Connect with us
Wednesday,16-September-2026

قومی خبریں

شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔ شاہین باغ مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے مختلف علاقوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اکسانے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔
خاتون مظاہرین میں شامل ملکہ خاں، ترنم،نصرت آراء، شیزہ اور دیگر نے الزام لگایا کہ حکومت نے شاہین اور ملک کے دیگر شاہین باغ کو ختم کرانے کے لئے تمام حربے اپنائے ہیں لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں ملی اور ہمارا احتجاج جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اب سی اے اے کے خلاف اکسانے کا الزام لگاکر کچھ مسلم نوجوانوں کرکے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ شاہین باغ میں مکانوں پر کچھ نمبر لکھ کر وہاں کے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کا حق آئین دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی شاہین باغ معاملے میں واضح طور پر کہا ہے کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ تو پھر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف بولنا جرم کیسے ہوگیا ہے جو اس وقت مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش ہے اور ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ڈر اور خوف کے حصار سے ہم لوگ نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب ہم لوگ ضروری کاموں کے علاوہ گھر سے نہیں نکلتی تھیں لیکن آج شاہین باغ ہی پورے ملک میں ڈھائی سو سے زائد شاہین باغ بن چکے ہیں اور ہر جگہ خواتین نے احتجاج کا مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ یہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اب خواتین خوف و دہشت کے قید سے آزاد ہوچکی ہیں اور اپنا حق لینا جانتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جیسا کہ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار شدہ مسلم نوجوان سی اے اے کے خلاف اکسارہے تھے۔ہم لوگ جاننا چاہتی ہیں کہ سی اے اے کے خلاف بیدار کرنا جرم کیسے ہوگیا اور پولیس کیسے ان لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کا ایک ہی مقصد ہے کسی طرح سی اے اے کے خلاف دھرنا مظاہرہ ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے بات چیت کرے، ان کے خدشات کو دور کرے اور اس سیاہ قانون کو واپس لے۔ ایسا کرنے سے ہی ملک کا بھلا ہوگا اور ملک کے وقار میں اضافہ، مشترکہ تہذیب میں یقین اور سماج تقسیم ہونے سے بچ جائے گا۔
دہلی میں فساد میں فساد اور پچاس سے زائد لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد سے مشرقی دہلی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ بند ہے لیکن کئی مقامات پر شروع ہوگئے ہیں۔بہار کے سہسرام میں شاہین باغ بناکر خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور جب تک حکومت اس کو واپس نہیں لیتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ اڑیسہ کے بھدرک میں ’شاہین باغ بھدرک‘ بناکر خواتین قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے آئین کو بچائیں گے۔ اس کے لئے جو بھی قربانی دینی ہوگی دیں گے لیکن دستور کی ہر حال میں حفاظت کریں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر جیل بھی بھیجوائیں گے تو بھی کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ساتھ ہی مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہاکہ یہ قانون ملک کو توڑنے والا ہے اوراس سے سماج میں تفرقہ پیدا ہوگا۔
اسی کے ساتھ حضرت نظام میں میں خواتین کے احتجاج کا آج46واں دن ہوگیا ہے۔26جنوری سے احتجاج شروع ہوا تھا۔ وہاں کے انتظام و انصرام دیکھنے والے محمد عمر اور شیخ غلام جیلانی نے بتایا کہ اس احتجاج میں شریک ہونے والے میں سے سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، مشہور وکیل پرشانت بھوشن، ہندو سینا کے صدر یوراج سنگھ، انجلی بھاردواج، راہل اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ پنجاب میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مسلسل ریلیاں اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین نے شاہین باغ کی حمایت اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف زبردست ریلی نکالی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔کل پولیس کے آنے سے کچھ بدمزدگی پیدا ہوگئی تھی لیکن جلد ہی پولیس وہاں سے چلی گئی۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، آزاد مارکیٹ،جامع مسجدمیں مظاہرہ جاری ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور،اودن پور اور ٹونک کے موتی باغ میں خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسورکے نیلم باغ، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین میں شامل55سالہ فریدہ کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

جرم

ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

Published

on

Death

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔

واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔

مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔

Continue Reading

سیاست

کٹکا کانگریس کے سربراہ ہری پرساد کے خلاف ‘عمر خالد ایک قوم پرست’ تبصرہ پر شکایت درج

Published

on

بنگلورو، 16 ستمبر ہندو کارکن تیجس گوڑا نے بدھ کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی کے کے خلاف بنگلورو کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ ہری پرساد نے عمر خالد کو “قوم پرست” قرار دینے اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ان پر تبصرہ کرنے کے اختیار پر سوال اٹھانے پر اپنے ریمارکس پر۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ کانگریس لیڈر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوڑا نے کہا کہ ہری پرساد نے عمر خالد کو ودھانا سودھا کے احاطے میں ایک “قوم پرست” کہا تھا، جس کا ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہندوستانی شہریوں کی توہین تھی۔ سبھی،” ہندو کارکن نے الزام لگایا۔

گوڈا نے 2020 کے دہلی فسادات کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت خالد کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دینا قانونی طور پر قابل اعتراض ہے اور اس معاملے پر کانگریس کے ملزم خالدوٹیل کے موقف پر سوال اٹھایا۔ یو اے پی اے کے تحت، ہری پرساد کے لیے ایک قوم پرست ہے، اس سے کرناٹک کانگریس کے صدر اور پارٹی کی پالیسی پر سوال اٹھتے ہیں۔” گوڑا نے کہا کہ پولیس حکام نے انہیں مطلع کیا ہے کہ شکایت درج کی جائے گی۔ مہاتما گاندھی کی تنظیم کی نظریاتی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے، اے بی وی پی کو ان کے بارے میں بات کرنے کا اختیار۔

بی کے ہری پرساد نے منگل کے روز جیل میں بند کارکن عمر خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دیا اور اس کے ناقدین کو اخلاقیات اور اخلاقیات سے عاری قرار دیا۔”عمر خالد ایک قوم پرست ہیں، اور اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کو عمر خالد پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اے بی وی پی ناتھورام کو پوجتی ہے اور وہ پہلے ملک دشمن دہشت گرد تھے۔ ہری پرساد نے بنگلورو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ عمر خالد پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق یا اخلاقیات نہیں ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

گروگرام ہٹ اینڈ رن معاملہ : کار ڈرائیور، کزن دو دن کی پولیس حراست میں

Published

on

گروگرام کی ایک عدالت نے بدھ کو گولف کورس روڈ پر ایک خاتون بائیکر کو ٹکر مارنے کے ملزم ڈرائیور کلیان بینسلا اور اس کے کزن کو ہٹ اینڈ رن کیس کے سلسلے میں دو دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ بینسلا اور اس کے کزن لاونیش کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم آئی سی) کے روبرو پیش کیا گیا جو کہ ملزمین کو بیوالنی پولیس کی تحویل میں دے گا۔ 18 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ گروگرام پولیس نے واقعہ کے سلسلے میں راجستھان کے دوسہ سے بنسلا اور ہریانہ کے پلوال سے لاونیش کو گرفتار کرنے کے ایک دن بعد یہ پیشرفت ہوئی۔ واقعہ کے وقت لاونیش مبینہ طور پر بنسلا کے ساتھ کار میں موجود تھا۔ گروگرام پولیس نے قبل ازیں قتل کی کوشش سے متعلق بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109 کو ایف آئی آر میں شامل کیا تھا جس کے بعد متاثرہ، سیا اور اس کے اہل خانہ نے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی درخواست کی تھی۔ گولف کورس روڈ پر بائیکر۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی تحقیقات اور تجزیہ کے بعد، پولیس نے قتل کی کوشش کا الزام شامل کیا، جس میں 10 سال تک کی سزا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب سیا کے اہل خانہ نے گروگرام کے سیکٹر-56 پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر، انسپکٹر منوج کمار کو اپنا تحریری بیان پیش کیا۔ پولیس تفتیش کے حصے کے طور پر اس کا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کر رہی ہے۔

گروگرام پولیس نے برقرار رکھا ہے کہ لاقانونیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی دوران سیا نے بدھ کے روز کار میں سوار چاروں افراد کو سخت سزا دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حفاظت کے حوالے سے معاشرے کو صحیح پیغام بھیجنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، سیا نے کہا کہ انہیں عدالت سے “بڑی توقعات” ہیں اور وہ اس کیس میں انصاف چاہتی ہیں۔ “میں نے کل عدالت میں کہا تھا کہ کار میں سوار چاروں افراد کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور ان سب کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ میری رائے میں، انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا چاہیے؛ ایسے نوجوانوں کو پیغام دینے کا یہی واحد طریقہ ہے- تاکہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں سوچے،” انہوں نے کہا۔

ملزم کے مبینہ دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ بیت الخلا استعمال کرنے میں جلدی میں تھا، سیا نے کہا کہ یہ وضاحت “قابل نفرت” ہے، یہ کہتے ہوئے کہ پورا واقعہ ویڈیو پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس کی موٹر سائیکل پر موجود ڈیش کیم نے اس واقعے کو ریکارڈ نہ کیا ہوتا تو وہ “شاید یہ بھی ثابت نہیں کر پاتی کہ کیا ہوا”۔ انہوں نے کہا، “بہت سی خواتین، جو شاید کام پر جا رہی ہوں، اس قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے پاس کیمرے نہیں ہوتے ہیں، اور اکثر اس طرح کے معاملات درج بھی نہیں ہوتے ہیں۔” انہوں نے کہا۔ سیا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کار میں سوار چاروں افراد کو کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے، یہ کہتے ہوئے: “چاروں کو سزا ملنی چاہیے؛ تب ہی ہم اپنے معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان