Connect with us
Friday,24-April-2026

سیاست

دنیش شرما نےکہاکہ جامعہ۔جے این یو میں احتجاج ایک منظم سازش ہے

Published

on

اترپردیش کے نائب وزیر اعلی ڈاکٹر دنیش شرما نے جمعہ کو الزام لگایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہرلال یونیورسٹی میں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے ایک منظم ساز ش کے تحت کئے جارہے ہیں۔
شہریت (ترمیمی)قانون کی حمایت پر منعقد پروگرام میں شرکت کرنے رائے بریلی پہنچے مسٹر شرما نے کہا کہ ان تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کر کے ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ایسا کرنے والوں کو بخشا ہرگز نہیں جائے گا۔
مظاہرین کی ملکیت کو ضبط کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں کہا کہ یوپی میں احتجاج کے دوران جن افراد نے بھی تشدد کیا ہے ان کی شناخت کر کے نقصانات کی تلافی کے لئے ان کے املاک کو ضبط کیا جائےگا۔مسٹر شرما نے رائے بریلی میں سی اے اے کی حمایت میں منعقد پیدل مارچ میں شرکت کی۔
نائب وزیر اعلی سی اے اے کو ملک کی سالمیت،ایکتا اور ہم آہنگی کے لئےبے حد ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں اپوزیشن کی افواہ کی وجہ سے کچھ لوگ اس کے خلاف احتجاج پر آمادہ ہیں۔ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو سچ بتائیں ۔ہم عوام کو بیدار کرنے کے لئے گھر گھر لوگوں تک پہنچیں گے۔یہ قانون کسی کے خلاف نہیں ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

عوامی نمائندے ممبئی میں ایس آئی آر پروگرام کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے تعاون کریں : میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے

Published

on

ممبئی : کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق ممبئی شہر اور ممبئی کے مضافاتی اضلاع میں انتخابی فہرستوں کے لیے خصوصی گہرا نظر ثانی (ایس آئی آر) پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پروگرام کو ممبئی میں بہت مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے تعاون کریں۔ خصوصی گہرائی سے جائزہ (ایس آئی آر ) پروگرام کے سلسلے میں، آج (24 اپریل 2026) ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی۔اس موقع پر قائد حزب اختلاف کشوری پیڈنیکر،ممبئی میونسپل کارپوریشن ہاؤس میں مختلف جماعتوں کے گروپ لیڈران، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ضلع کلکٹر (ممبئی سٹی) آنچل گوئل، میونسپل کمشنر (ممبئی سٹی) کے جوائنٹ کمشنر اور بلدیاتی کمشنر وغیرہ موجود تھے۔ اجلاس کے آغاز میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو کمپیوٹر پریزنٹیشن کے ذریعے خصوصی گہرائی سے جائزہ پروگرام کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ضلع الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنراشونی بھیڈے نے کہا کہ اس سے قبل مہاراشٹر میں سال 2002 میں، یعنی تقریباً 24 سال پہلے ایک خصوصی گہرائی سے جائزہ لیا گیا تھا۔ ووٹر لسٹ میں تبدیلی ہجرت، ڈبل رجسٹریشن، مردہ ووٹرز یا غیر ملکی شہریوں کی غیر قانونی رجسٹریشن کی وجہ سے ضروری ہے۔ اسی سلسلے میں، مہاراشٹر کے دیگر حصوں کے ساتھ برہن ممبئی کے علاقے میں ایک خصوصی گہرائی سے جائزہ (ایس آئی آر) پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس خصوصی گہرائی سے جائزہ (ایس آئی آر) پروگرام کو کل چھ مرحلوں میں لاگو کیا جائے گا، یعنی پہلے سے نظرثانی کی مدت، گنتی کی مدت، اے اے ایس ڈی (پہلے سے اندراج شدہ، غیر حاضر، منتقل شدہ، ڈیڈ) فہرست کی تیاری، ووٹر لسٹ کے مسودے کی اشاعت، دعووں اور اعتراضات کی مدت اور حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت۔ برہان ممبئی خطہ (ممبئی شہر اور ممبئی کے مضافات) میں رائے دہندوں کی نقشہ سازی کا کام پہلے سے جائزہ لینے کی مدت کے تحت جاری ہے۔ اس کے مطابق، خصوصی گہرائی میں نظرثانی 2002 انتخابی فہرست میں ووٹرز کو 2024 کی انتخابی فہرست میں تفصیلات تلاش کرکے بی ایل او ایپ میں میپ کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا،ممبئی کے علاقے میں خصوصی گہرائی میں نظرثانی (ایس آئی آر) پروگرام کے زیادہ موثر نفاذ کے لیے سیاسی جماعتوں کا تعاون اہم ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے اس کام کے لیے پولنگ اسٹیشن لیول آفیسرز (بی ایل او) کا تقرر کیا ہے۔ اس بنیاد پر، مسز اشونی بھیڈے نے سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ متعلقہ مقامی علاقوں میں پولنگ سٹیشن لیول اسسٹنٹ (بی ایل او) کا تقرر کریں تاکہ نظرثانی کے عمل کو زیادہ موثر، شفاف اور تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ورلی بی جے پی احتجاجی ریلی معترض خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، ممبئی پولس کی ایکس پر وضاحت، گمراہ کن خبر کے بعد تردید ی بیان

Published

on

ممبئی: پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل نامنظور ہونے کےخلاف ملک بھر اور ممبئی میں احتجاج شروع کیا ہے۔ ممبئی پولس نے یہ واضح کیاہے کہ ورلی بی جے پی کے مورچہ پر معترض پوجا مشرانامی خاتون پر کوئی ایف آئی آردرج نہیں کی گئی ہے سوشل میڈیا پر گمراہ کن پیغامات کے بعد اب ممبئی پولس کے آفیشل سرکاری ایکس پر پولس نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ خاتون پر کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے یہ خاتون ٹریفک سے پریشان تھی جس نے مورچہ کے دوران وزیر گریش مہاجن سے حجت بازی کی تھی اس کے بعد اس کے خلاف کیس درج کرنے کا مطالبہ بھی کئی تنظیموں نے کیا تھا لیکن اب تک پولس نے اس معاملہ میں کیس درج نہیں کیا ہے اس کی تفتیش بھی جاری ہے البتہ ورلی پولس نے اس معاملہ میں غیرقانونی طریقے سے سڑک روک کر اسے جام کرنے کے معاملہ میں آرگنائزر منتظم کےخلاف کیس درج کر لیا ہے اس احتجاجی مظاہرہ کی اجازت منتطم نے حاصل کی تھی جس کے بعد پولس نے شرائط میں خلاف وزری پر یہ کیس درج کیا ہے ۔ سو شل میڈیا پر خاتون پر کیس درج کرنے سے متعلق گمراہ کن افواہ کے بعد پولس نے اس کی تردید کی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناسک کے بعد ممبئی میں جنسی ہراسانی کے کیس کولوجہاد اور کارپوریٹ جہاد بنانے کی سازش،ملزم گرفتار، پولس کا کارپوریٹ جہاد نقطہ سے انکار

Published

on

arrested

ممبئی: ناسک ٹی سی ایس کے بعد اب ممبئی میں جنسی زیادتی کے کیس کو کاپوریٹ اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش شروع ہو گئی ہے یہاں ممبئی کے آگریپاڑہ پولس اسٹیشن پولس نے ایک ١٩ سالہ ٹیلی خاتون کو ہراساں کر نے معاملہ میں اشرف صدیقی نامی ۲۵ سالہ نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس معاملہ میں اب پولس تفتیش کر رہی ہے لیکن متاثرین کے اہل خانہ اسے بھی کارپوریٹ جہاد اور لوجہاد قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں البتہ پولس نے بھی اس سے انکار کیا ہے۔ آگری پارہ پولس میں سیکشن بی این ایس 75، 78(2) اور 70 اور آئی ٹی ایکٹ 2000 کے تحت ایک اشرف کے خلاف ایک بڑی کارپوریٹ کمپنی میں تھرڈ پارٹی ٹیلی کالر کے طور پر کام کرنے والی خاتون ساتھی کارکن کو فحش پیغامات بھیجنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ متاثرہ کے بیان اور پولیس کے مطابق، ملزم نے نہ صرف اسے متعدد بار جنسی تعلقات کے لیے میسج پیغام کیا بلکہ اپنی خواتین ساتھیوں کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے فحش تصاویر بھی ارسال کیں ۔
پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ جب اس نے اشرف کو بتایا کہ وہ ہندو ہے تو اس نے جواب دیا، ’’آج کل ہندو لڑکیاں مسلمانوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ نے اس کے خلاف شکایت درج کروائی ہے پولس نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کردی ہے ساتھ ہی اس کے رشتہ دار وں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ معاملہ لوجہاد کا ہے اس لئے اس میں ایس آئی ٹی تفتیش کی جانی چاہیے اور ساتھ ہی ملزم کے گھر پر بلڈوزر کارروائی کی جانی چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان