Connect with us
Saturday,11-April-2026

سیاست

مہاراشٹر میں جمہوریت کی حکومت، کسی ریموٹ کنٹرول سے نہیں چل رہی ہے: شرد پوار

Published

on

sharad pawar

این سی پی کے چیف شرد پوار نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں جمہوری کی حکومت ہے، جو کسی ریموٹ کنٹرول سے نہیں چل رہی ہے۔ سامنا کو دیئے گئے انٹرویو میں پوار نے کہا کی حکومت کو سی ایم ادھوٹھاکرے اور ان کے وزراء چلارہے ہیں۔ اس کے ساتھ پوار نے یہ بھی کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے اور بی جے پی کی سوچ اور انداز میں بہت فرق تھا-
اسمبلی میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی کے 105 کے اعداد و شمار میں شیوسینا کی شراکت بہت بڑی تھی۔ اگر اس میں شیو سینا شامل نہیں ہوتی تو اس بار 105 نہیں بلکہ 40-50 کے قریب سیٹیں ملی ہوتی۔ بی جے پی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ 105 ایم ایل اے ہونے کے باوجود اتحادی شیو سینا کو نظرانداز کیا گیا یا اقتدار سے دور رکھا گیا۔ انہیں 105 تک پہنچانے کا کام جنہوں نے کیا۔ اگر انہی کے بارے میں غلط فہمی بھرے کردار اپنائے تو مجھے نہیں لگتا کی دوسروں کو کچھ الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ میں جن بالا صاحب ٹھاکرے کو جانتا ہوں۔ مجھ سے زیادہ شاید آپ لوگوں کو زیادہ جانکاری ہوگی۔ لیکن بالاصاحب کا پورا نظریہ ورکنگ اسٹائل بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق تھا، ایسا مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا۔
میں بتاتا ہو ں نہ، سب کی وجہ یہ ہے کہ بالاصاحب کا کردار اور بی جے پی کے نظریہ میں فرق تھا۔ خاص طور پر کام کے انداز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بالاصاحب کچھ لوگوں کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے اٹل بہاری باجپائی کاقابل احترام کیا انہوں نے اڈوانی کااحترام کیا۔ انہوں نے پرمود مہاجن کا احترام کیا ان سبھی کواحترام دے کر انہوں نے ساتھ آنے کا سوچا اور اقتدار میں آنے میں ان کی حمایت کی۔ دوسری بات ایسی تھی کی کانگریس سے ان کا تنازعہ تھا۔ ایسا مجھے نہیں لگتا، شیوسینا ہمیشہ کانگریس کے خلاف تھی، ایسا نہیں ہے۔ ہاں بالا صاحب ویسے ہی تھے جتنے بن داس اتنے ہی دلدار سیاست میں اس قسم کی دلداری مشکل ہے۔ شاید بالاصاحب ٹھاکرے اور شیوسینا ملک کی پہلی ایسی پارٹی ہیں۔ کسی بھی قومی معاملے پر حکمران جماعت کے سرکردہ افراد کا خود کے جماعت کے مسقبل کی فکر نہ کرتے ہوئے مدد کرتے تھے۔ ایمرجنسی میں بھی پورا ملک اندرا گاندھی کے خلاف تھا۔ نظم و ضبط قیادت کے لئے بالا صاحب اندرا گاندھی کے ساتھ کھڑے تھے۔ صرف کھڑے ہی نہیں ہوئے بلکہ ہم لوگوں کے لیے چونکانے والی بات تو یہ بھی تھی کی انہوں نے کہا کی مہاراشٹر کے انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں میں سے کوئی نہیں، ہیڈ ماسٹر تو اسکول میں ہونا چاہیے جمہوریت میں حکومت یا انتظامیہ کبھی ریموٹ سے نہیں چلتا۔ ریموٹ کہا چلتا ہے ؟ جہاں جمہوریت نہیں ہے وہاں ہم نے روس کی مثال دیکھی ہے۔ پوتن وہاں 2036 تک چیئرمین رہیں گے۔ وہ ایک طرفہ سیاست جمہوریت کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کی ہم جیسے کہیں گے ویسے حکومت چلے گی، یہ ایک طرح کی ضد ہے۔ یہاں جمہوریت کی حکومت ہے اور جمہوریت کی حکومت کبھی بھی ریموٹ کنٹرول سے نہیں چل سکتی۔ مجھے یہ قبول نہیں، حکومت وزیر اعلی اور ان کے وزراء چلا رہے ہے۔

بزنس

امریکہ ایران جنگ بندی کے اشارے نے اسٹاک مارکیٹ کو فروغ دیا، ہفتے کے دوران سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے کے مثبت اشارے پر ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں لگاتار دوسرے ہفتے تیزی رہی۔ شارٹ کورنگ کی وجہ سے مارکیٹ میں زبردست خریدار ہوئی، بڑے بینچ مارک انڈیکس سبز رنگ میں بند ہوئے۔ نفٹی نے ہفتے کے دوران 5.9 فیصد اضافہ کیا، جو آخری کاروباری دن 1.16 فیصد بڑھ کر 24,050 پر پہنچ گیا۔ سینسیکس 918 پوائنٹس یا 1.20 فیصد بڑھ کر 77,550 پر بند ہوا، جس نے ہفتے کے لیے 5.8 فیصد اضافہ درج کیا۔ بینک نفٹی نے بھی وسیع مارکیٹ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جمعہ کو 1.99 فیصد زیادہ 55,912 پر بند ہوا۔ ہفتے کے لئے، اس نے 8.47 فیصد کا مضبوط اضافہ درج کیا. ہفتہ وار چارٹ پر، بینک نفٹی نے ایک مضبوط بلش کینڈل تشکیل دی، جو موجودہ رفتار جاری رہنے کی صورت میں مزید اوپر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس سے گھریلو مارکیٹ میں چھ ہفتے کے خسارے کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ سینسیکس اور نفٹی نے ہفتے کے لیے تقریباً 6 فیصد کا اضافہ کیا، جو گزشتہ پانچ سالوں میں ان کی سب سے مضبوط ہفتہ وار کارکردگی ہے۔ یہ فروری 2021 کے بعد سے ان کی بہترین ہفتہ وار کارکردگی بھی تھی۔ سیکٹری طور پر، نفٹی ریئلٹی، کیپٹل مارکیٹس، اور فنانشل سروسز نے بالترتیب 12.97 فیصد، 11.7 فیصد، اور 10.8 فیصد اضافہ دیکھا۔ اہم اشاریوں کے ساتھ ساتھ مڈ کیپ اور سمال کیپ اسٹاکس نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نفٹی مڈ کیپ میں 7.3 فیصد اور نفٹی سمال کیپ میں 7.2 فیصد اضافہ ہوا۔ بینکنگ اور مالیاتی اسٹاک میں زبردست خرید اور عالمی منڈیوں کے مثبت اشارے نے اس تیزی کو سہارا دیا۔

انڈیا VIX 7.72 فیصد گر کر 18.85 پر بند ہوا، جس سے مارکیٹ کے خدشات کم ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم، امریکہ ایران جنگ بندی کے استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس سے اتار چڑھاؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے عالمی منڈیوں میں استحکام آیا، جس سے مقامی مارکیٹ کو سپورٹ حاصل ہوئی۔ اس مدت کے دوران، بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی کل مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً ₹6.5 لاکھ کروڑ بڑھ کر ₹451.23 لاکھ کروڑ ہو گئی۔ ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 28.85 لاکھ کروڑ کا اضافہ ہوا۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی کل مارکیٹ ویلیو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ₹ 422.37 کروڑ رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بینک نفٹی کو ₹53,700-₹53,000 کی سطح پر سپورٹ مل سکتی ہے، جبکہ مزاحمت ₹6,700-₹57,700 کے درمیان دیکھی جا سکتی ہے۔ 23,500-23,150 رینج نفٹی کے لیے ایک کلیدی سپورٹ زون ہے، جب کہ اوپر کی طرف 24,500-25,000 کے درمیان مزاحمت دیکھی جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نفٹی کا یہ اقدام مارکیٹ میں مضبوط خرید اور مثبت جذبات کی نشاندہی کرتا ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب سرمایہ کار امریکہ ایران مذاکرات، خام تیل کی قیمتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے موقف پر نظر رکھیں گے جو کہ مارکیٹ کی مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈھونگی بابا اشوک کھرات نے اپنے ہی موت کی پیشگوئی کر دی ، تفتیش ایجنسی بھی حیرت زدہ ، دمانیہ کا سنگین الزام کھرات کی جان کوخطرہ

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر اشوک کھرات ایس آئی ٹی کی جانچ میں سنسنی خیزانکشافات ہوئے ہیں ۔ اشوک کھرات نے تفتیش کے دوران خود کے موت پیشگوئی کر کے ایجنسیوں کو ہی حیرت زدہ کردیا ہے۔ خواتین کے جنسی استحصال، ان کی ویڈیوز اور سیاسی رابطوں کے الزامات سے ریاست میں ہلچل ہے۔ کھرات نے خود اپنی موت کی پیش گوئی کی ہے اس پر سماجی کارکن انجلی دمانیا نے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس میں بڑے لوگ ملوث ہیں۔ خود ساختہ کیپٹن اشوک کھرات نے متعدد خواتین کو ورغلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوز بھی بنائیں۔ 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا اشوک کھرت سے ایس آئی ٹی (خصوصی تفتیشی ٹیم) کی پوچھ گچھ سے کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں اور اس نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جیل کی سلاخوں میں بندکھرات نے کئی لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، انہیں دھوکہ دیا اور لوٹا، خواتین کو اپنے دفتر میں بلایا اور برسوں تک ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ یہ سب اس کے دفتر کے سی سی ٹی وی میں بھی قید ہو گیا۔ اس کی فحش حرکات اور سیاہ کارنامے روز بروز بےنقاب ہو رہے ہیں اور پولیس بھی اس کے یومیہ خلاصے سے حیرت زدہ اور ششد ر رہ گئی ہے۔ کھرات نے اب اپنے بارے میں بڑی پیشین گوئی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اشوک کھرات نے اپنے مستقبل کی پیشین گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری موت یہاں ہے‘‘بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اب تک پولیس کی حراست میں محفوظ نہیں ہے، اور اب کھرات کی باتوں سے صاف ہے کہ اسے بھی یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ یہاں سے زندہ نہیں نکل پائے گا۔ادھر سماجی کارکن انجلی دمانیا نے اس معاملے میں بڑا بیان دیا ہے۔ دمانیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دھوکے بازکھرات کے معاملے میں ایک نام ’’شیزوکا نوڈی‘‘ سے متعدد فون کالز موصول ہونے کا بھی ہے ۔دھوکے باز اشوک کھرات اپنی تفتیش میں شیزوکا نوڈی کا بھی نام بتایا ہے دمانیہ نے سنگین الزام لگایا ہے کہ اس کے پیچھے بڑے لوگ ملوث ہیں۔ دمانیہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ چاکنکر نے انہیں اتنی بار کیوں بلایا، جبکہ اس بات کا اعادہ کیا کہ روپالی چاکنکر کے 177 کالز ہیں، لیکن انہیں ابھی تک طلب نہیں کیا گیا ہے۔
کھرات کی جان خطرے میں
موجودہ صورتحال میں اشوک کھرات کی جان کو خطرہ ہے، یہ بیان انہوں نے دوران حراست دیا تھا۔ دمانیہ نے کہا کہ اس لیے اب ہمیں ڈر ہے کہ اس سب کو ختم کرنے کے لیے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اس معاملہ میں اور بہت سی معلومات سامنے نہ لائی جائےاس لئے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے اس لئے اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
اجیت دادا کے گھر کے باہر کالا جادو
دمانیا نے کہا کہ 18 نومبر کو آنجہانی لیڈر اجیت پوار کے گھر کے باہر کالا جادو کا معاملہ سامنے آیا تھا، فی الحال میں اس پر توجہ مرکوز کر رہی ہوں۔ دمانیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کھرات کیس میں پرتیبھا چاکنکر کے کردار کے بارے میں تفتیش ہونی چاہیے ۔ اشوک کھرات کے تازہ انکشاف کے بعد تفتیشی ایجنسیاں بھی اب حرکت میں آگئی ہے اور اس کی سیکورٹی پر بھی توجہ مرکوز کردی گئی ہے یہ دعوی پولس ذرائع نے کیا ہے کیا کھرات کی ہی پیشگوئی درست ہو گی وہ یہاں سے باہر نہیں نکلے گا اور یہاں اس کی موت ہو گی اس پر بھی اس سوال کھڑا ہو گیا ہے اشوک کھرات نے ایسی پیشگوئی کیوں کی یہ سوال ایجنسیوں کے دلوں میں بھی ہے اور اس پر بھی تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف بڑی کارروائی، آٹھ گاڑیوں میں لدے 451 سلنڈر برآمد

Published

on

ممبئی: ممبئی میں ضروری اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن میں، محکمہ خوراک اور شہری سپلائی نے ایل پی جی سلنڈروں کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل میں ملوث ایک ریاکٹ کا پردہ فاش کیا ہے، حکام نے ہفتہ کو بتایا۔ مجموعی طور پر 451 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ ڈونگری کے واڑی بندر علاقے میں چھاپے کے دوران 40 لاکھ روپے سے زائد کا سامان ضبط کیا گیا اور آٹھ گاڑیوں کو روکا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی راشننگ کنٹرولر اور سول سپلائی ڈائریکٹر کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر خصوصی ہدایات جاری کی گئیں، جس پر عمل کرتے ہوئے محکمہ کے فلائنگ اسکواڈ نے منصوبہ بند آپریشن شروع کیا۔ چھاپے کے دوران اہلکاروں نے ڈونگری میں واڑی بندر پل کے قریب غیر قانونی طور پر گیس سلنڈر لے جانے والی آٹھ گاڑیوں کو روکا۔ ان گاڑیوں کو چیک کرنے پر کل 451 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ ضبط کیے گئے سلنڈروں اور گاڑیوں کی کل تخمینہ قیمت تقریباً 40.61 لاکھ روپے ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ سلنڈر درست دستاویزات کے بغیر منتقل کیے جا رہے تھے اور ان کا مقصد بلیک مارکیٹنگ یا غیر قانونی سپلائی کرنا تھا۔ ممبئی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دریں اثنا، جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں، وزارت پیٹرولیم نے واضح کیا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل معمول کے مطابق ہے، اور ایل پی جی کی تقسیم کاروں میں کوئی کمی کی اطلاع نہیں ہے، حالانکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال ایل پی جی کی سپلائی کو متاثر کررہی ہے۔ آج تک، 4.05 لاکھ پی این جی کنکشنز ایکٹیویٹ ہو چکے ہیں، اور تقریباً 4.41 لاکھ مزید صارفین نے نئے کنکشن کے لیے اندراج کرایا ہے۔ صارفین کو متبادل ایندھن جیسے پی این جی اور الیکٹرک کک ٹاپس استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کا تحفظ کریں۔

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی خریدنے میں گھبرائیں نہیں اور معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ ایل پی جی صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارم استعمال کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ آن لائن ایل پی جی کی بکنگ تقریباً 98 فیصد تک بڑھ گئی ہے، اور ڈسٹری بیوٹر شپ کی سطح پر بدعنوانی کو روکنے کے لیے ڈیلیوری تصدیقی کوڈ (ڈی اے سی) پر مبنی ڈیلیوری بھی تقریباً 92 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود، حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کی فراہمی کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو۔ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں سخت کارروائی جاری ہے۔ جمعرات کو ملک بھر میں 3,800 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے گئے اور تقریباً 450 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ آج تک، تقریباً 1.2 لاکھ مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں، 57000 سے زیادہ سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں، 950 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، اور 229 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حیرت انگیز معائنہ کو مضبوط بنایا، 2,100 سے زیادہ شوکاز نوٹس جاری کیے، 204 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانہ عائد کیا، اور 53 کو معطل کیا۔ 18,000 سے زیادہ پی این جی صارفین نے میرا پی این جیڈی.ایل این ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کیے ہیں۔ ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کو نئے پی این جی کنکشن کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں۔ تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ان کے پاس خام تیل کے مناسب ذخائر ہیں۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کا مناسب ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گھریلو استعمال کو پورا کرنے کے لیے ریفائنریوں میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان