Connect with us
Thursday,16-April-2026

جرم

اے ایم یو طلبا یونین کے سابق عہدیداروں کا طلبا پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Published

on

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو کے طلبا پر ظلم ڈھانے والے پولیس اہلکاروں اور اے بی وی پی کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق عہدیداران نے آج کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس میں ان یونیورسٹیوں میں ظلم اور بربریت کے لئے حکومت اور پولیس کو ذمہ دار قرار دیا۔
مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں اور سابق ممبر پارلیمنٹ و سابق صدر مسلم یونیورسٹی طلبا یونین محمد ادیب نے کہا کہ حکومت طلبا کے جمہوری حقوق کو طاقت کے زور پر کچلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مظالم وہیں ہوئے ہیں جہاں بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے اور حکومت کی ہدایت پر وہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر پولیس نے یلغار کی، ہوسٹل میں آگ لگائی، پولیس نے گاڑیاں توڑیں، طلبا کو گرفتار کرکے ان کی ہڈیاں توڑیں، اسی طرح دہلی میں جہاں پولیس براہ راست وزیر داخلہ امیت شاہ کے ماتحت ہے، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی طلبا پر پولیس حملہ آور ہوئی، لائبریری میں توڑ پھوڑ کی۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بھی طلبا اور اساتذہ پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعے قاتلانہ حملے کرائے گئے اور آج تک کسی بھی غنڈے کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹڑ بصیر احمد خاں نے کہا کہ ڈنڈے اور لوہے کی راڈ لیکر بڑی تعداد میں غنڈے یونیورسٹی میں داخل ہوئے جس میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے لڑکے اور لڑکیوں کی پہچان بھی ہوچکی ہے لیکن پولیس ان کو پکڑنے کی بجائے الٹا وہاں کی طلبا یونین کی صدر کو ملزم بنارہی ہے۔ جبکہ اسے شدید طور سے زخمی کیا گیا تھا۔
یہی نہیں بلکہ تشدد ان ریاستوں میں ہوا جہاں بی جے پی سرکار ہے۔ یو پی میں دو درجن لوگ شہید کئے گئے اور کرناٹک میں تین۔ پورے ملک میں کروڑوں لوگ مظاہرہ کررہے ہیں لیکن گولیاں صرف بی جے پی حکومت میں چلائی گئیں۔
محمد ادیب نے کہا کہ حکومت ان یونیورسٹیوں میں ہوئے نقصان کا معاوضہ ادا کرے اور قصورواروں پولیس اہلکاروں اور غنڈوں کے خلاف کارروائی کرے۔ طلبا اپنا ایجی ٹیشن سی اے اے ، این آر سی اور آبادی رجسٹر کے خلاف پرامن طور سے جاری رکھیں گے۔ پروفیسر بصیر احمد خاں نے کہا کہ علی گڑھ کے ایک بی جے پی لیڈر نے تقریر میں کہا کہ مودی اور یوگی مردہ باد جو کہے گا اسے میں زندہ دفن کردوں گا۔ اسی طرح بنگال بی جے پی صدر گھوش نے کہا کہ ہم نے بی جے پی حکومت میں مظاہرہ کرنے والوں کو کتوں کی طرح مارا اور الٹا ان پر ہی مقدمات قائم کردیئے۔ ان بیانات سے سنگھ پریوار کی ذہنیت اور ان کے سنسکار کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں لیڈروں نے کہا کہ وائس چانسلر کو طلبا کا اعتماد جیتنا چاہئے اور یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے طلبا اور شاہین باغ کی بہادر خواتین کے جذبے کو سراہتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

جرم

ممبئی کنسرٹ ڈرگ اوور ڈوز کیس : ملزم کو عدالت میں کیا گیا پیش اور اب پولیس کی تحویل میں

Published

on

منشیات کی زیادہ مقدار کے معاملے میں ایک اہم تازہ کاری سامنے آئی ہے جو ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی کے گوریگاؤں ایسٹ میں نیسکو کمپلیکس میں ایک لائیو کنسرٹ کے دوران سامنے آیا۔ اس سنسنی خیز معاملے میں گرفتار تمام چھ ملزمان کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل مانگی ہے۔ ونرائی پولیس نے مرکزی منتظم آکاش سمل عرف ویہان کے ساتھ ونود جین، پراتک پانڈے، آنند پٹیل، راونک کھنڈیلوال اور بال کرشنا کوروپ کو عدالت میں پیش کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک اوور ڈوز کے واقعے تک محدود نہیں ہے، بلکہ منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک پر شبہ ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اتنی بڑی مقدار میں منشیات کنسرٹ جیسے بڑے ایونٹ تک کیسے پہنچی اور اس میں کون کون ملوث تھے۔ تفتیشی ایجنسیاں اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہیں کہ آیا یہ کسی منظم گینگ کا کام ہے۔ پولیس حکام کے مطابق کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تفتیش تیز کردی گئی ہے، آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ اس وقت عدالتی سماعت جاری ہے، اور سب کی نظریں عدالت کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک دو طالب علم جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس واقعے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس کے مطابق 11 اپریل کو گوریگاؤں کے نیسکو گراؤنڈز میں منعقدہ ایک کنسرٹ میں کالج کے کئی طلباء نے شرکت کی۔ کنسرٹ کے دوران، کچھ طالب علموں نے منشیات کا استعمال کیا ہو سکتا ہے. تاہم یہ ممکنہ طور پر فرانزک رپورٹ کے بعد واضح ہو سکے گا۔ پیر کو تقریباً 12 بجے، طالب علموں کو سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے قریبی ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا۔ دو طالب علم دوران علاج دم توڑ گئے۔

Continue Reading

جرم

گوریگاؤں منشیات کیس : پولیس نے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا، اب تک سات گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی کے گوریگاؤں میں نیسکو سینٹر میں لائیو کنسرٹ کے دوران دو طالب علموں کی منشیات کی زیادتی سے موت کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پولیس مسلسل نئے انکشافات کر رہی ہے۔ ونرائی پولیس نے اس معاملے میں ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی اب تک کل سات افراد کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔ یہ ساتواں مشتبہ مبینہ طور پر منشیات کی سپلائی کرنے والے ایک سنڈیکیٹ سے وابستہ ہے اور وہ بڑی تقریبات اور لائیو کنسرٹس میں منشیات کی فراہمی کا ذمہ دار تھا۔ پولیس اب بھی مرکزی ملزم کی تلاش میں ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ گینگ انتہائی منصوبہ بند طریقے سے کام کرتا تھا۔ منشیات کو پہلے بیرونی علاقوں سے ممبئی لایا جاتا تھا اور پھر مختلف ذرائع سے کنسرٹس اور پارٹیوں جیسے بڑے پروگراموں میں پہنچایا جاتا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کلیان سے ممبئی تک قلیوں کے ذریعے منشیات لے جایا جاتا تھا اور پھر طلباء اور نوجوانوں کو فروخت کیا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق 10 اپریل کو نیسکو سینٹر میں ہونے والے کنسرٹ سے صرف ایک روز قبل ایم ڈی ایم اے کی ادویات سپلائی کی گئیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ دو طالب علموں کی موت اس دوا کی زیادہ مقدار لینے سے ہوئی ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے کنسرٹ میں موجود افراد سے بھی تفتیش شروع کردی ہے۔ کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی تقریب میں منشیات کیسے پہنچی اور سیکورٹی میں کوتاہی کہاں ہوئی۔ ونرائی پولیس نے بدھ کی رات دیر گئے اس نئے ملزم کو گرفتار کیا اور جمعرات کو اسے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پورا نیٹ ورک کافی بڑا ہے اور اس میں مزید لوگ ملوث ہو سکتے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی طالب علم کی موت کا معاملہ : ایم ڈی ایم اے گولیاں سپلائی کرنے کے الزام میں کلیان سے ایک شخص گرفتار

Published

on

ممبئی میں ایک کنسرٹ کے دوران ایم بی اے کے دو طالب علموں کی منشیات کی زیادہ مقدار سے موت کے معاملے میں پولیس نے اہم پیش رفت کی ہے۔ ونرائی پولیس کے مطابق اس کیس کے سلسلے میں کالج کے ایک طالب علم کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے متوفی طلباء کو ایم ڈی ایم اے گولیاں فراہم کی تھیں۔ ممبئی پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم طالب علم نے دو متوفی طلبہ کو 1600 روپے فی گولی کے حساب سے منشیات فروخت کیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں طالب علموں نے مجموعی طور پر چار گولیاں کھائیں، جس کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ دم توڑ گئے۔ اس معاملے کے ایک اور ملزم کو بھی کلیان میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس ملزم نے کالج کی طالبہ کو چھ سے سات ایم ڈی ایم اے گولیاں فراہم کیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم طالب علم نے باقی گولیاں اپنے گروپ کے دیگر افراد کو دی ہوں گی یا خود استعمال کی ہوں گی۔ اس زاویے سے بھی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں مزید لوگ ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے پانچ سے چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، اور دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

فی الحال، پولیس پورے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے اور منشیات کی سپلائی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ممبئی کے گورگاؤں ایسٹ میں ایک میوزک کنسرٹ کے دوران ایم بی اے کے دو طالب علم مبینہ طور پر منشیات کی زیادتی سے ہلاک ہو گئے۔ ممبئی پولیس کے مطابق یہ واقعہ 11 اپریل کو ایک میوزک پروگرام کے دوران پیش آیا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ممبئی کے ایک ممتاز کالج کے تقریباً 15 سے 16 طلباء نے اس تقریب میں شرکت کی۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرنے والے طالب علموں میں سے ایک نے پنڈال کی طرف سفر کے دوران ٹیکسی میں ایکسٹیسی گولی کھائی اور بعد میں کنسرٹ کے دوران دوسری گولی کھائی۔ ڈاکٹروں نے زیادہ مقدار کی تصدیق کی ہے۔ دوسرے طالب علم کی موت کا تعلق بھی منشیات سے بتایا جاتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ دونوں طالب علموں نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی سپلائی چین اور اس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے اب پورے نیٹ ورک کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان