Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

جرم

کانپورمیں توڑپھوڑ پتھرائو کے بعد علماء وائمہ مساجد کی میٹنگ، ہندو مسلم اتحاد ملک کی طاقت ہے

Published

on

(عطاء الرحمٰن)
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہو رہے مظاہرے میں توڑپھوڑ اور پتھراؤ کے بعد کانپور کے علماء اور ائمہ مساجد نے شہر کے لوگوں سے اپیل کی کہ ہم سب ہندوستان کے پر امن شہری ہیں اور رہیں گے۔ ملک ہندوستان سیکولر ملک اور سیکولر رہے گا۔ ہم مذہب کے نام تفریق کرنے والے سی اے اے کو ملک کے سیکولرزم اور آئین ہند کی روح کے خلاف سمجھتے ہیں اور فوراً واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی احتجاج پرامن ہو، تشدداور توڑ پھوڑ ملک کے قانون کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے بھی خلاف ہے۔ بھائی چارہ، امن و ایکتا اور ہندو مسلم اتحاد ملک کی طاقت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ واضح ہو کہ ملک کے بگڑتے حالات کے مد نظر شہرکے علماء کرام اورائمہ مساجد کی ایک اہم میٹنگ قاضی شہر کانپور مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء اترپردیش کی صدارت میں جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈ کانپور میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں 60سے زیادہ مساجد کے ائمہ نے شرکت کی۔ میٹنگ میں تمام علماء اور ائمہ مساجد سے بات کرتے ہوئے مولانا اسامہ قاسمی نے کہاکہ آئین بنانے والوں نے جب یہاں کا آئین و دستور بنایا تو یہ واضح کر دیا کہ حکومت کسی مذہب خاص کی نہیں ہوگی بلکہ سب کی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 1955میں سے سب سے پہلے شہریت قانون بنا، اس کے بعد کئی مرتبہ اس میں ترمیم ہوئیں، لیکن اس مرتبہ حکومت نے صاف طور پر کہ تین ممالک اور دیگر مذاہب کا نام لے کر اس میں ترمیم کیا ہے۔ مولانا تمام علماء اور ائمہ سے کہا کہ یہ قانون جمہوریت اور دستور کی روح کے خلاف ہے، ہمیں پریشانی اس بات کی نہیں کہ آپ نے دیگر مذاب کا نام لے اس میں ان کو جگہ دیا بلکہ ہمارا یہ کہنا ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو اس میں کیوں نہیں رکھا؟ ہمارے ہندوستان کا دل بہت بڑا ہے، یہاں ہر پریشان حال کو ضابطہ کے مطابق آنے کی اجازت ہونی چاہئے، مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ فرق نہیں ہونا چاہئے۔ این آر سی کے حوالے سے کہا کہ پہلے مودی جی خود اپنے کاغذ ات ملک کو دکھائیں۔ موجود علماء اور ائمہ نے کہا کہ ہم ملک کے وفادار ہیں،کسی حکومت کے نہیں حکومت اگر قانون کے خلاف اور غلط کام کرے گی تو اس کو بھی ٹوکیں گے۔تمام ائمہ مساجد ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، یہ ہندوستان کے تمام شہریوں کا آئینی حق اور ذمہ داری ہے لیکن اس کا پورا خیال رکھیں کہ ظلم کی مخالفت میں ملک کی مخالفت نہ ہو نے پائے۔ تشدد، پتھراؤ اور آتشزدگی کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ ہی اسلامی شریعت۔ تشدد کے سبب ہمارا نقصان ہوتا ہے، اس سے ہماری بات دب جاتی ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ظلم کس پر ہو رہا ہے، اس لئے احتجاج اور پر امن ریلیوں کاسلسلہ جاری رکھیں اور سرکار تک اپنی بات پہنچاتے رہیں۔ آپ خود بھی افواہوں سے بچیں اور عوام کو بھی بچائیں، باقاعدہ تحقیق کے بعد ہی کوئی بات آگے بڑھائیں۔ امام حضرات اپنی ذمہ داریوں کے مد نظر مسئلہ کو سمجھیں اور عوام کو سمجھائیں کہ تشدد کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ یکطرفہ معاملہ نہ کریں اس بات کو بھی سمجھیں کہ پولیس و انتظامیہ میں سب ہی خراب نہیں ہیں، آپ اس کو نظر انداز نہ کریں کہ گذشتہ جمعہ والے دن ہی لاکھوں لوگوں کا جلوس نکلا اور انہیں افسران اور پولیس والوں نے اس میں پورا ساتھ دیا۔ شہر کے افسران نے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں لوگوں کے جذبہ کو سرد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کی قدر کرتے ہوئے انہیں محبت کے ساتھ سمجھائیں اور جذبہ کو صحیح سمت دیں۔ انہیں بتائیں کہ یہ ہندومسلم کا مسئلہ نہیں بلکہ سیکولرزم بنام ہندوراشٹر کا مسئلہ ہے۔ روس اور اندلس کی تاریخ پڑھیں وہاں پہلے علماء کو بدنام کرکے عوام سے کاٹ دیا گیا پھر اس کے بعد پوری قوم تباہ کر دی گئی، اس کی نزاکت کو بھی سمجھیں کہ کون لوگ علماء کے خلاف بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں، ان کی کیا منشاء ہے؟ آخر میں تمام لوگوں کے سامنے شہر قاضی مولانا اسامہ نے اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی قیادت میں چلنے کیلئے تیار ہیں، مگر قیادت میں سیاست نہیں چاہتے۔ موجودہ شہریت قانون کے خلاف ہم سب ساتھ ساتھ ہیں اور آخر تک ساتھ رہیں گے۔ نہ ہمیں کسی سے ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ جذبہ کو ٹھنڈا کرنے کی بلکہ یہ وقت عقلمندی اور ہوشمندی کا ثبوت دینے کا ہے۔ تمام علماء نے ایک رائے ہو کر کہا ہم عوام سے ہر طرح کے تشدد سے بچنے کی اپیل کرتے ہیں۔ میٹنگ میں قاضی شہر مولانا اسامہ قاسمی، مولانامحمد شفیع مظاہری، مفتی اقبال احمد قاسمی، مفتی عبد الرشید قاسمی، مولانا محمد اکرم جامعی، مولانامحمد انعام اللہ قاسمی، مولانا محمد انیس خاں قاسمی، مولانا آفتاب عالم قاسمی، مولانا رئیس قاسمی، مولانا سبحان الٰہی،مولانا کلیم احمد جامعی، مولانا محمد کوثر جامعی، مفتی عزیز الرحمن قاسمی، مولانا انیس الرحمن قاسمی،مولانا عبد الحنان جامعی، مولانا محمد عقیل جامعی، مولاناعبد الاول جامعی، مولانا محمد سعید خاں قاسمی، مولانا شکیل احمد، قاری مجیب اللہ عرفانی، مولاناعزیز الحسن قاسمی، مولانا سمیع اللہ جامعی، مفتی سعد نور قاسمی، قاری عبد المعید چودھری، مولانا محمد شمیم مظاہری، مفتی مفتاح قاسمی،مولانا عبدا لقادر خاں قاسمی،مولانا محمد ارشد قاسمی،مولانا محمد عالم،مولانا شکیل احمد قاسمی،مولانا ابوبکر قاسمی، مولانا محمد سلمان ثاقبی،حافظ نصیر احمد،مولانا رضاء اللہ،مولانا محمد ذاکر قاسمی، مولانا محمد طاہر قاسمی، مولانا امیر اللہ قاسمی، مولانا شکیل احمد مظاہری، حافظ شفیق جامعی، حافظ اخلاق انصاری، حافظ برکت اللہ، مولانا محمد بن یامین، حافظ کلیم احمد، مفتی اسعد الدین قاسمی، مفتی سعود مرشد قاسمی، مولانا محمد یٰسین جامعی مولانا ایاز ثاقبی، مفتی عبد الرحمن مظاہری، مفتی محمد فرقان مظاہری، مولانا محمد جاوید قاسمی کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام اور ائمہ مساجد موجود رہے۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان