے گھیرے میں آگیا ہے .اس طرح کا احساس مہا گٹھ بندھن اگھاڑی کی جانب سے ظاہر کیا گیا. مہا گٹھ بندھن نے سابق ایم ایل اے پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرقہ پرستوں کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقع دے دیا ہے سابق ایم ایل اے کی اس گری ہوئی حرکت سے پورے شہر میں تشویش کا ماحول ہےاور لوگوں میں ووٹ کٹنے پر شہریت چھن جانے کا خوف طاری ہوگیاہے۔ آسام کے حالات سے ملک کا سیکولر طبقہ تشویش میں مبتلا ہے ۔ جبکہ ووٹر لسٹ کو آسام میں بنیادی شہری ثبوت مانا گیا ہے اور ایسے وقت میں فرقہ پرستوں کو خوش کرنے والا بیان دیکر پورے شہر کو مشکوک کرنا کونسی عقلمندی ہے جبکہ شہریان کو پتہ ہے کہ بوگس ووٹ کرنا یا کروانا، پولنگ بوتھ پر دھاندلی و غنڈہ گردی کرنا کس پارٹی کا شیوا رہا ہے ۔
آج اس مدعے پر مہا گٹھ بندھن آگھاڑی کے ایک وفد نے رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی کی قیادت میں پرانت آفیسر و الیکشن آفیسر سے ملاقات کرتے ہوئے آٹھ سوالات کے تحریری جواب طلب کیے تاکہ شہریان کو حقیقی صورتحال سے واقف کرایا جائے ۔
آج کے وفد میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی کے علاوہ کارپوریٹر محمد مستقیم ڈگنیٹی ، کارپوریٹر ساجد رشید، سلیم گڑبڑ، مولانا علیم الدین فلاحی و دیگر ذمہ داران موجود تھے

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہر یونیورسٹی پر یوپی سرکار کی کارروائی پر عوامی تحریک کا انتباہ! اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور دانشوروں کا اجلاس، ریاستی گورنر سے مداخلت کی اپیل

Published

on

Abu-Asim

ممبئی رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم پر ممبئی میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف آج ممبئی کے معروف ‘اسلام جم خانہ’ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شرکاء نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مراکز قائم کرنے کے بجائے ایک ایسے ادارے کو تباہ کر رہی ہے جو ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، تعلیمی نظام اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یونیورسٹی کے آپریشنز یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی تکنیکی بے ضابطگی تھی تو حکومت کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ادارے کو بچانا چاہیے تھا۔ کوئی تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کارروائی صرف اور صرف سیاسی انتقام کے جذبے سے کی جارہی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس غیر منصفانہ پالیسی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد فوری طور پر مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کرے گا، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اتر پردیش حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر حکومت نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف مزید کارروائی کی تو ممبئی میں زبردست عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی، یوسف ابراہانی، معراج صدیقی، مولانا انیس اشرفی، عامر ادریسی، سلیم الوار، سعید حامد، سرفراز آرزو، اور ڈاکٹر زیبا ملک سمیت ممبئی کے ممتاز علمائے کرام، سماجی کارکنان، اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بند کا اثر : ممبئی میں طلبا کے احتجاج میں شدت، چمبور اور کرلا میں سڑک روکو آندولن، پولس الرٹ، وزیر اعلیٰ کی کارروائی کا حکم

Published

on

bandh

ممبئی : ممبئی شیواجی پارک سمیت کرلا، چمبور، چونا بھٹی، مانخورد، و دیگر مضافاتی علاقوں میں مہاراشٹر بند کے سبب ونچت بہوجن اگھاڑی وی بی اے نے مورچہ نکال کر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اسی دوران پولس نے چمبور کرلا اور دیگر علاقوں سے مظاہرین کو زیر حراست لیا اور بعد ازاں مظاہرین کو رہا بھی کردیا گیا۔ ممبئی میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر رہا لیکن اسکول، کالج، اور عوامی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق ہی رواں دواں تھے اس کے ساتھ ہی ممبئی کے کرلا علاقہ میں خواتین مظاہرین نے سڑکوں پر اتر کر نیٹ پرچہ لیک کے معاملہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک جام کردیا جس کے سبب ٹریفک نظام متاثر ہو گیا بعد ازاں پولس نے خواتین کو سڑک پر ہٹایا اور معمولات زندگی پٹری پر آگئی۔ ممبئی کے مختلف علاقوں میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر ہوا شیواجی پارک میں ٹھاکرے برادران اور امیت اور ادیتہ ٹھاکرے نے بھی احتجاجی مظاہرین کی حمایت کی ہے جبکہ اب ٹھاکرے براداران نے پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ ۲۶ جولائی کو مارچ کریں گے اگر اس دوران کسی نے بھی گڑبڑی پیدا کرنے یا دلی کے طرز پر پتھراؤ یا تشدد برپا کرنے کی کوشش کی تو انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایم این ایس اسے جواب دے گی اس کے ساتھ ہی راج ٹھاکرے نے پرامن احتجاج نکالنے کا اعلان کیا ہے اور سرکار کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس احتجاج میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ آج احتجاجی مظاہرہ کے دوران کئی مظاہرین اور لیڈران کو زیر حراست لیا گیا۔

طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی پولس ڈرائیور کی دھمکی :
طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی شیواجی پارک میں دھمکی کی ویڈیوُ وائرل ہونے کے بعد اس معاملہ میں کانسیٹل کے خلاف انکوائری شروع ہو گئی ہے اور اس معاملہ میں وزیر اعلیٰ دیویندرفڑنویس نے کہا ہے کہ کانسٹبل کے انکوائری جاری ہے اور اسے یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے اس معاملہ میں ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ افسوسناک ہے۔ دیویندرفڑنویس نے کہا کہ اس احتجاجی مظاہرہ کی آڑ میں ادھو ٹھاکرے اپنے وجود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی ادھو ٹھاکرے کی سرکار میں پرچہ لیک ہوا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی مودک ساگر جھیل بھی چھلک گئی، تمام 7 جھیلوں میں 69.74 فیصد کی گنجائش کے ساتھ پانی کا کل ذخیرہ ہے۔

Published

on

Modak Sagar Lake

ممبئی : مودک ساگر جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (23 جولائی 2026) کو صبح 2:07 بجے بہنا شروع ہوئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ جھیل کا ایک گیٹ کھول دیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے جھیلوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل، شدید بارش کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مودک ساگر جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی گنجائش جو آج رات سے بہنے لگی 12,892.5 کروڑ لیٹر (128,925 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سالوں میں مودک ساگر جھیل 9 جولائی 2025، 25 جولائی 2024 اور 27 جولائی 2023 کو بہنے لگی۔

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے سات ڈیموں کی کل زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 1,44,736.3 کروڑ لیٹر (1,447,363 ملین لیٹر) ہے۔ آج صبح 6:00 بجے پڑھنے تک، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ 1,00,943.2 کروڑ لیٹر (1,009,432 ملین لیٹر) ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ جھیلوں کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی صلاحیت کا 69.74 فیصد ہے، جو کہ 1,447,363 ملین لیٹر ہے۔

اضافی معلومات
1) مودک ساگر پروجیکٹ، تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں دریائے ویترنا پر تعمیر کیا گیا، ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کی پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والا ایک کلیدی پانی کا ذریعہ ہے۔
2) اس پروجیکٹ کی تعمیر 1954 میں مکمل ہوئی تھی، اور اس کا انتظام ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتظامیہ کرتا ہے۔
3) ممبئی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس پروجیکٹ کے ڈھانچے کی لمبائی 548.64 میٹر اور اونچائی 82.296 میٹر ہے۔
4) کل کیچمنٹ ایریا 450.625 مربع کلومیٹر ہے، اور یہ ممبئی کو فراہم کی جانے والی کل پانی کی فراہمی میں 11.22 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔
5) بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے مودک ساگر جھیل آج سے بہنے لگی ہے۔ اس مون سون کے موسم سے پہلے، تانسا جھیل 22 جولائی، 2026 کو صبح 8:51 پر بہنا شروع ہوئی۔ ‘وہار’ جھیل 7 جولائی، 2026 کو رات 9:00 بجے چھلکنا شروع ہوئی، اور ‘تلسی’ جھیل بھی اسی دن رات 11:43 پر بہنے لگی (2026) اس طرح، 23 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے چار بھری ہوئی اور بہہ چکی ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان