سیاست
بھیونڈی مجلس اتحاد المسلیمین کے صدر خالد گڈو کا پریس کانفرنس میں دبنگ انداز
بھیونڈی : کورونا وائرس سے پورا ہندوستان لڑرہا ہے. دہائی مہینے کے لاک ڈاؤن کے بعد کچھ اضلاع میں کورونا کا زور ٹوٹ رہا ہے. وہی تھانہ ضلع کے بھیونڈی شہر میں عید الفطر کے بعد اچانک کورونا گراف بڑھنے کی سنسنی خیز خبریں آنے لگیں. کل بروز بدھ, مورخہ 10 مئی کو بھیونڈی میں کورونا کے 26 مریضوں کی تصدیق ہونے کی خبر کے بعد کورونا کا گراف 352 کا آنکڑا چھو چکا ہے جس میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہے. بھیونڈی میں اب تک کوویڈ 19 سے 142 مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھر جاچکے ہے. 189 مریض ایکٹیو ہے. بھیونڈی میں جہاں کورونا متاثرین کی تعداد بلٹ ٹرین کی طرح تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہیں. وہیں دوسری طرف طب جیسے معزز پیشے سے وابستہ ڈاکٹر حضرات کورونا سے اس قدر دہشت زدہ ہے کہ نارمل سردی کھانسی کے مریضوں کو بھی دیکھنے سے گریز کررہے ہیں. جس کی وجہ سے بھیونڈی میں طبعی شرح اموات کی تعداد اتنا بڑھ گئی ہے کہ کلیان روڑ پر واقع آس بی بی قبرستان کے ٹرسٹیوں کو باقاعدہ ایک بورڈ لگانا پڑا کہ آس بی بی قبرستان میں جگہ کافی نہیں ہے. اس لئے شہر کے جس قبرستان میں سہولت ہو. میت کی تدفین وہاں کریں. ڈاکٹرس کے اس رویے سے جہاں عوام دلبرداشتہ ہوئی ہے وہیں بھیونڈی شہر مجلس اتحاد المسلیمین کے صدر خالد گڈو نے انتہائی کڑے تیوروں کے ساتھ ڈاکٹرس کی کلاس لے ڈالی. موصوف اس قبل راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے صدر تھے مگر اس سے قبل کبھی انہیں اتنے سخت تیوروں میں نہیں دیکھا گیا. خالد گڈو کے اس کڑے تیور میں بھیونڈی کا تابناک مستقبل آواز دے رہا ہے. ویڈیو دیکھنے کے بعد کہاوت کی سچائی پر یقین آگیا کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے اور سنگت کا اثر. یقین جانئے. خالد گڈو کے اس دبنگ انداز میں شیر ہندوستان اسد الدین اویسی کی للکار نظر آرہی ہے . ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے سے پہلے جس طریقے سے 12 لاکھ کی آبادی کے شہر میں یہ جو آئی جی ایم ہاسپٹل ہے وہ ہاسپٹل نہیں بلکہ سلاٹر ہاؤس ہے . وہاں پر نارمل کھانسی , بخار کا تو مریض ٹھیک نہیں ہوتا. ایک ایک بیڈ ہر 3 مریض لٹائے جارہے ہیں اور اسے کووڈ ہاسپٹل بنایا گیا ہے . سب سے پہلے تو غلط بات یہ ہے . رہا سوال شہر میں جتنے بھی ڈگری ہولڈر ڈاکٹرس ہیں . آج وہ کیا کررہے ہیں ؟ ان کو جب ان کے والدین نے ڈاکٹر بنایا تھا . تب یہ کہا تھا کہ کسی کے ماں باپ جب بیمار ہوکر تمہارے ہاسپٹل میں آئیں گے تو تم چھوت چھات کی بیماری سمجھ کر انہیں واپس کردینا . آج شہر میں کافی بڑی تعداد میں اموات ہورہی ہیں . نمونیہ , ٹائیفائیڈ اور بخار سے . لوگ اس کو کورونا
سمجھ رہے ہیں . جب تک میٹرو پالیس کی رپورٹ نہیں آجاتی . جب تک کورونا کی تصدیق نہیں ہوجاتی . تب تک کسی کو کورونا کہنے کا حق نہیں ہے . کوئی بھی ڈاکٹر ہو آپ دیکھ لو اگر کوئی سینے کا ایکسرے نکالتا ہے , سی اسکین نکالتا ہے , سونو گرافی کرتا ہے یا ایم آر آئی نکالتا ہے اسے فورا کہہ دیا جاتا ہے کہ کورونا ہے . موصوف نے انتہائی جارحانہ انداز میں مزید کہا کہ یہ آخر کھیل کیا چل رہا ہے . یہاں کی عوام کی زندگیوں سے کھیلا جارہا ہے . میں اس پر چپ نہیں بیٹھوں گا . میں نے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے . ڈی سی پی زون 2 راجکمار شندے اور میونسپل کمشنر کو لیٹر دیا گیا ہے کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر پرائیویٹ ہاسپٹل جاری نہیں کئے گئے اور وائرل انفیکشن کا علاج نہیں کیا گیا اور اگر اس دوران کسی کی موت ہوئی تو ہر وہ ہاسپٹل اور ہر اس ڈاکٹر پر 304 کے تحت مقدمہ درج کراؤں گا . نا ایک بھی ہاسپٹل چلے گا اور نا ہی میں چلنے دوں گا . سارے ہاسپٹل سیل کرادوں گا اور سارے ڈاکٹرس کی ڈگری کینسل کرانے کے لئے منترالیہ سے مانگ کروں گا . اپنے اسی تیوروں کو برقرار رکھتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں موصوف نے کہا کہ کووڈ کوئی بیماری نہیں ہے . یہ سب لوگوں کو بیوقوف بناکر دماغی طور پر حراساں کیا جارہا ہے . یہ جو کورونا بیماری ہے . یہ اگر 100 لوگوں کو ہوتا ہے تو 95 ٹھیک ہوتے ہیں . کووڈ کے بارے میں لوگوں کو اتنا ڈرا دیا گیا ہے کہ سوچ سوچ کر ہی ان کی موت ہورہی ہے . یہ اس طرح سے نہیں چلے گا.جب کووڈ پورے ہندوستان میں پھیلا تھا . اس وقت بھیونڈی میں کورونا کا ایک بھی مریض نہیں مل رہا تھا مگر آج دیکھئے کہ لائن لگی ہوئی ہے لوگوں کے مرنے کی . یہ صرف پرائیویٹ ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور مستی ہے . یہ ساری مستی اتار دی جائے گی اور سارے ہاسپٹل پر ایف آئی آر میں درج کروں گا . بھیونڈی کے چیف آفیسر ڈاکٹر جیونت دھلے کے بارے میں ایم آئی ایم کے بھیونڈی صدر نے کہا کہ وہ کوئی چیف آفیسر نہیں ہے اور ناہی کوئی ڈگری ہولڈر ڈاکٹر ہے . وہ ایک انگوٹھا چھاپ ڈاکٹر ہے . جس کو آئی جی ایم کی جوابداری سونپی گئی . موصوف نے ڈاکٹر جیونت دھلے پر ایک بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دوسرے کو ایگزام میں بیٹھا کر پاس ہوا ہے . اس کے اپنے ہاسپٹل میں مریض ٹھیک نہیں ہوتے یہ آئی جی ایم کا سی ایم او بنا بیٹھا ہے .
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایم آئی ڈی سی کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، بین الاقوامی اسمگلنگ کے گروہ کا پردہ فاش، 37 کروڑ روپے مالیت کی کیٹامائن کے ساتھ دو ارکان گرفتار

ممبئی : ایم آئی ڈی سی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ نے منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے دو ارکان کو گرفتار کر کے 12 کلو 390 گرام کیٹامائن برآمد کر لی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس برآمد شدہ منشیات کی مالیت کا تخمینہ 37 کروڑ 97 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، 24 ستمبر 2026 کی رات 11 بجے، اندھیری کرلا روڈ پر ایئرپورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر دو مشکوک افراد ٹرالی/سامان والے بیگ اٹھائے ‘ساکئ ناکہ’کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) کھولم اور ان کی ٹیم کو ان پر شک ہوا۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔ابتدا میں انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران ٹال مٹول والے جواب دئیے، لیکن سخت تفتیش کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیگ میں منشیات موجود ہیں۔ تلاشی لینے پر سفید رنگ کا قلمی (کرسٹل نما) پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی شناخت کیٹامائن کے طور پر کی گئی۔
گرفتار ملزمین 1) عدنان احمد نیاز احمد صدیقی (35 سال) – گھوڑا پیڈیو، مزگاؤں (مشرقی) 2) سعود مشتاق منیار (29 سال) – گرگاؤں، ممبئی یہ ملزمین کیٹامائن کو کھانے پینے کی اشیاء میں چھپا کر ہوائی راستے سے ممبئی سے تھائی لینڈ، انڈونیشیا، میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اسمگل کیا کرتے تھے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات 8(سی)، 22(سی) اور 29 کے تحت ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (کیس نمبر 9075/2026) درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر ابھیناو دیشمکھ، ڈپٹی کمشنر دتہ نلاوڑےاور اسسٹنٹ کمشنر یوگیش شنڈے کی رہنمائی میں عمل میں لائی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر انسپکٹر گھنشیام نائر، انسپکٹر سنیل کارانڈے اور یوگیش ٹانڈلے، نیز اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر الہاس کھولام شامل تھے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ اطلاع آج یہا ں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرگس کے خلاف پولس کی بڑی کارروائی ہے اور مزید تفتیش بھی جاری ہے۔
سیاست
سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے کانگریس کارکنوں نے پنجاب میں احتجاج کیا۔

فیروز پور : ہزاروں کانگریس کارکنوں نے پیر کو پنجاب کے فیروز پور میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے اور سبوتاژ کرنے کے الزام میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمشنر امریندر سنگھ کے پتلے بھی جلائے۔ کہ سی ای سی گیانیش کمار نے انتخابی عمل کو “تباہ کیا اور سبوتاژ” کیا اور نوٹ کیا کہ 13.8 کروڑ ووٹروں کو ووٹر لسٹوں سے حذف کرنے کے ذریعے “ایک ہاتھ سے حق رائے دہی سے محروم” کیا گیا تھا۔ انہوں نے بہار، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ہریانہ کی ریاستوں کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں انتخابی فہرستوں میں سے 13.8 کروڑ رائے دہندگان کو شکست دی گئی۔ حقائق اور عوام کا تاثر۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ ملی بھگت کر رہا ہے اور ان ووٹروں کے ناموں کو حذف کر رہا ہے جنہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف ہیں۔ وویک جوشی) نے اعتراف کیا تھا کہ راہول گاندھی پچھلے تین سالوں سے کیا کہہ رہے ہیں۔ پارٹی کے ریاستی صدر وارنگ نے پنجاب میں کانگریس کارکنوں کو ووٹر لسٹوں سے ووٹوں کو حذف کرنے کے خلاف ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کرنا الیکشن کمیشن کا معیاری عمل ہے کہ پنجاب میں بی جے پی کے ووٹوں کو حذف کرنے اور 2 لاکھ ووٹوں کو حذف کرنے میں مدد ملی۔ پنجاب کی انتخابی فہرستوں سے اب تک ووٹ حذف ہو چکے ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
وارنگ نے ریاست میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اے اے پی اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے اس بات کی مثالیں پیش کیں کہ کس طرح اے اے پی نے پنجاب میں میونسپل کمیٹیوں کے نتائج کو خراب کیا۔ وارنگ نے کہا کہ اے اے پی حکومت پنجاب میں سیاست کو مجرمانہ شکل دے رہی ہے۔ انہوں نے اس وقت پکڑا جب مجرم بھگوان اور بھگوان کی طرح کا وقت نہیں تھا۔ گرپریت سیکھون، جن کے خلاف درجنوں سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں، الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بھگونت مان اور اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل دونوں ریاست میں غنڈہ کلچر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ وارنگ نے سی ایم مان کو دہلی کے لیڈروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر بھی طنز کیا اور بتایا کہ کس طرح 10 وزارتی بنگلے اور راجدھانی دہلی کے تمام لوگوں کو راجستھان میں منتقل کیا گیا۔ ان بنگلوں پر باہر کے لوگ قابض تھے وزراء کو گیسٹ ہاؤسز میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔
سیاست
مہا کانگریس نے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔

ممبئی : مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی (ایم پی سی سی) نے پیر کو تمام ضلع کلکٹریٹس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع کیے، چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے ان پر جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر فہرستوں میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایا۔ ضلع کلکٹر کو شکایات مظاہروں میں اختلاف رائے کی تخلیقی شکلیں نمایاں تھیں: امراوتی میں، مظاہرین نے گدھے پر سی ای سی کے مجسمے کو تباہ کرنے سے پہلے پریڈ کی۔ تھانے میں، مظاہرین نے سزا کے طور پر دھرنا (اٹھک-بیٹھک) کرنے پر مجبور کیا۔ پونے، کولہاپور، سولاپور، ناسک، ناگپور، چھترپتی سمبھاجی نگر، چندر پور، ناندیڑ، لاتور، بیڈ، اور کونکن اور شمالی مہاراشٹر کے علاقوں میں بھی بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈروں نے کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی: کولہاپور میں ستیج پاٹل، سولاپور میں پرنیتی شندے، امراوتی میں یشومتی ٹھاکر اور بلونت وانکھیڑے، چھترپتی سمبھاجی نگر میں کلیان کالے، چندر پور میں پرتیبھا دھنورکر، ناندیڑ میں رویندر چوہان، شیواجی کلگے اور لاڈریس میں کدرنگ، شیواجی اور کدرنگ۔ کانگریس نے اس سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف (ایل او پی) راہول گاندھی کے ذریعہ “ووٹ چوری” کے بارے میں لگائے گئے الزامات کو دہرایا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز، بشمول مہاراشٹر کے 3 کروڑ سے زیادہ، کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کے تحت انتخابی فہرستوں سے من مانی طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات سے قبل مہاراشٹر کی فہرستوں میں 47 لاکھ ناقابل شناخت ووٹروں کو شامل کیا گیا تھا۔ سی ای سی کی طرف سے انحراف، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے ان کے تعصب کے الزامات کی توثیق کی۔ قائدین نے انتباہ دیا کہ اگر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو یہ تحریک قومی تحریک میں بدل جائے گی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
