Connect with us
Tuesday,25-August-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں منصوبہ بند طریقے سے ریلیف تقسیم کی رضا اکیڈمی کی منفرد کوشش

Published

on

(خیال اثر)
کرونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری نے جہاں رواں دواں زندگی کی رمق کو محدود کرکے دکھ دیا ہے وہیں کاروباری سرگرمیوں کے اچانک ٹھپ پڑنے سے نہ صرف محنت کش طبقہ بلکہ متوسط خاندانوں میں بھی تشویش کی صورت حال دکھائی دیتی ہے، ایسے حالات میں غیرت مند مستحقین کی تلاش اور ان کی خاموش خدمات رضا اکیڈمی کے ذریعہ جاری ہیں. رضا اکیڈمی سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے مالیگاؤں میں ہورہے ریلیف کے منظم کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاونین کے حق میں دعائیں دیں اور فرمایا کہ غریبوں کی مدد کے لیے اس وقت جو لوگ آگے بڑھ رہے ہیں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، طبّی میدان میں خدمات انجام دینے والی این جی او، ہوپس انڈیا ممبئی کے فاؤنڈر حاجی ریحان انور دھوراجی نے کہا کہ رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے ساتھ مل کر ڈھائی ہزار غریبوں خاندانوں کی مدد کرنے کا جو موقع ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دیا، ہم اس کے لیے اپنے رب کریم کا شکریہ ادا کرتے ہیں، برطانیہ سے اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹر نیشنل کے روح رواں مولانا ارشد مصباحی نے مالیگاؤں میں رضا اکیڈمی کے ذریعے ہورہے ریلیف ورک پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستحقین تک ریلیف تقسیم کرنے کے لیے شہر میں چالیس سینٹرز بنا کر جو منصوبہ بندی رضا اکیڈمی نے کی ہے وہ قابل تعریف ہے، اس طریقہء کار سے اصل مستحقین کی شناخت اور خاموش مدد آسان ہوتی نظر آتی ہے. اللہ تبارک و تعالیٰ اس کارخیر کو قبول فرمائے اور کرونا وائرس کے خطرات کو ہندوستان سمیت پوری دنیا سے دور فرمائے تاکہ جلد از جلد زندگی دوبارہ رواں دواں ہو… مولانا نیاز احمد رضوی مالیگ نے کہا کہ کرونا وائرس سے پوری دنیا متاثر ہے، خاص طور پر محنت کش طبقات کے لیے یہ سخت آزمائش کا وقت ہے، ایسے وقت میں شہری سطح پر ریلیف تقسیم کرنے کے لیے جو جدوجہد رضا اکیڈمی نے کی ہے وہ متاثر کن ہے، اس موقع پر مولانا عبدالحئی نسیم القادری نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو جس پریشانی کا سامنا ہے اسے ہر درد مند دل محسوس کررہا ہے، ایسے وقت مستحقین کی مدد کے لیے رضا اکیڈمی کا اقدام قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ اس خدمت کو اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے وطفیل قبول فرمائے اور تمام معاونین و رضاکاروں کو جزائے خیر عطا فرمائے،
واضح رہے کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے سے قبل شبِ معراج کی خصوصی نوری محفل دفتر رضا اکیڈمی پر منعقد ہوئی جس کے بعد کرونا وائرس سے پھیلے والی بیماری کو لے کر ملکی حالات پر اراکین اکیڈمی نے تبادلہء خیال کیا اور اس بات پر سبھی اراکین متفق ہوئے کہ مستقبل کے حالات اچھے نظر نہیں آتے اس لئے ہمیں ریلیف کے کاموں کی منصوبہ بندی کرلینی چاہیے، اس طرح کی معلومات دیتے ہوئے رضا اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے ابھی تک ہوئے ریلیف کے کاموں کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ ایک طرف کرونا وائرس کی وبا سے ساری دنیا میں دہشت پھیلی ہوئی ہے تو دوسری طرف لاک ڈاون کی وجہ سے مزدور پیشہ محنت کش طبقات کے ساتھ متوسط طبقات کے گھروں میں بھی فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی ہے، ایسے حالات میں بہت ضروری تھا کہ ان افراد کے گھروں میں چولہا جلانے کی کوشش جائے، اس وقت ہم نے پہلے مرحلے میں شہر کے مضافاتی بستیوں مساجد مدارس کے ذمہ داران اور سرکردہ افراد کے ذریعے بیوہ، یتیم اور محنت کش مستحقین کی لسٹ تیار کروائی اور اسی کے مطابق راشن کٹ کی تقسیم عمل میں آرہی ہے. صدیقی شہزاد اور محمد ابراہیم رضوی نے بتایا کہ رضا اکیڈمی اراکین کے مشورے کے بعد ایک بیگ میں ضرورت کی کُل 16 اشیاء شامل کی گئی ہیں، جن میں گیہوں، دالیں، چاول، مصالحے، شکر، سوجی، گھی، ڈرائے فروٹ وغیرہ اشیاء پر مشتمل تقریباً پندرہ کلو اشیاء شامل ہیں. حاجی افضل غازیانی اور رضوی سلیم شہزاد نے رضا اکیڈمی کے ذریعہ ریلیف ورک پر کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ریلیف کی اس ایک کِٹ کے ذریعہ کم و بیش پندرہ دنوں کا راشن میسر ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں بھی ہماری کوشش یہ ہو گی کہ بہت سارے ایسے افراد جو بہت پریشان تو ہیں لیکن کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے ایسے غیرت مند خاندانوں تک ان شاء اللہ ہم خاموشی کے ساتھ پہنچ کر ان کی خدمت کریں گے۔
واضح رہے کہ مالیگاؤں میں رضا اکیڈمی کے ذریعہ ریلیف تقسیم کے کاموں کی ابتدا مولانا عبدالحئی نسیم القادری صاحب کی دعا پر ہوئی، اس موقع پر اپنی وزٹ کے دوران مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر عتیق کمال اور احباب نے رضا اکیڈمی دفتر پر وزٹ کی اور اکیڈمی کے منظم کاموں کی سراہنا کرتے ہوئے اس بات کا خصوصی ذکر کیا کہ شہر میں بہت سارے افراد اور تنظیمیں ضرورت مندوں کی امداد و اعانت کے کام کررہی ہیں لیکن رضا اکیڈمی کے ذریعہ جو منصوبہ بندی بتائی گئی وہ قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی. سابق نائب میئر جمیل سیٹھ زر والا نے بھی رضا اکیڈمی دفتر پہنچ کر اراکین کے ذریعہ ریلیف کاموں کا جائزہ لیا اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مفید مشوروں سے نوازا.
آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے سرپرست قاری زین العابدین نے رضا اکیڈمی کے ریلیف کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی بہنوں، یتیموں اور بیواؤں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کریں اور اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی حاصل کریں. ڈاکٹر منظور حسن ایوبی چیئرمن سٹی زن کیمپس اور الحاج نہال احمد ہارون انصاری چیئرمن جے اے ٹی کیمپس نے رضا اکیڈمی کے ذریعہ شہر کے چالیس سینٹرس سے ریلیف کِٹ کی منصوبہ بند تقسیم کو اب تک کا تنظیمی و شہری سطح کا نمایاں کام قرار دیااور اپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم و ملت کے لیے کام کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے ، ماہر امراض اطفال ڈاکٹر حامد اقبال نے ریلیف کِٹ پیکنگ کے دوران دفتر رضا اکیڈمی پر وزٹ کی تو یہاں موجود نوجوانوں کی مخلصانہ خدمات پر ڈھیروں دعائیں دیں اور کہا کہ اللہ کے بندوں کی خدمت اور دو وقت کی روٹی کا انتظام بہت بڑی نیکی ہے جس کے لئے یہاں محنت کی جارہی ہے، اللہ رب العزت کی رحمت سے امید ہے کہ یہ نیکیاں آخرت کے لئے بڑا ذخیرہ ثابت ہوں گی. اور جو افراد اس میں معاونت کررہے ہیں وہ بڑے اجر کے مستحق ہیں. تفصیلات کے مطابق رضا اکیڈمی کے ذریعہ اب تک شہر کے ایک ہزار سے زائد خاندانوں تک ریلیف کٹ کی تقسیم عمل میں آچکی ہے. جبکہ صدر رضا اکیڈمی ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور سکریٹری غلام فرید کے مطابق دوسرے مرحلے میں مزید دیڑھ ہزار خاندانوں کی خدمات کا ارادہ و منصوبہ بندی رضا اکیڈمی کے ذریعہ جاری ہے. تعلیمی فیلڈ میں اپنی خدمات انجام دینے والے غفران انصاری سر اور سی اے اے کے روح رواں پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے بھی دفتر رضا اکیڈمی پر پہنچ کر اراکین کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ غریبوں کی امداد و اعانت کی اس تحریک سے یقینی طور پر سماج کے مستحقین کو فائدہ پہنچے گا ، حاجی عبداللہ انجنئیر، پروفیسر خورشید احمد عبدالصمد، صغیر سر، ڈاکٹر رضوان انصاری کے ایف، ڈاکٹر لئیق انصاری ، حنیف میمن موٹلانی ، ڈاکٹر فیروز ( سفینہ میڈیکل) ، خلیل عباس ( شامنامہ) حاجی زین العابدین ٹیکسٹائل والے، حاجی اسماعیل ابراہیم سردار، انیس احمد ( دانش آرٹ ) نے بھی رضا اکیڈمی کے دفتر پر پہنچ کر ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا.

ممبئی پریس خصوصی خبر

پرجا فاؤنڈیشن کی رپورٹ : 15ویں اسمبلی میں ممبئی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں 72 فیصد کمی

Published

on

ممبئی، 25 اگست 2026 : پرجا فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ‘ممبئی ایم ایل اے رپورٹ کارڈ 2026’ کے مطابق، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں ممبئی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کی تعداد میں 12ویں اسمبلی کے مقابلے میں 72 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ونٹر سیشن 2024 سے مونسون سیشن 2025 کے دوران ممبئی کے 33 اراکین اسمبلی کی کارکردگی، ایوان میں حاضری، پوچھے گئے سوالات کے معیار اور آئینی ذمہ داریوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 33 اراکین میں سے صرف تین نے 80 فیصد سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے، اور ان تینوں سرفہرست مقامات پر انڈین نیشنل کانگریس کے نمائندے براجمان ہیں۔

بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اراکین اسمبلی :
پہلا مقام : امین پٹیل (کانگریس) — اسکور : 82.89

دوسرا مقام : اسلم شیخ (کانگریس) — اسکور : 80.58

تیسرا مقام : جیوتی گائیکواڑ (کانگریس) — اسکور : 80.30

رپورٹ کے اہم نکات :
سوالات میں بھاری کمی : 15ویں اسمبلی (ونٹر 2024 تا مونسون 2025) کے دوران اراکین اسمبلی نے صرف 2,213 سوالات پوچھے، جبکہ 12ویں اسمبلی (2009-2010) میں 7,955 سوالات پوچھے گئے تھے۔

سوالات کے معیار میں گراوٹ : پوچھے گئے سوالات کے معیار کا اوسط اسکور 12ویں اسمبلی کے 50 فیصد سے گھٹ کر 15ویں اسمبلی میں 33 فیصد رہ گیا ہے۔

کام کے دنوں میں کمی : 15ویں اسمبلی کے پہلے سال میں ایوان کا اجلاس صرف 40 کاری دنوں (working days) کے لیے ہوا، جبکہ 12ویں اور 13ویں اسمبلی میں بالترتیب 47 اور 50 دن اجلاس ہوا تھا۔

مجموعی اوسط اسکور : اراکین اسمبلی کا مجموعی اوسط کارکردگی اسکور 12ویں اسمبلی میں 61 تھا، جو 14ویں اسمبلی میں گھٹ کر 54 ہو گیا اور 15ویں اسمبلی میں معمولی بہتری کے ساتھ 55 درج ہوا۔

اراکین کی اوسط عمر : ممبئی کے اراکین اسمبلی کی اوسط عمر وقت کے ساتھ بڑھی ہے : 12ویں اسمبلی میں 52 سال، 13ویں میں 51 سال، 14ویں میں 53 سال اور 15ویں اسمبلی میں یہ بڑھ کر 57 سال ہو گئی ہے۔

جمہوری جوابدہی پر تشویش :
پرجا فاؤنڈیشن کے سی ای او ملند مہاسکے نے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے شہریوں کے مسائل کو ایوان تک پہنچانے میں کتنے موثر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں اراکین کی مجموعی کارکردگی کے اوسط اسکور میں کوئی مثبت رجحان نہیں دیکھا گیا ہے۔ پرجا فاؤنڈیشن کے مینیجر آصف خان نے خبردار کیا کہ اگر ایوان کی نشستیں کم ہوں گی، سوالات کم پوچھے جائیں گے اور ان کا معیار ناقص ہوگا، تو بالآخر شہری حکومت سے حساب مانگنے کا ایک اہم ذریعہ کھو دیں گے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مدھیہ پردیش: ودیشا میں خاتون اور دو بیٹیوں کی موت، پولیس کو زہر دینے کا شبہ

Published

on

Death

ایک خاتون اور اس کی دو نابالغ بیٹیاں مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع کے ایک میڈیکل کالج میں بیمار پڑنے کے بعد دم توڑ گئیں، پولیس کو شبہ ہے کہ انہوں نے کوئی زہریلی چیز کھا لی ہے، ایک اہلکار نے منگل کو بتایا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی رات ریتھا پھاٹک روڈ پر پیش آیا۔ مرنے والوں کی شناخت رتیش ڈانگی کی بیوی ورشا ڈانگی اور کچی محلہ کے رہائشی اور اس کی بیٹیاں سیجل اور سانوی کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق سیجل پہلی بار بیمار ہوئی تھی۔ اہل خانہ نے اسے پیر اور منگل کی درمیانی شب میڈیکل کالج پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ بعد میں رتیش اپنی بیوی ورشا اور چھوٹی بیٹی سانوی کو اسپتال لے کر آئے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں اس رات بعد میں علاج کے دوران فوت ہوگئے۔

رتیش کے چھوٹے بھائی نیلیش نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ پیر کی شام گھر پہنچا تو اس نے ورشا کو قے کرتے ہوئے پایا جبکہ سانوی بے ہوش پڑی تھی۔ وہ فوراً سانوی کو میڈیکل کالج لے گیا۔رتیش نے گھر والوں کو بتایا کہ اس نے شام 6 بجے کے قریب ورشا سے فون پر بات کی۔ پیر کو، اور اس نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ تاہم، جب وہ بعد میں گھر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی حالت بگڑ چکی ہے، پولیس کے مطابق۔” ابتدائی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تینوں نے کوئی زہریلی چیز پی لی ہو گی۔ تاہم، موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے معائنے اور مزید تفتیش کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی،” کوتوالی پولیس اسٹیشن کے اے ایس آئی محمد شاہد نےبتایا۔

شاہد نے کہا کہ پولیس نے اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کر دیے ہیں اور جائے وقوعہ پر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تفتیش کار اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کونسی چیز استعمال کی گئی ہو گی اور اسے کن حالات میں لیا گیا تھا۔
شاہد نے مزید کہا، “تفتیش ابتدائی مرحلے پر ہے۔ ہم جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیں اور اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” اہل خانہ نے بتایا کہ رتیش اور ورشا کی شادی کو تقریباً 13 سال ہو چکے ہیں۔ رتیش کپڑے کی دکان چلاتا ہے، اور اس جوڑے کی دو بیٹیاں تھیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

لاپتہ 15 سالہ لڑکے کی لاش چار دن کی تلاش کے بعد جسولا نالے سے برآمد

Published

on

جنوب مشرقی دہلی کے جسولا گاؤں میں ایک کھلے نالے میں گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے 15 سالہ متھون، کلاس 8 کے طالب علم کی لاش منگل کو برآمد کی گئی، جس سے چار دن تک جاری رہنے والی تلاشی مہم کا ایک افسوسناک خاتمہ ہوا۔ متھون مبینہ طور پر ہفتے کی صبح اپنے گھر کے قریب ایک پتنگ نکالنے کی کوشش میں نالے میں گر گیا۔ نوجوان رات 11 بجے کے قریب لاپتہ ہو گیا تھا، جس کے بعد اس کے اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ وہ نالے میں بہہ گیا ہے۔ اس کا خاندان، اصل میں اتر پردیش سے ہے، اس علاقے میں رہتا ہے اور یہاں یومیہ مزدوری کرتا ہے۔

واقعے کے فوراً بعد متعدد ایجنسیوں پر مشتمل ایک وسیع سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ دہلی فائر سروس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، دیگر ریسکیو ٹیموں اور غوطہ خوروں نے لڑکے کا سراغ لگانے کی کوشش میں نالے اور متصل علاقوں کی تلاش کی۔ مسلسل کوششوں کے باوجود، کئی دنوں تک متھن کا پتہ نہیں چل سکا۔ بالآخر اس کی لاش منگل کو برآمد ہوئی اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

اس واقعے نے بھی غم و غصے کو جنم دیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں مبینہ طور پر متھن کے والد کو اپنے بیٹے کو نالے کے اندر تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں پریشان باپ کو ہاتھ میں چھڑی لیے نالے میں داخل ہوتے اور تلاشی مہم کے دوران نوجوان کو ڈھونڈتے ہوئے دیکھا گیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس سے قبل اس واقعے پر گہرے دکھ اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر نالے کے دائرہ اختیار اور ذمہ داری کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں اور کسی بھی کوتاہی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس واقعے کے بعد، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے ساؤتھ ایسٹ (سنٹرل) زون کے ایک جونیئر انجینئر کو ڈیوٹی میں لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا۔ شہری ادارے نے کہا کہ اہلکار کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ کارروائی کھلے اور غیر محفوظ نالے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر سوالات کے درمیان ہوئی جہاں مبینہ طور پر نوجوان گرا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان