(جنرل (عام
نظام الدین مرکز کے اجتماع میں شرکت کرنے والے تلنگانہ کے کئی افراد الگ تھلگ مراکز اور اسپتال منتقل کردیئے گئے
دہلی کے نظام الدین مرکز میں اجتماع میں شرکت کرنے والے 6افراد کی تلنگانہ میں موت کے بعد ریاستی حکومت نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو فوری طورپرالگ تھلگ مرکز منتقل کیاجائے۔اس ہدایت کے بعد کل سے یہ عمل ریاست کے مختلف اضلاع میں شروع کردیاگیا۔اضلاع میں بیشتر افراد کی نشاندہی کی گئی اور ان کو الگ تھلگ مرکز منتقل کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ان افراد کو مختلف سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ اس وبا کے مشتبہ مریضوں کیلئے بطورخاص بنائے گئے الگ تھلگ مراکز منتقلی کا عمل جاری ہے۔اضلاع کے حکام کی جانب سے ایسے افراد کی شناخت کا کام بڑے پیمانہ پر کیاجارہا ہے۔محبوب نگر ضلع میں دہلی کے اجتماع میں شرکت کرنے والے17 افراد کی شناخت ہوئی ہے ان تمام کو اسپتال کے الگ تھلگ وارڈس منتقل کیا گیا۔ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر وی سرینواس گوڑ اور ضلع کلکٹر وینکٹ راؤ نے محبوب نگر اسپتال میں انتظامات کا جائزہ لیا اور انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج میں قائم سنٹر منتقل کردیا۔ متحدہ ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے تقریبا 52افراد کے نئی دہلی کے نظام الدین علاقہ میں واقع تبلیغی مرکز میں ہوئے اجتماع میں شرکت کی اطلاع ملی جس کے بعد ضلعی عہدیداروں نے 13افراد کی نشاندہی کی جن میں سے پانچ کو گاندھی اسپتال کے الگ تھلگ مرکز منتقل کیاگیا جبکہ دیگر 8کو سوریہ پیٹ ضلع میں بنائے گئے الگ تھلگ مرکز منتقل کیاگیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ 13افراد میں کورونا وائرس کی کوئی علامات نہیں پائی گئیں تاہم ان کو مشورہ دیاگیا ہے کہ وہ گھروں میں ہی الگ تھلگ رہیں۔اسی دوران گذشتہ روز تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے دفتر کی جانب سے کئے گئے ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ضلع کلکٹرس کے تحت خصوصی ٹیمیں ان افراد کی نشاندہی کر رہی ہیں جن کو ایک دوسرے سے رابطہ پر کورونا وائرس ہونے کا خطرہ ہے اور ان افراد کو اسپتال منتقل کیاجارہا ہے۔تلنگانہ کے محکمہ صحت سے خواہش کی گئی ہے کہ اس اجتماع میں شرکت کرنے والوں سے خواہش کرے کہ ایسے افراد رضاکارانہ طورپر اسپتالوں سے رجوع ہوں۔ساتھ ہی ایک اور ٹوئیٹ میں محکمہ صحت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ دہلی کے اس مرکز میں منعقدہ اجتماع میں شرکت کے بعد واپس افراد کا اتہ پتہ معلوم کرتے ہوئے حکومت کو مطلع کرے۔ان افراد کے معائنے مفت کئے جائیں گے۔اسی دوران راجنا سرسلہ ضلع کے ویمل واڑہ سے تعلق رکھنے والے 4نوجوان جنہوں نے مرکز میں اجتماع میں شرکت کی تھی کو سرسلہ کے اسپتال منتقل کردیاگیا۔ان نوجوانوں کا تعلق ٹاون کے سبھاش نگر سے ہے جو 14مارچ کو حیدرآباد سے دہلی بذریعہ طیارہ گئے تھے تاکہ اس اجتماع میں شرکت کرسکیں۔وہ 15مارچ کو قومی دارالحکومت سے بذریعہ ترین روانہ ہوئے اور راماگنڈم پہنچے جہاں سے انہوں نے 17اپریل کو ویمل واڑہ پہنچے۔ان نوجوانوں کے بارے میں اطلاع ملنے پر عہدیداروں نے ان کوگھروں پر الگ تھلگ کردیاتھا۔چونکہ مرکز میں ہوئے اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،اسی لئے عہدیداروں نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے ان کو مزید معائنوں کے لئے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔دریں اثناجگتیال ضلع سے تعلق افراد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے دہلی کے اجتماع میں شرکت کی تھی۔ایسے 32افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ن تمام کو پولاس اگریکلچر کا لج کے الگ تھلگ مرکز میں 14 دن کے لئے منتقل کیا گیا۔ضلع ہیلت آفیسر سریدھر نے یہ بات بتائی۔ضلع کھمم سے تعلق رکھنے والے دس افراد اور بھدرادری کوتہ گوڑم سے تعلق رکھنے والے دس افراد کو بھی الگ تھلگ رکھا گیا جنہوں نے اس اجتماع میں شرکت کی تھی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : میگھواڑی، لال باغ، پریل علاقوں میں اسکولوں اور تفریحی میدانوں کے لیے مختص پلاٹوں پر تعمیرات کی بے دخلی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی کارروائی

ممبئی : میونسپل کارپوریشن کے ایف (جنوبی) ڈویژن کی طرف سے کی گئی ایک جرات مندانہ کارروائی میں، میگھواڑی، لال باغ، پریل علاقوں میں اسکولوں اور تفریحی میدانوں کے لیے مختص پلاٹوں پر 4 تعمیرات کو آج (9 جون 2026) کو بے دخل کر دیا گیا۔ مذکورہ پلاٹوں کو خالی کرانے کے لیے گزشتہ 12 سال سے کوششیں جاری تھیں۔ اس کے ساتھ ہی میگھواڑی، لال باغ، پریل اور کالا چوکی علاقوں کے 50 ہزار سے زائد شہریوں کے لیے تفریحی میدان کھل جائیں گے۔
ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی، ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے کی رہنمائی میں، یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر (ایف ساؤتھ زون) وروشالی انگولے کی قیادت میں کی گئی۔ ڈیولپمنٹ پلاننگ پلان -2034 کے مطابق، میگھواڑی، لال باغ، پریل اور کالاچوکی علاقوں میں خالی اراضی نمبر 1/118، 1بی/118، 2/118، 3/118، 4/118 اور 7/118 کو تفریحی میدان اور میونسپل اسکول کے طور پر عوامی مقاصد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس پلاٹ کا کل رقبہ 7 ہزار 872.14 مربع میٹر ہے۔ جن میں سے 13 خالی پلاٹ ہولڈرز تقریباً 274 مربع میٹر کے رقبے پر رہائش پذیر تھے۔ مذکورہ کرایہ داروں کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن ہولڈرز کو میونسپل کارپوریشن کی مروجہ پالیسی کے مطابق مقامی ریڈی ریکنر ریٹ کے مطابق متبادل فلیٹ یا مالی معاوضے کا انتخاب کرنے کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ اس کے مطابق، انہیں متعلقہ تعمیرات کو خالی کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ان 13 تعمیرات میں سے 07 تعمیرات کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔ تاہم باقی ماندہ 06 تعمیرات کی بے دخلی کی کارروائی جلد کی جائے گی۔ مذکورہ پلاٹ کو خالی کرانے کے لیے گزشتہ 12 سال سے کوششیں جاری تھیں۔ اس کے ساتھ ہی تفریحی میدان میگھواڑی، لال باغ، پریل اور کالا چوکی علاقوں کے 50 ہزار سے زیادہ شہریوں کے لیے کھلا رہے گا۔
تجاوزات کے خاتمے کے لیے 02 جے سی بیز، 01 ڈمپر، 01 ایمبولینس اور دیگر آلات کی مدد سے یہ بے دخلی کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران میونسپل کارپوریشن کے 45 افسران و ملازمین کے ساتھ مناسب پولیس فورس تعینات کی گئی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پونہ میونسپل کارپوریشن کی ۹ مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائی، حالات کشیدہ لیکن امن برقرار، پولس سیکورٹی سخت ۴ افراد زیر حراست

ممبئی مہاراشٹر میں غیر قانونی مذہبی مقامات منادر اور مساجد کے خلاف انتظامیہ نے کاروائی تیز کردی ہے۔ پونہ کے چکھلی پمپڑی چنچوڑ میں ۹ مذہبی مقامات منادر اور مساجد پر انہدامی کارروائی کے دوران یہاں واقعہ چشتیہ مسجد پر انہدامی کارروائی کے دوران پر پولس پر پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے, پولس نے حالات کو قابو میں کرتے ہوئے ۴ افراد کو زیر حراست لیا۔ اب حالات پرامن ضرور ہے, لیکن کشیدگی برقرار ہے پولس نے یہاں اضافی بندوبست بھی تعینات کردیا ہے۔ پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن نے ۹ مئی کو رات 02:30 سے 5.30 بجے تک چکھلی پولیس اسٹیشن کے تحت کدل واڑی، چکھلی میں غیر مجاز تعمیرات کو بے دخل کرنے کی کارروائی کی۔ مذکورہ غیر مجاز بے دخلی کی کارروائی میں پانچ مساجد اور پانچ مندروں، مذہبی مقامات پر کارروائی کی گئی ہے۔
غیر مجاز تعمیرات کے 10 مذہبی مقامات مندر اور مسجدوں میں مسجد نعیم گروپ نمبر 692، وسوا چوک چکھلی آر سی سی پترشیڈ 12 میٹر x 30 میٹر، مسجد ابوہریرہپلاٹ نمبر 879، نیرہ پٹرول پمپ کے قریب، کدلواڑی، چکھلی آر سی سی(جی) + پہلی منزل کا کاغذی شیڈ 8m × 20m، چشتیہ مسجدگروپ نمبر۔ 878/879، نائرہ پیٹرول پمپ کے بالمقابل، کدلواڑی، چکھلی آر سی سی + لیٹر شیڈ (جی+1) 22m x 12m آر سی سی 32m x 18m لیٹر شیڈ، حضرت شبیر بخاری بابا درگاہ- لاٹ نمبر 896، نزد موہنیشور مہادیو مندر روڈ، کدلواڑی، چکھلی پونے پترشیڈ 2m X 2m،رائل کالونی مسجد گروپ نمبر۔ 903، 904، کستوری فلورا کے بالمقابل، کدلواڑی، چکھلی پونے پتراشیڈ 6 میٹر x 12 میٹر اورشری کاشی کا گروجی مندر موئی پل کے قریب، چکھلی گاؤں آر سی سی(جی) 2.5m X 2.5mشری وٹھل رکمنی مندر – چکھلی اکورڈی روڈ، چکھلی آر سی سی(جی) 2.5m x 2.5m، شری تلجا بھوانی مندر – Sec.No. 16، فائر اسٹیشن کے قریب، چکھلی آر سی سی(جی)، پترا شیڈ 18mx18m سے اوپر،شری ویروبا مندرگروپ نمبر 824، سدھی ونائک اسپتال کے قریب، یادو نگر، چکھلی آر سی سی(جی) 2mx2m
شری ہنومان مندر – گروپ نمبر 908، پدروستی، چکھلی اینٹوں کی تعمیر (جی) 3m x 3m شامل ہے۔ ایک مقام کو چھوڑ کر باقی نو مقامات پر انہدامی کارروائی کو پرامن طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے, جبکہ اس انہدامی کارروائی کے دوران چشتیہ مسجد پر کارروائی کے دوران تشدد پھوٹ پڑا اور پولیس پر پتھراؤ کی واردات انجام دی گئی۔ چشتیہ مسجد گروپ نمبر 878,879 نائرہ پیٹرول پمپ بالمقابل کدلواڑی، چکھلی پترا شیڈ نکالنے کے دوران، کچھ افراد نے اندھیرے کا فائدہ اٹھایا اور آپریشن کرنے والے افراد پر پتھراؤ کیا۔
مذکورہ پتھراؤ اندھیرے میں اچانک ہوا اور جس میں تین سے چار پولیس والوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ چار سے پانچ پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر پتھراؤ کرنے والوں میں تھانہ چکھلی نے چار افراد کو حراست میں لے لیا۔ جوائنٹ کمشنر آف پولیس پمپری چنچواڑ نے جائے وقوعہ پر حالات پر قابو پالیا اور جائے وقوعہ پر پولیس کارروائی کی اور چار لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ بے دخلی کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ یہ کارروائی ساڑھے پانچ بجے تک مکمل کرلی گئی ہے۔ چشتیہ مسجد کدلواڑی کے علاقے میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فساد مخالف دستہ کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ پولس نے اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر نگرانی بھی شروع کردی ہے اور شرپسندوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے, پتھراؤ کی واردات میں مزید کتنے افراد شریک تھے, اس کی جانچ بھی جاری ہے۔ پولس نے اس معاملہ میں مزید نامعلوم ملزمین کی گرفتاری سے بھی انکار نہیں کیا ہے محلہ کمیٹی اور امن کمیٹی کی میٹنگ بھی شروع ہے علاقہ میں امن وامان برقرار ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر حکومت کی کابینہ میں دیویندر فڈنویس کا اہم فیصلہ, محروم سابقہ کسانوں کی قرض معافی کو منظوری

ممبئی : ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ آج (9 جون) کو وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقد ہوئی, جس میں بقیہ کسانوں کی قرض معافی کو منظوری دیدی گئی ہے۔ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ کا فیصلہ دیویندر فڑنویس ایکناتھ شندے سنیترا پوار نے کابینہ کی میٹنگ میں بڑا فیصلہ لیا۔ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ کا فیصلہ, ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ آج (9 جون) کو وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کابینہ کے اس اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ (مہاراشٹر حکومت) کابینہ اجلاس میں کسانوں کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ وہ کسان جو پچھلی قرض معافی اسکیم سے محروم تھے, اب انہیں بھی قرض معافی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے لیے تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں, بہت سے کسان 2017 اور 2019 کی قرض معافی میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ ان کسانوں کو قرض معافی کا فائدہ دلانے کے لیے بار بار مطالبہ کیا جا رہا تھا لہذا، آج ریاستی حکومت نے کابینہ کی میٹنگ میں 5 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے لیے ایک اہم فیصلہ لیا ہے, جو 2017 اور 2019 کے قرض معافی سے محروم تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
