Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

جرم

کورونا وائرس : نظام الدین مرکز سے منسلک نو افراد ہلاک، 24 متاثر

Published

on

virus

جنوب مشرقی دہلی کے نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں رہنے والے نو افراد کے کورونا وائرس (کووڈ -19) سے متاثر ہونے سے ملک کے مختلف حصوں میں موت ہو ئی ہے جبکہ 24 لوگ متاثر پائے گئے۔ یہاں سے نکالے گئے 334 لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ سات سو لوگوں کی قرنطینہ کیا گیا ہے۔ تبلیغی مرکز سے منسلک چھ افراد تلنگانہ، ایک تمل ناڈو، ایک جموں و کشمیر اور ایک کی دہلی میں موت ہوئی ہے۔
دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہا کہ تبلیغی جماعت نے لاک ڈاو¿ن کے دوران قوانین کو توڑ کر جرم کیا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مرکز کے سربراہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کے 24 افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے جبکہ اس بیماری کی علامات والے 334 لوگوں کو الگ الگ اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔تقریبا 1500 سے 1700 لوگ مرکز میں آئے تھے جبکہ 1033 لوگوں کو یہاں سے نکالا گیا ہے۔
دہلی پولیس کے ترجمان مندیپ سنگھ رندھاوا نے کہا کہ پولیس مرکز سے جڑے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقات کے بعد کارروائی کی جائے گی۔
مرکز کمیٹی سے منسلک مولانا یوسف نے کہا کہ 25 مارچ کو انتظامیہ کو خط لکھ کر بتایا گیا تھا کہ یہاں سے 1500 لوگوں کو بھیجا جا چکا ہے لیکن لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے تقریبا 1000 لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے گاڑی پاس جاری کئے جائیں ۔ گاڑی پاس کے لئے گاڑیوں کی فہرست بھی لگائی گئی تھی مگر انتظامیہ نے گاڑی پاس جاری نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط الزام لگایا جا رہا ہے کہ مرکز کمیٹی نے حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کیا ۔
قابل ذکر ہے کہ نظام الدین کا تبلیغی جماعت کامرکز عالمی شہرت یافتہ مرکز ہے اس لئے پورے سال ملک سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ یہاں آتے رہتے ہیں۔ ان کا اہم کام لوگوں کو اسلام کی تعلیم کی صحیح معلومات اور اس کے حساب سے زندگی گزارنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا بتایا جاتا ہے۔ تبلیغی جمات میں شامل ہونے والے لوگ پہلے نظام الدین مرکز آتے ہیں اور یہاں مختلف گروپ میں ملک کے مختلف حصوں یا بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں، اس میں شامل ہونے والے لوگ تین دن یا 40 دن اسلام کے کاموں میں لگاتے ہیں۔ یہاں سے تبلیغ پر جانے والے لوگ جس علاقے میں جاتے ہیں وہاں کی مساجد میں ٹھہر کر محلہ کے لوگوں کو نماز میں شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس دوران یہ لوگ اپنے کھانے پینے کی اشیا ساتھ لے کر چلتے ہیں اور مسجد میں ہی کھانا بنا تے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان