Connect with us
Friday,07-August-2026

سیاست

بھگوا پارٹیوں کی سیاسی مفاد پرستی طشت ازبام،دونوں پارٹیاں اپنی ضد پر قائم

Published

on

۲۴؍اکتوبر کو ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہریانہ میں بی جے پی کو حکومت بنانے میں مشکلیں پیش آسکتی ہیں جب کہ مہاراشٹر میں بی جے پی- شیوسینا اتحاد کی حکومت آسانی سے بنتی نظر آرہی تھی۔ 90 ممبران والی ہریانہ اسمبلی میں بی جے پی کو 40 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جب کہ اسمبلی میں اکثریت کے لئے اسے 46 ممبران کی حمایت درکار تھی لیکن جلدی ہی آزاد ممبران کو اپنے پالے میں کر کے اس نے اکثریت کے لئے ضروری اعداد و شمار حاصل کرلئے، پھر دشینت چوٹالہ کی جے جے پی کی حمایت اس کے لئے سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئی جس کے 10 امیدوار الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔دوسری جانب 288 ممبران والی مہاراشٹر ودھان سبھا میں بی جے پی – شیوسینا اتحاد کو 161 سیٹیں ملیں یعنی اکثریت اس کے پاس تھی لیکن نتیجہ آنے کے ایک ہفتہ بعد بھی حکومت کو تشکیل دینا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شیوسینا اپنے اتحاد کی پوری قیمت وصولنا چاہتی ہے جب کہ بی جے پی اس کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں نظر آتی۔شیوسینا کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان 50-50 فارمولے کی بات ہوئی تھی یعنی اس بات پر رضا مندی ہوئی تھی کہ نئی حکومت میں پانچ سال کی مدت میں دونوں پارٹیوں کو ڈھائی ڈھائی سال تک حکومت کی قیادت کرنے کا موقع ملے گا لیکن بی جے پی اس سے انکار کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 50-50 جیسے فارمولے کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور موجودہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس ہی اس مرتبہ بھی پورے پانچ سال کے لئے وزیراعلیٰ بنیں گے۔غور طلب ہے کہ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کے کنبہ سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑ کر پارٹی صدر اُدھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے ودھان سبھا پہنچے ہیں۔ انہیں ہی شیوسینا کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدے کا دعویدار مانا جارہا ہے۔ حالانکہ شیوسینا نے سب کو چونکاتے ہوئے ایک ناتھ شندے کو پارٹی کے ممبران اسمبلی کا لیڈر چنا ہے، بہرحال اتحاد میں سودے بازی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن جس طرح شیوسینا اور بی جے پی اپنی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہیں۔فی الحال تو تنازعہ ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے جس کودیکھتے ہوئے سیاسی ماہرین کہنے لگے ہیں کہ اقتدار کے لئے دونوں ہی بھگوا پارٹیوں کے اپنی اپنی ضد پرقائم رہنے سے ریاست میں صدرراج کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ بیچ بیچ میں یہ خبر بھی آجاتی ہے کہ شیوسینا کے تیور کچھ نرم پڑگئے ہیں اور وہ 50-50 کی اپنی ضد چھوڑ کر نائب وزیراعلیٰ کے عہدے پر راضی ہوگئی ہے لیکن شیوسینا نے اب صاف کر دیا ہے کہ اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو وہ قطعی تیار نہیں ہے۔ شیوسینا کے تیور کتنے تلخ ہیں اس کا اندازہ پارٹی کے لیڈر سنجے راوت کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہاں کوئی دشینت نہیں ہے جس کے باپ جیل میں ہیں۔غور طلب ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی کو حمایت دینے والی جے جے پی کے لیڈر دشینت چوٹالہ کے والد بدعنوانی کے معاملے میں جیل میں ہیں اور جے جے پی کے بی جے پی کے ساتھ آنے کی یہ بھی ایک وجہ بتائی جارہی ہے۔ بی جے پی کو حمایت دینے کے فوراً بعد دشینت کے والد کو پیرول (چھٹی) پر جیل سے باہر آنے کو اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اب سنجے راوت نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ ”صاحب مت پالیے اہنکار، وقت کے ساگر میں کئی سکندر ڈوب گئے“ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیوسینا چاہے تو اپنے دم پر حکومت بناسکتی ہے۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ اسمبلی میں تیسری بڑی پارٹی این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی جانب ہے۔ناراضگی اور تشکیل حکومت میں پیدا شدہ تعطل کے درمیان تازہ واقعات میں شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار سے بات چیت کے بعد قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ شیوسینا اپنے بل پر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گی اور شردپوار کی پارٹی این سی پی اس کی تائید کرے گی۔ امکان غالب ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کانگریس بھی شیوسینا حکومت کی تائید کرسکتی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں این سی پی کو 54 نشستیں اور کانگریس کو 44 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ شردپوار کے ساتھ ٹھاکرے کی بات چیت کے بعد یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ شیوسینا کے ساتھ این سی پی۔ کانگریس مل کر اتحاد کریں گی اور شیوسینا حکومت کو باہر سے تائید کی جائے گی۔ لیکن کیا بی جے پی یہ تبدیلی ہونے کا موقع دے گی۔یہ اقتدار کی رسہ کشی دونوں پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو ظاہر کرتی ہے۔ بی جے پی جہاں یہ عہدہ چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آتی وہیں شیوسینا بی جے پی کے نسبتاً کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے موقع پرستی پر اتر آئی ہے۔ اس سے دونوں جماعتوں کے حقیقی چہرے عوام کے سامنے آگئے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنے اپنے اقتدار یا عہدوں کی لالچ میں بھگوا پارٹیاں سرگرم ہوگئی ہیں اور ہر پارٹی وزیراعلیٰ کا عہدہ چاہتی ہے۔ عوام کے سامنے مشترکہ رجوع ہوتے ہوئے مقابلہ کرنے والی یہ پارٹیاں اب آپس میں ہی متحد نظر نہیں آتیں۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ ان پارٹیوں کے سامنے عوام یا ریاست کی فلاح و بہبود سے زیادہ اقتدار، عہدہ اور اپنے سیاسی مفاد کی زیادہ اہمیت رہ گئی ہے۔فی الحال صورت حال یہ ہے کہ دونوں اتحادی پارٹیاں اپنی اپنی ضد پر قائم ہیں اور سمجھوتہ کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ خاص طور سے شیوسینا کے تیور کافی تلخ نظر آرہے ہیں۔ نہ صرف اس کے لیڈر اپنے بیانوں سے بی جے پی پر حملے کر رہے ہیں بلکہ پارٹی کے ترجمان اخبار کے ذریعہ بی جے پی کے ساتھ ہی مرکز کی نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کی سخت تنقید کر رہی ہے۔ایسے میں یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہے کہ آخرکار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

سیاست

بی جے پی کے مرکزی قائدین تریپورہ یونٹ پر زور دیتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نیٹ ورک کو مضبوط کیا جائے۔

Published

on

bjp-meeting

نئی دہلی/اگرتلہ : بی جے پی کی مرکزی قیادت نے تریپورہ کی ریاستی اکائی سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی اسکیمیں سماج کے تمام طبقات کے لوگوں تک پہنچیں۔ تریپورہ میں بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے جمعہ کو کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین اور قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل۔ سنتوش نے جمعرات کی رات نئی دہلی میں ریاستی رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگ کی۔ رہنما نے کہا، “مرکزی رہنماؤں نے ریاستی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید فعال کریں اور گاؤں کی کمیٹیوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے اہم انتخابات سے قبل تنظیم کو مضبوط کریں۔”

انہوں نے کہا کہ مرکزی قائدین نے ریاستی قائدین سے پارٹی تنظیم کے کام کاج اور دیہی کمیٹیوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے آئندہ انتخابات سے قبل اس کی حیثیت کے بارے میں بھی رائے لی۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ نئی دہلی میں ہونے والی یہ ملاقاتیں آنے والے اہم انتخابات کے لیے بی جے پی کی حکمت عملی اور اس کے دو قبائلی حلیفوں، ٹپرا موتھا پارٹی (ٹی ایم پی) اور انڈیجینس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) کے ساتھ انتخابی اتحاد کے لیے اہم ہیں۔

اس سال تریپورہ قبائلی علاقہ جات خود مختار ضلع کونسل (ٹی ٹی اے اے ڈی سی) کے تحت 587 دیہاتی کمیٹیوں (گرام پنچایتوں کے برابر) اور 20 سے زیادہ شہری بلدیاتی اداروں کے لیے انتخابات شیڈول ہیں۔ 12 اپریل کو ہونے والے ٹی ٹی اے اے ڈی سی کے انتخابات میں، ٹپرا موٹھا پارٹی (ٹی ایم پی) نے 28 میں سے 24 منتخب نشستیں جیت کر بھاری اکثریت حاصل کی۔ بی جے پی صرف چار جیتنے میں کامیاب رہی۔

بی جے پی اور اس کے دو قبائلی حلیف، ٹی ایم پی اور انڈیجینس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) نے انتخابی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد الگ الگ انتخابات میں حصہ لیا۔ 2021 سے، ٹی ایم پی حکمت عملی کے لحاظ سے اس اہم کونسل پر حکومت کر رہی ہے، جسے ریاستی اسمبلی کے بعد تریپورہ کا دوسرا سب سے اہم آئینی اور سیاسی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ 30 رکنی ٹی ٹی اے اے ڈی سی میں 28 منتخب نمائندے اور ریاستی حکومت کے نامزد کردہ دو ارکان شامل ہیں۔ یہ تریپورہ کے 10,491 مربع کلومیٹر جغرافیائی رقبے کے تقریباً 70 فیصد کا انتظام کرتا ہے۔

اس کے علاوہ نتن نوین اور بی ایل سنتوش، دیگر مرکزی قائدین جنہوں نے دونوں میٹنگوں میں شرکت کی ان میں بی جے پی کے شمال مشرقی کوآرڈینیٹر سمبیت پاترا اور تریپورہ کے لئے پارٹی کے مبصر راجدیپ رائے شامل تھے۔ رائے سلچر سے موجودہ ایم ایل اے اور جنوبی آسام سے لوک سبھا کے سابق رکن ہیں۔ کل، تریپورہ سے بی جے پی کے 14 رہنماؤں نے، پارٹی کی کور کمیٹی کے تمام اراکین، نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ میٹنگوں میں شرکت کی۔

نئی دہلی میں میٹنگوں میں شرکت کرنے والے ریاستی قائدین میں وزیر اعلیٰ مانک ساہا، ریاستی صدر ابھیشیک دیبروئے، سینئر وزرا رتن لال ناتھ، ٹنکو رائے، اور بیکاش دیببرما، ریاستی اسمبلی کے اسپیکر رام پدا جمعیتہ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ رکن پارلیمنٹ بپلب کمار دیب، راجیہ سبھا کے رکن راجیو بھٹاچاریہ، اور سابق مرکزی وزیر پراکھو شامل تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading

سیاست

پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

Published

on

Rahul-Gandhi

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”

اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”

اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان