(جنرل (عام
مالیگاوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی کوشش
(نامہ نگار)
22 مارچ 2020ء کو کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ہندوستانی وزیر اعظم کے ذریعے جنتا کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا جو ملک بھر کی طرح ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاوں میں بھی کامیاب رہا- باوجود اس کہ چند اوباش، شریر اور نفرت پھیلانے والے عناصر اس بات کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ مشرقی مالیگاوں یعنی مسلم اکثریتی علاقہ بند نہیں تھا اور لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر نہ صرف وزیراعظم کے بیان پر عمل نہیں کیا بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں- شہر کے سینئر صحافی عطا الرحمان نوری کی رپورٹ کے مطابق نیوز 18 کے غیر دیانت دار اور زر خرید صحافی نے بھی ملک بھر میں مالیگاوں کی شبیہ خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، اس پر افتاد یہ کہ کپٹی دل و دماغ رکھنے والے شرپسند عناصر اس ویڈیو کو زور و شور سے شیئر کر کے مزید بدنامی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں-
اسی طرح مغربی مالیگاوں یعنی کیمپ سائڈ کے چند گھمنڈی ڈاکٹروں نے بھی مسلم مریضوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے- ان کا ماننا ہے کہ مسلم افراد احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں بھی کرونا کا خطرہ ہے اس لیے وہ مسلم علاقوں کے مریضوں کو اپنی حدود میں ہی نہ آنے دیں-
واضح ہو کہ IMA نے پہلے ہی اس ایمرجنسی کنڈیشن میں اپنی OPD بند رکھنے کا فیصلہ لے لیا ہے اور اب IMA کے ایک ذمہ دار بلکہ غیرذمہ دار ممبر ڈاکٹر تشار ہیرے نے اپنے آفیشیل فیس بک اکاونٹ پر مسلم مریضوں کا علاج نہ کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ پریسیڈنٹ ڈاکٹر میور شاہ اور وائس پریسیڈنٹ ڈاکٹر پرشانت واگھ کو IMA کی جانب سے فیصلہ لینے پر آمادہ کرنے کی بیباک جسارت بھی کی ہے- اس ضمن میں IMA کا کیا موقف ہے وہ تو کل ہی معلوم ہو سکے گا مگر تشار ہیرے کے من میں پھیلی ہوئی گندگی آج باہر آ چکی ہے جس کی بو کا احساس ہر شہری کو ہونا چاہیے-
سچ کہا ہے کسی نے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور انسانیت ہونی چاہیے ورنہ انسان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جاہل، راکشس اور نفرتوں کو پروان چڑھانے والا پرتشدد غیر ذمہ دار حیوان بن جاتا ہے-
مسلم سماج کے دینی، ملی، سیاسی، سماجی قائدین اور خدمت گاروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے، کب تک اپنی دال روٹی کے لیے قوم کا استحصال کرتے رہیں گے، اب جب قوم کی شناخت اور بدنامی پر بات بن آئی ہے تو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں-
اس سے قبل بھی NPR اور NRC کے وقت مغربی علاقے کے بزنس مین، وکلاء اور ڈاکٹرس اس طرح کی زہر افشانی کر چکے ہیں- ان لوگوں کے خلاف جگہ جگہ باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کمپلینٹ ہونا چاہیے اور ہاں جس ڈاکٹر کے دل میں مسلموں کے تئیں اتنی نفرت ہو جو مجبور، لاچار اور ضرورت مند مریضوں کا علاج کرنے سے منع کر رہا ہوں خود سے ان ڈاکٹرس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، اور تف ہے ایسے مسلموں پر جن کی بیوقوفی، نااہلی، بد دماغی، نادانی، یتیم العقلی اور نابالغی پر جو سڑکوں پر نکل کر پوری قوم کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں- خدارا خدارا احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور قوم کو رسوا کرنے سے بچیں-
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ CUT پانے والا کوئی بھی ڈاکٹر محض اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے یہ بیان نہ دیں کہ ڈاکٹر صاحب کے موبائل سے کسی وارڈ بوائے نے ایسا میسیج کر دیا تھا- اس سے قبل بھی یہ بات بول کر ایک ڈاکٹر کی نفرت کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی، اگر اسی وقت سخت ایکشن لیا گیا ہوتا تو آج کسی کی ہمت نہیں ہوتی- اگر واقعی کسی وارڈ بوائے نے ماضی میں ایسی حماقت کی تھی تو کیا صفائی دینے والوں نے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی تھی؟ کیوں کہ تشدد بہر حال تشدد ہے، پھر چاہے وہ ڈاکٹر سے سرزد ہو یا وارڈ بوائے سے نوری اکیڈمی کے صدر و اراکین مالیگاوں پرساشن سے درخواست کرتے ہیں کہ مشرقی حصے میں سختی کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کروائیں اور مغربی حصے میں پھیلنے والی منافرت کا سر کچل دیں بصورت دیگر کرونا کے سائے تلے مالیگاوں میں ہندو مسلم تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے-
ممبئی پریس خصوصی خبر
بوریولی ایسٹ میں تجاوزات ہٹانے کی مہم مکمل، 27 تجارتی یونٹس مسمار

ممبئی بدھ 4 نومبر 2026کو، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے بوریولی ایسٹ میں سوامی وویکانند روڈ پر واقع زمین کے ایک ٹکڑے سے تجاوزات ہٹانے کا آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔ یہ زمین ” (بیسٹ) بس ڈپو کے لیے مختص ہے۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 27 تجارتی یونٹس کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ تجاوزات تقریباً 3,400 مربع میٹر رقبے پر محیط اس پلاٹ سے ہٹائی گئیں جسے ‘ٹاؤن پلاننگ اسکیم-2’ کے تحت ‘پلاٹ نمبر 7بی، سٹی سروے نمبر 15’ کے طور پر شناخت کیا گیا ہےاور یہ جگہ ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ (بیسٹ) بس ڈپو کے لیے مختص ہے۔ یہ آپریشن بی ایم سی کے ‘آر-سینٹرل وارڈ’ (آر سینٹرل وارڈ) کی جانب سے انجام دیا گیا، جس میں انجینئرز کے علاوہ 70 کارکنان اور عملے کے ارکان شامل تھے۔ غیر قانونی تجارتی ڈھانچوں کو گرانے کے لیے دو جے سی بی مشینیں اور چار ڈمپر استعمال کیے گئے۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔
(جنرل (عام
افغانستان کے شمالی علاقے میں سڑک حادثہ، 3 افراد ہلاک اور 4 زخمی

کابل : شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ میں ایک سڑک حادثے کی وجہ سے کم از کم تین مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور چار دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔ بیان کے مطابق، حادثہ دارالحکومت کابل کو شمالی صوبوں سے ملانے والی شاہراہ پر دو تیز رفتار کاروں کے آپس میں ٹکرانے کے بعد پیش آیا، جس میں تین افراد جائے وقوعہ پر ہی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔
بیان میں واقعے کی وجہ لاپرواہی سے گاڑی چلانے کو قرار دیا گیا ہے۔ سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی صحت کی سہولیات میں منتقل کر دیا گیا ہے، اگرچہ زیادہ تر کی حالت تشویشناک ہے۔ 1 نومبر کو، مشرقی افغانستان کے صوبہ لغمان میں ایک ہائی وے کے تصادم میں کم از کم دو افراد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے، صوبائی پولیس دفتر نے اطلاع دی۔ پولیس کے بیان کے مطابق، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب یکم نومبر کو دارالحکومت کابل کو مشرقی صوبوں سے ملانے والی شاہراہ کے ساتھ عزیزخان کاس کے علاقے میں ایک ہینو ٹرک مخالف سمت سے آنے والے رکشے سے ٹکرا گیا۔
شنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ لاپرواہی سے ڈرائیونگ کو واقعے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا، دفتر نے مزید کہا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے لغمان کے صوبائی اسپتال لے جایا گیا۔ جنگ زدہ افغانستان میں جان لیوا سڑک حادثات ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ اکثر سڑکوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال، لاپرواہی سے ڈرائیونگ، اور چیلنجنگ خطوں اور محدود انفراسٹرکچر کے درمیان ناکافی حفاظتی اقدامات کو قرار دیا جاتا ہے۔ 30 اکتوبر کو، افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان میں ایک مسافر بس کے تیل کے ٹینکر سے ٹکرانے سے پانچ مسافر ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ مہلک حادثہ سالنگ ہائی وے پر پیش آیا اور اس کی وجہ ڈرائیور کی غفلت تھی، میڈیا آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا، مزید کہا کہ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی مراکز صحت لے جایا گیا ہے۔ بختار نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، یہ کہتے ہوئے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
(جنرل (عام
بنگال پولیس نے سروس ریوالور سے ڈیوٹی پر خود کو گولی مار لی، تحقیقات شروع

کولکتہ : مغربی بنگال کے مغربی بردوان ضلع میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈیوٹی کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل نے مبینہ طور پر اپنے سروِس ریوالور سے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی، پولیس نے بدھ کو بتایا۔ یہ واقعہ منگل کی رات قومی شاہراہ 19 پر پانا گڑھ بائی پاس کے قریب پیش آیا۔ کانسٹیبل، جس کی شناخت سنجے جانا کے طور پر ہوئی ہے، کانکسا ٹریفک گارڈ میں تعینات تھا اور اصل میں آسنسول کا رہنے والا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جانا دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ڈیوٹی پر تھی کہ سڑک کے کنارے کھڑا ٹرک بے قابو ہو گیا۔ پھر اس کے ساتھیوں نے اسے سڑک پر خون میں لت پت بے ہوش پڑے دیکھا۔ پولیس اہلکاروں نے اسے فوری طور پر درگاپور کے ایک اسپتال لے جایا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا اور اسے مردہ قرار دے دیا۔
پولیس نے واقعے کے اردگرد کے حالات اور کانسٹیبل کو مبینہ طور پر اپنی جان لینے کے لیے کس چیز پر اکسایا، اس کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک فرانزک ٹیم کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور وہ جائے وقوع کا دورہ کر کے شواہد اکٹھا کرے گی اور جانچ کرے گی۔ تحقیقات کے تحت علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جانا آسنسول پولیس لائنز کے کوارٹرس میں رہتی تھی اور اس کے پیچھے اس کا 11 سالہ بیٹا ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اسے حالیہ دنوں میں کسی ذاتی یا دیگر مشکلات کا سامنا تھا۔ پولیس اس کے خاندان کے افراد سے بھی پوچھ گچھ کرے گی تاکہ اس کی ذہنی حالت اور کسی بھی ایسے حالات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہو۔
ستمبر میں اسی طرح کے ایک واقعے میں، کولکتہ پولیس کے ایک 49 سالہ کمانڈو کی لاش، جس کی شناخت دیپک تمانگ کے نام سے ہوئی تھی، کولکتہ کے پولیس ٹریننگ اسکول (پی ٹی ایس) کے بیت الخلا سے برآمد ہوئی تھی۔ شمالی بنگال کے کلمپونگ کے رہنے والے تمانگ کو احاطے کے اندر لٹکا ہوا پایا گیا۔ اس کے بعد لاش کو ایس ایس کے ایم اسپتال بھیج دیا گیا۔ تفتیش کاروں کو مبینہ طور پر اس کے منہ سے لعاب دہن اور اس کی گردن کے گرد لگنے کا نشان ملا۔ پولیس افسران نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم محکمے نے اس کی موت کے آس پاس کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے الگ سے تفتیش شروع کر دی۔ تمانگ نے کئی سالوں تک کولکتہ پولیس میں کمانڈو کے طور پر خدمات انجام دی تھیں اور مبینہ طور پر پولیس فورس میں ان کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
