Connect with us
Monday,03-August-2026

سیاست

سی اے اے کے نفاذ کے بعد شہر مالیگاؤں کے سرکردہ افراد سے ممبئی پریس رپورٹر وفا ناہید کی گفتگو

Published

on

ہمیں ہمت نہیں ہارنا ہے بلکہ ہمارے اکابرین کو راستہ بتائیں گے , ہم وہ راستہ اختیار کریں گے. مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی. مرکز کی بی جے پی قیادت والی مودی سرکار نے بالاخر کل مورخہ 10 جنوری 2020 , بروز جمعہ کو CAA نافذ کرکے کروڑوں ہندوستانیوں کو مایوس کردیا.آج لگاتار 2 ماہ سے سی اے اے اور این آر سی کے خلا ف ملک گیر پیمانے پر احتجاج جاری تھے. مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر شامل تھیں. دہلی کی جامعہ یونیورسٹی , جے این یو پر پولس کے تشدد اور بربریت کے ثابت کردیا تھا کہ مودی سرکار ہر حال میں اس کالے قانون کو عوام کے سر منڈھنا چاہتی ہے. ان سب کے باوجود سی اے اے کے نفاذ سے عوام سکتے میں ہیں. آسام , ہماچل پردیش اور میزورم جیسی کچھ ریاستوں کو چھوڑ کر پورے ہندوستان میں اس قانون کا نفاذ عمل میں آیا ہے. ایسے کٹھن حالات میں جب کہ ابھی تک عوامل احتجاج جاری ہے. نمائندے نے شہر عزیز کے ان سرکردہ افراد سے جو کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف میدان عمل میں تحریک چھیڑ کر اس کالے قانون کو رد کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں سے بات کی. جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے.
مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی : (رکن اسمبلی) مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی کی سرپرستی میں پچھلے دنوں دستور بچاؤ کمیٹی کے زیر اہتمام خواتین کی پرامن ریلی نکال کر سی اے اے اور این آر سی کے خلا ف احتجاج درج کرایا گیا تھا. مفتی صاحب نے ممبئی پریس کو بتایا کہ تحریک جاری رہے گی. کیا رزلٹ آتا ہے وہ تو دیکھیں گے لیکن ایسے مایوسی کے ہمت پارکر کے میدان چھوڑ دینا مناسب نہیں ہے. سرکار بھی بہت دباؤ میں ہے. ان کو جو قدم اٹھانا تھا وہ اٹھائے. کل کے اخبار میں تھا کہ سپریم کورٹ حالت یہ ڈیمانڈ کی گئی تھی کہ اس کو آئینی درجہ دیا جائے. اب ظاہر بات ہے کہ آئینی درجہ دیا جائے یا نہیں دیا جائے. یہ سپریم کورٹ کا اختیار نہیں ہے . بلکہ سپریم کورٹ تو یہ طے کریں گا کہ یہ آئینی ہے یا غیر آئینی. تو وہ لوگ بھی بوکھلائے ہوئے ہیں اور پورے ملک میں جس طرح احتجاج کا سلسلہ جاری ہے. حکومت اس پر دھیان نہ دے کر من مانی کررہی ہیں. لیکن ہم کو ہمت نہیں ہارنا چاہئے. بلکہ کوشش کرتے رہنا چاہیے. ہم نے مالیگاؤں میں جو احتجاج کرنا تھا وہ کئے. اب جو اپنے اکابرین بولیں گے , جو راستہ بتانے گے وہ اختیار کریں گے.
مولانا عمرین محفوظ رحمانی (جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ) ابھی ہم لوگ میٹنگ لے کر طے کریں گے کہ اگلا قدم کیا ہوگا ؟ شہر میں دستخطی مہم جاری ہے . جلسوں کا سلسلہ بھی چل رہا ہے . ساتھ ہی ہم لوگ کوشش میں بھی ہے کہ دہلی جاکر الگ الگ تنظیموں اور الگ الگ مذاہب کے ماننے والوں کو لے کر ایک علحدہ الائنس بنائیں اور اس کے مطابق آگے کی حکمت عملی تیار کریں. حکومت جو کچھ کر رہی ہیں کسی طرح مناسب نہیں ہے . ملک کے شہری اگر اس قانون کو نہیں چاہتے تو حکومت کو ضد نہیں کرنی چاہئے. اتنے احتجاج کے بعد بھی اگر حکومت اپنی ضد پہ اڑی ہوئی ہے تو نقصان کے راستے پر خود بھی جارہی ہے اور ملک کو بھی نقصان کے راستے پر لے جارہی ہیں. سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی. جب حکومت نہیں رک رہی ہیں تو ہم کیوں رکے ؟ جب وہ رک جائیں گے تو ہم بھی رک جائیں گے. حکومت سے ہماری کوئی دشمنی تھوڑی ہے. نہ ہمارا کوئی جھگڑا ہے. ہم بس یہ چاہ رہے ہیں کہ جو وہ غلط قدم اٹھا رہے ہیں وہ واپس لیں. اس کے بعد ہم اپنے راستے اور وہ اپنے راستے. بات ختم.

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان