سیاست
ضلع کے حدود ابھی کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں، لاک ڈاؤن کے بارے میں صحیح فیصلہ ۳؍ مئی کے بعد لیا جائے گا: وزیر اعلی
(محمد یوسف رانا)
۳؍ مئی کے بعد ریاستی علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد ریاست میں لاک ڈاؤن کے تعلق سےفیصلہ لیا جائے گا۔ کل (پیر) وزیر اعظم کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اس طرح کا اظہار وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سہ پہر براہ راست نشریات کے ذریعے عوام سے خطاب کے دوران کیا- وزیراعلیٰ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے تمام مذاہب نے ملک کے تئیں یکساں فرض شناسی اور انسانیت کا مظاہرہ کیا تو کرونا کے خلاف جاری جنگ میں ہمیں جیت حاصل ہوگی۔
وزیر اعلی نے ریاست کے عوام کو اکشے ترتیا اور مسلمان بھائیوں کو رمضان کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے مہاتما بسویشور جینتی کے موقع پر بھی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا سے متاثرہ علاقوں میں حکومت نے شرائط و ضوابط کے تحت۲۰؍اپریل کے بعد کچھ کاروبار شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ریاست میں زرعی کاموں، زرعی اجناس اور ضروری اشیاء کی نقل و حمل کا کام جاری ہے۔ کپاس کی خریداری کے مراکز شروع کردیئے گئے ہیں۔ پھلوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔ ہم گھر پر پھل پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مہاراشٹر کے اضلاع کی حدود بند ہیں، انہیں نہیں کھولا جائے گا لیکن کچھ اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ۳؍ مئی کے بعد وہاں کچھ اور نرمی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔
حب الوطنی اور انسانیت کو ترجیح دینے اور تمام تہواروں کو گھروں میں آسان طریقے سے منانے پر ریاست کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست کے مسلمانوں سے رمضان کے دوران گھر میں نماز ادا کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ آج کی صورتحال میںصبر وضبط کا مظاہرہ کرنا ہی ہماری طاقت ہے موجودہ حالات میں ڈاکٹر، نرسیں، حفظان صحت کا عملہ، صفائی کامگار اور پولیس ہمارے لئے ایک مسیحاہیں۔ جو ہماری صحت کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے۔
وزیر اعلی نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بغیر کسی سیاست کے مہاراشٹر کے لئے ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ہے جس کے ہم شکر گذار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ دوسری ریاستوں کے مزدور مہاراشٹر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں اپنے وطن بھیجنے کے لئے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی جاری ہے۔ اگرچہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرین شروع نہیں ہوگی، لیکن مرکزی حکومت کی رہنمائی اور منظوری کے بعد انہیں بحفاظت گھر بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔وزیر اعلی نے یہ بھی بتایا کہ بڑے صنعت کاروں جیسے ٹاٹا، ریلائنس، وِپرو، مہیندر اینڈ مہندر، برلا اور دیگر نے ریاست کی بہت مدد کی ہے اور ان سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ ریاست سے کچھ طلبا کو لانے کے انتظامات کیے جارہے ہیں جو راجستھان کے کوٹہ شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بتایا کہ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لینے مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ٹیم ایک ہفتہ سے ریاست میں خیمہ زن ہے اور ہم نے ان سےگذارش کی ہے کہ وہ ہماری ناہلی کی نشاندہی کریں اور اگر کوئی کوتاہی ہے تو ہم نے انتظامیہ کو ان کی ہدایت پر عمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی اور پونے کی عوام کو غفلت سے باہر آنا ہوگا کرونا وائرس خطرناک ہے اور ہماری ذرا سی لاپرواہی ہمیں بڑا نقصان دے سکتی ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ 80 فیصد کرونا کے متاثرین میں کرونا کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ایک دوسرے سے دور رہنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 فیصد لوگوں میں شدید علامات پائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صورتحال کب بدلے گی، جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا، لیکن اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم وائرس کے اثرات کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ہم نے مریضوں کی بڑھتی تعداد کو کنٹرول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں، ماہرین کی رہنمائی، دنیا بھر کے موجودہ واقعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ہم تحقیق پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہم کسی ایک معمولی نقطہ کو نظرانداز نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ساری دنیا میں تعریف کی جارہی ہے، ہمارے ملک نے صبر، تحمل اور اعتماد کی طاقت سے بحران کا سامنا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سب کا احتیاط اورکرونا کے خلاف جنگ میں سب کا اتحاد بے مثال رہا ہے۔
ریاست میں کرونا سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور علاج مہیا کیا جارہا ہے، وزیر اعلی نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی واقعے کی صورت میں پولیس کیا کرتی ہے۔ لیکن آج وہی پولیس دن رات خدمات انجام دے رہی ہے، بدقسمتی سے دو پولیس اہلکار کرونا کی وجہ سے فوت ہوگئے، حکومت پولیس کے کنبے کے پیچھے کھڑی ہے ان سب کو مدد فراہم کرے گی۔ہمیں ان پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ پولیس، ڈاکٹر، نرسیں اور صحت کے کارکن اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر کام کررہے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میںعوام کی صحت کے لئے سہولیات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ مریضوں کوالگ تھلگ رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہاٹ اسپاٹ اور کنٹینمنٹ زون کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ٹیم نے ورلی کولی واڑامیں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی کرنے والے اقدامات کی سراہنا کی ہے۔ مہاراشٹر میں اب تک 1 لاکھ 8 ہزار 972 ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 1 لاکھ 1 ہزار 162 افراد کی کرونا رپورٹ منفی آئی ہے۔ بدقسمتی سے 323 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پلازما تھراپی کی اجازت دی گئی ہے۔
سیاست
راجیہ سبھا انتخابات : رجنیش اگروال اور ترون چُگ نے کاغذات نامزدگی داخل کیے، بھوپیندر کے بیان نے تیسرے امیدوار پر ہنگامہ کھڑا کر دیا
بھوپال : مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلان کردہ امیدوار ترون چُگ اور رجنیش اگروال ہفتہ کی دوپہر اسمبلی پہنچے اور ریٹرننگ آفیسر کے سامنے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال اور تنظیم کے جنرل سکریٹری اجے جموال کے ساتھ پارٹی کے کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے ٹھیک پہلے ریاستی بی جے پی کے دفتر میں پارٹی ایم ایل ایز کی ایک اہم میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں دو امیدواروں کے علاوہ سی ایم موہن یادو اور بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال خصوصی طور پر موجود تھے، جہاں انتخابی حکمت عملی اور اتحاد کے بارے میں گہرائی سے بات چیت ہوئی۔
میٹنگ کے بعد، وزیر اعلی، ریاستی صدر، اور دونوں امیدواروں نے بی جے پی دفتر کے احاطے میں شیو اور ہنومان مندروں میں پوجا کی اور جیت کے لئے دعا مانگی۔ 15 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل قائدین کا قافلہ اسمبلی کے لیے روانہ ہوا۔ بی جے پی کے کئی سینئر ایم ایل ایز کو ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے باہر جمع دیکھا گیا جب امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لیے داخل ہوئے۔ راجیہ سبھا کے امیدوار رجنیش اگروال نے نامزدگی داخل کرنے سے پہلے اپنے گھر پر دیوتا کی پوجا کی۔ ان کی بیوی نے تلک لگا کر اور آرتی کر کے اپنی نیک تمنائیں پیش کیں۔ ان کی اہلیہ اپنے اہل خانہ سے آشیرواد لیتے ہوئے جذباتی نظر آئیں۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری اجے جموال، کابینہ کے وزراء کیلاش وجے ورگیہ، گووند سنگھ راجپوت، پرہلاد پٹیل، راکیش سنگھ، اور وی ڈی شرما سمیت کئی سینئر بی جے پی لیڈر اور ایم ایل اے اس پورے پروگرام کے دوران موجود تھے، جس نے بی جے پی کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
نامزدگی کے دوران کھرائی سے بی جے پی کے ایم ایل اے اور سابق وزیر بھوپیندر سنگھ نے پارٹی کی مضبوط پوزیشن کے بارے میں بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا، “بی جے پی پوری طرح سے تیار ہے۔ ہمارے پاس مکمل اکثریت اور حمایت ہے۔ اگر پارٹی تیسرا امیدوار کھڑا کرتی ہے تو بھی ہماری جیت 100 فیصد یقینی ہے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
جہاں طاقت ہے وہاں توجہ مرکوز رکھو، جیت ہماری ہوگی… انتخابات میں ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں کو جیت کا منتر دیا

ممبئی آئندہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات میں جہاں تنظیم مضبوط ہے وہیں پوری طاقت کے ساتھ توجہ مرکوز کریں۔ مائیکرو لیول پر منصوبہ بندی کریں، بوتھ کوآرڈینیٹر مقرر کریں اور انتخابی تیاریوں کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہم منظم اور حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔ یہ پیغام شیوسینا پارلیمانی پارٹی لیڈر اور پارلیمنٹ رتن ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں اور عہدیداروں کو دیا۔ ایم پی ڈاکٹر شری کانت شندے کا دو روزہ شیو سمواد دورہ آج کھاندیش کے نندربار سے شروع ہوا۔ اس دوران انہوں نے نندربار اور تلودہ میں منعقدہ میٹنگوں میں ضلع کے مختلف اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ الیکشن کی تیاریوں اور تنظیم سازی کے حوالے سے کارکنوں کی رہنمائی کی۔ اس موقع پر وزیر دادا بھوسے، ایم ایل اے امشا پاڈوی، ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی، ایم ایل اے راجندر گاویت، شیو سینا کے ریاستی تنظیم کے سربراہ اور سابق ایم پی آنند پرانجاپے، شیو سینا کے سکریٹری بھاؤ صاحب چودھری، شیوسینا نندربار لوک سبھا رابطہ سربراہ اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری اور دیگر اہم عہدیدار موجود تھے۔
ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے آج صبح تلودہ میں شہادہ اور اکلکووا اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس میٹنگ میں انہوں نے عہدیداروں کو ووٹر لسٹ پر نظرثانی مہم کو مؤثر طریقے سے چلانے، بی ایل اے کی تقرری اور 20 پولنگ اسٹیشنوں میں سے ہر ایک پر ایک کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوآرڈینیٹروں کی تقرری سے ہر بوتھ کا باقاعدہ جائزہ ممکن ہو سکے گا۔ اگر بوتھ کی سطح پر منظم طریقے سے کام کیا جائے تو تنظیم مضبوط ہوگی اور الیکشن جیتنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ ایم پی ڈاکٹر شندے نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں جو کچھ ہوا اسے پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ تمام کارکنوں اور عہدیداروں کو یہ سوچ کر متحد ہو کر کام کرنا چاہئے کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی علاقوں میں شیوسینا کی طاقت کو کیسے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کوئی اتحاد نہیں ہوگا، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی تاہم کارکنان ہر بوتھ پر توجہ دے کر کام کریں۔ اگر ہم پوری محنت اور لگن سے کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔
ڈاکٹر شندے نے کہا کہ نندوربار ضلع میں شیوسینا کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں ایک بڑا طبقہ بن چکا ہے جو شندے صاحب کی قیادت کا احترام کرتا ہے۔وزیر اعلی کی حیثیت سے شندے صاحب نے مفاد عامہ کی کئی فلاحی اسکیموں کو نافذ کیا، جن سے ووٹر واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نگر پریشد اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا کو اچھی عوامی حمایت اور کامیابی ملی ہے۔
نندوربار شہر میں منعقدہ دوسری میٹنگ میں ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے نندوربار اور نواپور اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شندے صاحب نے “شان آپ کے دروازہ” مہم کے ذریعے عام لوگوں کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ ان کی قیادت پر عوام کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی شیوسینا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر شندے نے کارکنوں سے تنظیم کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ کام کریں اور پارٹی کی طاقت میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا کا انتخابی نشان ‘دھنوش بان’ ہر علاقے تک پہنچنا چاہیے۔ پارٹی قیادت کارکنوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی نے کہا کہ اکلکووا اور دھارگاؤں تعلقہ میں شیوسینا کی اچھی گرفت ہے، جب کہ تلودہ اور شہادہ تعلقہ میں تنظیم کو مزید مضبوط کرنے کے لیے خصوصی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نندربار ضلع پریشد انتخابات میں شیوسینا بھگوا پرچم لہرائے گی۔ ایم ایل اے رگھوونشی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارپوریٹروں کو مزید تنظیمی اختیارات اور ذمہ داریاں دی جائیں۔ ایم ایل اے امشا پاڈوی اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری نے بھی میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شندے صاحب کی ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر نظر :
شیو سینا کے سربراہ رہنما اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر خصوصی توجہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی رہنما 45 ڈگری درجہ حرارت جیسی شدید گرمی میں بھی مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ یہ بات شیوسینا پارلیمانی پارٹی کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سریکانت شندے نے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی الیکشن نہیں ہے، پھر بھی شیوسینا کے لیڈر گاؤں گاؤں جا کر کارکنوں سے مل رہے ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ شندے صاحب کی قیادت میں شیوسینا کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے لیڈر دوروں پر جاتے، تقریریں کرتے اور چلے جاتے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف تقریر نہیں ہوتی بلکہ لیڈر خود میدان میں جا کر کام کرتا ہے اور کارکنوں سے براہ راست مکالمہ قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں وہ چار بار ضلع نندربار کا دورہ کر چکے ہیں، جس سے پارٹی قیادت کی تنظیم کے تئیں سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
بین الاقوامی خبریں
ٹرمپ کی دھمکیوں سے بے خوف، عمان ایران کے معاملے پر امریکہ سے بھیڑا، کیا یہ ہرمز میں ٹول بوتھ بنائے گا؟

مسقط : عمان نے ایران سے تعلقات منقطع کرنے کا امریکی دباؤ مسترد کردیا۔ عمان روایتی طور پر امریکہ کا اتحادی رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی نگرانی کی ذمہ داریاں بانٹتا ہے۔ عمان نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کے طور پر پس پردہ کردار ادا کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹول بوتھ بنانے کے بارے میں ایران کے ساتھ عمان کی بات چیت نے امریکہ کو غصہ دلایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں عمان کے خلاف سخت بیانات جاری کرتے ہوئے اس پر ایران سے دوری اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ عمان نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کے خلاف اس سخت مؤقف نے امکان پیدا کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر ہرمز میں ٹول وصولی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ امریکی دباؤ کے جواب میں عمان کا موقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی نظام پر ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو گا۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) سے مشاورت کے بعد اس طرح کے نظام کو نافذ کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے عمان کو بم سے اڑانے کی دھمکی دے کر توجہ کا مرکز بنا دیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عمان کے بارے میں امریکی شکوک و شبہات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید عمان کے علاوہ دنیا کے کسی ملک نے (جس کے ساتھ اس نے قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے) نے آبنائے ایران کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کی ہے۔ ایران نے اپنے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور عمان کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے غیر امتیازی فیس کی تجویز پیش کی ہے۔ ایران کے محکمہ ماحولیات کے اہلکار ارمان خرسند نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ٹول کا مقصد حالیہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل جمع کرنا ہے۔
ارمان نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں نے نہ صرف سلامتی اور انسانی بحران پیدا کیے ہیں بلکہ ماحولیاتی نقصان بھی پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے عام طور پر قبول شدہ اصولوں کے تحت، ذمہ داروں کو تدارک یا معاوضے کی لاگت برداشت کرنی چاہیے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر علی نیکزاد نے کہا کہ تین الگ الگ مسودہ قوانین کو ایک مربوط اصول میں یکجا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آبنائے میں حکومت کا سمندری نظام کس طرح کام کرے گا، اور کیا یہ نظام عارضی ہوگا۔ دوسری جانب آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل نے آبنائے پر ٹول کی مخالفت کی ہے۔
کئی عمانی سیاست دانوں نے آبنائے ہرمز میں بعض خدمات کے لیے فیس وصول کرنے کے خیال کی حمایت کی ہے۔ عمان کی شوریٰ کونسل کے رکن محمد سلیمان تمیم الحنائی نے کہا کہ عمان نے ہمیشہ بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے اصول کی پاسداری کی ہے۔ عمان کے وزیر ٹرانسپورٹ نے اس سے قبل شوریٰ کونسل میں کہا تھا کہ عمان بین الاقوامی سمندری قانون کا احترام کرتا ہے اور جہاز رانی کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔ لہٰذا، عمان آبنائے کی آمدورفت کے لیے کوئی فیس نہیں لیتا ہے لیکن دیگر بحری خدمات فراہم کرتا ہے، جیسے کہ سیکورٹی اور نیویگیشن امداد۔
امریکہ کو شبہ ہے کہ عمان ایران کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر ٹول کی طرح فیس کا نظام بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے عمان جہازوں کی مدد کر رہا ہے، بحری امداد، تلاش اور بچاؤ کے کاموں اور عملے کو طبی امداد فراہم کر رہا ہے۔ امریکہ کو عمان کے بارے میں اس وقت سے شک ہے جب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی 28 فروری کو اسرائیل امریکہ تنازعہ شروع ہونے سے عین قبل امریکی ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے اور انہوں نے مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی اپیل کی۔ عمان مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا اور کہا تھا کہ ایک معاہدہ قریب ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
