جرم
امولیہ سے وارث پٹھان تک عجب عالم بدحواسی ہے
بنگلور میں ایک انیس سالہ لڑکی اس اسٹیج سے جہاں اسدالدین اویسی موجود تھے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی اس سے مائیک چھین لیا گیا اور ایک پولس افسر اسے گھسیٹ کر لے گیا لیکن وہ پھر کسی طرح چھوٹ کر واپس بنا مائیک کے ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگاتی ہے۔ اسے چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے اور اسے ملک سے غداری کے مقدمہ میں جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کوئی بارود کا گولا ہے کہ اس کا نام لیتے ہیں وہ پھٹ پڑے گا اور اس سے پورا ملک تباہ ہوجائے گا کہ ایک عالم بدحواسی میں سب اکٹھا ہو جاتے ہیں اور بقول رویش کمار جو افسر کبھی اپنی ذمہ داری ڈھنگ سے نہیں نبھاتا وہ بھی ایسے موقعوں کو غنیمت جان کر محب وطن ہونے کا ثبوت دینے کیلئے فورا حرکت میں آجاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد اسی کرناٹک کے دوسرے شہر میں ایک اور جلسہ میں وارث پٹھان یہ بولتے بولتے یہ کہہ جاتے ہیں سو پر پندرہ بھاری ہے۔ بس پھر کیا تھا ان کے خلاف بھی مذمت کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے اور شاید کئی پولس اسٹیشنوں میں مقدمہ بھی کردیاجاتا ہے۔ یہ دونوں ہی معاملے میں ایک چیز واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور وہ ہے عالم بدحواسی۔ کسی کو مزید کچھ نہیں کہنے دینا ہے، اس کو صفائی کا موقع بھی نہیں دینا ہے۔ امولیہ آگے اور کیا کہنا چاہتی تھی اس کی بات سننے کو کوئی راضی نہیں بس اس نے پاکستان زندہ باد کیوں کہا ؟ یہی ایک مسئلہ ہے۔ رویش کمار کے مطابق گویا ہندوستان کوئی پتہ ہے جس کا وجود پاکستان زندہ باد کہہ دینے سے ہی بکھر جائے گا۔ امولیہ نے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کسی صورت جان چھڑا کر ہندوستان زندہ باد کے بھی نعرہ لگائے اور اس کے فیس بک اکائونٹ کے مطابق اس کے ذہن میں اپنے پڑوسی ممالک کے لئے بھی زندہ باد کا نعرہ ہے محض ہندوستان ہی زندہ باد نہیں ہے اور وہ وہاں اسٹیج پر ان سبھی ممالک کیلئے زندہ باد کہنا چاہتی تھی جس کا اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا۔
وارث پٹھان کا سو پر پندرہ بھاری والا بیان غیر ضروری اور غیر حکیمانہ سہی مگر اس کیخلاف اتنی شدت نہیں آنی چاہئے کہ ان کے پتلے جلائے جائیں اور ان کے خلاف ہائے ہائے کے نعرے لگائے جائیں جبکہ ان کے سیاسی رفیق امتیاز جلیل کہا’وارث پٹھان کا یہ بیان سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کیخلاف برہمی کا اظہار ہے جو جبرا مسلمانوں پر تھوپ کر اس بیان کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے‘ میں سمجھتا ہوں امتیاز جلیل کی باتوں پر توجہ دی جانی چاہئے تھی لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ سے سوچنے کی قوت سے محروم ہوچکے ہیں۔ آج ہم اپنی حب الوطنی کو ثابت کرنے اور دوسروں (سنگھی، لبرل اور دہریہ) کو خوش کرنے کیلئے مذمت اور احتجاج یا ہائے ہائے کا نعرہ لگارہے ہیں ۔ ۲۱ ؍ فروری ۲۰۲۰ کو شام سات بجے سے ممبئی کے اسلام جمخانہ کے دیوان خاص ہال میں ’الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی، این پی آر‘ کی مہاراشٹر و ممبئی اکائی کی جانب سے رضاکاروں، ارکان اور کارکنان کیلئے تہنیتی پروگرام رکھا گیا تھا۔ جس میں کانگریس کے سابق ایم ایل اے اور اسلام جمخانہ کے موجودہ سربراہ یوسف ابراہانی نے وارث پٹھان کیخلاف ہائے ہائے کے نعرے لگوائے جبکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن مسئلہ کانگریس میں اپنی جگہ بنانے اور کچھ قوتوں کی چاپلوسی کا تھا اس لئے وہاں الائنس کے پلیٹ فارم سے ایک غیر ضروری کام کیا گیا۔ ہم نے یوسف ابراہانی کا ایک ویڈیو پیغام بھی دیکھا جس میں وہ وارث پٹھان اور مجلس اتحادالمسلمین کیخلاف عوام کو ورغلاتے نظر آرہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وارث پٹھان ہوتے کون ہیں مسلمانوں کی جانب سے قیادت کا دعویٰ کرنے والے لیکن ابراہانی خود وارث پٹھان کے بیان کے تعلق سے معافی مانگتے ہوئے خود کو پندرہ کروڑ مسلمانوں کا لیڈر قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ دونوں کی پوزیشن ایک ہی ہے۔ دونوں عوام کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ عوام سے ٹھکرایا ہوا ایک کانگریسی عوامی طور پر مسترد کئے ہوئے دوسرے شخص کو قوم کا ٹھیکیدار تسلیم نہیں کرتا لیکن پندرہ کروڑ مسلمانوں کی جانب سے معافی مانگ کر خود کو مسلمانوں کے قیادت کی دعویداری کررہا ہے۔
ایک بات واضح کردوں کہ میری نظر میں بھی وارث پٹھان کا بیان غیر ضروری اور غیر حکیمانہ ہے ۔ بس میرا کہنا یہ ہے کہ اس پر اتنی ہنگامہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹھان نے کہا آپ نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی بس۔ اس سے آگے کی تحریک یا کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کسی کے دبائو میں ضرورت سے زیادہ روادار اور محب وطن بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالات بتارہے ہیں کہ اگر آپ گرم لوہے کی سلاخ ہاتھوں میں لے کر اپنی وفاداری کا یقین دلائیں گے تو ہ طبقہ آپ کی وفاداری تسلیم نہیں کرے گا۔ اس حقیقت کے باوجود آپ کا وطیرہ بن گیا ہے کہ اتحاد کی لالچ میں وہ کرتے چلے جارہے ہیں جس کی مخالفت قوم برسوں سے کرتی آرہی ہے۔ یہاں دو مثالیں کافی ہیں جو میں الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی اینڈ این پی آر کے ذریعہ آزاد میدان میں منعقد احتجاجی اجلاس عام میں اس کے ہی ایک شریک کنوینر کی جانب سے لگائے گئے نعروں اور اس کے جواب میں مسلمانوں کی جانب مسلمانوں کا جواب دیکھا۔ الائنس کے شریک کنوینر ایڈووکیٹ راکیش راٹھوڑ نے ۱۵ ؍ فروری ۲۰۲۰ کو آزاد میدان کی احتجاجی ریلی میں بھارت ماتاکی اور وندے کے نعرے لگائے اور مسلمانوں کی جانب سے اس کا جواب بھی دیا گیا۔ حالانکہ کچھ عرصہ قبل تک مسلمان اس سے بچتا ہوا نظر آرہا تھا۔ آزاد میدان کے اس نعرے اور جگہ بجگہ سیکولر لبرل طبقہ کی جانب سے مسلمانوں کی بھیڑ سے اپنی لیڈر شپ کاشت کرنے کی فکر نے مجھے بے چین کیا ہے۔ اگر کسی کو بے چینی نہیں ہوتی میں کیا کرسکتا ہوں۔ اوروں کی طرح میں بھی ہندو مسلم اتحاد کو پسند کرتا ہوں۔ بلکہ اس سے دو قدم آگے جاکر مسلمانوں کے ساتھ تمام پسماندہ طبقات کے اتحاد کو زیادہ بہتر اور موثر سمجھتا ہوں۔ مگر اپنی قومی اور مذہبی شناخت سے سمجھوتہ کئے بغیر۔ ہم نے شیواجی کی یوم پیدائش پر مذہبی شناخت کے ساتھ شیواجی کی قد آدم مورتی پر پھول اور ہار چڑھاتے مسلمانوں کی تصویر بھی دیکھی ہے۔ سوچئے ہم اتحاد اور رواداری کی خواہش میں کہاں چلے جارہے ہیں۔ ہم انہیں یہ بات کیوں نہیں بتا سکتے کہ ہم شیواجی یا امبیڈکر سمیت اس جیسے لیڈروں کی قدر کرتے ہیں لیکن تمہاری تہذیب کے مطابق ان کی عبادت نہیں کرسکتے۔
غور کیجئے وارث پٹھان کے بیان کیخلاف بیان دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ تحریک میں ہم بڑی مشکل سے غیر مسلموں کے ساتھ اتحاد بنا پائے ہیں جسے وارث پٹھان یا کل ہند مجلس اتحاد المسلمین تباہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ صرف خوش فہمیاں ہیں جو کچھ لوگوں کے ذریعہ ہمارے درمیان پھیلائی جارہی ہے۔مجھے اپنی اس شہری ترمیم قانون یا این پی آر اور این آر سی کیخلاف تحریک میں سوائے اسٹیج کے کہیں بھی کوئی غیر مسلم دکھادیں، تو مان جائوں گا کہ آپ نے اتحاد بین المذاہب کو حاصل کرلیا۔ ہر جگہ اس بھیڑ میں انہیں تلاش کررہا ہوں مگر میری آنکھیں لوٹ آتی ہیں اور وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں جبکہ ہمیں ہر وقت یہی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ غیر مسلم بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔ جڑے تو مگر صرف لیڈر اور اسٹیج کی حد تک جیسا اوپر ذکر کیا گیا۔حالانکہ مذکورہ قانون سے مسلمانوں سے زیادہ پسماندہ طبقات کو ہی نقصان ہونے والا ہے کیوں کہ وہ لوگ بے زمین تھے اور آج بھی ایک بڑی آبادی بے زمین ہے۔ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور اسی کی بنیاد پر برہمنوں کی پروردہ موجودہ مودی حکومت دستور میں دی گئی ریزرویشن کی سہولت کو ختم کردینا چاہتی ہے۔ مگر انہیں مسلم دشمنی کی شراب اتنی پلائی گئی ہے کہ اس کا نشہ اترتا ہی نہیں۔ مسلم دشمنی کی آڑ میں انہیں اپنی تباہی نہیں دِکھ رہی ہے کہ این آر سی کے بعد ان کا وہ دور واپس آجائے گا جب انہیں اپنے پیچھے جھاڑو باندھنا اور گلے میں مٹکہ لٹکانا ہوگا۔ ان کے لیڈر انہیں یہ سمجھانے سے قاصر ہیں۔ بہتر ہے کہ یہ باتیں انہیں سمجھانے کی کوشش کریں اور اپنے درمیان کے کسی شخص سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی ہلکی پھلکی سرزنش کرکے تنہائی میں اسے سمجھائیں کہ اس نے کیا غلطی کی ہے اور اس کی یہ بات کیوں حکمت کیخلاف ہے۔ مگر مرعوبیت اور مغلوبیت یا غلامانہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے قوم کا مورال پست ہو۔ آپ لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر منظر بھوپالی کا یہ شعر ٹھیک معلوم ہوتا ہے-
جرم
’جب تک ہم قانون کا خوف پیدا نہیں کریں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘: گروگرام ہٹ اینڈ رن کی شکار سیا

نئی دہلی، 15 ستمبر گروگرام کے گولف کورس روڈ کی زد میں آکر متاثرہ سیا نے منگل کو سڑکوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے اور خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ قانون کا سخت خوف نہ ہو۔ زندگی۔”جیسا کہ میں نے ویڈیو میں دکھایا، وہ میری طرف سے گاڑی چلا رہا تھا۔ میں نے پولیس کو سب کچھ بتایا کہ کس طرح وہ مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مجھے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کس طرح میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے،” اس نے کہا، “میں نے اسے ایک اشارہ بھی دیا کہ وہ مجھ سے بہت دور چلا جائے۔ پیچھے،” اس نے آئی اے این ایس کو بتایا۔
سیا نے کہا کہ کار کے اندر چار لوگ تھے اور اس نے تمام متعلقہ معلومات پولیس کو فراہم کر دی ہیں، “ظاہر ہے، ان کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج ہونا چاہیے، میں نے سب کچھ بیان کیا اور اپنا بیان دیا، میں چاہتی ہوں کہ ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے اور سخت کارروائی کی جائے،” انہوں نے کہا، “جب تک ہم سخت کارروائی نہیں کرتے، ایسے بہت سے لوگ ہیں جو سڑکوں پر گھومتے پھریں گے، خواتین کو ماریں گے یا دوڑیں گے۔ جب تک ہم قانون کا خوف پیدا نہیں کریں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ خواتین بائیک چلانے والوں کو سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے اکثر ہراساں کیا جاتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا معاملہ الگ تھلگ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ “خواتین بائیک چلانے والوں کو سڑکوں پر اس طرح کی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہراساں کرنے اور پیچھا کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ میں واحد خاتون نہیں ہوں جس نے ایسی چیزوں کا سامنا کیا ہو،” انہوں نے کہا، “جب آپ خواتین بائیک چلانے والوں سے پوچھتے ہیں تو وہ ایسی چیزوں کا سامنا کرتی ہیں، لوگ ان کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کا پیچھا کرتے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم واقعہ ہے جس میں ایک خاتون بائیکر شامل ہوتی ہے۔ اگر ہم مستقبل میں ایسے واقعات کا سامنا نہیں کریں گے تو اور کتنے لوگ ایسے واقعات کا سامنا کریں گے؟” اس نے مزید کہا۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والی سیا نے کہا کہ اس کے ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی سامان نے اسے مزید سنگین چوٹوں سے بچانے میں مدد کی ہے۔”میرے پاس ایک ہیلمٹ اور کچھ دوسری چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے ایک بڑے حادثے سے بچا لیا۔ لیکن مجھے اپنے گھٹنوں اور ہاتھوں پر کئی چوٹیں آئیں،” اس نے کہا۔
انہوں نے ساتھی خواتین بائیک چلانے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس طرح کے واقعات کا شکار ہونے والوں سے آگے آنے اور ان کی اطلاع دینے کی اپیل کی، “یہ واحد واقعہ نہیں ہے جو ہوا ہے، میں نے ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں، اگر کسی کو ایسی صورت حال یا واقعہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ آگے آئے،” انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، گروگرام پولیس نے منگل کو ملزم ڈرائیور کلیان بینسلا کو راجستھان سے گرفتار کر لیا۔ اس کیس کے سلسلے میں ایک اور ملزم لاونیش گرجر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر، پولیس نے ملزم ڈرائیور کے خلاف قتل کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ اس جرم میں 10 سال تک قید کی سزا ہے۔ اتوار کے روز، ایک سفید پالکی کو گالف کورس روڈ پر تیزی سے دائیں طرف مڑتے ہوئے اور ہیلمٹ پہنے ہوئے سیا سے ٹکراتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسے سڑک پر پھینک دیا گیا، جب کہ اس کی اپریلیا آر ایس ۴۵۷ اسپورٹس بائیک پھسل گئی۔
جرم
گروگرام ہٹ اینڈ رن: خاتون بائیکر کے پولیس سے رجوع کرنے کے بعد ایف آئی آر میں قتل کی کوشش کا الزام شامل

نئی دہلی، 15 ستمبر گروگرام کی پولیس نے منگل کو خاتون بائیکر سیا کے ساتھ ٹکر مارنے کے سلسلے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کی کوشش کا الزام شامل کیا جب وہ اور اس کے اہل خانہ نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کے لئے پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے گالف کورس روڈ پر ایک خاتون بائیکر کو ٹکر مارنے والی کار کی ویڈیو کا از خود نوٹس لیا اور سیکٹر 56 تھانے میں مقدمہ درج کیا۔ مکمل تحقیقات کرنے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کرنے کے بعد، انہوں نے بی این ایس کی دفعہ 109 کو قتل کی کوشش کے لیے شامل کیا، جس میں 10 سال تک کی سزا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملزم کار ڈرائیور کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ گروگرام پولیس نے خبردار کیا کہ لاقانونیت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ وہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے پابند ہیں۔
سیا کے اہل خانہ کی جانب سے سیکٹر 56 پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو اپنا تحریری بیان جمع کرانے کے بعد یہ پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس تفتیش کے ایک حصے کے طور پر اس کا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کر رہی ہے۔ دن کے اوائل میں، آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، دیپانکر نے کہا، “کل، ہم نے سیا کا تحریری بیان سیکٹر 56، گروگرام کے ایس ایچ او کو جمع کرایا، آج، ایس ایچ او خود اس کا زبانی بیان ریکارڈ کرنے کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ سیا کو شدید درد کا سامنا ہے، اس کے پٹھوں میں بھی دباؤ ہے اور اس کے پٹھوں میں تناؤ بھی ہے۔ ہم نے ایس ایچ او سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کا بیان ریکارڈ کرائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان اپنی وضاحت دے سکتے ہیں، “وہ اپنی وضاحت دے سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں کیمرے نہیں تھے، لیکن آپ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی لین بدلتا ہے، وہ آہستہ آہستہ ایسا کرتا ہے،” انہوں نے کہا، “اگر کوئی غلطی سے کسی کو ٹکر مارتا ہے، تو وہ رک جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔ دیپنکر نے کہا کہ سیا نے تصدیق کی ہے کہ کار کے اندر چار لوگ تھے اور ان کے دو چہرے واضح طور پر دیکھے گئے تھے۔
“سیا نے تصدیق کی کہ کار کے اندر چار لوگ موجود تھے۔ اس نے دو لوگوں کو بہت واضح طور پر دیکھا۔ اب اس نے میڈیا کو اپنا بیان دیا ہے۔ وہ ون آن ون انٹرویو بھی دے گی،” انہوں نے کہا۔ اس نے مزید کہا کہ سیا اس واقعے کے بعد جسمانی درد کا سامنا کر رہی تھی، “اس کے جسم میں درد ہے،” انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، ہریانہ کے وزیر گورو گوتم نے یقین دلایا کہ جو بھی پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مجرم کو پکڑا جائے گا، چاہے وہ میرے ہی خاندان کا ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی پکڑے جائیں گے۔” تاہم، ملزم کلیان بیسلا کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نوین بیسلا نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ تھا اور انہوں نے اس الزام سے انکار کیا کہ وہ ان کے مؤکل کے خلاف ہیں۔ میرے دوست نے اس طرح اشارہ کیا کہ جب اس نے گاڑی کی رفتار کو تھوڑا سا بڑھایا تو اس نے گاڑی کا کنٹرول کھو دیا، اور اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہے۔
ہریانہ کے پلوال سے بات کرتے ہوئے، بیسلا نے مزید کہا، “یہ سب باتیں جھوٹی ہیں، وہ ایسا کچھ نہیں کر رہا تھا، بلکہ وہ انہیں سست کرنے کے لیے کہہ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، ‘آپ بائک کو اچھی طرح سے چلائیں، لیکن رفتار کم کریں۔’
جرم
گوہاٹی خاتون قتل کیس : اہلکار کا کہنا ہے کہ ملزم شوہر کو گولی نہیں لگی

گوہاٹی : گوہاٹی میں اپنی بیوی ریا تالقدار کے سنسنی خیز قتل کے مرکزی ملزم رامانوج گوسوامی کے جسم پر گولی کا کوئی زخم نہیں تھا، گوہاٹی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (جی ایم سی ایچ) کے حکام نے بتایا کہ گوسوامی کی پیر کی علی الصبح موت ہو گئی جب وہ مبینہ طور پر نارکاسور ہل کے ہسپتال سے چھلانگ لگا کر ہسپتال لے جا رہے تھے۔ (جی ایم سی ایچ) خون کے ٹیسٹ کے لیے، پولیس نے بتایا۔ یہ واقعہ صبح 3 بجے کے قریب پیش آیا جب گوسوامی کو ہٹاگاؤں کے علاقے سے کاہلی پارہ کے راستے جی ایم سی ایچ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس نے مبینہ طور پر حراست سے بچنے کی کوشش میں نارکاسور پہاڑیوں کے قریب پولیس کی گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور گر کر جان لیوا زخم آئے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اسے گولی نہیں لگی تھی اور اس کی موت گرنے کے بعد لگنے والے زخموں کی وجہ سے ہوئی تھی۔
اس کے بعد گوسوامی کو جی ایم سی ایچ لے جایا گیا، جہاں اسپتال کے حکام نے بتایا کہ اسے مردہ لایا گیا تھا۔ جی ایم سی ایچ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر دیبجیت چودھری نے بتایا کہ گوسوامی کو پولیس نے صبح 3:41 بجے سڑک ٹریفک حادثے کا شکار ہونے کے طور پر کیزولٹی وارڈ میں لایا تھا۔ “آج صبح 3:41 بجے، ایک روڈ مین روڈ حادثے کا شکار ہونے والے گوسوامی کو داخل کیا گیا تھا، جو کہ روڈ ٹریفک حادثے کا شکار تھا۔ جی ایم سی ایچ کے کیزولٹی وارڈ میں پولیس نے اسے مردہ حالت میں لایا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ای سی جی سمیت فوری ٹیسٹ پروٹوکول کے مطابق کیے گئے تھے، جبکہ مزید تفصیلات پوسٹ مارٹم کے بعد ہی دستیاب ہوں گی۔ جی ایم سی ایچ کے حکام نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی جانچ میں گوسوامی کے جسم پر گولی کا کوئی زخم نہیں پایا گیا تھا، اور پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے گولی لگی ہے۔ فائرنگ
چودھری نے کہا کہ جسم پر کئی ٹیٹو تھے، حالانکہ ان کے نوشتہ جات واضح طور پر پڑھنے کے قابل نہیں تھے، اور بعد میں اسے پوسٹ مارٹم کے لیے جی ایم سی ایچ کے مردہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ گوسوامی کو اس کی 25 سالہ بیوی، ریا تالقدار کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش اس ماہ کے اوائل میں گواشا پور کے علاقے میں مبینہ طور پر جوڑے کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی تھی۔ جھگڑے کے بعد مارا گیا اور گوسوامی نے اس کے بعد اس کا سر کاٹ دیا اور اسے ریفریجریٹر میں رکھا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پڑوسیوں نے بند اپارٹمنٹ سے بدبو محسوس کی اور پولیس کو اطلاع دی۔
گوسوامی نے قتل کے بعد پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کر لی تھی اور بعد میں اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے جائے وقوعہ کو دوبارہ بنایا اور فرانزک معائنے کے لیے فریج، اسلحہ، کپڑے اور موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ ملزمان نے پولیس حراست میں رہتے ہوئے عوام کے سامنے متضاد بیانات بھی دیے۔ ایک موقع پر، اس نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ اسے “کوئی پچھتاوا، کوئی معافی نہیں” ہے اور اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ جیل سے رہا ہوا تو اس شخص کو قتل کر دے گا جسے وہ اپنی بیوی کے “شوگر ڈیڈی” کے طور پر کہتے ہیں۔ گوسوامی کی موت کے ساتھ، ان کے فرار کی مبینہ کوشش اور مہلک گرنے کے حالات اب انکوائری کی ایک نئی لائن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے معائنے سے زخموں کی صحیح وجہ اور نوعیت کا تعین کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ پولس ان حالات کا بھی جائزہ لے گی جن میں گوسوامی مبینہ طور پر طبی معائنے کے لیے لے جانے کے دوران حراست سے چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
