Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

کورونا کو شکست دینے میں منصورہ میڈیکل کالج کا ‘جوشاندہ’ کارگرثابت ہو رہا ہیں

Published

on

ممبئی : کورونا وائرس نے اچھے اچھوں سپر پاور ممالک کو نانی یاد دلاری ہے. اس کوروناوائرس کے قہر سے شاہد ہی کوئی ملک بچا ہے، کورونا کے علاج کے لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین اور سائنسداں ویکسین کی تیاری اور نئی دواؤں کی کھوج میں مصروف ہیں، لیکن ابھی تک کسی کو بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی ہاتھ نہیں لگی ہے۔ لیکن اسی بیچ کورونا کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے اور اس مرض سے شفا دلانے کے لیے مہاراشٹر کے ضلع ناسک کے تعلقہ مالیگاؤں میں قدیم طب یونانی طریق علاج کے نسخے مریضوں کیلئے تیر بہدف ثابت ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں دستیاب اطلاعات کے مطابق یہاں اب تک ہزاروں کی تعداد میں کوویڈ-19 کےمریض ان یونانی نسخوں سے استفادہ حاصل کر کے شفایاب ہو چکے ہیں۔
طبیہ کالج منصورہ کا تیار کردہ ’جوشاندہ، اور مشہور حکیم عمران کا کشیدکردہ مشروب نہ صرف مالیگاؤں بلکہ اطراف واکناف کے شہروں میں کافی مقبول ہو چکا ہے اور لوگ کورونا وائرس کے خلاف اسے بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت مہاراشٹر نے بھی کوویڈ ٓ19 سے متاثرہ افراد کیلئے طبیہ کالج منصورہ کا تیار کردہ یونانی نسخہ ’جوشاندہ‘ کی شہرت سے متاثر ہو کر اس طرف توجہ کی ہے اور اس ضمن میں معلومات حاصل کی ہیں۔ کووڈ ٓ19 سے متاثرہ افراد کیلئے طبیہ کالج منصورہ کی جانب سے طب یونانی کے قدیم نسخوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار ہوئے اس “جوشاندہ ” کے ہزاروں پیکٹ مالیگاؤں کے علاوہ اطراف واکناف کے شہروں میں مفت تقسیم ہوچکے ہیں۔ طبیہ کالج کے علاوہ مالیگائوں کے مشہور طبیب عمران حکیم کا کشیدکردہ مشروب بھی کورونا کے مریضوں کیلئے شفا کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ ارشد مختار ندوی، رئیس الجامعہ محمدیہ منصورہ، طبیہ کالج مالیگاؤں، نے اس ضمن میں بتایا کہ ’’قدیم طب یونانی میں متعدد ایسے نسخے ہیں جو وبائی مرض کے تدارک میں معاون ثابت ہوتے رہے ہیں۔ طبیہ کالج نے ہمیشہ اس میدان میں کامیاب تحقیق کی ہے۔ عام انسانوں اور خاص طور سے وبائی مرض میں مبتلا مریضوں کے قوت مدافعت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں طبیہ کالج کا تیار کردہ جوشاندہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مختلف سرکاری شعبوں کے وہ افسران و ملازمین جنہوں نے لاک ڈائون کے دوران کورونا زدہ علاقوں میں فرائض انجام دئے انہیں طبیہ کالج کی جانب سے مفت میں جوشاندہ پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ مالیگائوں کے علاوہ کئی اضلاع اورنگ آباد، جلگاؤں، دھولیہ، ناسک اور بھیونڈی کے علاقوں دیگر شہروں میں جوشاندہ روانہ کیاگیا۔‘‘
عمران حکیم بے اس تعلق سے کہا کہ ’’مارچ کے ابتدائی ایام میں مشروب (کاڑھا)بنایا گیا تھا ۔ اپریل اور مئی کے دوران جب مالیگاؤں میں وبائی مرض شدت اختیار کرچکا تھا اُس دوران مشروب کے استعمال سے سینکڑوں مریض صحت یاب ہوئے۔ دھولیہ، جلگائوں اور ناسک سے روزانہ سینکڑوں افراد مالیگاؤں آکر مشروب لیجاتے ہیں۔ اسے تیار کرنے کیلئے لگنے والی اشیاء بیرون ریاست سے منگوانی پڑتی ہے جس کے سبب تاخیر بھی ہورہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کاروبار کرنے کا نہیں بلکہ وبائی مرض سے جوجھ رہے انسانوں کی خدمت اورانکی صحت یابی کیلئے جدوجہد کرنے اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا وقت ہے۔” انھوں نے واضح کیا کہ ان یونانی نسخوں سے بلا لحاظ مذہب و ملت سینکڑوں مریضوں نے اس مشروب سے استفادہ حاصل کیا ہے ۔ جو غیر مسلم ، مسلم علاقے میں آنے سے ڈرتے تھے ان کا ڈر ختم ہوا ، اور سینکڑوں برادران وطن طب یونانی کے اس کارآمد مشروب سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ ” گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ کے دفتر سے کال موصول ہوئی ۔ مالیگاؤں میں طبیہ منصورہ کالج اور عمران حکیم کے تیار کردہ مدافعتی نسخے سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ۔ریاستی حکومت کوطبیہ کالج اور عمران حکیم کے نسخے سے کووڈ-19 کے مریضوں کو شفایابی ملنے کی اطلاع ہے۔اس سلسلے میں حکومتی سطح پرکام کاج بھی جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ “مالیگاؤں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہونے سے چہار سُو استعجاب کا عالم ہے۔ جہاں مریضوں کی تعداد دیڑھ ہزار سے اوپر جاچکی تھی وہاں اب انگلیوں پر متاثرین شمار کئے جارہے ہیں۔اس معاملے میں طب یونانی اور قدیم قدرتی طریقہ علاج کا کلیدی کردار شامل ہے۔‘ واضح رہیکہ اِن دنوں بھیونڈی اور جلگاؤں میں کورنا کے باعث حالات ابتر ہیں۔مالیگائوں میں طب یونانی کے جوشاندہ اور مشروب کے ہزاروں نسخے روزانہ انہی شہروں میں روانہ کئے جارہے ہیں۔ مالیگائوں کے متعدد اسپتالوں میں اطراف واکناف سے آنے والے متاثرین کا علاج ومعالجہ بھی جاری ہے۔
اورنگ آباد میں بھی اس ضمن میں ڈاکڑ اشفاق، پرنسپل یونانی کالج کنڑ نے کہا کہ اورنگ آباد میں بھی ان نسخوں کی تیاری اور تقسیم کا کا م کیا جائے گا۔ اںھوں نے بتایا کہ ارشد مختار ندوی ، رئیس الجامعہ محمدیہ منصورہ،طبیہ کالج مالیگاؤں سے ربط قائم کر کے جلد ہی یہ نسخہ اورنگ آباد میں بھی ضرورتمندوں کو دیا جائے گا۔
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ممبئی کے مدن پورہ علاقے میں سناء مکی کے قہوے سے بھی لوگ استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ کورونا سے متاثریں اس سناء کے پتوں کا قہوہ تیار کرکے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے لیے مقامی حکیموں کی دوکانوں سے لوگ بڑے پیمانے پر اس دوا کو خرید کر لیجا رہے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان