سیاست
شیوسینا کا آر ایس ایس چیف کو خط،حکومت سازی میں چ؟
مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً دو ہفتہ بعد بھی حکومت سازی کو لے کر کشمکش کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پیر کے روز بی جے پی صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی، لیکن حکومت تشکیل کو لے کر کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا۔ اس درمیان شیو سینا نے اس پورے معاملے کو نیا موڑ دے دیا ہے۔شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے مشیر کشور تیواری نے اس سلسلے میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ بے حد اہم تصور کیے جانے والے اس خط میں تیواری نے آر ایس ایس سربراہ سے گزارش کی ہے کہ وہ حکومت تشکیل کے معاملے میں مرکزی وزیر نتن گڈکری سے ثالثی کرائیں تاکہ بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان جاری تنازعہ کا عام اتفاق سے حل نکل سکے۔کشور تیواری نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی اس معاملے میں شیو سینا کے ساتھ بات چیت کے لیے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو مقرر کرے۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گڈکری نہ صرف ’گٹھ بندھن دھرم‘ کی عزت رکھیں گے، بلکہ صرف دو گھنٹے میں معاملہ کا حل نکال دیں گے۔‘‘کشوری تیواری نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ ایک بار رخنہ ختم ہو گیا تو شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کو پہلے 30 مہینوں کے لیے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف دلایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی جسے چاہے اگلے 30 مہینے کے لیے اپنا وزیر اعلیٰ بنا سکتی ہے۔ کشور تیواری نے کہا کہ ’’بی جے پی اور شیو سینا میں موجودہ ماحول دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس انڈیویجوئلسٹ یعنی انفرادیت پسند ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ دوسری طرف سیاسی طور پر تجربہ کار نتن گڈکری کو اگر مہاراشٹر بھیجا جاتا ہے تو وہ دونوں پارٹیوں کے مشترکہ ایجنڈا ہندوتوا اور ترقی دونوں پر کام کریں گے۔‘‘آر ایس ایس نے تیواری کے خط کا کیا جواب دیا ہے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ لیکن آر ایس ایس نے اپنے ترجمان ’ترون بھارت‘ میں شائع ایک اداریہ کے ذریعہ شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کو جواب دیا گیا ہے۔ اداریہ میں انھیں جھوٹا اور جوکر کہتے ہوئے شیخ چلی تک کہہ دیا گیا ہے۔غور طلب ہے کہ تیواری کا خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس بی جے پی صدر امت شاہ سے اور این سی پی سربراہ شرد پوار کانگریس صدر سونیا گاندھی سے مل کر مہاراشٹر کے معاملے پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شیو سینا لیڈر سنجے راؤت گورنر بی ایس کوشیاری سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور انھوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ سیاسی ماحول پر بات کرنے گئے تھے، لیکن زیادہ کچھ بتانے سے انھوں نے پرہیز کیا۔دراصل بی جے پی کے لیے معاملہ صرف مہاراشٹر بھر کا نہیں ہے، بات اس سے آگے بھی جاتی ہے۔ بی جے پی سیاسی طور پر دوسری سب سے اہم ریاست میں غیر بی جے پی وزیر اعلیٰ نہیں رکھنا چاہتی، خصوصاً ایسے وقت میں جب سپریم کورٹ ایودھیا معاملے پر فیصلہ سنانے والا ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہے کہ شیوسینا رام مندر ایشو سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا سکتی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر بی جے پی مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ عہدہ چھوڑتی ہے تو اس سے جھارکھنڈ کےآئندہ اسمبلی انتخابات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ جھارکھنڈ میں اسی ماہ 30 تاریخ سے انتخاب ہیں۔ وہیں کچھ دیگر ریاستوں میں بھی آئندہ سال انتخابات ہونے ہیں، جن میں دہلی اور بہار بھی شامل ہیں۔دوسری طرف کانگریس اور این سی پی مہاراشٹر کے معاملے میں کافی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے دونوں پارٹیاں آنے والے وقت میں اپنے پتے کھولیں گی۔ حالانکہ کانگریس کے کچھ خیموں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ کانگریس کو حکومت کے لیے شیو سینا کی نہ ہی حمایت لینی چاہیے اور نہ ہی اسے حمایت دینی چاہیے۔ ایسی آوازوں میں کانگریس لیڈر سنجے نروپم کی آواز سب سے زیادہ تیز ہے۔ اُدھر این سی پی میں بھی ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اختیار کیے جانے کی صلاح دی جا رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔
گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔
(جنرل (عام
دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔
ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
سیاست
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
