Connect with us
Thursday,23-April-2026

سیاست

کشمیری عوام کے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکتا: مختار عباس نقوی

Published

on

abbas naqvi

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کے جائیداد اور نوکریوں سے متعلق حقوق بالکل محفوظ ہیں اور ان پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شرارتی عناصر کی جانب سے غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں پشتینی باشندوں کی جائیدادوں اور نوکریوں پر دوسری ریاستوں کے لوگ قابض ہوں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
وزیر موصوف نے یہاں قومی خبر رساں ایجنسی یو این آئی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ وادی کشمیر میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں اور سبھی علاقے تیزی سے نارملسی کی طرف گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ طویل عرصے تک ترقی کے نام پر مذاق کیا گیا۔ ہم ادھورے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور یہاں ترقی یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
مختار عباس نقوی جو مرکزی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر میں شروع کردہ عوامی رابطہ مہم کے تحت منگل اور بدھ کو سری نگر میں خیمہ زن رہے، نے بتایا کہ ان کا کشمیر دورہ کافی مثبت رہا اور انہوں نے یہاں قریب دو درجن وفود سے ملاقات کرنے کے علاوہ تاریخی لال چوک کا بھی دورہ کیا۔
پانچ اگست 2019 سے نظربند علاقائی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی رہائی کے بارے میں پوچھے جانے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ مختلف ایجنسیاں صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہیں اور ان ایجنسیوں کے فیڈ بیک پر ہی باقی سیاسی لیڈران کی رہائی کے فیصلے بھی سامنے آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘مختلف ایجنسیاں صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتی ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلے لئے جاتے ہیں۔ ایجنسیوں کے فیڈ بیک پر ہی (باقی سیاسی لیڈران کی رہائی) کے فیصلے بھی سامنے آئیں گے’۔
مختار عباس نقوی نے وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘یہاں سبھی چیزیں ٹھیک ہورہی ہیں۔ مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں۔ جموں وکشمیر کے سبھی علاقے تیزی سے نارملسی کی اور بڑھ رہے ہیں’۔
وزیر موصوف نے پانچ اگست 2019 کے مرکزی حکومت کے فیصلوں، جن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعات 370 اور 35 اے منسوخ کی گئیں اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں منقسم کیا گیا، کے بعد جموں اور لداخ میں زمین اور نوکریوں کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی آوازوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کے جائیداد اور نوکریوں سے متعلق حقوق بالکل محفوظ ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں اور کشمیر – لداخ میں لیہہ اور کرگل کے لوگوں کے حقوق بالکل محفوظ ہیں۔ ان کے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکتا۔ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ یہ غلط فہمیاں شرارتی عناصر کی جانب سے پیدا کی جارہی ہیں۔ لوگوں نے افواہیں اڑائی ہیں کہ جائیدادوں پر دوسری ریاستوں کے لوگ قابض ہوں گے، ایسا کچھ ہوگا نہیں’۔
نقوی نے اس سوال کہ ‘ایسا کیوں ہے کہ عوامی رابطہ مہم کے تحت 31 وزرا جموں جارہے ہیں اور صرف پانچ وزرا کشمیر آرہے ہیں’ کے جواب میں کہا کہ ابھی شروعات ہے اور باری باری سبھی وزرا کشمیر آئیں گے۔

بزنس

عالمی منڈیوں سے ملے جلے اشارے، صارفین کے شعبے پر دباؤ کے درمیان اسٹاک مارکیٹ سرخ رنگ میں کھلا۔

Published

on

ممبئی: عالمی منڈیوں سے ملے جلے اشاروں کے درمیان جمعرات کو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سرخ رنگ میں کھلی۔ صبح 9:21 بجے، سینسیکس 625 پوائنٹس یا 0.80 فیصد گر کر 77,891 پر تھا، اور نفٹی 162 پوائنٹس یا 0.67 فیصد گر کر 24,215 پر تھا۔ صارفین کے شعبے نے ابتدائی تجارت میں مارکیٹ میں کمی کی قیادت کی۔ نفٹی کنزیومر ڈیوریبلس انڈیکس میں سب سے زیادہ خسارے میں رہا۔ اس کے علاوہ نفٹی فنانشل سروسز، نفٹی سروسز، نفٹی پرائیویٹ بینک، نفٹی پی ایس یو بینک، نفٹی آٹو، نفٹی آئی ٹی، اور نفٹی ریئلٹی بھی سرخ رنگ میں تھے۔ دریں اثنا، نفٹی فارما، نفٹی انرجی، نفٹی ہیلتھ کیئر، نفٹی انڈیا ڈیفنس، اور نفٹی پی ایس ای سبز رنگ میں تھے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی ملا جلا کاروبار ہوا۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 166 پوائنٹس یا 0.28 فیصد کم ہو کر 60,035 پر ٹریڈ کر رہا تھا، اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 7 پوائنٹس کے ساتھ معمولی اضافہ کے ساتھ 17,832 پر تھا۔

ایم اینڈ ایم، انڈیگو، ایٹرنل، ایشین پینٹس، آئی سی آئی سی آئی بینک، بجاج فائنانس، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ٹائٹن، انفوسس، بجاج فنسرو، ماروتی سوزوکی، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹرینٹ، اور ٹاٹا اسٹیل سینسیکس پیک میں خسارے میں تھے، جبکہ پاور گرڈ اور سن فارما فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ عالمی منڈیوں نے ملے جلے اشارے دکھائے۔ ٹوکیو، بنکاک، سیول، جکارتہ، ہانگ کانگ اور شنگھائی سرخ رنگ میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ بدھ کو امریکی مارکیٹیں اونچی بند ہوئیں، ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.69 فیصد اور نیس ڈیک میں 1.64 فیصد اضافہ ہوا۔ ایران-امریکہ کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بڑھنے کی وجہ سے واپسی دیکھ رہی ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران کے اس بیان کو قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جو کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت میں ممکن ہے جب امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دے۔

Continue Reading

بزنس

مضبوط ڈالر پر سونے اور چاندی کی قیمتیں 1.6 فیصد تک گر گئیں۔

Published

on

ممبئی، سونے اور چاندی کی قیمتیں جمعرات کو مضبوط ڈالر کی وجہ سے دباؤ میں ہیں اور دونوں قیمتی دھاتوں میں تقریباً 1.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر صبح 05 جون 2026 کو سونے کا معاہدہ صبح 9:56 بجے 0.36 فیصد یا 546 روپے کی کمی کے ساتھ 1,52,111 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اب تک کی ٹریڈنگ میں، سونا 1,51,719 روپے کی کم ترین سطح اور 520 روپے کی بلند ترین سطح بنا چکا ہے۔ چاندی کا معاہدہ 05 مئی 2026 کو 1.61 فیصد یا 3,987 روپے کی کمی کے ساتھ 2,44,377 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ ٹریڈنگ میں اب تک چاندی 2,42,220 روپے کی کم ترین سطح اور 2,44,730 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ کامیکس پر، سونے کی قیمت 0.68 فیصد گر کر 4,720 ڈالر فی اونس اور چاندی کی قیمت 2.43 فیصد گر کر 76 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے اور چاندی میں کمزوری کی وجہ مضبوط ڈالر انڈیکس ہے، جو 0.11 فیصد بڑھ کر 98.50 سے اوپر ٹریڈ ہوا۔ عام طور پر، جب ڈالر انڈیکس مضبوط ہوتا ہے، تو سونے اور چاندی کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈالر انڈیکس میں اضافے کی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے جس سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ ایران تنازعہ کی وجہ سے برینٹ خام تیل 1.22 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 1.36 فیصد اضافے کے ساتھ 94 ڈالر فی بیرل پر ہے۔ ڈالر انڈیکس چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی پوزیشن کو ماپتا ہے، بشمول یورو، جاپانی ین، پاؤنڈ سٹرلنگ، کینیڈین ڈالر، سویڈش کرونا، اور سوئس فرانک۔

Continue Reading

جرم

جموں و کشمیر کی خاتون کرکٹر اور اس کے دو ساتھیوں کو جنسی استحصال اور بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

Published

on

Arrest

ممبئی: ممبئی کرائم برانچ نے جموں و کشمیر ٹی 20 لیگ سے وابستہ ایک خاتون کرکٹر کو اس کے بھائی سمیت گرفتار کر لیا۔ انہیں نئی ​​دہلی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے ساتھی، الدین امتیاز وانی (22) کو سری نگر، جموں و کشمیر سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت فرخندہ خان (30) اور اس کے بھائی بازل خان (27) کے طور پر ہوئی ہے۔ کرائم برانچ کے مطابق شکایت کنندہ کولابا کا رہنے والا 28 سالہ تاجر ہے۔ 2024 میں، مغربی مضافات میں رہتے ہوئے، اس کی ملاقات فرخندہ خان سے ہوئی۔ انہوں نے موبائل چیٹس کے ذریعے ایک جان پہچان بنائی جس کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ نامناسب بات چیت شروع کی۔ بعد میں اس نے اسے اپنے ساتھی، الدین امتیاز وانی، اور اس کے بھائی، بازل خان سے ملوایا۔ پولیس کے مطابق 2024 میں فرخندہ نے مالی ضروریات کا حوالہ دیتے ہوئے شکایت کنندہ سے رقم کا مطالبہ کیا۔ جب اس نے انکار کیا تو ملزم نے دھمکی دی کہ وہ ان کی پرائیویٹ چیٹس کو پبلک کر دے گا۔ دباؤ کے تحت، شکایت کنندہ نے 30 اپریل 2024 سے 13 جنوری 2026 کے درمیان 32 بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے کل ₹ 23.61 لاکھ روپے فرخندہ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس رقم کا بڑا حصہ الدین امتیاز وانی کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ تھوڑی سی رقم فرخندہ کے والد عبدالعزیز خان کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل کی گئی۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وانی اور بازل خان نے شکایت کنندہ کو فرخندہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس کے ساتھ ڈرایا اور اسے قید سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے، شکایت کنندہ نے جنوری 2026 میں ملزم کو اضافی 40 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس معاملے میں پہلی بار اپریل 2024 میں 20،000 روپے کا لین دین ہوا تھا۔ ملزم فرخندہ، دہلی-این سی آر کے انکور وہار کی رہائشی ہے۔ الدین وانی جموں و کشمیر کے کھالا پور کا رہنے والا ہے۔ اور بازل خان جموں و کشمیر کے نورکھاو گاؤں کا رہنے والا ہے۔ شکایت کی بنیاد پر، ویسٹ ریجن سائبر پولس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 308(2)، 308(6)، 351(2)، 351(3) اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 61(2) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان