Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

شہر کی رونق ماند, کاروبار منجمد, شب برات کے موقع پر متوسط طبقہ بھکمری کا شکار

Published

on

(خیال اثر)
شب و روز لوہے سے نبرد آزما مالیگاوں ان دنوں تھم سا گیا ہے. کرونا وائرس نے اس شہر حسیں کی ساری رونقیں چھین لی ہیں. لاک ڈاون نے گلیوں کو سونا اور سڑکوں کو سنسان کرکے رکھ دیا ہے. مرد و خواتین کے چہروں پر اداسیوں کا پہرہ ہے تو بچوں کی آنکھوں میں سوالات کا ہجوم ہے کہ اب کیا ہوگا. کہنا یہ چاہئے کہ اس درجہ تفرک نے جمع رکھا ہے ڈیرہ گھر میں بچے بھی اب پہلے سی شرارت نہیں کرتے
شب و روز لوہے سے لڑنے والا یہ شہر حسیں 2001 کے خونی و المناک فساد کے بعد 2006 اور 2008 میں ہونے والے بم دھماکوں کے غمناک حصار سے نکلنے بھی نہیں پایا تھا کہ آج لاک ڈاون کی مصیبت سے نبرد آزما ہے. ارباب سیاست و حکومت کی عدم توجہی اس شہر کی ساری رونق کو گہن آلود کرنے کے در پے ہے. کہنا چاہئے کہ ساز دل خاموش ہوا ہے. ہر حساس دل یہ کہنے پر مجبور ہے کہ دل تو اپنا اداس ہے ناصر شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے-
شہر کا سارا کاروبار منجمد ہو کر رہ گیا ہے تو مزدور طبقہ بھکمری کے دہانوں پر پہنچ چکا ہے. شہر کے بے شمار مخیر حضرات اور ادارے حسب استطاعت سلم و مضافاتی علاقوں میں ریلیف کی تقسیم کاری کررہے ہیں لیکن چونکہ ان کے پاس کوئی منظم پروگرام یا ترتیب نہیں ہے اس لئے وہ طبقہ جو اپنے انا و خوداری کو کھونا نہیں چاہتا حد درجہ پریشان ہے. یہ وہ طبقہ ہے کہ جو سڑکوں, چوک چوراہوں پر آ کر ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتا ان کے درد کا درماں کسی صاحب ثروت کے پاس نہیں. شہر کے مخیر حضرات اور متعبر علمائے کرام کو چاہئے کہ وہ مل بیٹھ کر ایسا کوئی پروگرام ترتیب دیں کہ شہر میں ایک معاشرے کی تشکیل ہو جائے. ان ساری باتوں سے پرے پولیس محکمہ بھی لاک ڈاون کو لے کر سنجیدگی کی بجائے بے رحمی کا مظاہرہ کررہا ہے. اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے سڑکوں, گلیوں, چوک چوراہوں پر نکلنے والے افراد کی بے دردی سے پٹائی کسی دن کسی بڑے ہنگامے کا سبب بن سکتی ہے اس لئے محکمہ پولیس کو چاہئے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ سجھوتا کر لے. گزشتہ دنوں ضلع ایس پی شریمتی ڈاکٹر آرتی سنگھ نے 2006 بڑا قبرستان و مشاورت چوک بم دھماکوں کی برسی کے تناظر میں مالیگاوں کا دورہ کیا اور شہریان سے گزارش کی کہ شب برات کا موقعہ اور بم دھماکوں کی برسی کے پیش نظر قبرستان یا چوک چوراہوں پر جمع نہ ہوں جس سے لاء اینڈ آرڈر میں کوئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے.
اب دیکھنا یہ ہے کہ بم بلاسٹ کا سانحہ جھیلنے والا مالیگاوں لاک ڈاون کے عمل سے گزرتے ہوئے کس طرح اپنے آپ کو سنبھالے رکھتا ہے کیونکہ 2006 اور 2008 بم دھماکوں کے بعد یہ پہلی برسی ہوگی جس میں بم دھماکوں کے شہیدان کی قبروں پر ان کے اہل خانہ نہیں پہنچ سکیں گے. اس تناظر میں کل جماعتی تنظیم اور ساتھی نہال احمد کے ذریعے بنائی گئی ندھرمی سنگھٹنا کا رول رہتا ہے یا یہ شہریان کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں اس کی وضاحت نہیں ہو پائی ہے حالانکہ قبرستان کے ٹرسٹٹان نے اپنے بیان سے واضح کردیا ہے کہ شب برات کے موقع پر اہالیان شہر اپنے اہل خانہ کی قبروں کی زیارت یا دعا اور نماز کے لئے قبرستان کی جانب رخ نہ کریں. ٹرسٹٹان کے پیش نظر یہ اعلان اور فیصلہ بروقت اور صحیح بھی ہے کیونکہ شب برات کے موقع پر قبرستان میں لاکھوں کا مجمع ہو جاتا ہے. راستے چوک چوراہے محدود ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے لاک ڈاون کا مسئلہ ہی فوت ہو جاتا ہے. کرونا وائرس جیسی خطرناک اور جان لیوا بیماری کو شکست دینے کے لئے شہریان کا بھی اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ لاک ڈاون کے پیش نظر خود کو بھی بچائیں اور اپنے اہل خانہ کے علاوہ پورے شہر کو اس خطرناک وباء سے بچانے کی سعی میں سختی سے کاربند رہیں کیونکہ اس موقع پر ذرا سی غلطی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان