(جنرل (عام
آج مالیگاوں بڑا قبرستان بم بلاسٹ کی 14ویں برسی
(خیال اثر)
آج مالیگاوں بڑا قبرستان بم دھماکوں کی 14 ویں برسی ہے. 2006 کے سلسلہ وار خوفناک دھماکوں کے بعد آج ایک بار پھر شہر خموشاں جانے سے عوام محروم ہے. بم دھماکوں کے وقت بھی بالکل یہی منظر تھا لیکن آج کے حالات کرونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاون کے سبب پیش آرہے ہیں تاہم 13سال بعد بھی بم دھماکوں کی یاد تازہ ہے جیسے یہ دھماکے آج ہوئے ہیں. قبرستان کے دروازوں پر خاموش چیخیں, مردہ سناٹا, لہولہان لاشیں, انسانی جسم کے اعضا بکھرے ہوئے, وہ معصوم بچے اپنے باپ کو تلاش کرتے ہوئے, وہ خون آلود شب برات, یاد آتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں. ان زخموں کے تازگی کا سبب شہر کے ساتھ ہونے والی بھیانک ناانصافی ہے جس کی گونج دور بہت دور تلک بلکہ صدیوں تک سنائی دیتی رہے.
بم دھماکہ ہونے کے بعد جب تفتیشی ایجنسیوں نے یہاں سے تحقیقات شروع کیں تو انہیں سب سے پہلے سراغ کے طور پر LML کمپنی کی فریڈم دوپہیہ بائیک ملی۔ جس پر بم نصب تھا۔ تحقیقات جب مزید طویل ہوئیں تو فریڈم کے رجسٹریشن نمبر سے جو کہ مدھیہ پردیش کے شہر کے پتہ پر درج تھا، سامنے آیا۔ ساتھ ہی یہ فریڈم گاڑی کے رجسٹریشن پر جو نام درج تھا وہ نام تھا سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا۔ سادھوی سے تفتیش کے بعد ہی کرنل پروہت، اسیمانند سمیت درجن پر متحرک زعفرانی دہشت گرد پورے ملک کے سامنے آئے۔ جنہوں نے ببانگ دہل اجمیر شریف، سمجھوتا ایکسپریس، حیدرآباد مکہ مسجد میں ہوئے بم دھماکوں کو قبول کیا۔ یقیناً ان زعفرانی دہشت گردوں کی اس اقبالیہ بیان نے ہندوستانی آئین اور قانون کو شرمسار کردیا۔ کیونکہ یہ ہندوستان کے آئین اور قانون ہی ہیں جنہوں نے ہندوستان میں رہنے والے بسنے والے تمام ادیان کو نہ صرف اُن کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ ہر ہندوستانی کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کی ترقی و فروغ کے لئے کام کرسکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو جن سنگھی اذہان ٹھیک سے سمجھ نہیں پائے یا وہ اسے صرف ہندو توا کی فروغ کے لئے ہی آئین کے اس پہلو کا غلط استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جب تلوار ترشول بانٹ کر دہشت زدہ کرکے وہ اپنے مذہب کی تشہیر نہ کرسکے تو اپنے مشن میں مزید سختی لانے کے لئے انہوں نے بم بلاسٹ کئے تاکہ وہ ہندوستان میں بسنے والی دوسری اقوام کو دہشت زدہ کرکے اپنے ہم مذہب، ہم مذہب نہ سہی تو اپنا مطیع و فرمانبردار کرلیں۔ لیکن صبر دنیا کی تاریخ میں کبھی دائمی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔
مالیگاوں بم دھماکے بھی اسی جبر کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ لیکن زعفرانی ٹولے کے اس ظلم و جبر کو روکنے کے لئے ایک ایماندار پولس آفیسر سامنے آئے جنہوں نے ایمانداری سے ساری تفتیش کی۔ وہ ایماندار پولس آفیسر تھے جناب ہیمنت کرکرے صاحب۔ جنہوں نے ایمانداری اور جانفشانی سے بھکو چوک بم دھماکہ کی تحقیقات کی مگر بدقسمتی سے اقلیتوں کے ظلم و جبر سے بچاتے ہوئے خود ایک سازش کا شکار ہوکر شہید ہوگئے۔ جوں جوں بھکو چوک بم دھماکہ کی تحقیقات آگے بڑھ رہی تھی ملک سمیت تمام دنیا زعفرانی ٹولے کے ایک رکن کا چہرہ دہشت گردی انجام دینے پر سامنے آتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اگر ممبئی حملہ تاج ہوٹل حملہ نہیں ہوا ہوتا تو ممکن ہے ہیمنت کرکرے کی تحقیقات جس رُخ پر جاری تھی اگر مزید طویل ہوجاتی تو ممکن تھا شاید وہ چہرے بھی اس تفتیش کے دائرے میں آجاتے جو آج دہلی میں راج پاٹ کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ممکن ہے ممبئی حملہ بھی اس سازش کی ایک کڑی ہو۔ کیونکہ ہیمنت کرکرے نے اپنی موت سے قبل تقریباً اشکبار ہوتے ہوئے پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ اُن پر ان کے فرائض ایمانداری سے ادا نہ کرنے کے مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے جو ان کی قوتِ برداشت سے باہر ہے۔ بم دھماکہ کرنے والے زعفرانی ٹولے کے اہلکار تو دھیرے دھیرے جیل میں بند ہوتے جارہے تھے۔ اب وہ کون سے طاقتور لوگ تھے جو ہیمنت کرکرے پر اُن کے فرائض ادا نہ کرنے کے لئے غیر ضروری دباؤ دال رہے تھے۔ اُس پریس کانفرنس کے چند روز بعد ہی ممبئی حملہ ہوا۔ جس میں ہیمنت کرکرے شہید ہوگئے۔ یقیناً ممبئی حملے کے بھی ذمہ دار وہ طاقتور لوگ تھے جو ہیمنت کرکرے پر اپنا فرض ادا نہ کرنے کے لئے غیر ضروری دباؤ ڈال رہے تھے۔ ہیمنت کرکرے کی شہادت کے بعد بھکو چوک بم دھماکہ کی تحقیقات بند تو نہیں ہوئی مگر دھیمی ضرور ہوگئی۔ ادھر ملک کا سیاسی منظرنامہ بھی تیزی سے بدل رہا تھا۔ نریندر بھائی مودی کی قیادت میں آر ایس ایس کو فی الوقت اپنا نجات دہندہ مل گیا تھا اور آر ایس ایس انہیں خوب آسانیوں کے ساتھ قیادت بھی سونپ رہی تھی۔ پارلیمانی اس بات کے بعد پورے ملک میں بی جے پی اتنی زور و شور سے فاتح ہوئی کہ دیگر پارٹیوں کو اپنی بنیاد بچانے کے لئے آج بھی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔ مودی حکومت بی جے پی حکومت کے مرکز میں اقتدار سنبھالتے ہی بھکو چوک بم دھماکہ میں گرفتار زعفرانی ٹولے کے ملزمین کی رہائی آسان ہونے لگی۔ حیرت انگیز طور پر اسیمانند جس نے بم دھماکوں کو عدالت کے روبرو قبول کیا تھا، جئے پور کی ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہائی حاصل کرتا ہے۔ چند روز بعد بھی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی ضمانت بھی منظور ہوئی۔ یقیناً قانونی ماہرین نے ان ملزمین کے لئے قانونی کوئی نہ کوئی راہ ہموار کی ہوگی لیکن کیا یہ بھکو چوک بم دھماکے کے متاثرین، شہریان مالیگاؤں پر مزید ظلم نہیں ہے کہ حکومت انہیں بھی ضمانت پر رہائی دے رہی ہے جو عدالت کے روبرو بم دھماکوں کو انجام دینے کی بات قبول کرتے ہیں۔ جن کی اشیاء پر درج نام اُن کے مجرم ہونے کا ثبوت قوی ثبوت ہیں۔ مگر دادری سے بابری، تین طلاق، بڑے کے جانور کے گوشت کے سلسلے میں ہوتے روزانہ کے ظلم جھیلتی یہ اقلیت کل یہ ظلم بھی جھیلے گی کہ زعفرانی ٹولے کے وہ تمام ملزمین باعزت بری ہوگئے، لیکن اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔مالیگاوں سمیت ملک بھر کی انصاف پسند عوام آج بھی پر امید ہے۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ابھی اللہ کی عدالت کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ آج نہیں تو اللہ کی عدالت کا فیصلہ دنیا کے سامنے ضرور آئے گا اور یہی دنیا اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے گی کہ ملک میں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی بھگوا دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر میں ووٹروں کی تصدیق کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا۔

ممبئی : سماج وادی پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی اور ایک رسمی میمورنڈم پیش کیا۔ اس میں، انہوں نے انتخابی فہرست کے خصوصی سمری ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی آخری تاریخ 31 اگست 2026 تک بڑھانے پر زور دیا۔ اپنے میمورنڈم میں اعظمی نے مختلف انتخابی حلقوں میں ووٹر کی تصدیق کے عمل کے دوران پیش آنے والی مختلف عملی اور تکنیکی دشواریوں پر روشنی ڈالی۔ اٹھائے گئے اہم مسائل میں شدید بارش کی وجہ سے شہریوں کو ہونے والی تکلیف اور انتخابی ڈیوٹی پر مامور عملے پر اضافی دباؤ شامل ہے۔ بہت سے بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) جن میں سے ایک بڑی تعداد اساتذہ کی ہے اپنی باقاعدہ اسکول کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اس دوہری ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے شدید تھکن ہے۔ مزید برآں، اعظمی نے لاجسٹک چیلنجز کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بہت سے بی ایل او دور دراز کے علاقوں جیسے کہ رائے گڑھ، تھانے اور بوریولی میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے مقرر کردہ علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان خطوں میں تارکین وطن اور دوسری ریاستوں کے لوگوں کی زیادہ تعداد کو دیکھتے ہوئے، دستاویزات اور آن لائن تصدیق کے عمل میں وقت درکار ہے، جس کی وجہ سے بی ایل اوز کے لیے مقررہ وقت کے اندر کام مکمل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اعظمی نے خدشہ ظاہر کیا کہ انتظامی اور تکنیکی تاخیر کے نتیجے میں ہزاروں اہل رائے دہندگان ووٹر لسٹ سے باہر رہ سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور آخری تاریخ میں توسیع کرے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام اہل شہریوں کا ووٹر لسٹ میں اندراج کیا جا سکے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی پولس تنخواہ فراڈ : سمتا نگر پولس اسٹیشن میں دھوکہ دہی کا کیس درج، معطلی کے ساتھ برخاستگی کارروائی کا بھی امکان

ممبئی پولس محکمہ میں ہی تنخواہ گھوٹالہ کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد دو پولس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے ساتھ انہیں ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے, جس کے بعد پولس محکمہ میں ہی پلچل مچ گئی ہے۔ ممبئی پولیس فورس میں تنخواہوں کے گھوٹالہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس معاملے میں ایک اور بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ اس جرم میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ سمتا نگر پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ اس وقت کے چیف کلرک ملزم وجے چوان اور اس وقت کے سینئر کلرک امول میمرام کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے۔ دونوں کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سمتا نگر پولس اسٹیشن میں درج کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ تنخواہ گھوٹالہ دھوکہ دہی، فرضی دستاویزات تیار کر کے اور سازش کی گئی تھی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں ‘سروس سے معطل’ رہیں گے۔ معطلی کے احکامات جوائنٹ کمشنر آف پولیس، انتظامیہ نے جاری کیے ہیں۔
الزام ہے کہ پولیس اہلکار ہونے کا بہانہ کر کے کروڑوں روپے کے تنخواہ کے گھپلے میں غیر پولیس والے ملوث تھے۔ اس وقت کے انتظامی افسران رام کشن گوسوامی، ناگیش تلواڈیکر، وجے چوان اور دیگر کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے جھوٹی سیلری سلپس جمع کر کے سرکاری فنڈز کا غلط استعمال اور غبن کیا۔ اس معاملے میں الزام ہے کہ حکومت کے ساتھ 6 کروڑ 41 لاکھ 14 ہزار 36 روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔
اس کیس میں ہیڈ کلرک اجے راٹھوڑ اور جونیئر کلرک امول میشرم بھی ملوث ہیں۔ متعلقہ افراد کے خلاف دھوکہ دہی، ہفتہ خوری، جعلی دستاویزات کی تیاری اور شواہد کو تباہ کرنے سمیت مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آئی پی سی کی دفعہ 409، 420، 406، 467، 465، 471، 201، 120 (بی) اور 34 کے تحت قانونی شکایت درج کی گئی ہے۔
یہ گھپلہ 2019 اور 2020 میں ہوا تھا۔ شبہ ہے کہ یہ گھپلہ دسمبر 2019 اور پھر 2020 میں جنوری، فروری اور پھر جون سے ستمبر 2020 کی تنخواہوں میں ہوا تھا۔ تحقیقات میں 2019 اور 2020 کے درمیان تنخواہوں کے کھاتوں میں تضاد پایا گیا ہے۔ اشتہاری افسران اور ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شبہ ہے کہ انتظامی اور تنخواہوں کے محکموں کے افسران و ملازمین نے ملی بھگت سے یہ غبن کیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
درختوں کے تحفظ کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی دو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف ممبئی میونسپل کارپوریشن کی سخت کارروائی

ممبئی : ممبئی کے درختوں کی حفاظت اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے درختوں کے تحفظ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت موقف اپنایا ہےمتعلقہ تھانوں میں دو الگ الگ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف درختوں کو نقصان پہنچانے اور اجازت کے دائرہ سے باہر کی کٹائی کرنے پر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ کرار پولس اسٹیشن میں ‘شیتل تپوون ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ’ (دینڈوشی میٹرو اسٹیشن کے قریب واقع) کے عہدیداروں اور ڈویلپر کے خلاف ان کے کمپلیکس کے باہر درختوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک ناقابل سماعت جرم درج کیا گیا ہے۔ مزید برآں، گھاٹکوپر (مغربی) میں ‘کلپتارو اورا ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ’ کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جب یہ پایا گیا کہ میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ منظور شدہ حدود سے زیادہ درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ ممبئی میں درخت شہر کے ماحولیاتی توازن کے اہم اجزاء ہیں۔ کسی بھی فرد، تنظیم، یا ڈویلپر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں ہوگی جو درختوں کو نقصان پہنچاتا ہے یا درختوں کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ درختوں کے تحفظ اور تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ٹری اتھارٹی کے وضع کردہ ضوابط کی سختی سے پابندی لازمی ہے۔ ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فرد، تنظیم، یا ڈویلپر کے خلاف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جانے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی رہے گی۔
ڈی جی ایم شیتل تپوون ہاؤسنگ سوسائٹی ملاڈ (مشرق) میں دندوشی میٹرو اسٹیشن کے قریب واقع ہے۔ ‘پی-نارتھ’ وارڈ آفس کو ایک آن لائن شکایت موصول ہوئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے سامنے واقع دو درختوں کو زہر کا انجیکشن لگا کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ گارڈن کے افسران نے شکایت کنندہ کے ساتھ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران یہ دیکھا گیا کہ سوسائٹی کے داخلی دروازے کے سامنے سڑک کے کنارے واقع ایک پیلٹوفورم کے درخت کے بیس کے قریب 20 سے 22 سوراخ کیے گئے تھے، جن میں زہر کا انجکشن لگایا گیا تھا۔ مزید برآں، سوسائٹی کے دوسرے دروازے کے سامنے ایک درخت مکمل طور پر مرجھا ہوا پایا گیا۔ جیسا کہ یہ پہلی نظر میں ظاہر ہوا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے درختوں کو نقصان پہنچایا ہے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے متعلقہ فریقوں کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹرا (شہری علاقوں) درختوں کے تحفظ اور تحفظ کے ایکٹ، 1975 کے سیکشن 21 کے ساتھ پڑھا گیا سیکشن 8 کے تحت کرار پولس اسٹیشن میں ایک ناقابل شناخت جرم درج کیا گیا ہے۔
‘این’ وارڈ آفس کو گھاٹ کوپر (مغربی) میں کلپاتارو اورا ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کمپلیکس میں میونسپل کارپوریشن کی طرف سے دی گئی اجازت کی حد سے زیادہ 100 سے زیادہ درختوں کی کٹائی کی شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت کے بعد جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا۔ میونسپل کارپوریشن نے پہلے مخصوص شرائط اور حدود کے ساتھ درختوں کی کٹائی کی اجازت دی تھی۔ تاہم، سائٹ پر ہونے والے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ کٹائی مجاز حد سے زیادہ کی گئی تھی۔ میونسپل کارپوریشن سے پیشگی اجازت حاصل کرنا اور کسی بھی درخت کو کاٹنے، نقصان پہنچانے یا کٹائی سے پہلے منظور شدہ شرائط پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے۔ ان قواعد کی خلاف ورزی متعلقہ فرد، تنظیم یا ڈویلپر کے خلاف تعزیری اور مجرمانہ کارروائی کو راغب کرتی ہے۔ اس کے مطابق، ‘کلپتارو اورا ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ’ کے خلاف پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے نے کہا کہ درختوں کو نقصان پہنچانا، زہریلے مادے یا انجیکشن لگانا، اور درختوں کو کاٹنا یا تباہ کرنا قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی صورت میں متعلقہ محکمے کو فوری طور پر مطلع کرکے ماحولیاتی تحفظ میں تعاون کریں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
