جرم
امولیہ سے وارث پٹھان تک عجب عالم بدحواسی ہے
بنگلور میں ایک انیس سالہ لڑکی اس اسٹیج سے جہاں اسدالدین اویسی موجود تھے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی اس سے مائیک چھین لیا گیا اور ایک پولس افسر اسے گھسیٹ کر لے گیا لیکن وہ پھر کسی طرح چھوٹ کر واپس بنا مائیک کے ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگاتی ہے۔ اسے چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے اور اسے ملک سے غداری کے مقدمہ میں جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کوئی بارود کا گولا ہے کہ اس کا نام لیتے ہیں وہ پھٹ پڑے گا اور اس سے پورا ملک تباہ ہوجائے گا کہ ایک عالم بدحواسی میں سب اکٹھا ہو جاتے ہیں اور بقول رویش کمار جو افسر کبھی اپنی ذمہ داری ڈھنگ سے نہیں نبھاتا وہ بھی ایسے موقعوں کو غنیمت جان کر محب وطن ہونے کا ثبوت دینے کیلئے فورا حرکت میں آجاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد اسی کرناٹک کے دوسرے شہر میں ایک اور جلسہ میں وارث پٹھان یہ بولتے بولتے یہ کہہ جاتے ہیں سو پر پندرہ بھاری ہے۔ بس پھر کیا تھا ان کے خلاف بھی مذمت کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے اور شاید کئی پولس اسٹیشنوں میں مقدمہ بھی کردیاجاتا ہے۔ یہ دونوں ہی معاملے میں ایک چیز واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور وہ ہے عالم بدحواسی۔ کسی کو مزید کچھ نہیں کہنے دینا ہے، اس کو صفائی کا موقع بھی نہیں دینا ہے۔ امولیہ آگے اور کیا کہنا چاہتی تھی اس کی بات سننے کو کوئی راضی نہیں بس اس نے پاکستان زندہ باد کیوں کہا ؟ یہی ایک مسئلہ ہے۔ رویش کمار کے مطابق گویا ہندوستان کوئی پتہ ہے جس کا وجود پاکستان زندہ باد کہہ دینے سے ہی بکھر جائے گا۔ امولیہ نے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کسی صورت جان چھڑا کر ہندوستان زندہ باد کے بھی نعرہ لگائے اور اس کے فیس بک اکائونٹ کے مطابق اس کے ذہن میں اپنے پڑوسی ممالک کے لئے بھی زندہ باد کا نعرہ ہے محض ہندوستان ہی زندہ باد نہیں ہے اور وہ وہاں اسٹیج پر ان سبھی ممالک کیلئے زندہ باد کہنا چاہتی تھی جس کا اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا۔
وارث پٹھان کا سو پر پندرہ بھاری والا بیان غیر ضروری اور غیر حکیمانہ سہی مگر اس کیخلاف اتنی شدت نہیں آنی چاہئے کہ ان کے پتلے جلائے جائیں اور ان کے خلاف ہائے ہائے کے نعرے لگائے جائیں جبکہ ان کے سیاسی رفیق امتیاز جلیل کہا’وارث پٹھان کا یہ بیان سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کیخلاف برہمی کا اظہار ہے جو جبرا مسلمانوں پر تھوپ کر اس بیان کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے‘ میں سمجھتا ہوں امتیاز جلیل کی باتوں پر توجہ دی جانی چاہئے تھی لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ سے سوچنے کی قوت سے محروم ہوچکے ہیں۔ آج ہم اپنی حب الوطنی کو ثابت کرنے اور دوسروں (سنگھی، لبرل اور دہریہ) کو خوش کرنے کیلئے مذمت اور احتجاج یا ہائے ہائے کا نعرہ لگارہے ہیں ۔ ۲۱ ؍ فروری ۲۰۲۰ کو شام سات بجے سے ممبئی کے اسلام جمخانہ کے دیوان خاص ہال میں ’الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی، این پی آر‘ کی مہاراشٹر و ممبئی اکائی کی جانب سے رضاکاروں، ارکان اور کارکنان کیلئے تہنیتی پروگرام رکھا گیا تھا۔ جس میں کانگریس کے سابق ایم ایل اے اور اسلام جمخانہ کے موجودہ سربراہ یوسف ابراہانی نے وارث پٹھان کیخلاف ہائے ہائے کے نعرے لگوائے جبکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن مسئلہ کانگریس میں اپنی جگہ بنانے اور کچھ قوتوں کی چاپلوسی کا تھا اس لئے وہاں الائنس کے پلیٹ فارم سے ایک غیر ضروری کام کیا گیا۔ ہم نے یوسف ابراہانی کا ایک ویڈیو پیغام بھی دیکھا جس میں وہ وارث پٹھان اور مجلس اتحادالمسلمین کیخلاف عوام کو ورغلاتے نظر آرہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وارث پٹھان ہوتے کون ہیں مسلمانوں کی جانب سے قیادت کا دعویٰ کرنے والے لیکن ابراہانی خود وارث پٹھان کے بیان کے تعلق سے معافی مانگتے ہوئے خود کو پندرہ کروڑ مسلمانوں کا لیڈر قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ دونوں کی پوزیشن ایک ہی ہے۔ دونوں عوام کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ عوام سے ٹھکرایا ہوا ایک کانگریسی عوامی طور پر مسترد کئے ہوئے دوسرے شخص کو قوم کا ٹھیکیدار تسلیم نہیں کرتا لیکن پندرہ کروڑ مسلمانوں کی جانب سے معافی مانگ کر خود کو مسلمانوں کے قیادت کی دعویداری کررہا ہے۔
ایک بات واضح کردوں کہ میری نظر میں بھی وارث پٹھان کا بیان غیر ضروری اور غیر حکیمانہ ہے ۔ بس میرا کہنا یہ ہے کہ اس پر اتنی ہنگامہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹھان نے کہا آپ نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی بس۔ اس سے آگے کی تحریک یا کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کسی کے دبائو میں ضرورت سے زیادہ روادار اور محب وطن بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالات بتارہے ہیں کہ اگر آپ گرم لوہے کی سلاخ ہاتھوں میں لے کر اپنی وفاداری کا یقین دلائیں گے تو ہ طبقہ آپ کی وفاداری تسلیم نہیں کرے گا۔ اس حقیقت کے باوجود آپ کا وطیرہ بن گیا ہے کہ اتحاد کی لالچ میں وہ کرتے چلے جارہے ہیں جس کی مخالفت قوم برسوں سے کرتی آرہی ہے۔ یہاں دو مثالیں کافی ہیں جو میں الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی اینڈ این پی آر کے ذریعہ آزاد میدان میں منعقد احتجاجی اجلاس عام میں اس کے ہی ایک شریک کنوینر کی جانب سے لگائے گئے نعروں اور اس کے جواب میں مسلمانوں کی جانب مسلمانوں کا جواب دیکھا۔ الائنس کے شریک کنوینر ایڈووکیٹ راکیش راٹھوڑ نے ۱۵ ؍ فروری ۲۰۲۰ کو آزاد میدان کی احتجاجی ریلی میں بھارت ماتاکی اور وندے کے نعرے لگائے اور مسلمانوں کی جانب سے اس کا جواب بھی دیا گیا۔ حالانکہ کچھ عرصہ قبل تک مسلمان اس سے بچتا ہوا نظر آرہا تھا۔ آزاد میدان کے اس نعرے اور جگہ بجگہ سیکولر لبرل طبقہ کی جانب سے مسلمانوں کی بھیڑ سے اپنی لیڈر شپ کاشت کرنے کی فکر نے مجھے بے چین کیا ہے۔ اگر کسی کو بے چینی نہیں ہوتی میں کیا کرسکتا ہوں۔ اوروں کی طرح میں بھی ہندو مسلم اتحاد کو پسند کرتا ہوں۔ بلکہ اس سے دو قدم آگے جاکر مسلمانوں کے ساتھ تمام پسماندہ طبقات کے اتحاد کو زیادہ بہتر اور موثر سمجھتا ہوں۔ مگر اپنی قومی اور مذہبی شناخت سے سمجھوتہ کئے بغیر۔ ہم نے شیواجی کی یوم پیدائش پر مذہبی شناخت کے ساتھ شیواجی کی قد آدم مورتی پر پھول اور ہار چڑھاتے مسلمانوں کی تصویر بھی دیکھی ہے۔ سوچئے ہم اتحاد اور رواداری کی خواہش میں کہاں چلے جارہے ہیں۔ ہم انہیں یہ بات کیوں نہیں بتا سکتے کہ ہم شیواجی یا امبیڈکر سمیت اس جیسے لیڈروں کی قدر کرتے ہیں لیکن تمہاری تہذیب کے مطابق ان کی عبادت نہیں کرسکتے۔
غور کیجئے وارث پٹھان کے بیان کیخلاف بیان دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ تحریک میں ہم بڑی مشکل سے غیر مسلموں کے ساتھ اتحاد بنا پائے ہیں جسے وارث پٹھان یا کل ہند مجلس اتحاد المسلمین تباہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ صرف خوش فہمیاں ہیں جو کچھ لوگوں کے ذریعہ ہمارے درمیان پھیلائی جارہی ہے۔مجھے اپنی اس شہری ترمیم قانون یا این پی آر اور این آر سی کیخلاف تحریک میں سوائے اسٹیج کے کہیں بھی کوئی غیر مسلم دکھادیں، تو مان جائوں گا کہ آپ نے اتحاد بین المذاہب کو حاصل کرلیا۔ ہر جگہ اس بھیڑ میں انہیں تلاش کررہا ہوں مگر میری آنکھیں لوٹ آتی ہیں اور وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں جبکہ ہمیں ہر وقت یہی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ غیر مسلم بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔ جڑے تو مگر صرف لیڈر اور اسٹیج کی حد تک جیسا اوپر ذکر کیا گیا۔حالانکہ مذکورہ قانون سے مسلمانوں سے زیادہ پسماندہ طبقات کو ہی نقصان ہونے والا ہے کیوں کہ وہ لوگ بے زمین تھے اور آج بھی ایک بڑی آبادی بے زمین ہے۔ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور اسی کی بنیاد پر برہمنوں کی پروردہ موجودہ مودی حکومت دستور میں دی گئی ریزرویشن کی سہولت کو ختم کردینا چاہتی ہے۔ مگر انہیں مسلم دشمنی کی شراب اتنی پلائی گئی ہے کہ اس کا نشہ اترتا ہی نہیں۔ مسلم دشمنی کی آڑ میں انہیں اپنی تباہی نہیں دِکھ رہی ہے کہ این آر سی کے بعد ان کا وہ دور واپس آجائے گا جب انہیں اپنے پیچھے جھاڑو باندھنا اور گلے میں مٹکہ لٹکانا ہوگا۔ ان کے لیڈر انہیں یہ سمجھانے سے قاصر ہیں۔ بہتر ہے کہ یہ باتیں انہیں سمجھانے کی کوشش کریں اور اپنے درمیان کے کسی شخص سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی ہلکی پھلکی سرزنش کرکے تنہائی میں اسے سمجھائیں کہ اس نے کیا غلطی کی ہے اور اس کی یہ بات کیوں حکمت کیخلاف ہے۔ مگر مرعوبیت اور مغلوبیت یا غلامانہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے قوم کا مورال پست ہو۔ آپ لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر منظر بھوپالی کا یہ شعر ٹھیک معلوم ہوتا ہے-
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
بین الاقوامی خبریں
بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”
اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”
انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔
جرم
تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔
اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔
پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔
تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
