Connect with us
Tuesday,21-April-2026

جرم

مالیگاؤں :23 سالہ فاطمہ جمیل نے بھکمری سے تنگ آکر کی خودکشی

Published

on

تجزیہ خبر : وفا ناہید
مالیگاؤں کی ایک دینی شناخت ہونے کی وجہ سے یہ شہر اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے. مسجدوں میناروں کے نام سے مشہور شہر میں پچھلے 4 دنوں کے اندر خودکشی کی تیسری واردات سے کہرام مچ گیا ہے . جمعہ کو اختر آباد کے ساکن نصیر شیخ, اتوار کو داتار نگر کی مہہ جبین اور آج بروز پیر 3 بجے رمضان پورہ کی ساکنہ فاطمہ جمیل کی خودکشی شہر کے لئے ایک المیہ ہے. رمضان پورہ مییں سناٹے کی ہوٹل کے پاس نالے پہ فاطمہ جمیل کا مکان ہے. ہم یہاں اس لئے تحریر کررہے کہ گھر تو باہمی الفت، محبت اور خلوص سے بنتا ہے. جس گھر میں بیوی کے جذبات کی قدر نہ کی جاتی ہو. جہاں اسے اپنے شوہر کے رہتے ایک بچی کے ساتھ فاقہ کرنا پڑے تو وہ گھر نہیں قبرستان ہوتا ہے. جہاں ایک عورت کے تمام خواب, جذبات اور اس کے ارمان دفن ہوتے ہیں. شادی سے پہلے تو والدین بیٹیوں کی ہر خواہش کا احترام کرتے ہیں. اسے اتنی توجہ اور محبت ملتی ہے کہ وہ خود کو کسی شہزادی سے کم نہیں سمجھتی. مگر معاف کرنا مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں بیرون شہر سے کسی کی بیٹی کو بیاہ کر لاتے ہیں تو اسے وہ محبت, تحفظ اور عزت نہیں دے پاتے جس کی وہ مستحق ہوتی ہے . کیونکہ مالیگاؤں کی لڑکی کی مالیگاؤں میں ہی شادی ہوتی ہے تو یہ بہو ان کے ٹکڑ کی ہوتی ہے اور بیرون شہر کی لڑکیاں اپنی عزت کو ڈرتی ہے اور خاموشی سے شوہر کا ہر ظلم برداشت کرتی ہے . یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے . جسے ہم قلم بند کرنے کی جراءت کررہے ہیں کہ ایک عورت کا درد ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے . سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ مالیگاؤں کے نوجوان کماتے تو ہے مگر صرف جیب خرچ نکل جائے بس اتنا ہی. اور یہ نوجوان پوری طرح سے سسرال پر انحصار کرتے ہیں. بچوں کو اسکول میں ایڈمیشن کرانا ہے تو سالا پیسے دے گا. بیمار ہوئے تو سسرال والے خرچ کریں . ارے خود کو اتنا خود دار ظاہر کرنے والے کیا اتنی استطاعت بھی نہیں رکھتے کہ اپنی بیوی بچوں کا خرچ اٹھا سکیں. دوسرے یہاں ہر گھر میں ایک دکان ہوتی ہے. جس پر بیٹھ کر کمانا یہاں کی خواتین فخر سمھتی ہے اور شوہر حضرات بخوشی ایسی بیوی کے بے دام غلام ہوتے ہیں. جو صرف بچے پیدا کرکے چھوڑ دیتے ہیں اور ان کا خرچ یا تو بچوں کی ماں اٹھاتی ہے یا اپنے میکے میں ہمیشہ ہاتھ پھیلائے رہتی ہے. ایسی ہی کہانی فاطمہ جمیل کی ہے. جس نے شوہر کی بے توجہی اور فاقہ کشی سے تنگ آکر خود کو موت کی نیند سلادیا. پڑوسیوں کے مطابق فاطمہ محلے میں بھیک مانگ کر اپنی بچی اور اپنے لئے کھانے کا انتظام کرتی تھی. آج صبح بھی وہ بھیک مانگنے نکلی تھی مگر بدقسمتی سے اسے صرف 10 روپئے بھیک ملی. جس کا دودھ خرید کر اپنی معصوم بیٹی کو پلانے کے بعد فاطمہ نے چھت پر پھندہ ڈال پھانسی لے لی. فاطمہ جمیل تو ابدی نیند سوگئی مگر شہر کے سرکردہ افراد کو جاگنے کا مرثیہ سناگئی. فاطمہ جمیل کا تعلق اگت پوری سے ہے. ذرائع سے ملی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس کا شوہر کماتا تو تھا مگر ان روپیوں کا کیا کرتا تھا خدا جانے. بے چاری کمزور عورت 3 , 3 , 4 , 4 دن فاقے سے رہتی. لاک ڈاؤن نے اس کی رہی سہی ہمت بھی توڑ دی. فاطمہ جمیل کی ایک ڈھائی سال کی بچی بھی ہے مگر اس بے رحم شوہر کو شاید گھر کے سکون سے زیادہ باہر کی رنگینیاں پسند تھی. جو اپنی باوفا بیوی اور معصوم بچی کو بھول گیا تھا. جمیل نے جہاں اپنی بیوی کے جذبات اور ارمانوں کا قتل کیا ہے وہی وہ اپنی بیوی کا قاتل بھی ہے. یہ خودکشی نہیں ہے بلکہ مینٹلی ٹارچر ہے. جس کی مار فاطمہ برداشت نہ کرسکی. بلکہ اسے ایموشنل مرڈر کہنا زیادہ مناسب ہے. جس میں شوہر نہ بیوی کو اچھے سے رکھتا ہے اور ناہی چھوڑتا ہے کہ وہ اس کی قید سے نکل کر اپنا نی جہان آباد کریں. اس عورت کو اتنا مجبور کردی جاتا ہے کہ وہ شوہر کے ظالم و ستم سے تنگ آکر موت کو گلے لگا لیتی ہے. جس کی سزا ملنی چاہیئے. اس سے پہلے کہ اور کوئی فاطمہ شوہر کی بے رخی اور ٹارچر کا شکار ہوکر موت کو گلے لگائے. اسے سزا ملنی چاہئے کہ خود اس کے شوہر ایک جیتے جاگتے وجود کو اپنی بےتوجہی کی مار مار کر اس حد تک مجبور کردیا کہ اس بےچاری کمزور عورت نے زندگی پر موت کو ترجیح دی.

جرم

ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

Published

on

Arrest

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر یوسف پٹھان کے سسر سمیت تین افراد گرفتار۔

Published

on

ممبئی : سابق کرکٹر اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کے سسر کو ان کے بیٹے اور ایک اور رشتہ دار کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان افراد نے دو دن قبل ممبئی کے بائیکلہ علاقے میں ایک گجراتی خاندان پر حملہ کیا تھا۔ ممبئی پولیس نے منگل کو یہ اعلان کیا۔ بائیکلہ پولیس نے یوسف پٹھان کے سسر اور دیگر تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ ایک ملزم مفرور ہے۔ بائیکلہ پولیس کے مطابق مقامی باشندہ یوسف خان (30) رات تقریباً 9 بجے گھر لوٹ رہا تھا۔ ہفتے کی رات جب ان کی کار سے پانی کے چھینٹے نکلے اور شعیب خان (35) کو ٹکر ماری۔ یوسف خان نے پولیس کو بتایا کہ اس نے گاڑی روکی اور فوراً معافی مانگی لیکن شعیب نے اسے گالی دینا شروع کر دی اور بانس کی چھڑی سے کار کی ونڈ شیلڈ توڑ دی۔ اس کے بعد شعیب نے یوسف خان پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ گھر واپس آنے کے بعد یوسف خان کے اہل خانہ نے انہیں پولیس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ تھانے جاتے ہوئے ان کا سامنا خالد خان عرف مکالک (یوسف پٹھان کے سسر) سے ہوا، جس نے اپنے بیٹے عمرشاد پٹھان (35)، شعیب پٹھان اور ایک اور ملزم شہباز پٹھان کے ساتھ جھگڑا شروع کیا۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد خالد، عمرشاد، شعیب اور شہباز نے یوسف خان اور اس کے رشتہ داروں پر بانس کی لاٹھیوں اور بیس بال کے بلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں یوسف خان کے بھائی سلمان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ ان کے چچا ذکی احمد شدید زخمی ہوئے۔ شہباز تاحال مفرور ہیں، جبکہ دیگر تین ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور برآمد شدہ بانس کی لاٹھیوں اور بیس بال کے بلے کی بنیاد پر کارروائی کی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں سے واضح طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : کرائم برانچ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو غیر قانونی ہتھیاروں کے ساتھ کیا گرفتار۔

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ وہ بغیر لائسنس کے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس اب اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے ملزمان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ پائدھونی کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چھاپہ مارا اور ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ نارائن دھرو اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں غیر قانونی ہتھیاروں کا سودا کرنے جارہے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد، ممبئی کرائم برانچ کے انسداد بھتہ خوری سیل نے فوری طور پر ایک ٹیم تشکیل دی، نگرانی شروع کی، اور پھر اس جگہ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران پولیس نے وہاں موجود پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ تلاشی لینے پر ان سے تین پستول، تین میگزین اور 21 زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔ جب ان سے ہتھیاروں کے لائسنس کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ کوئی درست دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے۔ دوران تفتیش انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اسلحہ بیچنے کے لیے لائے تھے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سریندر امرلال جی مینا (25)، روہت گھنشیام مینا (24)، کارتک بیجندر پرچا (19)، دیپک کمار چترمل بل (26) اور روہن/رونورونک پنالال میروتھا (25) کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ تمام ملزمان راجستھان اور ہریانہ کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں اور ان کی عمریں 19 سے 26 سال کے درمیان ہیں۔ آرمز ایکٹ کی دفعہ 3 اور 25 کے تحت پائدھونی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دیگر متعلقہ حصے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ان ملزمان کا کسی بڑے گینگ سے کوئی تعلق ہے۔ خاص طور پر وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان کا بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ پولیس فی الحال ہر زاویے سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان