Connect with us
Tuesday,29-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

بھیونڈی میں این آر سی کی مخالفت میں منعقد سنودھان بچاؤ سمیلن میں تقریباً 3 لاکھ لوگوں نے شرکت کی

Published

on

(فہیم انصاری)
شہریت ترمیمی قانون،این آر پی اور این آر سی کے خلاف تاریخی احتجاجی جلسئہ عام منعقد ہوا جس میں تقریباً 3 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین نے شرکت کرکے اس سیاہ قانون کے خلاف شدید ناراضگی کااظہار کیا۔ صنعتی شہر کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا جب دھوبی تالاب اسٹیڈیم میں لاتعداد انسانی سروں سے بھر گیا۔ عالم یہ تھا کہ اسٹیڈیم کے اندراور باہر کوئی جگہ باقی نہیں رہی تو اس سے ملحق سڑکوں پر تاحد نظر مرد اور خواتین کھڑے نظرآرہے تھے۔ ہجوم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسٹیڈیم کے مشرق،مغرب،شما ل اور جنوب میں واقع سڑکوں پر ہجوم کا ہجوم کھڑا ہوکر اندر داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ اورکامیاب نہ ہونے کی صورت میں جو جہاں تھا وہیں سے کھڑے ہوکر اپنا احتجاج درج کروارہا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی اسٹیڈیم کے پاس پڑوس کی عمارتوں کی بالکنیوں اور چھتوں پر بھی لوگوں کاہجوم تھا۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں ترنگا اور آئین ساز ڈاکٹر بابا صاحب امیڈکر کی تصویر لئے ہوئے تھے۔
مرکزی حکومت کے اس سیاہ قانون کے خلاف صنعتی شہر میں پہلی مرتبہ لاکھوں کی تعداد میں خواتین نے بھی بینر پوسٹر لیکر اس احتجاجی جلسہ میں شامل ہوئیں۔ خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ جس جوش اور جذبے کے ساتھ بیٹھیں تھیں وہ قابل تعریف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ منتظمین کی جانب سے جلسہ کاآغاز دوپہر تین بجے کیا گیا تھا لیکن خواتین کے جوش کا یہ عالم تھا کہ وہ دوپہر 2 بجے سے ہی اسٹیڈیم میں پہنچ گئیں تھیں۔ پولیس نے احتیاطی طور پراسٹیڈیم کے اطراف تقریباً ایک کلومیٹر کے اندرکی سڑکوں کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیاتھا۔ اور اس پورے احتجاج کو ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جارہی تھی۔ اسی کے ساتھ پولیس نے اسٹیڈیم میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کرنے کے ساتھ ہی میٹل ڈیٹیکٹر، پولیس اسنیپرس تعینات کیا گیا تھا۔
اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے سوراج انڈیا پارٹی کے صدر اور معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو نے کہا کہ ہندو اور مسلمان اس ملک کے تانے بانے ہیں دونوں کو جوڑ کر ہی ملک بھارت بن سکتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کے کپڑے والے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف ٹوپی اور حجاب ہی نظر آتا ہے لیکن انہیں ترنگا نظرنہیں آتا جو ہر احتجاج میں لہرارہا ہے۔ اگر ان کی جگہ کوئی دوسرا وزیر اعظم ہوتا تو وہ اس پر فخرکااظہار کرتا۔انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں خواتین کا سب سے اہم کردارکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جو سب سے طاقت ور تصویر نکل کر آئی ہے وہ لڑکیوں کی ہے جن کے احتجاج نے اس آندولن کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس احتجاج میں اس لئے شامل ہوں کہ آنے وای نسلیں جب مجھ سے سوال کریں گی کہ 2020 میں ملک میں ایک سیاہ قانون بنایا گیا تھا اس وقت اپ کہاں تھے تو میں یہ کہہ سکونگا کہ میں اس کے خلاف احتجاج میں شامل تھا۔انہوں نے این پی آر کو این آر سی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ این آر سی کی ابتدائی کڑی ہے اس لئے ہمیں این پی آر کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔انہوں نے نعرہ لگایا کہ وہ توڑیں گے ہم جوڑیں گے۔ جس پر مجمع نے ان کا ساتھ دیا۔
اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کابینی وزیر جتیندر اوہاڑ نے لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کیرلا اور پنجاب نے اس سیاہ قانون کے خلاف اسمبلی میں قرار داد منظور کرکے اسے اپنی ریاستوں میں نافذ نہ کرنے کااعلان کیا ہے اسی طرح ہم بھی اسے مہاراشٹر میں نافذ نہیں کریں گے۔ جیتندر اوہاڑ نے ملک میں طلباء کے ذریعہ ہورہے تحریک کو موثر اور ملک میں تبدیلی لانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ۴۷۹۱ء میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ وہ اندرا گاندھی کے خلاف منہ کھولے لیکن گجرات اور پٹنہ سے جب طلباء کا احتجاج شروع ہوا تو ۷۷۹۱ء میں اندرا گاندھی کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی یہ غلطی انہیں بہت بھاری پڑنے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی احتجاج کی شروعات تھانے شہر سے ہوتی ہے اور اس معاملے میں بھی سب سے پہلے ہم نے تھانہ میں وزیر اعظم کا پتلا نذر آتش کیا تھا۔
سابق جج جسٹس بی جے کولسے پاٹل نے آر ایس ایس کو ملک کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی اور شاہ آر ایس ایس کے دلال ہیں اور یہ دونوں غنڈے جھوٹ کے پلندے ہیں۔انہوں نے دھارا ۰۷۳/،این پی آر اور این آر سی کو لیکر کہا کہ مسلمانوں کے خاف ہی نہیں ایس ٹی ایس سی دلت پسماندہ ذاتوں کو نشانہ بنانے کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے صرف مسلمان ایک بہانہ ہے باقی ہم سب نشانہ ہیں۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس کے عہدے کو لیکر بھی شدید تنقید کی۔
جے این یو کے طلبہ یونین کے رہنما عمر خالد نے اسٹیڈیم میں کثیر تعداد میں خواتین کی موجودگی پر کہا کہ گھروں میں رہنے والی خوتین اس سیاہ قانون کو لیکر سڑکوں پر مردوں سے زیادہ تعداد میں اُتر کر احتجاج کررہی ہیں اس لئے اب اس سرکار کا رہنا مشکل ہے انہوں نے شاہین باغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے حامی کہہ رہے ہیں کہ شاہین باغ میں پیسے لیکر احتجاج کیا جارہا ہے جس کے جواب میں ان خواتین نے کہا کہ وزیر اعظم لاکھوں روپے ہم سے لے لیں اور ایک رات یہاں گزاریں۔ عمر خالد نے کہا کہ جس طرح بابا صاحب نے منو اسرتی کو جلایا تھا اسی طرح اس بار ملک میں آئین کو ماننے والے منو اسمرتی کو جلائیں گے۔انہوں نے نعرہ لگایا کہ تم منو اسمرتی کی بات کرو ہم آئین کی بات کریں گے۔ سیاہ قانون کے خلاف استعفیٰ دینے والے عبدالرحمان(آئی پی ایس)، مجتبیٰ فاروق،میڈیکل کی طالبہ عنیزہ شیخ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم صلاح احمد صابری،جامعیہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹرمحمد کامران،شبیر انصاری،کامریڈ وجئے کامبلے،ایڈوکیٹ کرن چنے،فاضل انصاری نے بھی خطاب کیا تھا۔اس موقع پر آپریشن مکت بھیونڈی کے صدر ڈاکٹر شفیق صدیقی کی رہنمائی میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ جس میں ڈاکٹر شاہد اختر، ڈاکٹر شکیل اختر محمد یونس انصاری، ڈاکٹر اشد شیخ، ڈاکٹر ساد انصاری، ڈاکٹر توصیف، ڈاکٹر حبیب انصاری، ڈاکٹر شکیلہ انصاری، ڈاکٹر نسرین،ڈاکٹر فرزانہ خان،ڈاکٹر نصرت ابو ذر دخنی،اور معاون ساتھیوں میں پروفیسر فوزیہ انصاری، محمود جاٹو،شہاب خان وغیرہ بھی شامل تھے ۔اسی طرح خاتون بی نرسنگ ہوم،المعین نر سنگ ہوم نے بھی اپنی خدمات پیش کیں ۔اس سنودھان سمیلن کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد علی نے بخوبی انجام دیا ۔مذکورہ سمیلن کو کامیاب بنانے کے لئے ایڈووکیٹ کرن چنے،کامریڈ وجئے کامبلے، فاضل انصاری، مفتی محمد حذیفہ،مولانا اوصاف فلاحی، انجینئر شمیم درراج کامنکر،مولانا امتیاز فلاحی، سلیم بولنجکر ، شہیر مومن وغیرہ نے ہرممکن کوشش کی ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان