جرم
کانپورمیں توڑپھوڑ پتھرائو کے بعد علماء وائمہ مساجد کی میٹنگ، ہندو مسلم اتحاد ملک کی طاقت ہے
(عطاء الرحمٰن)
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہو رہے مظاہرے میں توڑپھوڑ اور پتھراؤ کے بعد کانپور کے علماء اور ائمہ مساجد نے شہر کے لوگوں سے اپیل کی کہ ہم سب ہندوستان کے پر امن شہری ہیں اور رہیں گے۔ ملک ہندوستان سیکولر ملک اور سیکولر رہے گا۔ ہم مذہب کے نام تفریق کرنے والے سی اے اے کو ملک کے سیکولرزم اور آئین ہند کی روح کے خلاف سمجھتے ہیں اور فوراً واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی احتجاج پرامن ہو، تشدداور توڑ پھوڑ ملک کے قانون کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے بھی خلاف ہے۔ بھائی چارہ، امن و ایکتا اور ہندو مسلم اتحاد ملک کی طاقت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ واضح ہو کہ ملک کے بگڑتے حالات کے مد نظر شہرکے علماء کرام اورائمہ مساجد کی ایک اہم میٹنگ قاضی شہر کانپور مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء اترپردیش کی صدارت میں جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈ کانپور میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں 60سے زیادہ مساجد کے ائمہ نے شرکت کی۔ میٹنگ میں تمام علماء اور ائمہ مساجد سے بات کرتے ہوئے مولانا اسامہ قاسمی نے کہاکہ آئین بنانے والوں نے جب یہاں کا آئین و دستور بنایا تو یہ واضح کر دیا کہ حکومت کسی مذہب خاص کی نہیں ہوگی بلکہ سب کی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 1955میں سے سب سے پہلے شہریت قانون بنا، اس کے بعد کئی مرتبہ اس میں ترمیم ہوئیں، لیکن اس مرتبہ حکومت نے صاف طور پر کہ تین ممالک اور دیگر مذاہب کا نام لے کر اس میں ترمیم کیا ہے۔ مولانا تمام علماء اور ائمہ سے کہا کہ یہ قانون جمہوریت اور دستور کی روح کے خلاف ہے، ہمیں پریشانی اس بات کی نہیں کہ آپ نے دیگر مذاب کا نام لے اس میں ان کو جگہ دیا بلکہ ہمارا یہ کہنا ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو اس میں کیوں نہیں رکھا؟ ہمارے ہندوستان کا دل بہت بڑا ہے، یہاں ہر پریشان حال کو ضابطہ کے مطابق آنے کی اجازت ہونی چاہئے، مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ فرق نہیں ہونا چاہئے۔ این آر سی کے حوالے سے کہا کہ پہلے مودی جی خود اپنے کاغذ ات ملک کو دکھائیں۔ موجود علماء اور ائمہ نے کہا کہ ہم ملک کے وفادار ہیں،کسی حکومت کے نہیں حکومت اگر قانون کے خلاف اور غلط کام کرے گی تو اس کو بھی ٹوکیں گے۔تمام ائمہ مساجد ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، یہ ہندوستان کے تمام شہریوں کا آئینی حق اور ذمہ داری ہے لیکن اس کا پورا خیال رکھیں کہ ظلم کی مخالفت میں ملک کی مخالفت نہ ہو نے پائے۔ تشدد، پتھراؤ اور آتشزدگی کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ ہی اسلامی شریعت۔ تشدد کے سبب ہمارا نقصان ہوتا ہے، اس سے ہماری بات دب جاتی ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ظلم کس پر ہو رہا ہے، اس لئے احتجاج اور پر امن ریلیوں کاسلسلہ جاری رکھیں اور سرکار تک اپنی بات پہنچاتے رہیں۔ آپ خود بھی افواہوں سے بچیں اور عوام کو بھی بچائیں، باقاعدہ تحقیق کے بعد ہی کوئی بات آگے بڑھائیں۔ امام حضرات اپنی ذمہ داریوں کے مد نظر مسئلہ کو سمجھیں اور عوام کو سمجھائیں کہ تشدد کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ یکطرفہ معاملہ نہ کریں اس بات کو بھی سمجھیں کہ پولیس و انتظامیہ میں سب ہی خراب نہیں ہیں، آپ اس کو نظر انداز نہ کریں کہ گذشتہ جمعہ والے دن ہی لاکھوں لوگوں کا جلوس نکلا اور انہیں افسران اور پولیس والوں نے اس میں پورا ساتھ دیا۔ شہر کے افسران نے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں لوگوں کے جذبہ کو سرد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کی قدر کرتے ہوئے انہیں محبت کے ساتھ سمجھائیں اور جذبہ کو صحیح سمت دیں۔ انہیں بتائیں کہ یہ ہندومسلم کا مسئلہ نہیں بلکہ سیکولرزم بنام ہندوراشٹر کا مسئلہ ہے۔ روس اور اندلس کی تاریخ پڑھیں وہاں پہلے علماء کو بدنام کرکے عوام سے کاٹ دیا گیا پھر اس کے بعد پوری قوم تباہ کر دی گئی، اس کی نزاکت کو بھی سمجھیں کہ کون لوگ علماء کے خلاف بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں، ان کی کیا منشاء ہے؟ آخر میں تمام لوگوں کے سامنے شہر قاضی مولانا اسامہ نے اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی قیادت میں چلنے کیلئے تیار ہیں، مگر قیادت میں سیاست نہیں چاہتے۔ موجودہ شہریت قانون کے خلاف ہم سب ساتھ ساتھ ہیں اور آخر تک ساتھ رہیں گے۔ نہ ہمیں کسی سے ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ جذبہ کو ٹھنڈا کرنے کی بلکہ یہ وقت عقلمندی اور ہوشمندی کا ثبوت دینے کا ہے۔ تمام علماء نے ایک رائے ہو کر کہا ہم عوام سے ہر طرح کے تشدد سے بچنے کی اپیل کرتے ہیں۔ میٹنگ میں قاضی شہر مولانا اسامہ قاسمی، مولانامحمد شفیع مظاہری، مفتی اقبال احمد قاسمی، مفتی عبد الرشید قاسمی، مولانا محمد اکرم جامعی، مولانامحمد انعام اللہ قاسمی، مولانا محمد انیس خاں قاسمی، مولانا آفتاب عالم قاسمی، مولانا رئیس قاسمی، مولانا سبحان الٰہی،مولانا کلیم احمد جامعی، مولانا محمد کوثر جامعی، مفتی عزیز الرحمن قاسمی، مولانا انیس الرحمن قاسمی،مولانا عبد الحنان جامعی، مولانا محمد عقیل جامعی، مولاناعبد الاول جامعی، مولانا محمد سعید خاں قاسمی، مولانا شکیل احمد، قاری مجیب اللہ عرفانی، مولاناعزیز الحسن قاسمی، مولانا سمیع اللہ جامعی، مفتی سعد نور قاسمی، قاری عبد المعید چودھری، مولانا محمد شمیم مظاہری، مفتی مفتاح قاسمی،مولانا عبدا لقادر خاں قاسمی،مولانا محمد ارشد قاسمی،مولانا محمد عالم،مولانا شکیل احمد قاسمی،مولانا ابوبکر قاسمی، مولانا محمد سلمان ثاقبی،حافظ نصیر احمد،مولانا رضاء اللہ،مولانا محمد ذاکر قاسمی، مولانا محمد طاہر قاسمی، مولانا امیر اللہ قاسمی، مولانا شکیل احمد مظاہری، حافظ شفیق جامعی، حافظ اخلاق انصاری، حافظ برکت اللہ، مولانا محمد بن یامین، حافظ کلیم احمد، مفتی اسعد الدین قاسمی، مفتی سعود مرشد قاسمی، مولانا محمد یٰسین جامعی مولانا ایاز ثاقبی، مفتی عبد الرحمن مظاہری، مفتی محمد فرقان مظاہری، مولانا محمد جاوید قاسمی کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام اور ائمہ مساجد موجود رہے۔
تفریح
فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے زیورات چوری ہو گئے۔

ممبئی میں فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے کرائے کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کی شکایت کے مطابق ریا کپور کے میک اپ آرٹسٹ کے ہینڈ بیگ سے ₹ 1.35 کروڑ مالیت کی ہیروں سے جڑی بالیاں اس وقت چوری ہوئیں جب وہ نیویارک میں ایک فیشن شو میں جا رہی تھیں۔ بالیاں ممبئی کے مہتا اینڈ گوینکا جیولرز سے کرائے پر لی گئی تھیں۔ ممبئی کے معروف میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ نے گزشتہ سات سالوں سے ریا انیل کپور کے ساتھ کام کیا ہے۔ ریا کپور کو 29 اپریل کو نیویارک میں ہونے والے ’’نیٹ گالا‘‘ فیشن شو ایونٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔
ممبئی کے مہتا جیولرز اور گوینکا جیولرز سے ریا کپور کے ساتھ ان کی میک اپ ٹیم کے ساتھ مہنگی بالیوں کے دو جوڑے کرائے پر لیے گئے تھے۔ سویلین سنگھ نے ان ڈبوں کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا تھا۔ سبھی نے 27 اپریل کی رات 10:25 بجے ایمریٹس کی پرواز سے ممبئی سے اڑان بھری۔ یہ ٹیم 28 اپریل کی شام 5:30 بجے ممبئی سے نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پہنچی۔ وہاں سے سب ہوٹل پیئر نیویارک میں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
جب سویلین سنگھ نے ٹیم کی ایک رکن شیریں کو بالیاں دینے کے لیے ڈبوں کو کھولا تو انھیں خالی پایا۔ مہتا جیولرز سے زمرد کے پتھر کی ہیرے کی سونے کی بالیاں، جن کی مالیت 6.6 ملین روپے ہے، اور گوئنکا جیولرز سے زیمبیائی پتھر کی گولڈ بارڈر والی بالیاں، جن کی مالیت ₹6.9 ملین تھی۔ ممبئی واپس آنے پر، سویلین سنگھ نے سہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ ریا کپور کی ٹیم کے ساتھ نیویارک جا رہا تھا جب 1.35 کروڑ روپے کی کرائے کی بالیاں چوری ہو گئیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کی پوری ٹائم لائن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ممبئی پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری ممبئی کے ہوائی اڈے پر، فلائٹ میں ہوئی یا نیویارک پہنچنے کے بعد۔
تفریح
سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔
اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔
4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔
پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔
اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔
تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔
پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
تفریح
دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔
فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔
اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔
یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔
’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
