Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

سیاست

صدر راج نافذ کرنے کی دھمکی پر شیوسینا چراغ پا

Published

on

مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان سیاسی جنگ مزید تیز ہو گئی ہے۔ شیو سینا نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے ذریعہ بی جے پی لیڈر اور فڑنویس حکومت میں وزیر مالیات سدھیر منگٹیوار پر جوابی حملہ کیا ہے۔ شیو سینا نے کہا ہے کہ سدھیر کے ذریعہ صدر راج نافذ کرنے کی دھمکی عوامی مینڈیٹ کی بے عزتی ہے۔شیو سینا نے ’سامنا‘ میں واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ ’’مہاراشٹر کی سیاست ایک دلچسپ ’شوبھا یاترا‘ بن گئی ہے۔ شیو رائے کے مہاراشٹر میں ایسی دلچسپ شوبھا یاترا ہوگی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ موجودہ جھمیلا ’شیوشاہی‘ نہیں ہے۔ ریاست کی حکومت تو نہیں لیکن، وداع ہوتی حکومت کے بجھے ہوئے جگنو روز نئے مذاق کے ساتھ ریاست کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ دھمکی اور جانچ ایجنسیوں کی زور زبردستی کا کچھ نتیجہ نہ نکل پانے سے وداع ہوتی حکومت کے وزیر مالیات سدھیر منگٹیوار نے نئی دھمکی کا شگوفہ چھوڑا ہے۔ 7 نومبر تک اقتدار کا پیچ حل نہ ہونے پر مہاراشٹر میں صدر راج نافذ کر دیا جائے گا۔‘‘ سامنا میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’منگٹیوار اور ان کی پارٹی (بی جے پی) کے دل میں کون سا زہر ابال مار رہا ہے، یہ ان کے بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قانون اور آئین کا تجربہ کم ہو تو یہ ہوتا ہی ہے، یا قانون و آئین کو دبا کر جو چاہیے وہ کرنے کی پالیسی اس کے پیچھے ہو سکتی ہے۔ ایک تو صدر جمہوریہ ہماری مٹھی میں ہیں یا صدر جمہوریہ کے مہر والی ربر اسٹامپ ریاست کے بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں ہی رکھی ہوئی ہے۔ ہماری حکومت نہیں آئی تو اسٹامپ کا استعمال کر ریاست میں صدر راج کی ایمرجنسی لاسکتے ہیں، اس دھمکی کا عوام یہ مطلب سمجھیں کیا؟‘‘’سامنا‘ میں شائع مضمون میں ریاست میں حکومت تشکیل نہیں ہونے پر بی جے پی پر سوال کھڑے کیے گئے ہیں۔ شیو سینا نے لکھا ہے کہ ’’سوال صرف یہ ہے کہ مہاراشٹر مین حکومت کیوں نہیں بن رہی ہے، اس کے پیچھے کی وجہ کون بتائے گا؟ پھر سے بی جے پی کے ہی وزیر اعلیٰ بننے کا اعلان جس نے کیا ہوگا اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش نہیں کیا ہوگا تو اس کے لیے کیا مہاراشٹر کے عوام کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟‘‘شیو سینا نے سامنا میں مزید لکھا ہے کہ ’’قانون، آئین اور پارلیمانی اقدار کی روایت کے بارے میں ہم بخوبی جانتے ہیں۔ قانون اور آئین کسی کے غلام نہیں۔ ریاست میں فی الحال جو جھمیلا چل رہا ہے، اس کی چنگاری ہماری طرف سے نہیں چھوڑی گئی ہے۔ عوام اس بات کو جانتی ہے۔ عوامی زندگی میں اخلاقیات بالکل نچلے پایئدان پر پہنچ چکی ہے۔ موجودہ نظام ایسا ہے کہ اخلاقی ذمہ داری کے بارے میں سیاستداں، پولس اور جرائم پیشوں میں کم اور زیادہ کون ہے، یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘بی جے پی حکومت پر حملہ آور ہوتے ہوئے شیو سینا نے اپنے ترجمان میں لکھا ’ملک کے چاروں ستونوں کی کمر ٹوٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پولس محکمہ اپنے مالکان کے لیے اراکین اسمبلی کی جوڑ توڑ کرنا ہی اپنی ذمہ داری مان رہی ہے۔ جنم سے ہی اقتدار کا امر پٹہ لے کر آئے ہیں اور جمہوریت میں اکثریت کا نمبر ہو یا نہ ہو، کسی اور کو اقتدار میں نہیں آنے دینے کے گھمنڈ کی مہاراشٹر میں شکست ہو چکی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار کے ذریعہ شیوسینا کو صدر راج کی دھمکی دیے جانے کا معاملہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اب جب کہ شیوسینا نے ’سامنا‘ میں بھی اس بیان پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے شعلہ بیانی کی ہے، تو منگنٹیوار اپنے بیان سے منحرف ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے صدر راج نافذ ہونے کی دھمکی نہیں دی بلکہ صرف یہ بتایا کہ اگر وقت پر حکومت سازی نہیں ہوئی تو کیا کچھ ہو سکتا ہے۔

سیاست

’بی جے پی گیانیش کمار کو بچا رہی ہے،‘ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ای سی آئی کے معاملے پر انڈیا بلاک پارٹیاں متحد ہے۔

Published

on

ملاپورم : کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا نے ہفتہ کے روز بی جے پی قیادت پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو “بچانے” کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی “قیادت کے تعاون کے بغیر جمہوریت کے خلاف جرائم کا ارتکاب نہیں کر سکتا”۔ واڈرا نے یہ بھی کہا کہ انڈیا بلاک پارٹیاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف الزامات پر متحد ہیں۔ کیرالہ کے ملاپورم کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے واڈرا نے کہا: “انڈیا اتحاد بہت واضح ہے۔ اتحاد کا ہر ایک لیڈر، ہر ایک پارٹی اس بات پر پوری طرح متفق ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل غیر قانونی، خلاف آئین اور ہماری قوم اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ کہ الیکشن کمشنر کو فراہم کردہ قانونی تحفظات، جو اس بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے قائم کیے ہیں، کو ہٹانے کی ضرورت ہے، اگر کوئی ہمارے ملک کے خلاف، اس آئین کے خلاف غیر قانونی کام کر رہا ہے، تو ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔” اس دوران، 30 ستمبر کو انڈیا بلاک پارٹیوں کی ای سی آئی اختلاف رائے اور دیگر مسائل پر ملاقات ہونے کا امکان ہے۔

سی ای سی گیانیش کمار پر “غداری” کا الزام لگاتے ہوئے، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا: “ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔” “بی جے پی چیف الیکشن کمشنر کی حفاظت کر رہی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی قیادت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اگر سی ای سی جمہوریت کے خلاف اتنا سنگین جرم کر رہا ہے، تو یہ عملی طور پر ناممکن ہے کہ وہ قیادت کی مکمل حمایت کے بغیر ایسا کر رہا ہو”۔ لوک سبھا، راہول گاندھی کے مطالبے پر، انہوں نے بھی سی ای سی کمار کا استعفیٰ طلب کیا۔ مزید برآں، واڈرا نے بی جے پی کے خلاف اپنے سابقہ ​​الزامات کو دہرایا، پارٹی کو “اوور کنفیڈنٹ” قرار دیا۔” لوگوں نے ہر الیکشن سے پہلے ان کے (بی جے پی) کے حد سے زیادہ پراعتماد بیانات دیکھے ہیں، جو انہیں ملنے والی سیٹوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہاں سے خوش ہیں کہ وہ ہندوستان سے اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ آپ اس سے خوش ہیں۔ لوگوں سے زمین پر سننا کچھ اور ہے، اور جو آپ انتخابی نتائج کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہ کچھ اور ہے،” انہوں نے دعویٰ کیا۔

Continue Reading

سیاست

ٹھاکرے برادران نے ایس آئی آر عمل کے خلاف 4 اکتوبر کو ممبئی میں احتجاجی ریلی کا کیا اعلان، اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے ہفتہ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا پر بندوقیں چلائیں، مہاراشٹر کے لوگوں کو ایک مشترکہ کال جاری کی اور 4 اکتوبر کو ممبئی میں ایک عظیم عوامی احتجاجی ریلی کا اعلان کیا۔ مرکز میں حکمراں جماعت کا ونگ۔ جب کہ ایم این ایس اور شیوسینا یو بی ٹی مظاہرے کے لیے تنظیمی بنیادوں کی قیادت کر رہے ہیں، رہنماؤں نے زور دیا کہ یہ احتجاج متعصبانہ سیاست سے بالاتر ہے۔ 4 اکتوبر کی ریلی کو ایک عوامی عوامی تحریک کے طور پر وضع کرتے ہوئے، منتظمین نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے منصوبے کی تصدیق کی۔

“یہ عوام کی ریلی ہے۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ کسی ایک پارٹی تک محدود نہ رہے بلکہ پورے سیاسی نظام اور شہریوں کی اجتماعی آواز بن جائے، ہم اس محاذ میں شامل ہونے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں تک پہنچیں گے۔” بیان میں کہا گیا کہ آنے والے ایجی ٹیشن کو ملک کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن جنگ کے طور پر بنایا گیا ہے۔ ایس آئی آر کے عمل کے تحت قائدین ادارہ جاتی تعصب اور ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کے خلاف سخت احتجاج درج کریں۔ 4 اکتوبر کی ممبئی ریلی کے مقام اور صحیح وقت کا باضابطہ طور پر جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ c کہ “بڑی تعداد میں اس ریلی میں شرکت کریں۔ اس ملک کی جمہوریت اور اس ملک کے آئین کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آئیں!” اس سے قبل، بی جے پی اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے، راجیش کمار کے جاری کردہ کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا عمل۔ اس نے حکمراں جماعت پر الزام لگایا کہ وہ “اقتدار پر نہ ختم ہونے والی گرفت” کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ادارہ جاتی شخصیات کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ملک بھر کی تمام اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کاغذی بیلٹ واپس لانے کے لیے بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن کے لیے متحد ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان