Connect with us
Friday,06-November-2026

قومی خبریں

شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔ شاہین باغ مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے مختلف علاقوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اکسانے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔
خاتون مظاہرین میں شامل ملکہ خاں، ترنم،نصرت آراء، شیزہ اور دیگر نے الزام لگایا کہ حکومت نے شاہین اور ملک کے دیگر شاہین باغ کو ختم کرانے کے لئے تمام حربے اپنائے ہیں لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں ملی اور ہمارا احتجاج جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اب سی اے اے کے خلاف اکسانے کا الزام لگاکر کچھ مسلم نوجوانوں کرکے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ شاہین باغ میں مکانوں پر کچھ نمبر لکھ کر وہاں کے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کا حق آئین دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی شاہین باغ معاملے میں واضح طور پر کہا ہے کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ تو پھر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف بولنا جرم کیسے ہوگیا ہے جو اس وقت مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش ہے اور ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ڈر اور خوف کے حصار سے ہم لوگ نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب ہم لوگ ضروری کاموں کے علاوہ گھر سے نہیں نکلتی تھیں لیکن آج شاہین باغ ہی پورے ملک میں ڈھائی سو سے زائد شاہین باغ بن چکے ہیں اور ہر جگہ خواتین نے احتجاج کا مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ یہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اب خواتین خوف و دہشت کے قید سے آزاد ہوچکی ہیں اور اپنا حق لینا جانتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جیسا کہ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار شدہ مسلم نوجوان سی اے اے کے خلاف اکسارہے تھے۔ہم لوگ جاننا چاہتی ہیں کہ سی اے اے کے خلاف بیدار کرنا جرم کیسے ہوگیا اور پولیس کیسے ان لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کا ایک ہی مقصد ہے کسی طرح سی اے اے کے خلاف دھرنا مظاہرہ ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے بات چیت کرے، ان کے خدشات کو دور کرے اور اس سیاہ قانون کو واپس لے۔ ایسا کرنے سے ہی ملک کا بھلا ہوگا اور ملک کے وقار میں اضافہ، مشترکہ تہذیب میں یقین اور سماج تقسیم ہونے سے بچ جائے گا۔
دہلی میں فساد میں فساد اور پچاس سے زائد لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد سے مشرقی دہلی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ بند ہے لیکن کئی مقامات پر شروع ہوگئے ہیں۔بہار کے سہسرام میں شاہین باغ بناکر خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور جب تک حکومت اس کو واپس نہیں لیتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ اڑیسہ کے بھدرک میں ’شاہین باغ بھدرک‘ بناکر خواتین قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے آئین کو بچائیں گے۔ اس کے لئے جو بھی قربانی دینی ہوگی دیں گے لیکن دستور کی ہر حال میں حفاظت کریں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر جیل بھی بھیجوائیں گے تو بھی کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ساتھ ہی مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہاکہ یہ قانون ملک کو توڑنے والا ہے اوراس سے سماج میں تفرقہ پیدا ہوگا۔
اسی کے ساتھ حضرت نظام میں میں خواتین کے احتجاج کا آج46واں دن ہوگیا ہے۔26جنوری سے احتجاج شروع ہوا تھا۔ وہاں کے انتظام و انصرام دیکھنے والے محمد عمر اور شیخ غلام جیلانی نے بتایا کہ اس احتجاج میں شریک ہونے والے میں سے سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، مشہور وکیل پرشانت بھوشن، ہندو سینا کے صدر یوراج سنگھ، انجلی بھاردواج، راہل اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ پنجاب میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مسلسل ریلیاں اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین نے شاہین باغ کی حمایت اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف زبردست ریلی نکالی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔کل پولیس کے آنے سے کچھ بدمزدگی پیدا ہوگئی تھی لیکن جلد ہی پولیس وہاں سے چلی گئی۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، آزاد مارکیٹ،جامع مسجدمیں مظاہرہ جاری ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور،اودن پور اور ٹونک کے موتی باغ میں خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسورکے نیلم باغ، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین میں شامل55سالہ فریدہ کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

(جنرل (عام

دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

Published

on

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔

ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

Continue Reading

سیاست

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

Published

on

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“

Continue Reading

سیاست

یوگی کا سرکاری نوکریاں جاری رکھنے کا اعلان

Published

on

لکھنؤ : اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کے روز اشارہ دیا کہ ریاست میں سرکاری ملازمتوں کے لیے بھرتی کا عمل اس وقت بھی جاری رہے گا جب حکومت ایک لاکھ اضافی تقرریوں کا اپنا ہدف مکمل کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ پہلے ہی تقریباً ساڑھے نو لاکھ (9.5 لاکھ) سرکاری بھرتیاں مکمل کر چکی ہے اور مزید ایک لاکھ ملازمتوں کا وعدہ پورا کرنے کے قریب ہے۔ تاہم، بھرتی کا عمل یہیں ختم نہیں ہوگا، بلکہ کچھ تقرری ناموں کو روک کر رکھا جائے گا اور انہیں اس وقت تقسیم کیا جائے گا جب حکومت تیسری بار اقتدار میں واپس آئے گی۔ لکھنؤ میں ریزرو پولیس لائنز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں 4,543 نئے منتخب پولیس سب انسپکٹروں کو تقرری نامے دیے گئے، وزیراعلیٰ یوگی نے بھرتی ہونے والوں سے براہِ راست بات چیت کی اور انتخاب کے عمل میں شفافیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کسی امیدوار کو سیاسی سفارش کی ضرورت پڑی، کیا کسی نے پیسے کا مطالبہ کیا، کیا انہیں رشوت کی پیشکش ہوئی، یا کیا انہوں نے اثر و رسوخ کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے کی کوئی کوشش دیکھی؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے اتر پردیش میں اس طرح کے کام ممکن نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2017 کے بعد سے ریاست کے بھرتی کے نظام میں مکمل تبدیلی آئی ہے، اور اب ملازمتیں سفارش، امتیاز یا بدعنوانی کے بجائے میرٹ (قابلیت) کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں۔

سابقہ ​​حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ 2003 سے 2017 کے درمیان بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں؛ یہاں تک کہ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جہاں درخواست کسی اور نے جمع کرائی تھی جبکہ تقرری نامہ کسی اور کو جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسے کئی معاملات ابھی بھی عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ وزیراعلیٰ یوگی نے متنازعہ بھرتی کے عمل کے ذریعے ملازمت پانے والوں کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت ایسی تقرریوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیتی ہے تو اس سے بہت سے نوجوان متاثر ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی کا خیرمقدم کریں گے جو غلط طریقوں سے ملازمت کے متلاشی افراد کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ 2017 سے پہلے سرکاری بھرتیوں پر نام نہاد “صفائی سنڈیکیٹ” (سیفائی سنڈیکیٹ) کا غلبہ تھا، جس نے ریاست کے کئی خطوں کے امیدواروں کو منصفانہ مواقع سے محروم رکھا۔ ان کے مطابق، اب صورتحال بدل چکی ہے اور اتر پردیش کے تمام حصوں کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں تک مساوی رسائی حاصل ہے۔ اپنی انتظامیہ کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ جب 2017 میں ان کی حکومت نے اقتدار سنبھالا، تو ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ایک چیلنج تھی، اور محکمہ پولیس کی حالت انتہائی خراب تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس بیرکیں خستہ حالی کا شکار تھیں اور اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، ان کی حکومت نے نظام میں مکمل اصلاحات کی ہیں اور اسے ایک نئی شناخت دی ہے، اگرچہ مزید بہتری کے لیے مسلسل لگن اور سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی مہم بلا تعطل جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ایک لاکھ سے زائد تقرری نامے (اپائنٹمنٹ لیٹرز) تقسیم کیے جا چکے ہیں،” اور مزید بتایا کہ آنے والے وقت میں 25,000 اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر خزانہ و پارلیمانی امور سریش کھنہ نے نئے بھرتی ہونے والے سب انسپکٹروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے ایک ایسا موقع حاصل کیا ہے جس کا خواب تو بہت سے امیدوار دیکھتے ہیں، لیکن ہر کسی کو یہ نصیب نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا انتخاب سفارش یا جانبداری کی بنیاد پر نہیں، بلکہ میرٹ اور سخت محنت کے ذریعے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھرتی کا عمل ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ ثابت قدمی اور لگن کے ذریعے نوجوان اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان