سیاست
سپریم کورٹ نے معاملہ کو ملتوی کرکے حکومت کو مسئلہ حل کرنے کا وقت دیا ہے: شاہین باغ مظاہرین
قومی شہریت (ترمیمی)قانون،این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے روڈ کے معاملے میں سماعت کو 23مارچ تک ملتوی کردینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملہ کو آگے ٹال دیا ہے گرچہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔
مظاہرین نے کہاکہ دہلی کے جس طرح کے حالات ہیں اس کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملے کو ٹال دیا ہے لیکن اس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ اسی کے امید بھی ظاہر کی کہ ہوسکتا ہے اس دوران حکومت عقل آجائے اور اپنے فیصلہ پر غور کرے۔
مظاہرین میں شامل سماجی کارکن محترمہ شاہین کوثر نے کہاکہ ہمارا مظاہرہ جاری ہے اور سپریم کورٹ اس کی سماعت 23مارچ تک ٹال دی ہے، ہوسکتا ہے کہ اس دوران معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے اور حکومت کا کوئی نمائندہ مظاہرین سے بات کرنے کے لئے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ دوسرے پہلو سے دیکھیں اور دہلی کے حالات کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس پر جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ جس طرح کے حالات پیش آئے ہیں اس لحاظ سے تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے۔اس سے ہمیش تشویش ہے، یہاں کب کیا ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے فوری طور پر فیصلہ کی توقع تھی۔
مظاہرین میں شامل محترمہ شیزہ نے امت شاہ اور کیجریوال کی ملاقات پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ اب دونوں مل کر نہ جانے کون سا کرنٹ دوڑائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کیجریوال پہلے شاہین باغ آنا چاہئے تھا لیکن وہ امت شاہ سے ملاقات کرنا پہلے ضروری سمجھا۔انہوں نے کہاکہ مسٹر کیجریوال کا امت شاہ سے کہنا کہ دونوں مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر کیجریوال کو بتانا چاہئے کہ دونوں مل کر کون سا کام کریں گے اور کہاں کہاں کرنٹ دوڑائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں نے ملکر کرنٹ (دہلی میں فسادا کرواکر)کو دوڑا ہی دیا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خاں نے شاہین باغ خواتین مظاہرہ کو ختم کرانے کی کوشش کی لیکن خواتین کی مستعدی کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ امانت اللہ خاں پر آخر کس کا دباؤ ہے کہ وہ دو تین دن قبل کرین مظاہرہ ہٹانے کے لئے کرین بھیجنے والے تھے۔ انہوں نے الزام کہ جب دہلی میں حالات میں خراب ہورہے تھے اور دیر رات خواتین اور مرد گھروں سے نکل کر شاہین باغ مظاہرہ گاہ پہنچ رہے تھے تو انہوں نے روکنے کی کوشش کی تھی اور خواتین راستہ بدل کرآئی تھیں۔
شاہین باغ میں مظاہرین دہلی کے حالات سے بہت فکر مند ہیں اور انہوں نے احتیاطی قدم کے ساتھ محتاط رہنا بھی شروع کردیا ہے۔ ان لوگوں کی تشویش ہے کہ کوئی بھی سماج دشمن عناصر شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اس طرح کی حرکت کرسکتا۔
دریں اثناء سپریم کورٹ نے بدھ کو دہلی کے شاہین باغ علاقے میں مظاہرین کو ہٹائے جانے سے متعلق عرضیوں پر سماعت 23 مارچ تک کے لئے یہ کہتے ہوئے ملتوی کردیا کہ ماحول سماعت کے لئے سازگار نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے فی الحال کوئی حکم دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ عدالت عظمی نے ساتھ ہی دہلی تشدد معاملے کی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی)سے جانچ کرانے سے متعلق بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر کی عرضی خارج کردی۔جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ا کے ایم جوزف کی بنچ نے کہا ہے کہ اس معاملہ پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہورہی ہے اس لئے وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔اس درمیان عدالت عظمی نے اشتعال انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے سلسلے میں دہلی پولس کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہاکہ اگر پولس کام کرنا شروع کردے تو عدالت کو اسے روکنے کے لئے دخل دینا ہوگا۔انہوں نے پولس کے کام کاج پر کوئی تنقید نہ کرنے کا سپریم کورٹ سے درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنقید سے پولس بے عزتی محسوس کرے گی۔“جسٹس جوزف نے کہا کہ ”اس بارے میں، میں کچھ گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میں نہیں کروں گا تو اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کروں گا۔“ اس ادارے کے تئیں، اس ملک کے تئیں میری ذمہ داری ہے۔“ پولس کی جانب سے آزادانہ اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی کمی رہی ہے۔
خوریجی میں خاتون مظاہرہ کا انتظام و نصرام دیکھنے والی ایڈووکیٹ عشرت جہاں نے وہاٹس پر اطلاع دی ہے کہ جگت پوری تھانہ کی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ آپ لوگ خوریجی پہنچیں اور کیوں کہ ہم محفوظ نہیں ہیں۔ خوریجی میں مظاہرہ جاری ہے یا ہٹادیا گیا ہے اس کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے اور کسی سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے۔
مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، سلیم پور، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہیں۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی،سیلم پور فروٹ مارکیٹ، موج پوری،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، شاشتری پارک، کردم پوری، مصطفی آباد، کھجوری، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
قومی خبریں
اجمیر میں سیاح کی ویڈیو گردش کرنے پر مدھیہ پردیش میں تین افراد گرفتار

جے پور: راجستھان پولیس نے اجمیر میں ایک اسرائیلی خاتون کی قابل اعتراض ویڈیو کی مبینہ ریکارڈنگ اور گردش کے سلسلے میں مدھیہ پردیش سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 9 ستمبر 2026 کو پیش آیا، جب مبینہ طور پر اجے پال بابا اجےسر کنڈ میں نہانے کے دوران خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر فلمایا گیا۔ بعد میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر دی گئی۔ اجمیر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہرش وردھن کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس کی خصوصی ٹیموں نے مشتبہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے تکنیکی ثبوتوں اور سوشل میڈیا کی نگرانی کا استعمال کیا۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتاریاں ویڈیو کی گردش اور ذمہ داروں کی شناخت کی کوششوں کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر کی گئیں۔ ویڈیو کے آن لائن منظر عام پر آنے کے بعد یہ معاملہ اجمیر ڈسٹرکٹ سوشل میڈیا سیل کی توجہ میں آیا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی) ہمانشو جانگڈ اور سرکل آفیسر (درگاہ) ہرشیت شرما کی نگرانی میں ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی جس میں گنج اسٹیشن ہاؤس آفیسر نریندر سنگھ نے اس کارروائی کی قیادت کی۔ تفتیش کاروں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور انسٹاگرام آئی ڈی کے مشتبہ افراد کے موبائل اکاؤنٹس کی جانچ کی۔ پولیس نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ تکنیکی شواہد نے انہیں مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع کے مچل پور میں ملزم کا سراغ لگانے میں مدد کی۔ اس کے بعد پولیس کی ٹیم نے علاقے میں چھاپہ مار کر تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار افراد کی شناخت ارجن (30) کے طور پر کی گئی ہے جو گڈیا ماجرا کھویارہ کا رہنے والا ہے۔ کنڈی بیگ کے رہنے والے دیارام (30)؛ اور جوجھر (25)، جو کہ کنڈی بیگ کا رہنے والا ہے، پولیس کے مطابق۔ پولیس نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر اجے پال کنڈ کے قریب ویڈیو ریکارڈ کرنے اور اسے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ذریعے گردش کرنے کا اعتراف کیا۔ الزامات جاری تفتیش اور قانونی کارروائی سے مشروط ہیں۔ تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 246/26 کے تحت بھارتیہ نیا سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں دفعہ 75(2)، 75(3)، 77، 79، 296(b)، 352 اور 3(5) شامل ہیں۔ کشن گڑھ میں ماربل ڈمپنگ یارڈ، جس میں چار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پے در پے ہونے والی تحقیقات اجمیر کے علاقے میں غیر ملکی سیاحوں سمیت سیاحوں کی حفاظت اور رازداری سے متعلق واقعات پر پولیس کی توجہ کو اجاگر کرتی ہیں۔
قومی خبریں
“حکومت کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے”: خواتین کی حفاظت کے معاملے پر دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا

نئی دہلی : دہلی یونیورسٹی کے طلباء نے قومی راجدھانی میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کر دیا ہے، پوسٹرز اور پلے کارڈز کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر، خواتین پر عائد پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے اور جنسی تشدد کے واقعات کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج، جس نے اپنے تیز نعروں اور لفظوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے، نے بڑے پیمانے پر کالج کے طالب علموں بشمول پرساد کالج کے طلباء کو اکٹھا کیا ہے۔ خواتین، مرانڈا ہاؤس، لیڈی شری رام کالج (ایل ایس آر)، کملا نہرو کالج، اور گارگی کالج۔ یہ اس ماہ کے شروع میں کالکاجی کے آستھا کنج پارک کے قریب ایک 17 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے دہلی میں خواتین کی حفاظت، خاص طور پر بغیر کسی خوف کے شہر میں گھومنے پھرنے کی ان کی آزادی پر دیرینہ خدشات اور غصے کی تجدید کی ہے۔ طلباء نے اپنا غصہ نکالنے اور موجودہ حالات پر سوال اٹھانے کے لیے مزاح، طنزیہ اور واقف دہلی کے تاثرات کا بھی استعمال کیا ہے۔ جن نعروں نے توجہ حاصل کی ہے ان میں یہ سطر ہے، “1 کچوری، 2 سموسے، مردوں کا کیا بھروسہ”۔
مظاہرین نے پلے کارڈز بھی آویزاں کیے اور نعرے بلند کیے جن میں طنزیہ اور تخلیقی سے لے کر براہ راست اور محاذ آرائی تک شامل ہیں، جن میں ‘میرا پسندیدہ موسم پدرانہ نظام کا خاتمہ ہو گا’ اور ‘آبورٹ پیٹریارکی’ شامل ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک طالب علم نے کہا کہ احتجاج کا مقصد حکومت سے زیادہ ذمہ داری کا مطالبہ کرنا تھا اور ہم خواتین کو آزادانہ طور پر جگہ پر منتقل کرنے کی ذمہ داری حکومت سے لینا چاہتے ہیں۔ عصمت دری کے واقعات ہم باہر کیوں نہیں جا سکتے، یہ ہمارا حق ہے، اور ہم اس کا مطالبہ کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔” ایک اور مظاہرین نے کہا کہ طالبات اس لیے سڑکوں پر آ رہی ہیں کہ وہ تحفظ چاہتے ہیں اور سوال کیا کہ خواتین کو جنسی تشدد کے خطرے کی وجہ سے گھر کے اندر رہنے پر کیوں مجبور کیا جائے۔”ہم یہاں اپنی حفاظت کے لیے سڑکوں پر ہیں۔
اگر یہاں لڑکیاں محفوظ ہوتیں تو کالکاجی میں اجتماعی عصمت دری نہ ہوتی۔ ہم کب تک گھر کے اندر رہیں گے؟ ہم کیوں اپنے گھروں تک محدود رہیں؟” مظاہرین نے کہا۔ ایک اور طالب علم نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے اور کہا کہ مظاہرین جنسی تشدد کے الزام لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں۔” حکومت نے خواتین کے تحفظ کے لیے کچھ بھی ٹھوس نہیں کیا۔ ہم آزادانہ طور پر چلنے کے قابل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم عصمت دری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں،” طالبہ نے کہا۔ ابتدائی طور پر خواتین کے انفرادی کالجوں میں الگ احتجاج کے طور پر شروع ہونے والا احتجاج تیزی سے پوری یونیورسٹی میں طلبہ کی قیادت میں ایک وسیع تر تحریک میں تبدیل ہوا۔ 28 ستمبر کو سیکڑوں طالب علم فنون کی فیکلٹی میں جمع ہوئے، جب کہ بعد میں ہزاروں افراد نے نارتھ کیمپس سے مارچ کیا جو کہ حالیہ برسوں میں دہلی یونیورسٹی میں خواتین کے تحفظ کے سب سے بڑے مسئلے میں سے ایک کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئرسنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے ماحول دوستی کو برقرار رکھنے کی پہل کرنے پر گنیش عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا

ممبئی ؛ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) کی جانب سے کیے گئے بہترین اقدامات اور ماحول دوست گنیش اتسو کی اپیل پر پرجوش ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، ممبئی کے شہریوں اور گنیش منڈلوں نے حیرت انگیز طور پر 97.27 فیصد مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کیں۔ یہ وسرجن بی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ 383 مصنوعی تالابوں میں کیا گیا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئرسنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے تہوار کو ماحول دوست رکھنے کی پہل کرنے پر تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔اس سال کے گنیش اتسو کے دوران، برہن ممبئی کے علاقے میں کل 1,97,382 گنیش مورتیوں کا وسرجن کیا گیا۔ ان میں سے 1,92,237 مورتیاں (جن کی اونچائی 6 فٹ تک تھی) 383 مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں اس تعداد میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ مٹی (قدرتی مٹی) کی مورتیاں شامل تھیں۔ دریں اثنا، 6 فٹ سے زیادہ اونچی 5,382 مورتیاں وسرجن کے 67 قدرتی مقامات پر وسرجن کی گئیں؛ اس زمرے میں 5,259 پی او پی مورتیاں اور 123 ‘شادو’ مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس سال کے شری گنیش اتسو کے لیے ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے اور ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی کی رہنمائی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے کی ہدایات کے تحت مختلف اقدامات کیے گئے؛ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی قیادت اور ڈپٹی کمشنر (زون 2) گنیش اتسو کوآرڈینیٹر شری پرشانت سپکالے کی نگرانی میں یہ اقدامات کیے گئے۔ممبئی کے قدرتی آبی ذخائر پر مورتی وسرجن کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے، انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شری گنیش کی مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کریں۔ اس کے نتیجے میں، شہر بھر میں مختلف مقامات پر مصنوعی تالاب قائم کیے گئے، جن میں کھلے پلاٹ، پارکس اور شہریوں کے گھروں کے قریب موجود گراؤنڈز شامل تھے۔ اس اقدام کو فروغ دینے کے لیے عوامی آگاہی کی مؤثر مہمات بھی چلائی گئیں۔ نتیجتاً، مورتی وسرجن کے دوران مختلف ساحلوں پر ہجوم میں نمایاں کمی آئی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ نے اس سال مصنوعی تالابوں کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے۔ ممبئی بھر میں کل 383 مصنوعی تالاب دستیاب کرائے گئے تھے، اس کے علاوہ سمندری کناروں، ساحلوں اور دیگر مقامات پر وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات بھی موجود تھے۔
6 فٹ تک کی اونچائی والی گنیش کی مورتیوں کے وسرجن کے لیے مصنوعی تالابوں کے استعمال کا اختیار دیا گیا تھا۔ بی ایم سی کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعی تالابوں کے اس اختیار کو اس سال زبردست پذیرائی ملی مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی جانے والی 6 فٹ تک کی اونچائی والی مورتیوں میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ (شادو) مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں۔ دریں اثنا، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے لیے قدرتی وسرجن کے مقامات کا استعمال کیا گیا۔ ان مقامات پر کل 5,382 مورتیاں وسرجن کی گئیں جن میں 5,259 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) اور 123 ‘شادو’ مٹی سے بنی مورتیاں شامل تھیں۔ماحول دوست گنیش اتسو کو فروغ دینے کے لیے، میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے تہوار کے آغاز سے کافی پہلے ہی مختلف اقدامات نافذ کر دیے تھے۔ ماحول دوست مورتیاں تیار کرنے کے لیے مجسمہ سازوں کو 940 میٹرک ٹن سے زیادہ ‘شادو’ مٹی مفت فراہم کی گئی تھی۔ مزید برآں، ان مورتیوں کی تیاری کے لیے 25,400 لیٹر ماحول دوست پینٹ مفت فراہم کیا گیا۔میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے مورتیوں کے وسرجن (پانی میں بہانے کے عمل) کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور مشینری تعینات کی۔ وسرجن کی تقریب کو محفوظ اور خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور عملے کے ارکان ڈیوٹی پر مامور تھے اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوںامات، اور سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ و مہاراشٹر پولوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کی تعمیل میں، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے اس سال کے گنیش اتسو کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں مصنوعی تالابوں کی فراہمی، ماحول دوست مورتیاں بنانے کی حوصلہ افزائی، وسرجن کے مقامات پر حفاظتی انتظامات، ‘نرمالیہ’ (مذہبی رسومات میں پیش کی جانے والی اشیاء) کو جمع کرنا، اور وسرجن کے بعد مورتیوں کے مواد کو اکٹھا کرنے اور اس کے انتظام کا عمل شامل تھا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
