(جنرل (عام
بھیونڈی میں این آر سی کی مخالفت میں منعقد سنودھان بچاؤ سمیلن میں تقریباً 3 لاکھ لوگوں نے شرکت کی
(فہیم انصاری)
شہریت ترمیمی قانون،این آر پی اور این آر سی کے خلاف تاریخی احتجاجی جلسئہ عام منعقد ہوا جس میں تقریباً 3 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین نے شرکت کرکے اس سیاہ قانون کے خلاف شدید ناراضگی کااظہار کیا۔ صنعتی شہر کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا جب دھوبی تالاب اسٹیڈیم میں لاتعداد انسانی سروں سے بھر گیا۔ عالم یہ تھا کہ اسٹیڈیم کے اندراور باہر کوئی جگہ باقی نہیں رہی تو اس سے ملحق سڑکوں پر تاحد نظر مرد اور خواتین کھڑے نظرآرہے تھے۔ ہجوم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسٹیڈیم کے مشرق،مغرب،شما ل اور جنوب میں واقع سڑکوں پر ہجوم کا ہجوم کھڑا ہوکر اندر داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ اورکامیاب نہ ہونے کی صورت میں جو جہاں تھا وہیں سے کھڑے ہوکر اپنا احتجاج درج کروارہا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی اسٹیڈیم کے پاس پڑوس کی عمارتوں کی بالکنیوں اور چھتوں پر بھی لوگوں کاہجوم تھا۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں ترنگا اور آئین ساز ڈاکٹر بابا صاحب امیڈکر کی تصویر لئے ہوئے تھے۔
مرکزی حکومت کے اس سیاہ قانون کے خلاف صنعتی شہر میں پہلی مرتبہ لاکھوں کی تعداد میں خواتین نے بھی بینر پوسٹر لیکر اس احتجاجی جلسہ میں شامل ہوئیں۔ خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ جس جوش اور جذبے کے ساتھ بیٹھیں تھیں وہ قابل تعریف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ منتظمین کی جانب سے جلسہ کاآغاز دوپہر تین بجے کیا گیا تھا لیکن خواتین کے جوش کا یہ عالم تھا کہ وہ دوپہر 2 بجے سے ہی اسٹیڈیم میں پہنچ گئیں تھیں۔ پولیس نے احتیاطی طور پراسٹیڈیم کے اطراف تقریباً ایک کلومیٹر کے اندرکی سڑکوں کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیاتھا۔ اور اس پورے احتجاج کو ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جارہی تھی۔ اسی کے ساتھ پولیس نے اسٹیڈیم میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کرنے کے ساتھ ہی میٹل ڈیٹیکٹر، پولیس اسنیپرس تعینات کیا گیا تھا۔
اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے سوراج انڈیا پارٹی کے صدر اور معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو نے کہا کہ ہندو اور مسلمان اس ملک کے تانے بانے ہیں دونوں کو جوڑ کر ہی ملک بھارت بن سکتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کے کپڑے والے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف ٹوپی اور حجاب ہی نظر آتا ہے لیکن انہیں ترنگا نظرنہیں آتا جو ہر احتجاج میں لہرارہا ہے۔ اگر ان کی جگہ کوئی دوسرا وزیر اعظم ہوتا تو وہ اس پر فخرکااظہار کرتا۔انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں خواتین کا سب سے اہم کردارکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جو سب سے طاقت ور تصویر نکل کر آئی ہے وہ لڑکیوں کی ہے جن کے احتجاج نے اس آندولن کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس احتجاج میں اس لئے شامل ہوں کہ آنے وای نسلیں جب مجھ سے سوال کریں گی کہ 2020 میں ملک میں ایک سیاہ قانون بنایا گیا تھا اس وقت اپ کہاں تھے تو میں یہ کہہ سکونگا کہ میں اس کے خلاف احتجاج میں شامل تھا۔انہوں نے این پی آر کو این آر سی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ این آر سی کی ابتدائی کڑی ہے اس لئے ہمیں این پی آر کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔انہوں نے نعرہ لگایا کہ وہ توڑیں گے ہم جوڑیں گے۔ جس پر مجمع نے ان کا ساتھ دیا۔
اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کابینی وزیر جتیندر اوہاڑ نے لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کیرلا اور پنجاب نے اس سیاہ قانون کے خلاف اسمبلی میں قرار داد منظور کرکے اسے اپنی ریاستوں میں نافذ نہ کرنے کااعلان کیا ہے اسی طرح ہم بھی اسے مہاراشٹر میں نافذ نہیں کریں گے۔ جیتندر اوہاڑ نے ملک میں طلباء کے ذریعہ ہورہے تحریک کو موثر اور ملک میں تبدیلی لانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ۴۷۹۱ء میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ وہ اندرا گاندھی کے خلاف منہ کھولے لیکن گجرات اور پٹنہ سے جب طلباء کا احتجاج شروع ہوا تو ۷۷۹۱ء میں اندرا گاندھی کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی یہ غلطی انہیں بہت بھاری پڑنے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی احتجاج کی شروعات تھانے شہر سے ہوتی ہے اور اس معاملے میں بھی سب سے پہلے ہم نے تھانہ میں وزیر اعظم کا پتلا نذر آتش کیا تھا۔
سابق جج جسٹس بی جے کولسے پاٹل نے آر ایس ایس کو ملک کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی اور شاہ آر ایس ایس کے دلال ہیں اور یہ دونوں غنڈے جھوٹ کے پلندے ہیں۔انہوں نے دھارا ۰۷۳/،این پی آر اور این آر سی کو لیکر کہا کہ مسلمانوں کے خاف ہی نہیں ایس ٹی ایس سی دلت پسماندہ ذاتوں کو نشانہ بنانے کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے صرف مسلمان ایک بہانہ ہے باقی ہم سب نشانہ ہیں۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس کے عہدے کو لیکر بھی شدید تنقید کی۔
جے این یو کے طلبہ یونین کے رہنما عمر خالد نے اسٹیڈیم میں کثیر تعداد میں خواتین کی موجودگی پر کہا کہ گھروں میں رہنے والی خوتین اس سیاہ قانون کو لیکر سڑکوں پر مردوں سے زیادہ تعداد میں اُتر کر احتجاج کررہی ہیں اس لئے اب اس سرکار کا رہنا مشکل ہے انہوں نے شاہین باغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے حامی کہہ رہے ہیں کہ شاہین باغ میں پیسے لیکر احتجاج کیا جارہا ہے جس کے جواب میں ان خواتین نے کہا کہ وزیر اعظم لاکھوں روپے ہم سے لے لیں اور ایک رات یہاں گزاریں۔ عمر خالد نے کہا کہ جس طرح بابا صاحب نے منو اسرتی کو جلایا تھا اسی طرح اس بار ملک میں آئین کو ماننے والے منو اسمرتی کو جلائیں گے۔انہوں نے نعرہ لگایا کہ تم منو اسمرتی کی بات کرو ہم آئین کی بات کریں گے۔ سیاہ قانون کے خلاف استعفیٰ دینے والے عبدالرحمان(آئی پی ایس)، مجتبیٰ فاروق،میڈیکل کی طالبہ عنیزہ شیخ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم صلاح احمد صابری،جامعیہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹرمحمد کامران،شبیر انصاری،کامریڈ وجئے کامبلے،ایڈوکیٹ کرن چنے،فاضل انصاری نے بھی خطاب کیا تھا۔اس موقع پر آپریشن مکت بھیونڈی کے صدر ڈاکٹر شفیق صدیقی کی رہنمائی میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ جس میں ڈاکٹر شاہد اختر، ڈاکٹر شکیل اختر محمد یونس انصاری، ڈاکٹر اشد شیخ، ڈاکٹر ساد انصاری، ڈاکٹر توصیف، ڈاکٹر حبیب انصاری، ڈاکٹر شکیلہ انصاری، ڈاکٹر نسرین،ڈاکٹر فرزانہ خان،ڈاکٹر نصرت ابو ذر دخنی،اور معاون ساتھیوں میں پروفیسر فوزیہ انصاری، محمود جاٹو،شہاب خان وغیرہ بھی شامل تھے ۔اسی طرح خاتون بی نرسنگ ہوم،المعین نر سنگ ہوم نے بھی اپنی خدمات پیش کیں ۔اس سنودھان سمیلن کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد علی نے بخوبی انجام دیا ۔مذکورہ سمیلن کو کامیاب بنانے کے لئے ایڈووکیٹ کرن چنے،کامریڈ وجئے کامبلے، فاضل انصاری، مفتی محمد حذیفہ،مولانا اوصاف فلاحی، انجینئر شمیم درراج کامنکر،مولانا امتیاز فلاحی، سلیم بولنجکر ، شہیر مومن وغیرہ نے ہرممکن کوشش کی ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر
نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔
رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
