Connect with us
Saturday,07-November-2026

سیاست

وزارت داخلہ نے لاک ڈاؤن کے پیش نظر ثانی شدہ ہدایات جاری کیں

Published

on

مرکزی وزارت داخلہ نے کورونا وبا کے پیش نظر ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی مدت میں تین مئی تک توسیع دیے جانے کے پیش نظر ثانی شدہ ہدایات جاری کیں ہیں جن کے تحت پورے ملک میں ریل اور ہوائی ٹریفک کے ساتھ ساتھ تمام طرح کے پبلک ٹرانسپورٹ پر پہلے کی طرح ہی پابندیاں عائد رہیں گی۔ تاہم لوگوں کو در پیش مشکلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ سرگرمیوں کو 20 اپریل سے شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ نظر ثانی شدہ ہدایات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے ہاٹ سپاٹ قرار دئے گئے علاقوں میں لاگو نہیں ہوں گی۔ وزارت داخلہ نے بدھ کو ایک حکمنامہ جاری کر کے کہا ہے کہ کوروناوائرس کے سبب ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت گزشتہ 14 اپریل تک نافذ شدہ تمام ہدایات کی مدت میں آئندہ تین مئی تک توسیع کی جارہی ہے۔ ہدایات میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر ِ انتظام علاقوں کے ساتھ ساتھ مرکزی وزارتوں اور محکموں سے ان ہدایات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کو کہا گیا ہے۔ واضح ر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز قوم کے نام خطاب میں کورونا وبا کے بڑھتے قہر کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی مدت میں تین مئی تک توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔ لاک ڈاؤن کی پہلی مدت منگل کو ختم ہونی تھی۔ وزارت نے ہدایات میں یہ بھی کہا ہے کہ 20 اپریل سے شروع کی جانے والی اضافی چنندہ سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظا م علاقے لیں گے ۔ اس کا فیصلہ دیگر ہدایات پر عمل درآمد کے جائز ہ کی بنیاد پر کیا جائے گ ۔ انہیں شروع کرنے سے پہلے متعلقہ ریاستیں ہدایات کے مطابق تمام تیاری کریں گی۔

سیاست

’اگلی زندگی کی تیاری کرو‘، راج بھر کا اکھلیش یادو پر طنز، کہا اس زندگی میں وزیرِ اعلیٰ نہیں بن پائیں گے

Published

on

لکھنؤ : اتر پردیش کے کابینہ وزیر اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے ہفتے کے روز سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پر طنز کیا۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ اتر پردیش میں ان کی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور وہ خود دوبارہ وزیراعلیٰ بنیں گے۔ اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راج بھر نے کہا کہ اگر اکھلیش یادو وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی ’اگلی زندگی‘ کی تیاری کرنی چاہیے، کیونکہ موجودہ زندگی میں انہیں یہ موقع نہیں ملنے والا۔ سابق وزیراعلیٰ پر طنز کرتے ہوئے راج بھر نے میڈیا سے کہا، ”اپنی اگلی زندگی کی تیاری کر لیں۔ آپ اس زندگی میں وزیراعلیٰ نہیں بن سکتے۔“ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب اکھلیش یادو نے اعتماد ظاہر کیا کہ 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور وہ ایک بار پھر وزیراعلیٰ بنیں گے۔

اس سے قبل، وارانسی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے اشارہ دیا تھا کہ وہ خود 2027 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا کہ اگر سماج وادی پارٹی حکومت بناتی ہے، تو وہ لوک سبھا کے رکن کے طور پر اپنی موجودہ حیثیت سے ہی براہِ راست وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ ایس پی سربراہ نے وارانسی کے لیے کئی وعدے بھی کیے، جن میں یہ کہنا بھی شامل تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آتی ہے تو وہ اس مقدس شہر میں میٹرو ریل منصوبہ لائیں گے۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ ’ورونا‘ دریا کی صفائی کی جائے گی اور ان کی حکومت میں کسانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ راج بھر نے ایودھیا میں ’دیپوتسو‘ (دیوں کے تہوار) کی تقریبات کے بڑھتے ہوئے پیمانے پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ اس تہوار میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے اور یہ ہر گزرتے سال کے ساتھ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ”دیپوتسو کا پروگرام دن بہ دن مقبول ہو رہا ہے اور اس کی جانب لوگوں کی کشش بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر منایا جا رہا ہے۔“ وزیر موصوف نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر بھی ردعمل ظاہر کیا جس کے تحت دہلی سمیت سات ریاستوں میں ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) یعنی ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران جن لوگوں کے نام فہرستوں میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے، انہیں ایک اور موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اہل ووٹروں کو انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی مسلسل کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے، راج بھر نے کہا کہ انتخابی ادارہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو۔ انہوں نے کہا، “الیکشن کمیشن نہیں چاہتا کہ کسی کا نام ووٹر لسٹ سے رہ جائے۔ اسی لیے وہ بار بار فہرستیں شائع کر رہا ہے اور لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ مطلوبہ فارم پُر کریں یا مدد کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ اگر لوگ اس عمل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں، تو الیکشن کمیشن اس میں کیا کر سکتا ہے؟”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گڈچرولی سے ماؤازم کا خاتمہ تھانہ سے ۱۰ لاکھ کا انعامی ماؤازم سنجے یادو کی گرفتاری

Published

on

ممبئی مہاراشٹر گڈچرولی سے ماؤازم کے خاتمہ کے بعد اب یہاں شہروں میں ماؤنوازوں کی آمد شروع ہو گئی ہے اسی بنیاد پر مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس کو یہاں ایک اطلاع ملی ایک نکسلائٹ جو جھارکھنڈ ریاستی پولیس کو مطلوب ہے اور جس کے سر پر دس لاکھ روپے کا انعام مقرر ہےتھانے کے علاقے ٹھاکرلی میں روپوش ہے۔ اس اطلاع کے بعد، اے ٹی ایس یونٹ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس معلومات کی تصدیق کرے اور مناسب کارروائی عمل میں لائے۔ مہاراشٹر اینٹی ٹیررزم اسکواڈ نے تھانے ضلع کے ٹھاکرلی سے سنجے سرجو یادو (عرف گوڈارام یادو) نامی ایک 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا، جس کا تعلق دیوگان گاؤں (ضلع پلامو، جھارکھنڈ؛ چھترپور پولیس اسٹیشن کے تحت) سے ہے۔ مذکورہ شخص ایک نکسلائٹ تنظیم کی ‘زونل کمیٹی’ کا رکن ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ دس دنوں سے اسی مقام پر روپوش تھا۔ ملزم کو جھارکھنڈ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جنہوں نے اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا ہے۔اے ٹی ایس کے اس آپریشن کے بعد اب شہر میں روپوش ماؤنوازوں سے متعلق بھی تفتیش شروع ہو گئی ہے اے ٹی ایس نے اس معاملہ میں سنجے کو پہلے زیر حراست لیا اس سے باز پرس کی اور یہ معلو م کیا کہ اس کے ہمراہ مزید کوئی ماؤنواز تھانہ یا ممبئی و شہری علاقہ میں روپوش ہے یا نہیں ؟ اے ٹی ایس نے بعدازاں مطلوب ملزم کو جھار کھنڈ پولس کے سپرد کردیا ہے اس کی مزید تفتیش جھارکھنڈ پولس کرے گی ۔ اس گرفتاری کے بعد آپریشن نکسل بھی شروع کردیا گیا ہے او رُپولس بھی الرٹ ہے یہ اطلاع پولس کے معتبر ذرائع نے دی ہے ۔

Continue Reading

سیاست

شیو سینا (یو بی ٹی) کا مہاراشٹر حکومت پر گوکُل ملک یونین کے مینڈیٹ کو پامال کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی : شیو سینا (یو بی ٹی) نے ہفتے کے روز مہایوتی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے گوکل ملک یونین (کولہاپور ضلع سہکاری دودھ پیداکار سنگھ) میں غیر سرکاری “ماہر” ڈائریکٹرز کی تقرری کی تجویز منظور کر کے ‘کوآپریٹو جمہوریت’ (تعاون پر مبنی جمہوریت) کو کمزور کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان اخبار ‘سامنا’ کے اداریے میں ٹھاکرے گروپ نے کہا کہ اصل تنازعہ گوکل ملک یونین کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر ہے، جو کولہاپور کے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ڈیری کسانوں کے لیے معاشی اور سیاسی لائف لائن (زندگی کی ڈور) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ستیج پاٹل کی قیادت والے اتحاد نے 13 نشستیں حاصل کیں، جبکہ حسن مشرف کی قیادت والے اور مہایوتی کی حمایت یافتہ دھڑے کو 12 نشستیں ملیں۔ اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے، ریاستی حکومت نے کوآپریٹو قوانین میں ترمیم کی تاکہ اضافی ڈائریکٹرز کی تقرری کی گنجائش پیدا کی جا سکے—اس طرح 12 نشستوں والی اقلیت کو 16 ارکان کے ایک حکمران گروپ میں تبدیل کر دیا گیا، اور بیلٹ باکس کے ذریعے حاصل کردہ 13 نشستوں کی اکثریت کو نظر انداز کر دیا گیا۔

اداریے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاں گوکل یونین پر قبضہ کرنے کے لیے قوانین میں جلد بازی میں تبدیلیاں کی گئیں، وہیں ضلع کے نمایاں کوآپریٹو بینکوں اور کوآپریٹو شوگر فیکٹریوں کو اس طرح کی مداخلت سے دانستہ طور پر مستثنیٰ رکھا گیا۔ “بھگوان کرشن گوکل میں ‘مکھن چور’ کے نام سے مشہور تھے۔ ‘مکھن چور’ کرشن کے بچپن کا سب سے پیارا نام ہے۔ گوکل ورنداون میں نند اور ماں یشودا کے ساتھ پرورش پاتے ہوئے، کنہیا—یعنی بھگوان کرشن—مکھن چرایا کرتے تھے۔ اگر گوپیاں مکھن کے مٹکے اونچائی پر لٹکا بھی دیتیں، تو وہ اپنے دوستوں کے کندھوں پر چڑھ کر مٹکے توڑ دیتے اور دہی، دودھ اور مکھن کھا جاتے۔ کرشن تو صرف مکھن چراتے تھے، لیکن آج کے بی جے پی (بی جے پی) کے ‘چال بازوں’ نے تو پورا ‘گوکل’ ہی لوٹ لیا ہے۔ اس لوٹ مار نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ ‘گوکل ملک یونین’ (کولہاپور ضلع سہکاری دودھ اُتپادک سنگھ) سے اقتدار چھیننے کے لیے، یونین میں ‘ماہر ڈائریکٹرز’ کو تعینات کرنے کی آڑ میں ایک طرح کی غنڈہ گردی شروع کر دی گئی ہے،” اداریے میں الزام لگایا گیا۔

اداریے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ تنظیم نو (ری اسٹرکچرنگ) بظاہر خاص طور پر ان اہم شخصیات—جن میں شومیکا مہادک اور نوید مشرف شامل ہیں—کو واپس لانے کے لیے تیار کی گئی ہے، جنہیں کولہاپور کے دودھ پیدا کرنے والوں نے انتخابات میں فیصلہ کن طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کابینہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے حکمران حلقوں میں پائی جانے والی گھبراہٹ کی علامت قرار دیا ہے۔ ٹھاکرے کیمپ کا کہنا ہے کہ “جو حکومت جمہوری طور پر منتخب اکثریت کو اپنی قیادت خود منتخب کرنے کا حق نہیں دیتی، وہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے غداری کر رہی ہے۔” انہوں نے ریاست کی سطح پر ہونے والی ان چالوں کا موازنہ قومی سطح پر جاری سیاسی کشیدگی سے کیا۔ اداریے کے مطابق، ‘گوکل’ پر قبضے کی کوشش نے پورے مہاراشٹر میں کوآپریٹو (سہکاری) اداروں کے تقدس پر ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے؛ یہ ادارے تاریخی طور پر ریاستی حکومت کی براہ راست مداخلت اور نگرانی سے آزاد رہ کر کام کرتے آئے ہیں۔ چونکہ اب قانونی چارہ جوئی کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں، اس لیے کولہاپور کے ڈیری کسان اور کوآپریٹو ممبران صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کا موقف ہے کہ جو معاملہ کبھی ایک علاقائی دودھ یونین کے معمول کے انتخابات تک محدود تھا، اب وہ ادارہ جاتی خودمختاری، اکثریتی حکمرانی اور مہاراشٹر میں نچلی سطح کی جمہوریت کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن معرکے میں تبدیل ہو چکا ہے۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان