Connect with us
Sunday,24-May-2026
تازہ خبریں

جرم

مالیگاؤں میں سی اے اے کے خلاف خواتین کی ریلی کو ڈائنامائٹ کرنے کی شازش

Published

on

(وفاناہید)
تاریخ کے اوراق گواہ ہے کہ صنف نازک جب بھی میدان عمل میں آتی ہے تو اس کا وہ قدم انقلاب لاتا ہے. ایک کاکروچ سے بھی ڈرنے عورت جب میدان جنگ میں آتی ہے تو چاند سلطانہ اور رانی لکشمی بائی کہلاتی ہے. یہی کمزور عورت جب ہندوستان کے مسند اقتدار پر براجمان ہوتی ہیں تو اندرا گاندھی کہلاتی ہے. خلاء کا سفر کرکے کلپنا چاؤلہ اور ریکٹ تھام کر ثانیہ مرزا آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ کانگریس کی باگ ڈور سونیا گاندھی کے ہاتھ میں ہے جس سے انہوں نے منموہن سرکار کو کنٹرول کیا تھا. دین اسلام کی بات کی جائے تو پہلی شہید حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا ہے. اللہ کے حکم سے فرعون کے محل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش حضرت آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے زیر سایہ ہوئی اور بھی صحابیہ ہیں جو میدان جنگ میں باپردہ رہ کر اپنے فرائض ادا کرتی تھیں. آج ایک پھر دشمنان دین کا غلبہ ہے. جو مسلمانوں کو صحفہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں مگر احمقوں کی جنت کے یہ باشندے نہیں جانتے کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے. اسلام کا پرچم بلند تھا اور بلند رہے گا. آج مودی سرکار مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے لئے این آرسی اور سی اے اے جیسے کالے قانون کا سہارا لے رہی ہیں. اس کے لئے ملک گیر پیمانے پر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے . خواتین کی احتجاج میں شرکت کے بعد یہ تحریک مزید شدت اختیار کر گئی ہے. تحریکوں کا شہر مالیگاؤں سے بھی دستور ہند بچاؤ کمیٹی کے زیر اہتمام مولانا عمرین محفوظ رحمانی کی قیادت میں شہر میں ایک کامیاب احتجاج ہوچکا ہے. 2 سال قبل جب مودی سرکار طلاق ثلاثہ بل منظور کر رہی تھی. اس وقت بھی ہمارے شہر کی باپردہ خواتین نے ایک تاریخ ساز خاموش احتجاج درج کرا کے تاریخ رقم کی تھیں. شریعت میں مداخلت کے لئے اس بل کو مسلمانوں پر تھوپنے کی کوشش تھی. تب ہمارے شہر عزیز کے تمام علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوگئے تھے اور بلاتفریق مسلک کے شہر کی باپردہ خواتین سے احتجاج کرایا گیا تھا. اس وقت مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے اس احتجاج کی بھرپور تائید و حمایت کی تھی. آج جب مولانا عمرین شہر کے مردوں کو لے کر ایک کامیاب احتجاج کراچکے ہیں تو خواتین کی اس ریلی کی مخالفت کررہے ہیں. اب اس میں کیا سیاسی پہلو کارفرما ہے یہ تو مولانا عمرین جانتے ہیں بہرحال ہمارے شہر کے علماء کرام اپنی مخالفت میں جو جواز پیش کررہے ہیں کہ جب مردوں کا احتجاج مولانا عمرین کی سربراہی میں کامیاب ہوچکا ہے تو باپردہ خواتین کو میدان میں آکر احتجاج کی ضرورت نہیں. خواتین کا یہ احتجاج مرحوم بلند اقبال کی قائم کردہ دستور بچاؤ کمیٹی کے زیر اہتمام ہوگا اور جس کے لئے مولانا عمرین اور دیگر سیاسی , سماجی تعلیمی غرض ہر شعبے سے حمایت طلب کی گئی تھی سوائے مولانا عمرین کے اب نے ہی اس احتجاج کی بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے. واضح رہے کہ یہ ایک مکمل غیر سیاسی احتجاج ہے. مگر اس اعلان کے ساتھ ہی مخالف خیمے میں ہلچل مچ گئی ہے . ایسے میں مولانا عمرین محفوظ رحمانی جو کہ ہمارے شہر کی ایک معتبر شخصیت ہے کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے. سی اے اے اور این آر سی کا خوف ہر مسلم مرد و خواتین کے علاوہ بچوں میں بھی دیکھا جارہا ہے. جس کے لئے ہر کوئی اپنا احتجاج درج کرانا چاہتا ہے اور یہ ہمارا جمہوری حق ہے. لہذا شہر کے علماء کرام سے گذارش ہے کہ خواتین سے ان کا یہ جمہوری حق نہ چھینیں. ویسے بھی پورے دیش سے اس کالے قانون کی مخالفت میں خواتین کا احتجاج جاری ہے مگر صرف مالیگاؤں کی خواتین کے احتجاج پر ہی کیوں سوال اٹھائے جاتے ہیں اور
جب آپ شہر کی ان ہی باپردہ خواتین کو طلاق ثلاثہ بل کے لئے سڑکوں پر اتار چکے ہیں تو اب کیا قباحت ہے یا اس میں ہمیں نہیں لگتا کہ علماء کرام کا کوئی ذاتی یا سیاسی مفاد وابستہ ہیں .

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading

جرم

مغربی بنگال فائرنگ اور بم دھماکہ میں ملوث تین مفرور ملزمین ممبئی سے گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ۷ مئی کو مغربی بنگال ہاوڑا میں فائرنگ اور بم دھماکہ میں مطلوب تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, مغربی بنگال کے شیبوپور پولس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کی واردات انجام دی گئی تھی, اس میں مطلوب ملزمین ممبئی کے دیونار ایس آر اے کی بلڈنگ میں روپوش ہے اس بنیاد پر ۲۱ مئی کو کرائم برانچ نے یہاں چھاپہ مار کر تین مفرور ملزمین شمیم احمد عبدالرشید ۴۰ سال، جمیل اختر علی ۴۳ سالہ، آفتاب انور خورشید ۴۴ سالہ کو ممبئی میں گرفتار کر لیا۔ ان مفرور ملزمین پر شیبو پور پولس اسٹیشن میں کئی تقریبا ۵ معاملات بھی درج ہیں, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

مہاراشٹر کے ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھلے عام فائرنگ, یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا اور کہرام مچ گیا۔

Published

on

Firing

ناگپور : مہاراشٹر کے ناگپور سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائک سوار نوجوانوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر کی طرف کھلے عام فائرنگ کی۔ فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کچھ دن پہلے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے حساس زون میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ اب اس واقعہ نے سیکورٹی انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے، جب کہ ناگپور میں محل کے کوٹھی روڈ علاقے میں فائرنگ کے واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ یہ علاقہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب ہے۔ سنگھ کا ہیڈکوارٹر ریشم باغ میں واقع ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اتوار، 17 مئی کو تقریباً 11:30 بجے پیش آیا، جب چھ نامعلوم افراد تین موٹرسائیکلوں پر آئے اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر سے 1.5 کلومیٹر (کلومیٹر) دور ایک علاقے میں فائرنگ کی۔ پولیس نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روی موہتو اور گنگا کاکڑے نے شکایت کنندہ سوربھ کے ساتھ جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے علاقے میں تسلط قائم کرنے اور دہشت پھیلانے کی نیت سے فائرنگ کی۔ تفتیش کاروں کو ملزمان کے درمیان جھگڑے کا شبہ ہے۔ ریشم باغ میں آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کافی سخت ہے۔

ناگپور کے محل علاقے کے کوٹھی روڈ علاقے میں دو راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ روی موہتو، گنگا کاکڑے، اور دیگر ملزمان کے پاس منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سامان رکھنے کا سابقہ ​​مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ان کے مجرمانہ پس منظر کے پیش نظر پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد کوتوال تھانے کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعہ سے محل کے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے جس کے باعث پولیس کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان