Connect with us
Sunday,12-April-2026

سیاست

ضلع کے حدود ابھی کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں، لاک ڈاؤن کے بارے میں صحیح فیصلہ ۳؍ مئی کے بعد لیا جائے گا: وزیر اعلی

Published

on

(محمد یوسف رانا)
۳؍ مئی کے بعد ریاستی علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد ریاست میں لاک ڈاؤن کے تعلق سےفیصلہ لیا جائے گا۔ کل (پیر) وزیر اعظم کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اس طرح کا اظہار وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سہ پہر براہ راست نشریات کے ذریعے عوام سے خطاب کے دوران کیا- وزیراعلیٰ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے تمام مذاہب نے ملک کے تئیں یکساں فرض شناسی اور انسانیت کا مظاہرہ کیا تو کرونا کے خلاف جاری جنگ میں ہمیں جیت حاصل ہوگی۔
وزیر اعلی نے ریاست کے عوام کو اکشے ترتیا اور مسلمان بھائیوں کو رمضان کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے مہاتما بسویشور جینتی کے موقع پر بھی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا سے متاثرہ علاقوں میں حکومت نے شرائط و ضوابط کے تحت۲۰؍اپریل کے بعد کچھ کاروبار شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ریاست میں زرعی کاموں، زرعی اجناس اور ضروری اشیاء کی نقل و حمل کا کام جاری ہے۔ کپاس کی خریداری کے مراکز شروع کردیئے گئے ہیں۔ پھلوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔ ہم گھر پر پھل پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مہاراشٹر کے اضلاع کی حدود بند ہیں، انہیں نہیں کھولا جائے گا لیکن کچھ اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ۳؍ مئی کے بعد وہاں کچھ اور نرمی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔
حب الوطنی اور انسانیت کو ترجیح دینے اور تمام تہواروں کو گھروں میں آسان طریقے سے منانے پر ریاست کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست کے مسلمانوں سے رمضان کے دوران گھر میں نماز ادا کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ آج کی صورتحال میںصبر وضبط کا مظاہرہ کرنا ہی ہماری طاقت ہے موجودہ حالات میں ڈاکٹر، نرسیں، حفظان صحت کا عملہ، صفائی کامگار اور پولیس ہمارے لئے ایک مسیحاہیں۔ جو ہماری صحت کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے۔
وزیر اعلی نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بغیر کسی سیاست کے مہاراشٹر کے لئے ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ہے جس کے ہم شکر گذار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ دوسری ریاستوں کے مزدور مہاراشٹر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں اپنے وطن بھیجنے کے لئے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی جاری ہے۔ اگرچہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرین شروع نہیں ہوگی، لیکن مرکزی حکومت کی رہنمائی اور منظوری کے بعد انہیں بحفاظت گھر بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔وزیر اعلی نے یہ بھی بتایا کہ بڑے صنعت کاروں جیسے ٹاٹا، ریلائنس، وِپرو، مہیندر اینڈ مہندر، برلا اور دیگر نے ریاست کی بہت مدد کی ہے اور ان سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ ریاست سے کچھ طلبا کو لانے کے انتظامات کیے جارہے ہیں جو راجستھان کے کوٹہ شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بتایا کہ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لینے مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ٹیم ایک ہفتہ سے ریاست میں خیمہ زن ہے اور ہم نے ان سےگذارش کی ہے کہ وہ ہماری ناہلی کی نشاندہی کریں اور اگر کوئی کوتاہی ہے تو ہم نے انتظامیہ کو ان کی ہدایت پر عمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی اور پونے کی عوام کو غفلت سے باہر آنا ہوگا کرونا وائرس خطرناک ہے اور ہماری ذرا سی لاپرواہی ہمیں بڑا نقصان دے سکتی ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ 80 فیصد کرونا کے متاثرین میں کرونا کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ایک دوسرے سے دور رہنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 فیصد لوگوں میں شدید علامات پائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صورتحال کب بدلے گی، جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا، لیکن اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم وائرس کے اثرات کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ہم نے مریضوں کی بڑھتی تعداد کو کنٹرول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں، ماہرین کی رہنمائی، دنیا بھر کے موجودہ واقعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ہم تحقیق پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہم کسی ایک معمولی نقطہ کو نظرانداز نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ساری دنیا میں تعریف کی جارہی ہے، ہمارے ملک نے صبر، تحمل اور اعتماد کی طاقت سے بحران کا سامنا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سب کا احتیاط اورکرونا کے خلاف جنگ میں سب کا اتحاد بے مثال رہا ہے۔
ریاست میں کرونا سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور علاج مہیا کیا جارہا ہے، وزیر اعلی نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی واقعے کی صورت میں پولیس کیا کرتی ہے۔ لیکن آج وہی پولیس دن رات خدمات انجام دے رہی ہے، بدقسمتی سے دو پولیس اہلکار کرونا کی وجہ سے فوت ہوگئے، حکومت پولیس کے کنبے کے پیچھے کھڑی ہے ان سب کو مدد فراہم کرے گی۔ہمیں ان پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ پولیس، ڈاکٹر، نرسیں اور صحت کے کارکن اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر کام کررہے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میںعوام کی صحت کے لئے سہولیات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ مریضوں کوالگ تھلگ رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہاٹ اسپاٹ اور کنٹینمنٹ زون کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ٹیم نے ورلی کولی واڑامیں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی کرنے والے اقدامات کی سراہنا کی ہے۔ مہاراشٹر میں اب تک 1 لاکھ 8 ہزار 972 ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 1 لاکھ 1 ہزار 162 افراد کی کرونا رپورٹ منفی آئی ہے۔ بدقسمتی سے 323 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پلازما تھراپی کی اجازت دی گئی ہے۔

سیاست

یو سی سی وقت کی ضرورت ہے، ممتا کو خوشامد کی سیاست ترک کرنی چاہئے : شائنا این سی

Published

on

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سخت حملہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں جھوٹی داستانیں پھیلانا بند کریں۔ ممبئی میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کہا، “یکساں سول کوڈ وقت کی ضرورت ہے۔ آپ ووٹ بینک کی سیاست کیوں کھیل رہے ہیں اور سیوڈو سیکولرازم کا کھیل کھیل رہے ہیں؟ ہم ایک یکساں سول کوڈ لانا چاہتے ہیں تاکہ تمام شہریوں کو یکساں انصاف ملے اور کوئی خوشامد نہ ہو۔” ناری شکتی وندن ایکٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس ملک کی خواتین کو اس تاریخی قدم کے لیے 27 سال انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں واضح سیاسی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ شائنا این سی نے کہا کہ یہ بل خواتین کو صنفی مساوات کو یقینی بنا کر تاریخ رقم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ شیوسینا کے رہنما نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان محض کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنے ملک میں پنپنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، جنہیں وہاں محفوظ پناہ گاہیں مل رہی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ بین الاقوامی معاملات میں ثالثی کرنے پر غور کرے۔ نوآبادیاتی ذہنیت پر سوال اٹھاتے ہوئے، شائنا این سی نے پوچھا کہ ہم اب بھی نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں۔ شہروں کے نام تبدیل کرنے کا اقدام خوش آئند ہے۔ شہروں کا نام چھترپتی شیواجی مہاراج اور اہلیہ بائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کے نام پر رکھنا ایک مثبت سمت ہے۔ مہاراشٹر میں، اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر اور احمد نگر کا نام بدل کر اہلیہ نگر کرنا اس سمت میں خوش آئند قدم ہے۔ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ خواتین ریزرویشن بل پر کانگریس کی میٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جس نے ’’ناری شکتی وندن‘‘ اور خواتین ریزرویشن بل کو سب سے زیادہ عرصہ تک روک رکھا تھا، اب وہ جھوٹے بہانے بنا رہی ہے۔ 27 سال گزرنے کے بعد بھی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی محض 13-14 فیصد ہے۔ ناری شکتی وندن ایکٹ کے تحت خواتین کے لیے 181 نشستیں مختص کی جائیں گی۔ اگر کانگریس واقعی ترقی پسند ہے تو اسے خواتین کی حمایت میں کھڑا ہونا چاہیے، جو ہندوستان کی 50 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ پی ایم مودی کے دراندازی کے بیان کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ وہ جماعتیں جو دراندازوں کو پناہ دے رہی ہیں اور بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، انہیں سمجھنا چاہئے کہ مودی حکومت اور این ڈی اے ہندوستانی شہریوں کے مفادات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر دراندازوں کی حفاظت نہیں کریں گے، جو ہندوستان کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

وعدے توڑنے کی امریکہ کی عادت کو ہم نہیں بھولے، ایران نے امن مذاکرات کے دوران سخت موقف اختیار کر لیا

Published

on

تہران : امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے درمیان ایران نے سخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ملک امریکہ کے ماضی کے ٹوٹے ہوئے وعدوں کو “بھولے نہیں اور نہ بھولے گا”۔ یہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے باوجود گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی مذاکرات کے ایک دور سے نتیجہ کی توقع نہیں تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے کہا، “ہمارے لیے سفارت کاری ایرانی سرزمین کے محافظوں کے مقدس جہاد کا تسلسل ہے۔ ہم امریکہ کے ٹوٹے ہوئے وعدوں اور غلط کاموں کے تجربات کو نہیں بھولے ہیں اور نہ بھولیں گے، جس طرح ہم ان کے اور تیسری جنگ کے دوران غاصب حکومت کے ذریعے کیے گئے گھناؤنے جرائم کو معاف نہیں کریں گے۔” تاہم ایران نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی بارہا امریکہ کے ساتھ اعتماد کی کمی کو برقرار رکھا ہے۔ بات چیت کو شدید اور طویل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “اسلام آباد میں ایرانی وفد کے لیے آج کا دن ایک مصروف اور طویل دن تھا۔ پاکستان کی اچھی کوششوں اور ثالثی سے ہفتے کی صبح شروع ہونے والی شدید بات چیت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی جس میں دونوں فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور متن کے تبادلے ہوئے۔” ایرانی وفد کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے، باقی نے کہا، “ایرانی مذاکرات کار ایران کے حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں، تجربے اور علم کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہمارے بزرگوں، عزیزوں اور ہم وطنوں کے بھاری نقصان نے ایرانی قوم کے مفادات اور حقوق کو آگے بڑھانے کے ہمارے عزم کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کیا ہے۔” ایران کے مضبوط موقف کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “کوئی چیز ہمیں اپنے پیارے ملک اور عظیم ایرانی تہذیب کے لیے اپنے عظیم تاریخی مشن کو انجام دینے سے نہیں روک سکتی اور نہ ہی روک سکتی ہے۔ ایران اپنے قومی مفادات اور اپنی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سمیت تمام ذرائع استعمال کرے گا۔” بقائی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بات چیت میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگ کی تلافی، پابندیوں سے نجات اور جاری علاقائی تنازعات کے خاتمے جیسے اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دارومدار دوسرے فریق کے خلوص اور نیک نیتی، ضرورت سے زیادہ مطالبات اور غیر قانونی اپیلوں سے گریز اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کا احترام کرنے پر ہے۔ مذاکرات کے اس نئے دور کے اختتام پر ایران اور امریکا پاکستان کی تجویز پر مذاکرات کا ایک اور دور کریں گے جس کا وقت اور مقام ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ بات چیت، جو دوپہر ایک بجے شروع ہوئی۔ ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق، پیغامات اور متن کے مسودے کے مسلسل تبادلے کے ساتھ، 14 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ ایرانی میڈیا نے بتایا کہ یہ مذاکرات مسلسل اختلافات کے درمیان ہوئے۔ اگرچہ کچھ ابتدائی پیشرفت ہوئی ہے، لیکن سنگین اختلافات باقی ہیں، بنیادی طور پر ایران کے کہنے کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے عائد کردہ مضحکہ خیز اور ضرورت سے زیادہ شرائط ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

این سی بی ممبئی بین الریاستی گانجا اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب کیا، ناگپور سے 210 کلو گانجہ ضبط اور 04 گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی اپریل ۱۱ کو مخصوص انٹیلی جنس پر عمل کرتے ہوئے، ایک این سی بی نے پی کمار اور آر کمار کو ناگپور، مہاراشٹرا میں مغربی بنگال کے رجسٹریشن والے ٹرک سے زیر حراست لیا تلاشی کے دوران دھاتی چادروں کے جائز کارگو میں چھپایا گیا 210 کلو گرام گانجہ برآمد کر کے ضبط کر لیا گیا۔ مسلسل پوچھ گچھ پر، اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ضبط شدہ منشیات اڈیشہ کے سمبل پور علاقے سے حاصل کی گئی تھی، جو کہ غیر قانونی گانجے کی سپلائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ناگپور کے دو گانجا ڈسٹری بیوٹرز پاٹل اور ورما کو مزید کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ 210 کلو گرام گانجے کی ضبط کی گئی یہ کھیپ مہاراشٹر کے مختلف مقامات جیسے ناگپور، امراوتی، اکولہ، ناسک، پونے اور ممبئی پر تقسیم کی گئی تھی جہاں سے اسے آخری گاہکوں اور مقامی دکانداروں کو خوردہ فروخت کیا جانا تھا۔ اس زاویے پر مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ آپریشن منشیات کے منظم گروہوں کو ختم کرنے اور منشیات کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے والے عادی مجرموں کو نشانہ بنانے میں این سی بی کی مسلسل کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ بیورو صحت عامہ کی حفاظت اور 2047 تک “نشا مکت بھارت” کے وژن کو برقرار رکھنے کے اپنے مشن میں ثابت قدم ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ منشیات سے متعلق کسی بھی معلومات کی اطلاع مانس نیشنل نارکوٹکس ہیلپ لائن (ٹول فری نمبر: 1933) کے ذریعے دے کر اپنا کردار ادا کریں۔ اطلاع دینے والوں کی شناخت کو سختی سے صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان