Connect with us
Friday,29-August-2025
تازہ خبریں

سیاست

جے ڈی یو کے لیڈر پرشانت کشور نے کہاکہ شاہ کو سی اے اے ۔ این آر سی کی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں تو نافذ کرکے دکھائیں

Published

on

بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے تعاون سے حکومت چل رہی جنتادل یونائٹیڈ( جے ڈی یو) کے لیڈر پرشانت کشور نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کی جسے مخالفت کرنی ہے کرے، سی اے اے واپس نہیں ہوگا پر پلٹ وار کرتے ہوئے آج کہاکہ اگر مسٹر شاہ شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے) اورقومی شہری رجسٹر( این آر سی ) کی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرتے تو اپنے وعدے کے مطابق اس قانون کو نافذ کیوں نہیں کر دیتے۔
مسٹر کشور نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر مسٹرشاہ کو چیلنج دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ” شہریوں کے عدم اتفاق کو خارج کرنا کسی بھی اچھی حکومت کی مضبوطی کا اشارہ نہیںہے ۔ اگر امت شاہ مخالفین کی پرواہ نہیں کرتے تو کیوں نہیں آگے بڑھ کر سی اے اے اور این آر سی کو اسی درمیان نافذ کر دیتے ہیں ۔ مسٹر شاہ تو پارلیمنٹ میں سی اے اے اور این آر سی نافذ کرنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔
غور طلب ہے کہ مسٹر شاہ نے منگل کو اتر پردیش کے دار الحکومت لکھنﺅ کے کتھا پارک میں سی اے اے کی حمایت میں منعقدہ عوامی تقریب میں سی اے اے کی مخالفت کر رہے اپوزیشن جماعتوں پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا تھاکہ” میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ جسے مخالفت کرنی ہے کرے لیکن سی اے اے واپس نہیں ہونے والا ہے “۔

سیاست

ممبئی مراٹھا مورچہ پرامن، سرکار مراٹھا ریزرویشن پر کمیٹی رپورٹ پر جلد فیصلہ کرے گی : دیویندر فڑنویس

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واضح کیا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن پر مہایوتی سرکار کا موقف مثبت ہے اور جلد ہی اس مسئلہ کا حل نکالا جائے گا. اس سے قبل بھی مہایوتی سرکار نے ہی مراٹھا برادری کو ۱۰ فیصد ریزرویشن فراہم کیا تھا. مراٹھا مورچہ پرامن ہے اور کئی مقامات پر راستہ روکو اندولن بھی مظاہرین نے شروع کیا تھا, لیکن بعد ازاں مظاہرین نے اسے واپس لے لیا. وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مورچہ کی اجازت ہائیکورٹ کی گائڈ لائن پر دی گئی ہے, اور جرانگے پاٹل نے بھی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن احتجاجی مظاہرہ کرے. فڑنویس نے کہا ہے کہ مراٹھا برادری کے ریزرویشن کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کمیٹی کو کابینہ کی کمیٹی کے مساوی حقوق ہے, ایسے میں کابینہ درجہ کی اس کمیٹی جلد ہی اس مسئلہ پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور کوئی فیصلہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کو لے کر سرکار کی نیت صاف ہے اور وہ مراٹھا سمیت تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرہ کی آڑ میں کچھ لوگ اپنی سیاست کر رہے ہیں, جبکہ یہ لوگ دو فرقوں میں تنازع پیدا کرنے کی بھی کوشش میں پیش پیش ہے, وہ ان کے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ادھو ٹھاکرے پر بھی فڑنویس نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پہلے وہ بتائے کہ انہوں نے مراٹھا کیلئے کیا کیا ہے؟ فڑنویس نے کہا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کیلئے مورچہ کے سبب نظام ضرور متاثر ہوا ہے, لیکن مظاہرہ پرامن ہے اور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ہی اس مورچہ کی نگرانی کی جارہی ہے اور مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ نظم و نسق کا خیال رکھیں. انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار میں مظاہرہ کرنا دستوری حق ہے اس سے کسی کو بھی محروم نہیں کیا جاسکتا, اس لئے مظاہرہ کو اجازت دیدی گئی ہے اور اب تک مظاہرہ پرامن ہے۔

Continue Reading

سیاست

پٹنہ میں راہول گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترا کا اختتام، لالو یادو اس اختتامی پروگرام میں سرگرم مشورہ دے رہے ہیں

Published

on

Rahul-&-Tejasvi

پٹنہ : راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترا پٹنہ میں اختتام پذیر ہونے جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس پروگرام میں تبدیلی کانگریس پارٹی نے کی ہے۔ لیکن سیاسی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ لالو یادو نے یہ تبدیلی کی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لالو یادو کو خبر ملی ہے کہ تیجسوی پورے سفر میں دوسرے نمبر پر آگئے ہیں۔ راہل گاندھی کی زیادہ بحث ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لالو یادو یہ برداشت نہیں کر سکتے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب لالو یادو نے تیجسوی یادو کی وجہ سے بہار میں کنہیا اور پپو یادو جیسے نوجوان لیڈروں کو پنپنے نہیں دیا تو وہ راہل گاندھی کو کیسے آگے بڑھنے دیں گے۔ ٹھیک ہے، کوئی نہیں جانتا کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔

ہوا یوں کہ جب راہل گاندھی نے 17 اگست سے بہار میں ووٹر رائٹس یاترا شروع کی تو تیجسوی یادو ارجن کے کردار میں نظر آئے۔ لیکن بعد میں تیجسوی یادو نے گاڑی چلانا شروع کر دی۔ جب یاترا آخری مرحلے پر پہنچ گئی ہے، آر جے ڈی کو لگتا ہے کہ تیجسوی یادو کو اتنا احترام نہیں مل رہا ہے جتنا انہیں اکیلے جانے پر ملتا ہے۔ اس لیے لالو یادو کے مشورے پر پٹنہ میں ہونے والی مہاگٹھ بندھن کی بڑی ریلی کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے کانگریس روڈ شو کو ترجیح دے رہی ہے۔ یکم ستمبر کو، اس کا اختتام ریاستی دارالحکومت کے تاریخی گاندھی میدان میں ریلی کے بجائے پٹنہ میں پد یاترا کے ساتھ ہونے جا رہا ہے، جیسا کہ پہلے اعلان کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پٹنہ میں ہونے والی بڑی ریلی کو لالو پرساد یادو کے مشورے کے بعد ہی منسوخ کیا گیا ہے۔

16 روزہ یاترا 17 اگست کو ساسارام ​​سے شروع ہوئی اور پولنگ والی ریاست کے 23 اضلاع سے ہوتے ہوئے 1,300 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوگی۔ یاترا کا موضوع، جس میں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور کچھ دیگر اپوزیشن آل انڈیا بلاک کے لیڈر بھی حصہ لے رہے ہیں – بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن (ای سی) اور بی جے پی کے خلاف راہول گاندھی کی طرف سے لگائے گئے ووٹ چوری کا الزام ہے۔ آر جے ڈی اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے رہنماؤں کے ساتھ، کانگریس کے سینئر ترجمان پون کھیرا نے جمعرات کو مشرقی چمپارن میں ڈھاکہ میں میڈیا کو بتایا کہ راہل کی یاترا پیر کو گاندھی میدان سے پٹنہ میں بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے تک ایک بڑے جلوس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔

کھیڑا نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ یاترا ایک مذہبی یاترا کی طرح رہی ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ اپنے ووٹ بچانے کے لیے حصہ لے رہے ہیں۔ یکم ستمبر کو اس کا اختتام پٹنہ میں ایک جلوس کے ساتھ ہوگا جس میں ہمارے لیڈر گاندھی میدان سے بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے تک مارچ کریں گے۔ یہ اختتام نہیں بلکہ ہماری جمہوریت کے تحفظ کی طرف ایک نئے سفر کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یاترا کے اختتامی جلوس میں لاکھوں لوگ شرکت کریں گے۔ کھیڑا نے دعوی کیا کہ پچھلے 10-12 سالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں پورے ملک میں تشویش ہے۔ ملک سمجھ گیا ہے کہ ان کی (بی جے پی حکومت کی) چوری نہیں چلے گی اور انہیں سزا ملنے کی ضرورت ہے، جو سب سے پہلے بہار میں دی جائے گی۔

کانگریس کیمپ نے یاترا کے اختتامی منصوبے میں تبدیلی کی وجہ پارٹی کے اس اندازہ کو قرار دیا کہ اختتامی تقریب کے دوران پٹنہ کی سڑکوں پر مارچ سے لوگوں میں ریلی سے زیادہ جوش و خروش پیدا ہوگا۔ کانگریس کے ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر ایک جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ راہل اور دیگر انڈیا بلاک لیڈران پٹنہ کی سڑکوں پر چل کر لوگوں کو ایک مضبوط پیغام دیں گے۔ ذرائع کے مطابق، چونکہ ڈی ایم کے سربراہ اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سمیت کئی اپوزیشن اتحاد کے لیڈر پہلے ہی یاترا میں شامل ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ ایک ریلی میں جمع کرنے سے زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

بہار کانگریس کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ ہمارے کچھ اتحادیوں، خاص طور پر سی پی آئی (ایم ایل) ایل نے ہمیں مشورہ دیا کہ جلسہ عام کے بجائے جلوس نکالنے سے لوگوں کو یہ سخت پیغام جائے گا کہ انڈیا بلاک ریاست کے لوگوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے کہا کہ پارٹی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آل انڈیا اتحادی پیر کی پد یاترا میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان سے بات کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پٹنہ میں ہونے والی پد یاترا میں آل انڈیا پارٹیوں کے نمائندے حصہ لیں گے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی شہر مفلوج شہری بے حال، مراٹھا مورچہ کے سبب شہر کا نظام ٹھپ، شہر میں جرانگے پاٹل کا اعلان جب تک مطالبہ پورا نہیں ہوگا احتجاج جاری رہے گا

Published

on

marathi-morcha

ممبئی شہر کو مراٹھوں نے اس وقت یرغمال بنایا جب گزشتہ شب سے ہی مراٹھوں کی آمد ممبئی میں مراٹھا مورچہ کے سبب ہوئی یہاں سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشن بھی مراٹھا مظاہرین سے پوری طرح فل تھا, یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی. گزشتہ شب سے جاری موسلادھار بارش اور مراٹھا مورچہ کے سبب ممبئی شہر کی عام شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ٹرینوں کی آمدورفت اور ذرائع نقل و حمل بھی مورچہ کے سبب متاثر ہو کر رہ گیا. ممبئی شہر مورچہ کی وجہ سے ٹھپ ہو گیا, ممبئی سی ایس ٹی پر صبح جرانگے پاٹل کو استقبال ہوا اور یہاں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے جرانگے پاٹل نے کہا کہ جب تک مراٹھوں کو آرکشن یعنی ریزرویشن فراہم نہیں ہوتا وہ تحریک جاری رکھیں. مراٹھا مورچہ اور گنپتی اتسو کے پیش نظر پولس نے خصوصی انتظامات کیے تھے, لیکن مورچہ کے سبب سی ایس ٹی کی سڑکیں بند کر دی گئیں. اتنا ہی ریلوے اسٹیشنوں پر بھی بے قابو بھیڑ نے شہریوں کے لئے پریشانیاں کھڑی کردی. ممبئی پولس نے مشروط اجازت دی تھی, لیکن پانچ ہزار سے زائد مظاہرین آزاد میدان میں داخل ہوگئے, پورا میدان سروں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں تبدیل ہو گیا. ایک مراٹھا لاکھ مراٹھا کے نعروں سے آزاد میدان گونج اٹھا. جرانگے پاٹل نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ریزرویشن کی فراہمی اور سرکار کو اپنا وعدہ یاد دلایا ہے. انہوں نے کہا کہ سرکار نے اب تک وعدہ وفا نہیں کیا ہے, اس لئے انہیں ممبئی کوچ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے, انہوں نے کہا کہ وہ مراٹھوں کے حق کے لیے اپنی تحریک جاری رکھیں گے, پسماندہ طبقات کے ریزرویشن میں مراٹھا برادری کو بھی شامل کئے جانے سے پسماندہ طبقات کی ناراضگی کا خوف بھی سرکار کو ہے, لیکن جرانگے پاٹل بضد ہے کہ جب تک مطالبات منظور نہیں ہوتے وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں ان کے مظاہرہ کو ایک ۶ بجے تک ہی اجازت دی گئی ہے, لیکن جس طرح سے بے قابو بھیڑ ممبئی شہر کو یرغمال بنا رہی تھی اس سے عام شہریوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا. ممبئی میں بارش کا زور بھی جاری ہے اور مورچہ نے ممبئی کی رفتار پر بریک لگا دیا, ایسی صورتحال میں نظم و نسق کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے. مراٹھا مورچہ کے سبب ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے، نئی ممبئی، تھانہ اور اطراف کی سڑکیں جام ہے. ٹریفک روٹ میں بھی مورچہ کے سبب تبدیلی کی گئی لیکن یہ بھی ناکام ثابت ہوا. ممبئی شہر میں جوق درجوق مراٹھا مظاہرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے. ایسے میں جرانگے پاٹل کی حمایت میں ممبئی شہر سے بھی مراٹھا سماج آزاد میدان پہنچا ہے. جرانگے پاٹل نے کہا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال اس وقت جاری رکھیں گے جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے. انہوں نے مہایوتی سرکار کو بھی مراٹھوں کو ریزرویشن کی محرومی پر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سرکار مرا ٹھا برادری کو ریزرویشن دینے میں اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے. اسلئے احتجاج کی ضرورت پیش آئی ہے۔ مراٹھا مورچہ کے سبب ممبئی شہر پوری طرح سے یرغمال بن گیا اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ عام شہری نظام بارش اور مورچہ کے سبب درہم برہم ہو گیا ہے اتنا ہی نہیں سڑکیں بھی بند کر دی گئیں جس سے عوام بے حال ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com