Connect with us
Friday,02-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

نائب صدر ونکیا نائیڈو نے دہلی میں ہنر ہاٹ کا دورہ کیا

Published

on

نائب صدر جمہوریہ ایم ونکیانائیڈو نے آج اپنی اہلیہ اوشا کے ساتھ انڈیا گیٹ کے قریب راج پتھ پر اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کی طرف سے منعقدہ 20ویں ہنر ہاٹ کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے کاریگروں، فنکاروں اور خان ساماوں سے بات چیت بھی کی۔
مسٹر ونکیا نائیڈ و دوپہر کو ہنر ہاٹ پہنچے ان کے ساتھ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی بھی موجود تھے۔ مسٹر نقوی نے مسٹر ونکیا نائیڈو اور ان کی اہلیہ کو پھول پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ مسٹر ونکیا نائیڈو اور ان کی اہلیہ کئی اسٹال پر گئے ہنرمند کاریگروں کے فن نمونے دیکھے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کچھ ہنرمندوں کے ساتھ تصاویر بھی کھینچوائی اور اسٹالوں پر کچھ پکوانوں کا مزہ بھی لیا۔ اس سے پہلے بدھ کو وزیراعظم نریندر مودی بھی ہنر ہاٹ پہنچے تھے اور لٹی چوکھا کا مزہ لیا تھا۔
’کوشل کو کام‘ تھیم پر مبنی ہنر ہاٹ کا 13فروری کو اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی، ریلوے اور تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل اور شہری ترقیات کے وزیر (آزادانہ چارج) ہردیپ سنگھ پوری نے ہنر ہاٹ کا افتتاح کیا تھا۔اس ہنر ہاٹ میں پورے ملک کے استاد دستکار، فنکار اور خانسامے حصہ لے رہے ہیں جن میں پچاس فیصد سے زیادہ خواتین دستکار شامل ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ سے میٹھی ندی گھوٹالہ بدعنوانی میں پوچھ گچھ، ای او ڈبلیو کی مسلسل باز پرس، ٹھیکہ اور رقومات منتقلی کی تفتیش

Published

on

dino-morea

ممبئی : بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ میٹھی ندی اسکینڈل کے سلسلے میں ممبئی کمشنر آفس پہنچ گئے جہاں ان سے بدعنوانی سے متعلق باز پرس جاری ہے موریہ سے گھوٹالے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ چند روز قبل میٹھی ندی اسکینڈل کی وجہ سے سرخیوں میں تھے۔ اداکار جمعہ کو اس کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کمشنر آفس پہنچے۔ میڈیا اہلکاروں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اداکار بغیر کچھ کہے سیدھے ممبئی پولیس کمشنر کے دفترمیں داخل ہو گئے۔

واضح رہے کہ ڈینو موریا سے دریائے میٹھی اسکینڈل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔ اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو ) بالی ووڈ اداکار کا بیان ریکارڈ کرے گا۔ اداکار سے پہلے بھی اس معاملے میں ای او ڈبلیو کی طرف سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔

کیا ہے سارا معاملہ؟
میٹھی ندی گھوٹالے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) شامل ہے۔ بی ایم سی نے پایا کہ اسے دریا کی دیکھ بھال، صفائی اور صفائی میں 65.54 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ جعلی ٹینڈرنگ کے بعد اس معاملے میں کیتن کدم نامی شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کیتن ڈینو کے بھائی سینٹینو روکو موریا کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انہوں نے رقم کا تبادلہ بھی کیا تھا۔ بتایا گیا کہ ڈینو موریا کے کھاتوں میں بھی رقم کا لین دین ہوا ہو گا۔ نتیجتاً، ای او ڈبلیو نے اداکار سے 26 مئی 2025 کو پوچھ گچھ کی۔ 28 مئی 2025 کو ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کی گئی۔ 12 جون 2025 کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کئی گھنٹوں تک ڈینو موریا سے پوچھ گچھ کی۔ مزید برآں، ای ڈی نے اداکار کے گھر سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ اداکار کے بھائی سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

ڈینو موریا کا کیریئر :
50 سالہ ڈینو موریا نے 1999 میں فلم ’’پیار میں کبھی کبھی‘‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ تاہم 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم “راز” سے انہیں خاصی پہچان ملی۔ اداکار نے “ہاؤس فل 5،” “ہیپی نیو ایئر،” “باز،” “اکسر”، “پلان” اور “گناہ” جیسی فلموں میں کام کیا ہے۔ وہ مقبول ویب سیریز “تانڈو ” میں بھی نظر آئے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ابھیجیت ڈپکے نے ممبئی میں گیانیش کمار کے خلاف کیا احتجاج، دہلی سے دوری کیوں اختیار کی؟ اندر کی کہانی جانیں۔

Published

on

Abhijeet-Dipke

ممبئی : الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے اندر اندرونی تقسیم اور سی ای سی گیانیش کمار کی طرف سے اونچ نیچ کے الزامات کے درمیان، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے گاندھی جینتی پر ممبئی میں “جیل بھرو آندولن” شروع کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپک نے دہلی کے جنتر منتر پر ملک کے پہلے جنرل زیڈ احتجاج کی قیادت کی، جس سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اپنے دوسرے احتجاج کے لیے سی جے پی کے ممبئی کے انتخاب نے سوال اٹھائے ہیں کہ ابھیجیت دیپک نے دہلی چھوڑ کر ممبئی جانے کا انتخاب کیوں کیا۔ سی جے پی، جو ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرتا ہے، قوم کے دوسرے احتجاج کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیپک کو شیواجی پارک میں اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف احتجاج کے دوران مثبت جواب ملا، جس سے ان کا اعتماد بڑھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ابھیجیت دیپک الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے ذریعے اپنی آبائی ریاست میں اپنی فین فالوونگ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے جولائی کے آخری ہفتے میں اپنے آبائی ضلع چھترپتی سمبھاجی نگر میں “فکس سکولز” مہم کا آغاز کیا۔ مراٹھواڑہ اور ودربھ کے پسماندہ علاقوں سے ملنے والے مثبت ردعمل نے ان کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔

پریس سے بات کرتے ہوئے، ریاست کے سینئر سیاسی تجزیہ کار ابھے دیشپانڈے نے کہا کہ شیواجی پارک میں اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف احتجاج کے دوران سی جے پی اور ڈپکے کو اچھا ردعمل ملا، جس کی حمایت شیوسینا (یو بی ٹی) اور ایم این ایس نے کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس مقام کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہو گا کہ یہ مظاہرین کے لیے آسان ہے اور تاریخی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ دیش پانڈے نے مزید کہا کہ مظاہروں کا ایک اہم بصری اثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر گرفتاریاں کی جائیں۔ یہ اتفاق ہے کہ ابھیجیت ڈپکے، جو بار بار عام آدمی پارٹی (آپ) سے جڑے ہوئے ہیں، بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں، جس طرح دہلی کے بعد اس کے کنوینر اروند کیجریوال نے لوک پال کے معاملے پر ممبئی کا رخ کیا تھا۔ سی جے پی نے ممبئی میں احتجاج کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے، حالانکہ اسے ٹھاکرے برادران کی حمایت حاصل ہے۔ اروند کیجریوال نے لوک آیکت کی تقرری کا مطالبہ کرتے ہوئے 2010 میں اپنی تحریک کے دوسرے مرحلے کے لیے ممبئی کا انتخاب کیا۔ ابھیجیت ڈپکے نے جمعرات کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں فڈنویس پر حملہ بھی کیا۔ ڈپکے نے کہا کہ فڑنویس شیواجی پارک میں ریلی کر سکتے ہیں، چیف جسٹس اس کی مخالفت کیوں نہیں کر سکتے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ مقدمہ : سپریم کورٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کیے گئے مسلم ملزمین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کے تبصروں پر روک لگا دی

Published

on

نئی دہلی : مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ سے گذشتہ ماہ ڈسچارج کیئے گئے چار ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کے خلاف بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی، اسی طرح مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف دیئے گئے ہائی کورٹ کے تبصرے کو حذف کرنے کی پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی, جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ مسلم ملزمین کے خلاف زیر سماعت اپیل پر ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے سے متاثر ہوئے بغیر سماعت کرے، مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے 9/ مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دھان سنگھ و دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی کے سامنے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن اور سادان فراست نے بحث کی۔ بم دھماکہ متاثرین اور مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے قانونی پیروی کی۔

آج دوران سماعت ایڈوکیٹ سادان فراست نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ گذشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے چار ملزمین (دھان سنگھ و دیگر) کو مقدمہ سے نا صرف ڈسچارج کردیا تھا بلکہ اپنے فیصلے میں مسلم ملزمین کے خلاف کچھ تبصرے بھی کئے تھے، یہ تبصرے مسلم ملزمین کی غیر موجودگی میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر کئے گئے تھے, لہذا عدالت بامبے ہائی کورٹ کے ان تبصروں کو حذف کرے۔ ایڈوکیٹ سادان فراست کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کیئے گئے تبصر ے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے ملزمین نورالہدی اور دیگر کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونگے اور ہائی کورٹ اپیلوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ سینئر ایڈوکیٹ سادان فراست کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف چارج فریم ہوچکا تھا۔ دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کو ہدایت دی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل اپیلوں پر اگلے ہفتہ بحث کرے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی عدالتی کارروائی پر ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے، بم دھماکہ متاثرین اور 2016/ میں مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نورالہدا، محمد علی شیخ، آصف بشیر اور محمد زاہد اور ئیس احمد نے مولانا عبدالقیوم کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جائے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں چار پٹیشن (ایس ایل پی) داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی اور مقدمہ کی موثر قانونی پیروی کے لیئے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمت حاصل کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے, اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کردی ہے, جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ 8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان