Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

لاک ڈاؤن کی پٹری پر آہستہ آہستہ دوڑ رہی ہے زندگی کی نئی ریل، لاک ڈاؤن 4 کے خاتمے کے بعد لوٹ رہی ہیں شہر کی رونقیں

Published

on

MALEGAON

اسپیشل رپورٹ :وفا ناہید
وقت کیسا بھی ہو اچھا یا برا کٹ ہی جاتا ہے . اسی طرح کورونا بحران کا یہ برا وقت بھی گزر ہی گیا . 2 ماہ سے زائد عرصے سے پورا ملک کورونا کے قہر کا شکار تھا . ناسک ضلع کے مالیگاؤں شہر میں کورونا جیسے بے قابو ہوگیا تھا . روزانہ آنے والے کورونا کے آنکڑوں سے عوام میں خوف و دہشت کا ماحول تھا . یہاں تک اس وباء نے عوام کے ساتھ پولس اہلکاروں اور میونسپل کمشنر کو بھی نہیں بخشا تھا . کورونا کی اس تباہی کاری کے دوران مسلمانوں کے ماہ مقدس کا بھی آغاز ہوگیا . رمضان المبارک میں بھی کورونا کے مریضوں کا شرح تناسب بڑھتا ہی رہا . اس کے علاوہ شہر میں ہاسپٹل اور کلینک بند ہونے کی وجہ سے کئی افراد بروقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب لقمہ اجل ہوگئے . جس سے شہر میں شرح اموات کا تناسب بڑھ گیا تھا. جس کی وجہ مالیگاؤں شہر شہ سرخیوں میں آگیا . تب ریاستی وزیر صحت راجیش ٹوپے کو شہر کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا . جس کے بعد موصوف نے ڈاکٹرس کو انتباہ دیا کہ جو ڈاکٹر اپنا ہاسپٹل اور کلینک بند رکھے گے ان پر کاروائی ہوگی . ہیلتھ منسٹر کے انتباہ کے ساتھ ہی شہر میں کلینک اور ہاسپٹل کھل گئے . کورونا کی وباء کے ساتھ ہی مریضوں کے ساتھ کووڈ سینٹروں میں تعصب کی خبریں بھی گردش کررہی تھیں . علاوہ ازیں کورونا متاثرین کی سب سے زیادہ اموات جیون ہاسپٹل میں ہونے کی وجہ سے افواہوں کا بازار گرم ہوگیا تھا کیونکہ اس سے قبل جیون ہاسپٹل میں مریضوں کو جو کھانا دیا جاتا تھا اس میں کیڑے بھی پائے گئے تھے . تب سابق ایم ایل اے آصف شیخ رشید کی کاوشوں سے جیون ہاسپٹل بند ہوگیا . اس کی جدید کاری کرکے کچھ دنوں بعد آؤٹر کے مریضوں کو وہاں داخل کیا جانے لگا . بہت سے مریض جن کو کوارنٹائن ہو کر 14 سے زیادہ دن کا عرصہ گزر چکا تھا مگر انہیں گھر جانے کی اجازت نہیں تھی . ایسے میں شہر رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل قاسمی کی بروقت کاروائی سے کوارنٹائن افراد کو بحفاظت ان گھروں کو رخصت کیا گیا . جب تک کورونا ندی کے اس پار نہیں گیا تھا . گھٹیا سیاست کرکے مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا تھا . اس طرح رمضان المبارک کے آخری عشرہ رہ گیا تھا . اس کے باوجود شہر میں سنناٹا چھایا ہوا تھا . اب جب کہ عیدالفطر قریب تھی اچانک کورونا کے گراف میں گراوٹ آتی گئی . ساتھ ہی 600 میں سے 500 مریضوں کی صحت یابی کی خبریں شہر میں گشت کرنے لگیں . پھر کیا تھا کبھی 2 تو کبھی 3 یاتو سرے سے ایک بھی مریض نہیں ملتا تھا . یہ سلسلہ الوداع جمعہ تک چلتا رہا اور الوداع جمعہ کو ایک ساتھ 14 مریضوں کی پوزیٹیو رپورٹ سے شہر میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی . خیر کورونا کی تباہی میں عید سعید بھی پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئی . مسلمانوں نے
عید الفطر کے پرمسرت موقع پر بھی لاک ڈاؤن کی پاسداری کی اور گھروں میں عید الفطر کی نماز ادا کرکے سادگی سے عید منائی اور وطن سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا .
عید الفطر کے اختتام کے بعد 30 مئی کو لاک ڈاؤن 4 کا مرحلہ مکمل ہوا اور 31 مئی سے 30 جون تک لاک ڈاؤن 5 کا آغاز ہوگیا . مگر لاک ڈاؤن 5 عوام کے لئے خوش آئند ثابت ہوا . جس سے ساکت زندگی کا جمود ٹوٹا اور لاک ڈاؤن کی پٹری پر زندگی کی ریل آہستہ آہستہ ہی صحیح آگے بڑھنے لگی . شہر پر چھایا ہوا ویرانی کا سایہ دور ہوا . وہ شہر جو راتوں کو بھی جاگتا تھا . پاورلوم کا شور جہاں زندگی کی رمق کو ظاہر کرتا تھا . تھوڑا بہت ہی سہی وہ شور لاک ڈاؤن کے سنناٹے کو چیر کر زیست کا نغمہ گانے لگا ہے . اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ماہ مقدس میں مالیگاؤں کے مسلمان اپنے روٹھے رب کو منانے میں کامیاب ہوگئے . ورنہ تو بقول عمران پڑتاپ گڑھی اہل دنیا نے تیری بات نہیں مانی ہے تو ہے ناراض تو ویرانی ہی ویرانی ہے-

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان