جرم
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف طلبہ جامعہ کا احتجاج ۱۷؍ویں دن بھی جاری
(عطاؤ الرحمٰن)
نئی دہلی۔ (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این آر پی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے احتجاج کا آج ۱۷؍واں دن تھا، آج صبح سے ہی طلبا اور اوکھلا کے عوام اور کئی نوکری پیشہ افراد موقعہ احتجاج پر ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے، احتجاج می ںکئی سماجی ، وسیاسی اور صحافی حضرات بھی موجود تھے۔ جن میں راجیہ سبھا رکن جاوید علی خان، طلبہ لیڈر عائشہ گھوش اور صحافی مسیح الزماں انصاری شامل ہیں، ان سبھی نے حکومت کی مسلم مخالف اور ملک کو تقسیم کرنے کی پالیسی کی مخالفت کی۔ آج جامعہ ملیہ احتجاج کی اسی کڑی میں جامعہ ہمدرد الومنائی سے منسلک طلبہ کے ذریعے ایک ناٹک بھی پیش کیاگیا، جامعہ والا باغ کے اس ناٹک میں گزشتہ 15 دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس کے ذریعے تشدد کو دکھایاگیا ۔ واضح رہے کہ دہلی پولس کے ذریعے ۱۵ دسمبر کو جامعہ کیمپس میں طلبا کے ساتھ زیادتی، مارپیٹ مسجد اور لائبریری میں گھس کر طلبہ وطالبات کو زدوکوب کیاگیا تھا جس میں سینکڑوں طلبا وطالبات زخمی ہوگئے تھے، اور جامعہ کیمپس کی جائیداد کو بھی کافی نقصان اُٹھانا پڑا تھا۔ راجیہ سبھا رکن جاوید علی خان نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کی قیادت طلبہ کررہے ہیں اس لیے یہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک حکومت اپنے آئین مخالف قانون کو واپس نہ لے لے۔ آج کے اس احتجاج میں دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان بھی شامل ہوئے انہو ںنے طلبا کی اس تحریک کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک کا ایک ایک شہری اس تحریک میں حصہ لیں۔ صحافی مسیح انصاری نے کہا کہ یہ تحریک قومی تحریک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس تحریک میں سنگھ اور آر ایس ایس کو چھوڑ کر ملک کی ہر کمیونٹی کے افراد شامل ہیں۔ جے این یو ایس یو کی صدر عائشہ گھوش نے کہاکہ یہ تحریک ملک کی سبھی یونیورسٹیوں میں چلے گی اور جب تک یہ جمہوریت مخالف حکومت اقتدار سے بے دخل نہیں ہوجاتی تب تک یہ جاری رہے گی۔ نیشنل ایلائنس آف پاپولس مومنٹ کے رکن ومل بھائی نے کہاکہ یہ لڑائی اپنے حقوق کو بچانے کی لڑائی ہے ، اس موقع پر انہوں نے اترپردیش کے مختلف اضلاع میں مظاہرین پر پولس کے ذریعے کی گئی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جس نے بھی اس تشدد میں کوئی اپنا کھویا ہے اس کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل ہے یہ ملک کے شہری کےلیے آفت کی گھڑی ہے۔ آج مظاہرین میں ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے وکیل انل نوریا، ساوتھ ایشین پریس کے آبھا تھپلال، مشہور فیشن ڈائزائنر ترون تہلانی، جامعہ طلبہ یونین کے سابق سکریٹری مہیندر رانی والا، جے این یو طلبہ یونین صدر کی سابق امیدوار پرینکا بھارتی اور روپل پربھاکر بھی موجود تھیں۔ آج بھی احتجاج کے دوران گاندھی جی کے ذریعے پڑھی جانے والی تمام مذاہب کی دعا پڑھی گئی، وہیں کئی طلبا نے اپنی لائبریری سجاکر ریڈنگ سیشن بھی جاری رکھا ، انہوں نے اپنے ریڈنگ سیشن کا نام ’ریڈ فار ریولوشن‘ دیا۔ آج کے مظاہرین میں حکومت مخالف اور ان کی جابرانہ پالیسیوں پر زبردست حملہ کیاگیا۔ جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اراکین نے بتایاکہ یہ تحریک جاری رہے گی، اس پوری تحریک میں انہیں جامعہ کے سابق طلبا اور مقامی لوگوں کا مکمل تعاون رہے گا۔
جرم
ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
جرم
ممبئی میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر یوسف پٹھان کے سسر سمیت تین افراد گرفتار۔

ممبئی : سابق کرکٹر اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کے سسر کو ان کے بیٹے اور ایک اور رشتہ دار کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان افراد نے دو دن قبل ممبئی کے بائیکلہ علاقے میں ایک گجراتی خاندان پر حملہ کیا تھا۔ ممبئی پولیس نے منگل کو یہ اعلان کیا۔ بائیکلہ پولیس نے یوسف پٹھان کے سسر اور دیگر تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ ایک ملزم مفرور ہے۔ بائیکلہ پولیس کے مطابق مقامی باشندہ یوسف خان (30) رات تقریباً 9 بجے گھر لوٹ رہا تھا۔ ہفتے کی رات جب ان کی کار سے پانی کے چھینٹے نکلے اور شعیب خان (35) کو ٹکر ماری۔ یوسف خان نے پولیس کو بتایا کہ اس نے گاڑی روکی اور فوراً معافی مانگی لیکن شعیب نے اسے گالی دینا شروع کر دی اور بانس کی چھڑی سے کار کی ونڈ شیلڈ توڑ دی۔ اس کے بعد شعیب نے یوسف خان پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ گھر واپس آنے کے بعد یوسف خان کے اہل خانہ نے انہیں پولیس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ تھانے جاتے ہوئے ان کا سامنا خالد خان عرف مکالک (یوسف پٹھان کے سسر) سے ہوا، جس نے اپنے بیٹے عمرشاد پٹھان (35)، شعیب پٹھان اور ایک اور ملزم شہباز پٹھان کے ساتھ جھگڑا شروع کیا۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد خالد، عمرشاد، شعیب اور شہباز نے یوسف خان اور اس کے رشتہ داروں پر بانس کی لاٹھیوں اور بیس بال کے بلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں یوسف خان کے بھائی سلمان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ ان کے چچا ذکی احمد شدید زخمی ہوئے۔ شہباز تاحال مفرور ہیں، جبکہ دیگر تین ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور برآمد شدہ بانس کی لاٹھیوں اور بیس بال کے بلے کی بنیاد پر کارروائی کی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں سے واضح طور پر ہوئی ہے۔
جرم
ممبئی : کرائم برانچ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو غیر قانونی ہتھیاروں کے ساتھ کیا گرفتار۔

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ وہ بغیر لائسنس کے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس اب اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے ملزمان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ پائدھونی کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چھاپہ مارا اور ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ نارائن دھرو اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں غیر قانونی ہتھیاروں کا سودا کرنے جارہے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد، ممبئی کرائم برانچ کے انسداد بھتہ خوری سیل نے فوری طور پر ایک ٹیم تشکیل دی، نگرانی شروع کی، اور پھر اس جگہ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران پولیس نے وہاں موجود پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ تلاشی لینے پر ان سے تین پستول، تین میگزین اور 21 زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔ جب ان سے ہتھیاروں کے لائسنس کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ کوئی درست دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے۔ دوران تفتیش انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اسلحہ بیچنے کے لیے لائے تھے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سریندر امرلال جی مینا (25)، روہت گھنشیام مینا (24)، کارتک بیجندر پرچا (19)، دیپک کمار چترمل بل (26) اور روہن/رونورونک پنالال میروتھا (25) کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ تمام ملزمان راجستھان اور ہریانہ کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں اور ان کی عمریں 19 سے 26 سال کے درمیان ہیں۔ آرمز ایکٹ کی دفعہ 3 اور 25 کے تحت پائدھونی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دیگر متعلقہ حصے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ان ملزمان کا کسی بڑے گینگ سے کوئی تعلق ہے۔ خاص طور پر وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان کا بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ پولیس فی الحال ہر زاویے سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
