Connect with us
Saturday,12-September-2026

سیاست

ڈاکٹر ظفرالاسلام کیخلاف بغاوت کا مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ

Published

on

ملک کی سرکردہ شخصیات نے ایک بیان کی وجہ سے نزاع میں گھرے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین، ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مبینہ کردارکشی کی سخت مذمت کی ہے۔
ایک سے زیادہ ملی دانشوروں، علماء اور اہم شخصیات نے یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی پوری زندگی ملک وملت کی خدمت سے عبارت ہے ان کے خلاف ملک دشمنی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کرنے کو قطعی ناقابل فہم قرار دیا۔ دستخط کنندگان نے ان کے “میڈیا ٹرائل” کی بھی شدید مذمت کی اور استدلال کیا ہے کہ انہیں جس فیس بک پوسٹ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ دراصل ہندتوا طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کے خلاف تھی جس میں حکومت کویت کے اس موقف کی تائید کی گئی تھی جو اس نے شمال مشرقی دہلی کے مسلم کش فساد کی مذمت اور مظلومین کے حق میں اختیار کیا تھا۔
مشترکہ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ متنازعہ پوسٹ میں ہندوستان یا یہاں کی حکومت کے بارے میں کچھ نہیں تھا۔ میڈیا پر جان بوجھ کر ان کی شبیہ مسخ کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھیں ایسے فرضی بیان کی آڑمیں نشانہ بنایا جارہا ہے جو انھوں نے دیا ہی نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس اور حکومت کو کوئی بھی قدم آگے بڑھانے سے پہلے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور ان کی قومی وملی خدمات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے تاکہ ان کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو اورشر پسند اپنا کھیل کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
کیونکہ بعض نیوز چینل اور دستخط کنندگان نے بعض سیاسی عناصر پر اسلام اور مسلم دشمنی کا الزام لگاتے ہوے کہا کہ وہ لوگ ڈاکٹر خان کو ملک دشمن اور ہندو دشمن قرار دینے کی مذموم کوشش کررہے ہیں جبکہ انھوں نے اپنی پوسٹ میں بعض ہندتوا عناصر کو شر پسند گردانتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی او کہا تھا کہ وہ پوری دنیا میں ملک کی سیکولر جمہوریت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔
بیان میں ہندوستان کے حالات پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں ہندوستان کا درجہ گھٹا دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی شناخت ملک گیر سطح پر انسانی حقوق کے ایک بے لوث خادم کی ہے اور انھوں نے ہمیشہ دستور کی آزادی اور اس کی اقدار کا دفاع کیا ہے۔انھوں نے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور دہلی میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ہم حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے خلاف جاری “منافرانہ” مہم پر لگام لگائے او ر ایک قانون کے پابند شہری کی حیثیت سے ان کے شہری حقوق کاتحفظ کیا جائے اور ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر منسوخ کی جائے۔ یہ بھی واضح رہنا رہنا چاہئے کہ ہندوستان ایک جمہوری اسٹیٹ ہے نہ کہ پولیس اسٹیٹ اور جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں میں محمدادیب(سابق ممبرپارلیمنٹ)مولاناانیس الرحمن قاسمی(سابق ناظم امارت شرعیہ بہارواڑیسہ)پروفیسر اخترالواسع(صدر مولاناآزادیونیورسٹی، جودھپور)ڈاکٹر قاسم رسول الیاس(صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)پروفیسر محسن عثمانی ندوی(صدر مولاناعلی میاں ویلفیئر بورڈ)مفتی عطاالرحمن قاسمی(سابق رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)معصوم مرادآبادی(سیکریٹری آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس)پروفیسرعلی جاوید(سابق استاد شعبہ اردوہلی یونیورسٹی)انیس درانی(کالم نگار)نیلوفر سہروردی(کالم نگار)زیڈ کے فیضان(ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) اور دوسرے شامل ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹ کا استعمال کرکے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والی گینگ کا پردہ فاش

Published

on

ممبئی میں سائبر جرائم پر قدغن لگانے کےلیے کرائم برانچ نے اس کے خلاف سخت کارروائی شروع کررکھی ہے اسی مناسبت سے کرائم برانچ نے ایک ایسے گینگ کو بے نقاب کیا ہے جو موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس سے دھوکہ دہی کیا کرتی تھی ۔ ممبئی کرائم برانچ یونٹ-5 کو خفیہ معلومات ملی کہ، 03 مرد ملزمین نے خود نیز ان کے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدےمذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد مذکورہ کھاتوں کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق مذکورہ معلومات کی تفتیش کرکے مذکورہ 03 ملزمین کو حراست میں لے کر ان سے ابتدائی پوچھ تاچھ کی گئی تو، انہوں نے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے کا انکشاف کیا ۔ اس لحاظ سے مذکورہ 03 ملزمان کے خلاف ملاڈ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس دفعہ 66(ڈی) انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید جانچ کرائم برانچ، یونٹ5 کر رہی ہے ۔ مذکورہ مقدمے میں مذکورہ تینوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے پنچنامہ کے تحت1) مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، مختلف بینکوں کی 143 چیک بک، مختلف بینکوں کے 100 اے ٹی ایم کارڈ اور بینک کے دیگر کاغذات،2) مختلف کمپنیوں کے 24 موبائل فون،3) مختلف کمپنی کے 167 سم کارڈز،4) 2 لیپ ٹاپ5) دیگر سامان برآمد کیاگیا ہے۔ اب تک کی جانچ میں مذکورہ ملزمان نے صرف 10 بینک اکاؤنٹس پر روپے 24,00,00,000/- (چوبیس کروڑ روپے) کی سائبر دھوکہ دہی کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ نیز مذکورہ اکاؤنٹس کے خلاف 1930 پورٹل پر 32 شکایات درج ہونے کی اطلاع ہے۔

نیز تکنیکی جانچ سے ملزمان نے 2898 سم کارڈ کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرنے کا انکشاف ہوا ہےمذکورہ ملزمان کو م عدالت نے تاریخ ۱۹ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کیا ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی پولیس کمشنر،ممبئی، دیوین بھارتی، جناب پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم) ممبئی، انیل کنبھارے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) کرشن کانت اپادھیائے، پولیس ڈپٹی کمشنر راج تلک روشن، سدانند رانے کی رہنمائی میں یونٹ 5 کے پوتدار، رویندر تیلتومبڈے انجام دی گئی ۔ ممبئی کرائم برانچ کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے وہ دیگر کے اکاؤنٹس میں رسائی حاصل کر کے دھوکہ دہی کی رقومات اس میں منتقل کیا کرتے تھے ممبئی کرائم اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے اب تک ۲۴ کروڑ روپے کی دھوکہ کا انکشاف ہوا ہے ان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے ہیں جس میں دھوکہ دہی کی رقومات جمع کی گئی تھی ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بھارت نے عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔ ہم مل کر روشن مستقبل بنائیں گے: برکس سربراہی اجلاس میں ایچ ایم شاہ

Published

on

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کو 12 سے 13 ستمبر تک قومی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی ہائی پروفائل برکس چوٹی کانفرنس کے لئے دہلی پہنچنے والے عالمی لیڈروں کا خیرمقدم کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ برکس چوٹی کانفرنس، جس میں جی ڈی پی کے اعداد و شمار اور اقتصادی حرکیات کو مغرب سے جنوبی ایشیا کی طرف منتقل کرنے کی وجہ سے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل ہے، عالمی لیڈروں کو ممبر ممالک کے درمیان تعاون اور تعاون کو فروغ دینے پر غور و خوض کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ایک بہتر دنیا کے لیے خوشحالی۔ جبکہ دو روزہ عالمی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے سجے ہوئے بھارت منڈپم کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔ “ہندوستان، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے، تعاون کو تیز کرنے اور ایک بہتر دنیا کے لیے مشترکہ خوشحالی کو بڑھانے کے لیے دانستہ اور اقدام کرنے کے لیے عالمی رہنماؤں کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم مل کر ایک روشن مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔

دو روزہ چوٹی کانفرنس گیارہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں بشمول برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ہندوستان، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہی ہے تاکہ دنیا سے متعلق بہت سے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ پائیداری”۔ ہندوستان نے اس سال یکم جنوری کو برکس کی چیئر شپ سنبھالی۔ یہ ہندوستان کی برکس کی چوتھی صدارت کا نشان ہے۔ ہندوستان نے اس سے قبل 2012، 2016 اور 2021 میں برکس کی صدارت کی تھی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ برکس 11 ممالک پر مشتمل ہے، یعنی برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، ہندوستان، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات۔

یہ ارکان عالمی آبادی کا 49.5 فیصد، عالمی جی ڈی پی کا 40 فیصد، اور عالمی تجارت کا 26 فیصد حصہ لیتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار گروپ کے کافی آبادیاتی اور معاشی وزن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ برسوں کے دوران، جی 7جیسے دیگر سربراہی اجلاسوں کے مقابلے میں برکس کا معاشی منظر اور وزن بڑھ گیا ہے۔ اس گروپ نے اپنی رکنیت کی بنیاد میں بھی توسیع دیکھی ہے، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے ممالک اس میں شامل ہو رہے ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کا ایران کو بیان: وزارتی مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں ممکنہ تعیناتی پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا

Published

on

وزیر خارجہ چو ہیون نے جمعے کو اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا کہ سیئول نے آبنائے ہرمز میں فوجی اثاثوں کی ممکنہ تعیناتی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، حکام نے کہا کہ تزویراتی آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے میں سیول کے ممکنہ فوجی کردار پر قیاس آرائیوں کے درمیان۔ چو نے یہ ریمارکس ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہے کیونکہ سیول امریکی دباؤ کے درمیان آبنائے کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں تعاون کے لیے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ ایران نے کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ بات چیت کے دوران چو نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور وزارت کے مطابق، خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بحالی کی امید ظاہر کی۔

آبنائے ہرمز پر، چو نے سیول کے مستقل موقف پر زور دیا کہ تمام بحری جہازوں کے آزادانہ اور محفوظ گزرنے کی ضمانت ہونی چاہیے اور سٹریٹجک آبی گزرگاہ کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں جنوبی کوریا کی مسلسل شرکت کا اعادہ کیا، یونہاپ نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔”چو نے ہمارے موقف سے آگاہ کیا کہ آزادی کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ دباؤ کو اہمیت دی گئی ہے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز جتنی جلد ممکن ہو،” وزارت کے ایک اہلکار نے کہا، “وزراء نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق مسائل پر اپنے اپنے موقف کی وضاحت کی۔” انہوں نے مزید کہا۔چو نے ایران سے بھی کہا کہ وہ خطے میں جنوبی کوریا کے شہریوں کی حفاظت پر بھرپور توجہ دے، وزارت کے مطابق۔ عراقچی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور مواصلات پر دو وزیروں نے اتفاق کیا۔ دو طرفہ مسائل، وزارت نے کہا۔

فروری کے آخر میں امریکہ-ایران تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے یہ دونوں وزراء کے درمیان چھٹے معروف فون پر بات چیت تھی۔ ایک ٹیلی گرام پوسٹ میں، اراغچی نے صرف اتنا کہا کہ ان کا اور چو نے “تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال اور تبادلہ خیال کے لیے” فون کال کی۔ پیر کے روز، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی دوسرے ملک کی فوجی موجودگی یا آپریشن میں شرکت کے “سنگین نتائج ہوں گے۔” سیول حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے ممکنہ کردار کے حوالے سے ابھی تک کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، اگرچہ مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ملٹری میڈیا کے ایک جائزے کے مطابق ممکنہ تعیناتی کے لیے۔ ممکنہ فہرست میں سمندری گشتی طیارے، دھماکہ خیز مواد کو ٹھکانے لگانے والی ٹیمیں اور بحری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور صاف کرنے کے لیے بغیر پائلٹ کے نظام شامل ہیں۔

وزارت دفاع نے آبنائے کے قریب سیکورٹی اور آپریشنل صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اس ہفتے کے شروع میں ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھیجی تھی۔ اس کی واپسی، ٹیم کو اپنے نتائج کو قومی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی کوریا کے قانون کے تحت، فوجی دستوں کی کسی بھی بیرون ملک تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوجی تعیناتی کا کوئی بھی فیصلہ اندرون ملک سیاسی طور پر حساس ہوتا ہے، یہاں تک کہ حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ قانون سازوں نے بھی ہوروزٹرا میں فوج بھیجنے کی مخالفت کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان